جموں کشمیر میں کلاس چہارم کی بھرتی میں تعلیمی حد ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

جنگ نیوز

سری نگر/: سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے کلاس چہارم کی 2800 آسامیوں کے اشتہار کے بعد تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں نے بھرتی کے لئے مقرر زیادہ سے زیادہ تعلیمی اہلیت کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ تیز کردیا ہے۔
2008 میں غلام نبی آزاد کی قیادت والی پی ڈی پی-کانگریس حکومت کے دور میں ایس آر او 99 کے تحت کلاس چہارم کی براہ راست بھرتی کے لئے کم از کم اہلیت میٹرک اور زیادہ سے زیادہ 10+2 مقرر کی گئی تھی۔ 2020 میں جاری خصوصی بھرتی کے قواعد میں بھی یہی شرط برقرار رکھی گئی۔
موجودہ ضابطے کے باعث گریجویشن یا اس سے زیادہ تعلیمی قابلیت رکھنے والے امیدوار کلاس چہارم کی ان آسامیوں کے لئے درخواست دینے کے اہل نہیں ہیں، جس سے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان مواقع سے محروم رہتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے کالجوں اور جامعات سے ہر سال 25 ہزار سے زائد طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جبکہ ہزاروں نوجوان پوسٹ گریجویٹ، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم بھی مکمل کرتے ہیں۔
گزشتہ سال اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ بے روزگار نوجوانوں میں تقریباً ایک تہائی گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ہیں، جن میں 66628 گریجویٹ اور 47114 پوسٹ گریجویٹ شامل ہیں۔
دریں اثنا، لداخ میں حال ہی میں کلاس چہارم کی آسامیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ تعلیمی اہلیت کی شرط ختم کردی گئی ہے، جس کے بعد جموں و کشمیر میں بھی مذکورہ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ مزید زور پکڑ گیا ہے۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

جموں کشمیر میں کلاس چہارم کی بھرتی میں تعلیمی حد ختم کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

جنگ نیوز

سری نگر/: سروس سلیکشن بورڈ کی جانب سے کلاس چہارم کی 2800 آسامیوں کے اشتہار کے بعد تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوانوں نے بھرتی کے لئے مقرر زیادہ سے زیادہ تعلیمی اہلیت کی شرط ختم کرنے کا مطالبہ تیز کردیا ہے۔
2008 میں غلام نبی آزاد کی قیادت والی پی ڈی پی-کانگریس حکومت کے دور میں ایس آر او 99 کے تحت کلاس چہارم کی براہ راست بھرتی کے لئے کم از کم اہلیت میٹرک اور زیادہ سے زیادہ 10+2 مقرر کی گئی تھی۔ 2020 میں جاری خصوصی بھرتی کے قواعد میں بھی یہی شرط برقرار رکھی گئی۔
موجودہ ضابطے کے باعث گریجویشن یا اس سے زیادہ تعلیمی قابلیت رکھنے والے امیدوار کلاس چہارم کی ان آسامیوں کے لئے درخواست دینے کے اہل نہیں ہیں، جس سے ہزاروں تعلیم یافتہ نوجوان مواقع سے محروم رہتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر کے کالجوں اور جامعات سے ہر سال 25 ہزار سے زائد طلبہ فارغ التحصیل ہوتے ہیں، جبکہ ہزاروں نوجوان پوسٹ گریجویٹ، پیشہ ورانہ اور تکنیکی تعلیم بھی مکمل کرتے ہیں۔
گزشتہ سال اسمبلی میں پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق رجسٹرڈ بے روزگار نوجوانوں میں تقریباً ایک تہائی گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ہیں، جن میں 66628 گریجویٹ اور 47114 پوسٹ گریجویٹ شامل ہیں۔
دریں اثنا، لداخ میں حال ہی میں کلاس چہارم کی آسامیوں کے لئے زیادہ سے زیادہ تعلیمی اہلیت کی شرط ختم کردی گئی ہے، جس کے بعد جموں و کشمیر میں بھی مذکورہ پابندی ختم کرنے کا مطالبہ مزید زور پکڑ گیا ہے۔

 

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں