غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم

خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے
آگ بجھتی نہیں ہے پانی سے
جانے کتنے نہال ہوتے ہیں
ایک سائل کی خوش بیانی سے
ملک کی آج ہے زبوں حالی
ایک جوکر کی لنترانی سے
جو بھی آسائشیں میسّر ہیں
سب ہیں یہ رب کی مہربانی سے
شعر میں تازگی تو آئیگی
تیرے اندازِ ترجمانی سے
کس نے دریا میں پیر دھوئے ہیں
روشنی آ رہی ہے پانی سے
حوصلے ان کے اور بڑھتے ہیں
آج ہم سب کی بے زبانی سے
شک کا کانٹا نکال دو ورنہ
بات بگڑیگی بدگمانی سے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : محمد ایوبؔ

    محمد ایوبؔ ترال بالا کسی سے محبت اسے بھی تھی ہجر...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : محمد ایوبؔ

    محمد ایوبؔ ترال بالا کسی سے محبت اسے بھی تھی ہجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم

خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے
آگ بجھتی نہیں ہے پانی سے
جانے کتنے نہال ہوتے ہیں
ایک سائل کی خوش بیانی سے
ملک کی آج ہے زبوں حالی
ایک جوکر کی لنترانی سے
جو بھی آسائشیں میسّر ہیں
سب ہیں یہ رب کی مہربانی سے
شعر میں تازگی تو آئیگی
تیرے اندازِ ترجمانی سے
کس نے دریا میں پیر دھوئے ہیں
روشنی آ رہی ہے پانی سے
حوصلے ان کے اور بڑھتے ہیں
آج ہم سب کی بے زبانی سے
شک کا کانٹا نکال دو ورنہ
بات بگڑیگی بدگمانی سے

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون