جنگ فیچر ڈیسک
تاریخ کے بعض واقعات محض تباہی کی داستان نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک عہد کے خاتمے اور ایک نئے دور کے آغاز کی علامت بن جاتے ہیں۔ لندن کی عظیم آتش زدگی بھی ایسا ہی ایک واقعہ تھا۔ 2 ستمبر 1666 کی صبح شروع ہونے والی یہ آگ صرف چند گھنٹوں میں ایک معمولی حادثے سے بڑھ کر ایسی ہولناک آفت بن گئی جس نے قرونِ وسطیٰ کے لندن کا بیشتر حصہ خاکستر کر دیا۔
چار روز تک بھڑکنے والی اس آگ نے لندن شہر کے تقریباً چار پانچویں حصے کو تباہ کر دیا، 13 ہزار سے زائد مکانات اور درجنوں گرجا گھر جل کر راکھ ہوگئے، جبکہ تقریباً ایک لاکھ افراد بے گھر ہوگئے۔ تاہم اسی تباہی کے ملبے سے ایک نئے لندن نے جنم لیا، جس کی تعمیر نے شہر کے فنِ تعمیر، شہری منصوبہ بندی اور آگ سے بچاؤ کے طریقوں کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا۔
پڈنگ لین کی ایک بیکری سے اٹھنے والے شعلے
2 ستمبر 1666 کی ابتدائی ساعتوں میں لندن کے علاقے پڈنگ لین میں ایک بیکری سے آگ بھڑک اٹھی۔ اس بیکری کا مالک تھامس فیرینر تھا، جو بادشاہ چارلس دوم کا نانبائی تھا اور شاہی بحریہ کو بھی روٹی فراہم کرتا تھا۔
یہ شاید کبھی یقینی طور پر معلوم نہ ہو سکے کہ فیرینر نے پڈنگ لین میں رہائش اور کاروبار کیوں اختیار کیا، مگر تاریخی شواہد کے مطابق آگ اسی کی بیکری سے شروع ہوئی۔ بعض روایات کے مطابق تندور سے نکلنے والی چنگاری نے خشک لکڑی، ایندھن یا دیگر آتش گیر سامان کو آگ لگا دی۔
اس زمانے کے لندن میں گھروں کی تعمیر کا انداز بھی تباہی کا ایک بڑا سبب بنا۔ بیشتر عمارتیں لکڑی سے بنی ہوئی تھیں، ان کے اوپری حصے ایک دوسرے کے قریب جھکے ہوئے تھے اور گلیاں انتہائی تنگ تھیں۔ شہر میں تارکول، رسیاں، تیل، شراب اور دیگر جلدی آگ پکڑنے والا سامان بڑی مقدار میں موجود تھا۔ موسم گرما غیر معمولی طور پر خشک گزر چکا تھا اور مشرق سے چلنے والی تیز ہوا نے شعلوں کو ایک عمارت سے دوسری عمارت تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
ایک خاندان کی نجات، ایک خادمہ کی موت
جب آگ نے بیکری کو اپنی لپیٹ میں لیا تو تھامس فیرینر اور اس کے اہلِ خانہ نے اوپری منزل کی کھڑکی سے نکل کر اپنی جان بچائی۔ لندن میوزیم کے مطابق، فیرینر کے نوجوان شاگرد تھامس ڈگر کو بھی ان اولین افراد میں شمار کیا جاتا ہے جنہوں نے دھوئیں کی شدت محسوس کی اور گھر کے لوگوں کو خبردار کرنے میں مدد دی۔
فیرینر کا خاندان تو بچ نکلا، لیکن اس کی خادمہ روز آگ کی نذر ہوگئی۔
سرکاری طور پر اس عظیم آتش زدگی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد انتہائی کم، یعنی چند افراد، درج کی گئی۔ تاہم جدید مورخین کا خیال ہے کہ حقیقی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں غریب، بوڑھے اور بے گھر افراد کی ہلاکتوں کا مکمل ریکارڈ رکھنا ممکن نہیں تھا، اور بعض لاشیں ممکنہ طور پر اتنی بری طرح جل گئیں کہ ان کی شناخت نہ ہوسکی۔
جب پورا شہر بھڑک اٹھا
آگ شروع ہونے کے چند ہی گھنٹوں بعد صورتحال قابو سے باہر ہوگئی۔ تیز ہوا نے شعلوں کو مغرب کی سمت دھکیلنا شروع کیا اور لکڑی سے بنی گنجان عمارتیں آگ کے لئے ایندھن ثابت ہوئیں۔
اس وقت لندن میں جدید طرز کی کوئی فائر بریگیڈ موجود نہیں تھی۔ ہر علاقے یا پیرش کے پاس پانی کی بالٹیاں، ہکس اور کلہاڑیاں ہوتی تھیں اور مقامی لوگوں سے توقع کی جاتی تھی کہ وہ مل کر آگ بجھائیں گے۔
لیکن یہ آگ عام آگ نہیں تھی۔
شعلوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پانی اور دستی آلات بے اثر ثابت ہونے لگے۔ لوگوں نے اپنی قیمتی اشیا گاڑیوں اور کشتیوں میں لادنا شروع کر دیں۔ ہزاروں افراد دریائے ٹیمز کے کنارے پہنچ گئے، جہاں کشتیاں ان کے سامان اور بعض اوقات ان کے خاندانوں کو شہر سے دور لے جا رہی تھیں۔
پیر کے روز تک سیکڑوں مکانات جل چکے تھے۔ آگ مسلسل پھیلتی رہی اور لندن کا آسمان سرخ روشنی اور سیاہ دھوئیں سے بھر گیا۔
سیموئیل پیپس: ایک عینی شاہد کی ڈائری
لندن کی عظیم آتش زدگی کی سب سے مؤثر اور اہم شہادتیں مشہور ڈائری نگار سیموئیل پیپس کی تحریروں میں محفوظ ہیں۔
2 ستمبر کی صبح تقریباً تین بجے ان کی خادمہ جین نے انہیں جگایا اور بتایا کہ شہر میں آگ لگی ہوئی ہے۔ پیپس نے ابتدا میں اسے زیادہ سنگین نہیں سمجھا۔ انہوں نے کھڑکی سے باہر دیکھا، آگ دور محسوس ہوئی اور وہ دوبارہ بستر پر چلے گئے۔
لیکن کچھ دیر بعد خبر ملی کہ آگ تیزی سے پھیل رہی ہے۔
پیپس لندن ٹاور کی جانب گئے اور ایک بلند مقام سے شہر کو جلتے ہوئے دیکھا۔ ان کی ڈائری اس منظر کو ایک انسانی المیے کی صورت میں پیش کرتی ہے: لوگ اپنا سامان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے، مکانات جل رہے تھے، گرجا گھروں کے مینار شعلوں میں گھرے ہوئے تھے اور ہر طرف خوف، چیخ و پکار اور تباہی کا منظر تھا۔
انہوں نے آگ کو ایک ایسی مسلسل محراب سے تشبیہ دی جو ایک میل سے زیادہ فاصلے تک پھیلی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق، پورے شہر کو آگ کی لپیٹ میں دیکھ کر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
پیپس نے یہ بھی محسوس کیا کہ لوگ آگ بجھانے سے زیادہ اپنا سامان بچانے میں مصروف ہیں۔ تیز ہوا مسلسل آگ کو شہر کے اندر کی جانب دھکیل رہی تھی۔
چنانچہ وہ شاہی محل وائٹ ہال پہنچے اور بادشاہ چارلس دوم کو صورتحال سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بادشاہ کو بتایا کہ اگر آگ کے راستے میں موجود عمارتیں گرا کر رکاوٹیں پیدا نہ کی گئیں تو آگ کو روکنا تقریباً ناممکن ہوگا۔
لارڈ میئر کی غلط اندازہ بندی
لندن کے لارڈ میئر سر تھامس بلڈورتھ نے ابتدا میں آگ کی شدت کو کم سمجھا۔ جب وہ موقع پر گئے تو انہیں محسوس ہوا کہ آگ پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
یہ ابتدائی تاخیر بعد میں انتہائی مہنگی ثابت ہوئی۔
جب تک بڑے پیمانے پر عمارتیں گرانے کا فیصلہ کیا گیا، آگ شہر کے کئی حصوں تک پہنچ چکی تھی۔ بعد میں بادشاہ چارلس دوم کو خود صورتحال میں مداخلت کرنا پڑی۔
بادشاہ نے حکم دیا کہ آگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ضرورت پڑنے پر عمارتیں گرا دی جائیں۔ یہ ایک انتہائی مشکل فیصلہ تھا کیونکہ اس کا مطلب ایسے مکانات اور عمارتوں کو جان بوجھ کر تباہ کرنا تھا جو ابھی آگ کی لپیٹ میں نہیں آئے تھے۔
مگر مقصد یہ تھا کہ آگ کو لکڑی اور دیگر ایندھن سے محروم کر دیا جائے۔
بادشاہ چارلس دوم خود میدان میں آگئے
جب آگ کی شدت بڑھتی گئی تو بادشاہ چارلس دوم نے کارروائی کی نگرانی میں براہِ راست دلچسپی لی۔ سرکاری دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ بادشاہ نے حکام اور فوجی دستوں کو شہر میں بھیجا تاکہ آگ بجھانے اور اس کے پھیلاؤ کو روکنے میں مدد دی جا سکے۔
انہوں نے حکم دیا کہ آگ کے سامنے موجود عمارتوں کو گرا دیا جائے تاکہ آگ کے لئے آگے بڑھنے کا راستہ باقی نہ رہے۔
فوجیوں کو بھی امدادی کاموں میں شامل کیا گیا۔ بعض علاقوں میں عمارتوں کو گن پاؤڈر کی مدد سے اڑا دیا گیا تاکہ وسیع خالی جگہیں پیدا ہوں اور شعلوں کا راستہ روکا جا سکے۔
سینٹ پال کیتھیڈرل بھی نہ بچ سکا
آگ نے لندن کی کئی اہم عمارتوں کو نگل لیا۔
تباہ ہونے والی عمارتوں میں شامل تھیں:
• 13200 سے زائد مکانات
• 87 پیرش گرجا گھر
• 52 لیوری کمپنی ہال
• گلڈ ہال
• رائل ایکسچینج
• اولڈ سینٹ پال کیتھیڈرل
سینٹ پال کیتھیڈرل کی تباہی لندن کے لئے ایک علامتی صدمہ تھی۔ یہ صرف ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ شہر کی شناخت کا اہم حصہ تھا۔
جب آگ نے شہر کے قلب میں موجود اس عظیم عمارت کو اپنی لپیٹ میں لیا تو بہت سے لوگوں کو محسوس ہوا کہ پورا پرانا لندن ختم ہو رہا ہے۔
آگ کو کیسے روکا گیا؟
آگ کو بجھانے کے لئے صرف پانی کافی نہیں تھا۔
اصل حکمت عملی یہ بنی کہ آگ کے راستے میں آنے والی عمارتوں کو گرا کر فائر بریکس یا حفاظتی خالی علاقے پیدا کیے جائیں۔
تیسرے اور چوتھے دن صورتحال میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔ بعض علاقوں میں گن پاؤڈر سے عمارتیں منہدم کی گئیں، جبکہ ہوا کی شدت بھی کم ہونے لگی۔
4 ستمبر کو آگ اپنے عروج پر تھی، لیکن شام کے وقت ہوا کی سمت تبدیل ہونے اور کمزور پڑنے سے شعلوں کی پیش قدمی سست ہوگئی۔
آخرکار 5 اور 6 ستمبر تک آگ کے بیشتر حصوں پر قابو پا لیا گیا، اگرچہ کئی مقامات پر ملبے میں چھپی آگ اور چھوٹے شعلے کچھ عرصے تک موجود رہے۔
ایک لاکھ افراد بے گھر
آگ ختم ہونے کے بعد لندن کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ صرف تباہ شدہ عمارتوں کی تعمیر نہیں بلکہ انسانی بحران تھا۔
تقریباً ایک لاکھ افراد بے گھر ہوگئے۔
ہزاروں خاندان شہر سے باہر کھلے میدانوں میں جا بسے۔ لوگوں نے عارضی خیمے اور جھونپڑیاں تعمیر کیں۔ بعض علاقوں، خصوصاً مورفیلڈز میں، عارضی بستیاں قائم ہوگئیں۔
اس انسانی بحران کے بعد کرایوں میں اضافہ ہوا اور بے گھر افراد کو رہائش کے لئے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہر کو دوبارہ آباد ہونے میں برسوں لگے۔
الزام، افواہیں اور ایک بے گناہ شخص کی سزا
آگ کے بعد لندن میں خوف کے ساتھ ساتھ افواہوں کا بھی طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔
چونکہ اس وقت انگلینڈ کے فرانس اور نیدرلینڈز کے ساتھ سیاسی اور فوجی تنازعات موجود تھے، اس لئے بہت سے لوگوں نے غیر ملکیوں کو آگ کا ذمہ دار قرار دینا شروع کر دیا۔
کیتھولک آبادی کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آگ ایک سازش کا نتیجہ ہے۔
اسی ماحول میں ایک فرانسیسی شخص رابرٹ ہیوبرٹ نے آگ لگانے کا اعتراف کیا۔ اسے گرفتار کیا گیا اور بعد میں پھانسی دے دی گئی۔
لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ اس کے اعتراف میں سنگین تضادات تھے اور غالب امکان یہ تھا کہ وہ آگ شروع ہونے کے وقت لندن میں موجود ہی نہیں تھا۔
بالآخر پارلیمانی تحقیقات نے اس سانحے کو ایک حادثہ قرار دیا۔
یہ واقعہ تاریخ کا ایک تلخ سبق بھی ہے کہ بڑے بحرانوں کے بعد خوف اور افواہیں کس طرح بے گناہ لوگوں کو نشانہ بنا سکتی ہیں۔
کیا آگ نے طاعون کا خاتمہ کر دیا تھا؟
لندن کی عظیم آتش زدگی کے بارے میں ایک مشہور خیال یہ ہے کہ اس نے 1665 کی عظیم طاعون کے جراثیم اور گندگی کو جلا کر بیماری کا خاتمہ کر دیا۔
یہ تصور بہت مقبول ہے، لیکن جدید تاریخی تحقیق اسے مکمل طور پر درست نہیں مانتی۔
یہ درست ہے کہ آگ نے شہر کے مرکزی حصے کی بہت سی گندی اور پرانی عمارتوں کو تباہ کر دیا، لیکن طاعون سے متاثرہ کئی علاقے، مثلاً لندن کے بعض بیرونی حصے، آگ سے محفوظ رہے۔
مزید یہ کہ آگ کے بعد بھی صفائی اور انسانی فضلے کے انتظام میں فوری طور پر کوئی ایسی بنیادی تبدیلی نہیں آئی جس سے یہ ثابت ہو کہ آگ ہی نے طاعون کا خاتمہ کر دیا تھا۔
لہٰذا یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ آگ اور طاعون لندن کی تاریخ کے دو مسلسل عظیم سانحات تھے، مگر یہ دعویٰ کہ آگ نے براہِ راست طاعون کو ختم کر دیا، ایک تاریخی مبالغہ ہے۔
راکھ سے نئے لندن کی تعمیر
تباہی کے بعد سب سے بڑا سوال یہ تھا:
کیا لندن کو دوبارہ ویسا ہی بنایا جائے یا ایک بالکل نیا شہر تعمیر کیا جائے؟
کئی ماہرین نے نئے لندن کے لئے عظیم منصوبے پیش کیے۔ ان میں چوڑی سڑکیں، منظم راستے، بڑے عوامی میدان اور بہتر شہری منصوبہ بندی شامل تھی۔
معروف معمار کرسٹوفر ورین اور دانشور جان ایولین نے نئے لندن کے نقشے پیش کیے۔
ان منصوبوں میں لندن کو پیرس اور روم جیسے منظم یورپی شہروں کی طرز پر تعمیر کرنے کا تصور موجود تھا۔
لیکن عملی مشکلات بہت زیادہ تھیں۔
زمین کی ملکیت، مختلف جائیدادوں کے حقوق اور ہزاروں لوگوں کی فوری رہائشی ضروریات نے ایک مکمل نئے منصوبے پر عمل درآمد مشکل بنا دیا۔
نتیجتاً لندن بڑی حد تک اپنی پرانی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر ہوا، اگرچہ کئی سڑکوں کو وسیع کیا گیا اور نئی عمارتوں کے لئے زیادہ سخت اصول مقرر کیے گئے۔
لکڑی سے اینٹ اور پتھر تک
عظیم آتش زدگی کے بعد تعمیرات کے طریقوں میں بنیادی تبدیلیاں کی گئیں۔
پرانے لندن میں لکڑی کے مکانات ایک دوسرے سے انتہائی قریب تھے، جس کی وجہ سے آگ آسانی سے ایک گھر سے دوسرے گھر تک پہنچ جاتی تھی۔
نئی تعمیرات میں اینٹ اور پتھر کے استعمال کو ترجیح دی گئی۔
گھروں کی اونچائی، ساخت اور تعمیراتی انداز کے بارے میں نئے قوانین بنائے گئے۔ بعض تنگ گلیوں کو وسیع کیا گیا اور شہری علاقوں میں آگ سے بچاؤ کے لئے زیادہ بہتر انتظامات کیے گئے۔
ہر علاقے میں آگ بجھانے کے آلات کی دستیابی کو بھی زیادہ اہمیت دی جانے لگی۔
یہ اصلاحات بعد کے لندن کی شہری شناخت کی بنیاد بنیں۔
کرسٹوفر ورین اور نیا سینٹ پال
لندن کی تعمیر نو کا سب سے نمایاں نام سر کرسٹوفر ورین ہے۔
آگ میں تباہ ہونے والے پرانے سینٹ پال کیتھیڈرل کو دوبارہ تعمیر کرنے کی ذمہ داری ورین کو سونپی گئی۔
انہوں نے ایک ایسا شاندار ڈیزائن پیش کیا جس نے بعد میں لندن کی شناخت بدل دی۔
نیا سینٹ پال کیتھیڈرل اپنی عظیم گنبد نما ساخت کے ساتھ صرف ایک مذہبی عمارت نہیں بلکہ اس شہر کی بحالی، طاقت اور دوبارہ جنم لینے کی علامت بن گیا۔
لندن کی عظیم آتش زدگی کے بعد تعمیر ہونے والا یہ شہر اس بات کی علامت تھا کہ انسانی تہذیب تباہی کے بعد بھی اپنے آپ کو نئے سرے سے تعمیر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
عظیم آگ اور جدید انشورنس کا آغاز
اس سانحے کا ایک اہم مگر نسبتاً کم معروف نتیجہ جدید پراپرٹی انشورنس کے تصور کی ترقی بھی تھا۔
جب ہزاروں مکانات اور کاروباری عمارتیں تباہ ہوئیں تو لوگوں کو احساس ہوا کہ مستقبل میں ایسی تباہیوں کے مالی اثرات سے بچنے کے لئے منظم نظام کی ضرورت ہے۔
لندن کی تعمیر نو کے دوران املاک کے تحفظ اور نقصان کے ازالے کے نئے طریقوں نے جنم لیا، جنہوں نے آگے چل کر جدید پراپرٹی انشورنس کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا۔
یوں ایک عظیم تباہی نے نہ صرف شہر کے نقشے کو بدلا بلکہ مالیاتی اور تجارتی نظام پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
سیموئیل پیپس کا پارمیزان پنیر
اس عظیم انسانی المیے کے درمیان سیموئیل پیپس کی ڈائری ایک دلچسپ انسانی پہلو بھی سامنے لاتی ہے۔
جب آگ شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھی تو پیپس بھی اپنے گھر کی قیمتی اشیا بچانے میں مصروف تھے۔ انہوں نے اپنا سامان دریائے ٹیمز میں موجود کشتیوں تک پہنچایا۔
دوسری شام انہوں نے اپنی ڈائری میں لکھا کہ انہوں نے ایک گڑھا کھود کر اس میں اپنی شراب، مہنگا پارمیزان پنیر اور کچھ دیگر قیمتی اشیا دفن کر دیں۔
قسمت کی ستم ظریفی دیکھیے کہ پیپس کا گھر بالآخر آگ سے محفوظ رہا۔
لیکن ان کے مشہور اطالوی پنیر کا کیا ہوا؟
تاریخ اس سوال کا جواب نہیں دیتی۔
پیپس نے اپنی ڈائری میں یہ نہیں لکھا کہ وہ بعد میں اپنا دفن کیا ہوا پارمیزان پنیر دوبارہ حاصل کر سکے یا نہیں۔
لندن کی عظیم آتش زدگی: تباہی سے تعمیر نو تک
لندن کی عظیم آتش زدگی محض چار دن کی آگ نہیں تھی۔
یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے ایک شہر کی ساخت، اس کے قوانین، فنِ تعمیر، شہری زندگی اور اجتماعی یادداشت کو تبدیل کر دیا۔
2 ستمبر 1666 کو پڈنگ لین کی ایک بیکری سے اٹھنے والے شعلوں نے قرونِ وسطیٰ کے لندن کے ایک بڑے حصے کو ختم کر دیا۔
مگر اسی راکھ سے ایک نیا لندن ابھرا۔
لکڑی کی گنجان بستیوں کی جگہ اینٹ اور پتھر کی عمارتوں نے لی۔ آگ سے بچاؤ کے قوانین مضبوط ہوئے۔ تعمیر نو کے نئے تصورات سامنے آئے۔ جدید شہری منصوبہ بندی کے اصولوں پر بحث ہوئی اور سینٹ پال کیتھیڈرل جیسی عمارتیں ایک نئے عہد کی علامت بن گئیں۔
آج بھی لندن کی بعض سڑکیں اپنے قدیم راستوں کی یاد دلاتی ہیں، جبکہ دی مونومنٹ اس عظیم سانحے کی یاد میں کھڑا ہے۔
لندن کی یہ داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ بعض اوقات تاریخ کی سب سے بڑی تباہیاں بھی صرف اختتام نہیں ہوتیں۔
وہ ایک نئے آغاز کی بنیاد بن جاتی ہیں۔
چار دن تک جلنے والے لندن نے ایک شہر کو ضرور خاکستر کیا، مگر اسی آگ نے ایک نئے لندن کو جنم بھی دیا۔


