
جاوید قسیم
خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے
آگ بجھتی نہیں ہے پانی سے
جانے کتنے نہال ہوتے ہیں
ایک سائل کی خوش بیانی سے
ملک کی آج ہے زبوں حالی
ایک جوکر کی لنترانی سے
جو بھی آسائشیں میسّر ہیں
سب ہیں یہ رب کی مہربانی سے
شعر میں تازگی تو آئیگی
تیرے اندازِ ترجمانی سے
کس نے دریا میں پیر دھوئے ہیں
روشنی آ رہی ہے پانی سے
حوصلے ان کے اور بڑھتے ہیں
آج ہم سب کی بے زبانی سے
شک کا کانٹا نکال دو ورنہ
بات بگڑیگی بدگمانی سے


