
عبدالرشید خان
چھانہ پورہ
’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار، افسانہ نویس اور نقاد پروفیسر محمد زمان آزردہ کے کشمیری زبان میں لکھے گئے انشائیوں کا مجموعہ ہے۔ ایک سو گیارہ صفحات پر مشتمل اس کتاب میں 23 چھوٹے بڑے انشائیے شامل ہیں۔ اس سے قبل مصنف کے کشمیری زبان میں لکھے گئے انشائیوں کے دو مجموعے شائع ہو چکے ہیں، جن میں ’’ایسے‘‘ نامی کتاب کو 1984ء میں ساہتیہ اکادمی کے علاوہ ملک کی کئی ادبی اور ثقافتی تنظیموں کی جانب سے ایوارڈز سے نوازا جا چکا ہے۔
جہاں تک زیر تبصرہ کتاب کا تعلق ہے، اس میں شامل پہلا انشائیہ ’’ننہ پوش‘‘ ہے۔ تین صفحات پر مشتمل اس مختصر انشائیے میں مصنف نے کشمیریوں، بالخصوص یہاں کے کاریگروں پر ماضی میں ہونے والے ظلم و ستم اور استحصال کا ذکر کیا ہے، جس کے آثار آج بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ایک سادہ لوح کشمیری کو کس طرح نازک اور بیش بہا بنفشہ کے پھولوں کی ایک پاؤ کے عوض نمک کی ایک پاؤ دی جاتی تھی اور اسی نمک کے بدلے یہاں کے خوبصورت فن پارے خرید لئے جاتے تھے۔ غور سے دیکھا جائے تو یہ انشائیہ کم اور یہاں کے لوگوں کا مرثیہ زیادہ محسوس ہوتا ہے۔
’’تلہ کتر عمارت‘‘، ’’تگن گور‘‘، ’’طوطہ‘‘ اور ’’اسمال پیٹھ خرچ‘‘ ایسے انشائیے ہیں جن میں گھما پھرا کر ان لوگوں پر طنز کیا گیا ہے جو خود کچھ نہ ہوتے ہوئے بھی دوسروں کے سہارے اپنے آپ کو بہت کچھ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جھوٹی خوشامد اور دوسروں کے کاموں میں ٹانگ اڑا کر ان کے کام برباد کرنا ایسے لوگوں کا معمول ہوتا ہے۔ دیکھا جائے تو آزردہ کے ہاں ایسے کردار بہت زیادہ ملتے ہیں۔ گمان ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں نے ان کا قافیۂ حیات تنگ کر رکھا ہے اور اسی لئے وہ ان سے چڑچڑے دکھائی دیتے ہیں۔
کتاب میں شامل دو اور انشائیے ’’شالئ تارکھ‘‘ اور ’’ائونثر تہ پیونثر‘‘ ہیں۔ یہ دونوں انشائیے اگرچہ سنجیدہ اور تمثیلی پیرائے میں لکھے گئے ہیں، تاہم ان کی تہہ میں موجود حقیقت قاری سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔ ’’عأقل‘‘ ایک اور فلسفیانہ انشائیہ ہے، جس میں ایک طرف عقل کی برتری اور دوسری طرف ان ذہنی اور نفسیاتی مسائل کو پیش کیا گیا ہے جو ایک عام آدمی کے لئے اگرچہ زیادہ اہمیت نہیں رکھتے، لیکن تھوڑی سی عقل اور ذہانت رکھنے والے حساس انسان کے لئے کسی عذاب سے کم نہیں ہوتے۔
آزردہ صاحب کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ جہاں وقتی مسائل اور لوگوں کے برتاؤ سے فوراً متاثر ہوتے ہیں، وہیں ان کے ذہن میں ماضی کی یادیں، خواہ تلخ ہوں یا شیریں، محفوظ رہتی ہیں۔ اصل میں انشائیہ نگار ایک جہاں گم گشتہ کی تلاش میں رہتا ہے، اسی لئے کہیں ماضی میں جھانکتا ہے اور کہیں حال سے استفادہ حاصل کر لیتا ہے۔
’’پٹھکہ‘‘ نامی انشائیے میں پٹھکہ کو ڈارون کے نظریے کے مطابق انسان کی دم قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اگر انسان کی ابھی تک ایک دم ہوتی تو وہ کیسا لگتا؟ وہ حسب رواج اس پر مختلف قسم کے سینٹ اور پاؤڈر لگا کر اسے بناؤ سنگھار کرتا۔ پتلون میں اس کے لئے ایک مخصوص جگہ ہوتی، گاؤ تکیوں اور کرسیوں میں سے گنجائش نکالی جاتی، لیکن اگر خدانخواستہ کبھی یہ دم آدمی کی پتلون سے باہر رہتی تو اس کا کیا حال ہوتا؟‘‘
زندگی کی تلخ حقیقتوں کو نہایت خوبصورت انداز میں پیش کرنا اور ان پر غور و فکر کرنے کی دعوت دینا انشائیہ نگار کا کام ہے۔ ’’ییلہ میہ رنگین ٹیلی ویژن اَن‘‘ میں لکھتے ہیں:
’’رنگین ٹیلی ویژن لانے پر ایسی ہی خوشی حاصل ہوتی ہے جیسی خوشی نئی نویلی دلہن کو گھر میں لانے سے ہوتی ہے۔ دونوں گھر میں تشریف لانے سے پہلے جی پی فنڈ، کیش سرٹیفکیٹ اور فکسڈ ڈپازٹ پر ڈاکا ڈالتے ہیں۔‘‘
اسی طرح ’’ییلہ سہ رٹیار گو‘‘ انشائیے میں، جہاں ایک طرف مصنف نے سرکاری ملازمین کے جذبات اور خیالات کی عکاسی کی ہے، جو ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد یہ نہیں جانتے کہ وقت کس طرح گزارا جائے، وہیں اس حقیقت کی طرف بھی اشارہ ملتا ہے کہ عمر کی اس منزل پر پہنچ کر آدمی کسی نہ کسی طرح ذہنی اور جذباتی طور پر ٹوٹ کر بکھر جاتا ہے۔ احساس کمتری کے شکار ہو کر بعض لوگ یا تو اپنے لئے وبال جان بن جاتے ہیں یا گھر کے دوسرے افراد کا جینا حرام کر دیتے ہیں۔ اکثر اوقات ریٹائرمنٹ کا آرڈر ان کے لئے موت کا پیغام ثابت ہوتا ہے۔
کتاب میں شامل ایک اور خوبصورت انشائیہ ’’ییلہ سہ پی ایچ ڈی کرنہ دراو‘‘ ہے۔ اسے جس اپنائیت اور خوبصورتی کے ساتھ لکھا گیا ہے، ایسا لگتا ہے کہ یہ مصنف کی اپنی واردات قلبی ہے۔ اس میں ان تمام تجربات اور مراحل سے گزرتے ہوئے مسائل اور مشکلات کی نشان دہی کی گئی ہے، جو ایک پی ایچ ڈی اسکالر اور خاص طور پر ایک لڑکی کو شادی سے پہلے اور شادی کے بعد پیش آتے ہیں۔
پی ایچ ڈی کو ایک وبائی بیماری قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’ہر زمانے میں لوگ کسی نہ کسی مرض میں مبتلا ہوتے ہیں۔ نزلہ زکام جیسی بیماریاں اگرچہ سال میں کم از کم ایک بار ہر انسان کو ہو جاتی ہیں، تاہم پی ایچ ڈی کے جراثیم یونیورسٹیوں میں پائے جاتے ہیں۔ اس بیماری کے کیریئر بڑے بڑے پروفیسر اور ڈین ہوتے ہیں۔‘‘
پی ایچ ڈی اسکالرز پر طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’جس ملک میں فیمیل اسکالرز کے بچوں کو پالنے کے لئے ’آیا‘ نہ ہو، وہاں علم و ادب کی گھتی کہاں کھل سکتی ہے؟‘‘
اگر اس انشائیے کو حاصل کتاب کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
مذکورہ بالا انشائیوں کے علاوہ زیر تبصرہ کتاب میں کچھ اور دلچسپ انشائیے بھی شامل ہیں، جن میں ’’سلف سروس‘‘، ’’ریثرھ‘‘ اور ’’دربار مو‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ کتاب کے آخر میں مصنف کی پہلی کتاب ’’ایسے‘‘ سے متعلق کئی نامور شاعروں اور ادیبوں کے خیالات بھی درج ہیں۔
آزردہ صاحب کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ ایسے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جو بظاہر سادہ لیکن پُرکشش ہوتے ہیں۔ پڑھنے والے کو پہلے یقین نہیں آتا کہ ایسے معمولی موضوع پر چند باتوں کے سوا کچھ کہا بھی جا سکتا ہے، لیکن دلچسپی کا عالم یہ ہے کہ ایک بار کتاب ہاتھ میں لے لی جائے تو اسے چھوڑنے کو دل نہیں کرتا۔ قدم قدم پر اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ چھوٹی سے چھوٹی بات کے کئی زاویے نکال دینا ان کا فن ہے۔ وہ لوگوں کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں اور سماج کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ اکثر ان دکھوں سے چھٹکارا پانے کے راستے بھی تلاش کر کے بتا دیتے ہیں۔
جہاں تک زیر تبصرہ کتاب کی زبان کا تعلق ہے، آزردہ صاحب کا اپنا ایک منفرد اسلوب ہے۔ ادب تخلیق کرنے کے لئے ایک تیز ذہن اور وسیع نظر کی ضرورت ہوتی ہے، اور خاص طور پر انشائیہ نگار کے لئے تیزی ذہن اور حاضر جوابی کے ساتھ ساتھ لفظوں کی ہم آہنگی اور زبان میں موسیقیت پیدا کرنے کی مہارت بھی ضروری ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو زیر تبصرہ کتاب میں یہ تمام خوبیاں بدرجۂ اتم موجود ہیں۔ یہاں زبان کا حسن بھی ہے اور لفظوں کی ہم آہنگی بھی۔ جہاں لفظوں نے مصنف کا ساتھ نہ دیا، وہاں انہوں نے لطیفوں، ضرب الامثال اور محاوروں سے کام لے کر عبارت میں حسن پیدا کیا ہے۔
وادی کے معروف شاعر اور ادیب، مرحوم میر غلام رسول نازکی، کشمیری زبان میں انشائیہ کو ایک غیر معروف صنف قرار دیتے ہوئے آزردہ صاحب کو کشمیری زبان میں اس صنف ادب کا پیش امام قرار دیتے ہیں۔ انشائیہ نگاری آزردہ صاحب کا مشغلہ ہے، نہ کہ پیشہ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اب تک جو کتابیں شائع کی ہیں، وہ حد درجہ خوبصورت اور دلکش ہیں۔


