سپریم کورٹ کا امتحانی اصلاحات اور حکومتی جواب دہی کے مطالبے پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت عدالت نے خصوصی اختیار استعمال کرتے ہوئے نہ صرف نوجوان مظاہرین کو بڑی راحت دی بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ جمہوریت میں پرامن اختلافِ رائے کو جرم نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ فیصلہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ بے روزگاری، امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیک جیسے مسائل نے ملک کے نوجوانوں میں گہری بے چینی پیدا کی ہے۔ جب نوجوان اپنے مستقبل سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں تو ان کی آواز سننا حکومت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ اسے محض احتجاج یا بدامنی کے طور پر دیکھنا۔
تاہم، اس فیصلے کا ایک اہم پہلو حکومت کے سابقہ رویے سے متعلق ہے۔ کسان تحریک اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران بھی بڑی تعداد میں لوگ پرامن طور پر سڑکوں پر نکلے، لیکن کئی مظاہرین پر سنگین دفعات عائد کی گئیں اور بعض آج بھی قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر پرامن احتجاج نوجوانوں کے معاملے میں قابلِ قبول ہے تو یہی اصول دوسرے شہریوں کے لئے بھی یکساں ہونا چاہیے۔
جمہوریت میں حکومت سے اختلاف ریاست کے خلاف بغاوت نہیں ہوتا۔ احتجاج عوامی ناراضی کو پُرامن راستہ فراہم کرتا ہے اور حکومت کو اپنی پالیسیوں کی خامیوں پر نظرثانی کا موقع دیتا ہے۔ اختلاف کو دبانے کے بجائے اسے سننا ہی جمہوری حکمرانی کی اصل طاقت ہے۔ سپریم کورٹ کا موجودہ فیصلہ محض ایک مخصوص تحریک کے لئے راحت نہیں ہونا چاہیے بلکہ پرامن احتجاج کے حق کے لئے ایک وسیع اصول بننا چاہیے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ قانون سب کے لئے یکساں ہو؛ احتجاج کرنے والے کی شناخت، طبقہ یا سیاسی وابستگی اس کے بنیادی حقوق کا معیار نہ بنے۔
اگر یہ فیصلہ اسی اصول کو مضبوط کرتا ہے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے لئے بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔
احتجاج کا حق، انصاف کا اصول
احتجاج کا حق، انصاف کا اصول
سپریم کورٹ کا امتحانی اصلاحات اور حکومتی جواب دہی کے مطالبے پر احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف درج مقدمات ختم کرنے کا فیصلہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت عدالت نے خصوصی اختیار استعمال کرتے ہوئے نہ صرف نوجوان مظاہرین کو بڑی راحت دی بلکہ یہ پیغام بھی دیا کہ جمہوریت میں پرامن اختلافِ رائے کو جرم نہیں بنایا جا سکتا۔
یہ فیصلہ اس حقیقت کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ بے روزگاری، امتحانات میں بے ضابطگیوں اور پیپر لیک جیسے مسائل نے ملک کے نوجوانوں میں گہری بے چینی پیدا کی ہے۔ جب نوجوان اپنے مستقبل سے متعلق سوالات اٹھاتے ہیں تو ان کی آواز سننا حکومت کی ذمہ داری ہے، نہ کہ اسے محض احتجاج یا بدامنی کے طور پر دیکھنا۔
تاہم، اس فیصلے کا ایک اہم پہلو حکومت کے سابقہ رویے سے متعلق ہے۔ کسان تحریک اور شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران بھی بڑی تعداد میں لوگ پرامن طور پر سڑکوں پر نکلے، لیکن کئی مظاہرین پر سنگین دفعات عائد کی گئیں اور بعض آج بھی قانونی کارروائی کا سامنا کر رہے ہیں۔ اگر پرامن احتجاج نوجوانوں کے معاملے میں قابلِ قبول ہے تو یہی اصول دوسرے شہریوں کے لئے بھی یکساں ہونا چاہیے۔
جمہوریت میں حکومت سے اختلاف ریاست کے خلاف بغاوت نہیں ہوتا۔ احتجاج عوامی ناراضی کو پُرامن راستہ فراہم کرتا ہے اور حکومت کو اپنی پالیسیوں کی خامیوں پر نظرثانی کا موقع دیتا ہے۔ اختلاف کو دبانے کے بجائے اسے سننا ہی جمہوری حکمرانی کی اصل طاقت ہے۔ سپریم کورٹ کا موجودہ فیصلہ محض ایک مخصوص تحریک کے لئے راحت نہیں ہونا چاہیے بلکہ پرامن احتجاج کے حق کے لئے ایک وسیع اصول بننا چاہیے۔ انصاف کا تقاضا ہے کہ قانون سب کے لئے یکساں ہو؛ احتجاج کرنے والے کی شناخت، طبقہ یا سیاسی وابستگی اس کے بنیادی حقوق کا معیار نہ بنے۔
اگر یہ فیصلہ اسی اصول کو مضبوط کرتا ہے تو یہ نہ صرف نوجوانوں کے لئے بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے لئے بھی ایک اہم قدم ثابت ہوگا۔


