
حمیرہ فارق
یونہی انسان کو الله رب العزت نے اشرف المخلوقات کے درجے سے نہیں نوازا بلکہ انسان کو ایسے سفر کا مسافر بنایا گیا جس سے فرشتے مستثنیٰ ہے۔ انسانیت کے پیمانے پر کھرے اترنا ہر ایک کی بس کی بات نہیں بلکہ اس میں صبر، شکر اور قناعت کا عمل دخل ہیں۔ کبھی انسان کو بے تحاشا آزمائشوں سے گزرنا پڑتا ہے جہاں اگر صبر و شگر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے تو کفر میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ لہذا انسان بننا آسان نہیں اس کے لئے محنت درکار ہیں۔
اللہ کو انسان کی تخلیق کے وقت فرشتوں نے سوال کیا کہ تم اُس کو پیدا کرنے جا رہے ہیں جو زمین میں فتنہ پھلاے اور خونریزی کرئے گا۔ لیکن رب نے فرمایا جو میں جانتا ہوں وہ آپ نہیں جانتے۔ انسان کو اتنا اعلیٰ مقام ملا کہ انسانوں میں ہی نبی ﷺ وہ عظیم ترین بشر ہے جن کو سدره المنتهی پر رب نے دعوت دے کر مہمان خصوصی بنا دیا ، جہاں کوئی فرشتہ بھی نہیں جا پایا۔ محنت سے انسان کی قیمت ہے اگر انسان خودی پر محنت کرے ، اپنے وجود اور مقصود زندگی کو سمجھیں اور خود کو قوانین الہی کا مطیع بنایے تو اس سے کامیاب ترین کوئی نہیں۔
انسان کو یہ بات مدنظر رکھ کر کہ اللہ نے انسانیت کی کتنی وجاہت کی جہاں فرشتوں نے انسان بنانے پر ناراضگی کا اظہار کیا وہی الله نے انسان کو اک ایسے مقام سے نوازا کہ اگر وہ خود کو اُس کے قوانین کا مطیع بنائے تو انسانوں میں نہ جانے کتنے فرشتے نکل آئے گے۔ نبی کریم ﷺ کی مبارک زندگی کو دیکھیں ان کا اک اک لمحہ فرشتوں سے افضل ہیں اور ان کو وہ رتبہ عطا کیا گیا جہاں فرشتوں کے پـر بھی جل گیے۔ یہ اس لئے کیونکہ نبی ﷺ اخلاقاً سب سے افضل تھے جن کے تعلقات دنیا کے ہر ذی روح کے ساتھ رحمت اور شفقت کے رہیں۔ انہوں نے انسانیت کے مابین تعلقات بحثیت انسان اعظم نبھاے زندگی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جہاں آپ ﷺ نے خُلق عظیم سے کام نہ لیا ہو۔
آدم علیہ السلام کو دنیا میں لانے کے بعد ماں حوّا کو اس کی تسکین کا زریعہ بنایا گیا پھر ان دونوں کے مودت اور ملاپ سے نسل انسانیت کو وجود ملا۔ اور دنیا کا ہر رشتہ انہی تعلقات سے قائم ہے اگر تعلقات اچھے نہ ہو تو دنیا آگے نہیں بڑھ سکتی۔
دیکھا جائے تو زندگی کے دیگر شعبجات کی ترقی بھی آپسی روابط سے ممکن ہوتا ہے۔ ان تعلقات کو قائم رہنے کے لئے شریعت نے نسل انسانیت کے لئے جو قوانین حقوق العباد کے لئے نافذ کیے اگر انسان ان پر عمل نہ کریں تو ظالم کہلایا جائے گا کیونکہ حدیث مبارکہ میں آیا ہے” الخلق عیال الله” یعنی اللہ کی مخلوق اللہ کا کنبہ اور اس کے خاندان ہے۔ لہذا رب ان لوگوں کو پسند فرماتے ہیں جو ان کے ساتھ حسن خلق سے پیش آئے۔ اور مومن ایک دوسرے کے بھائی ہے ہر انسان کو جتنا ہوسکے دوسروں کو فائدہ دیں ، بجائے اس کے کہ دوسرے انسان آپ کی وجہ سے تکلیف و ایذا میں مبتلا ہو۔ اور کامل مسلمان بھی وہی ہے جس کے شر سے دوسرا مسلمان محفوظ رہیں۔ خواہ پھر وہ عزت کا معاملہ ہو یا مال و جان کی۔ نبیﷺ نے خطبہ حج میں فرمایا "آج سے تمہاری جانیں، مال اور عزتیں ایک دوسرے پر حرام ہیں یعنی نہ تم کسی کی حق تلفی کرسکتیں ہے اور نہ کسی کی عزت ریزی کے لئے ہاتھ بڑھاؤ گے”۔
اگر کوئی یتیموں کے حق کو پامال کر رہا ہوگا تو اس کے بارے میں قرآن پاک میں آیا کہ وہ آخرت کا منکر ہے۔
نبی کریم ﷺ پر جب وحی اوّل کا نزول ہوا تو آپ ﷺ بہت کانپ گیے اور جب خدیجہ رضی الله عنہا کے پاس اسی حالت میں آتے ہیں تو وہ فرماتے ہے کہ اللہ آپ کو ضائع نہیں ہونے دینگے۔ وہ اس لئے کیونکہ آپ ﷺ ہر ایک کے ساتھ حسن سلوک کا برتاؤ کرتے تھے۔ چھوٹا ہو یا بڑا ہر اک سے شفقت و عزت سے پیش آتے تھے۔ نبیﷺ ہمارے لئے رول ماڈل ہے لہذا مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خیر خواہ بن کر رہنا چاہتے ہر ایک کی عزت کو اپنی عزت مانیں اور ہر وہ کام جو اپنے لئے ناپسند کریں دوسروں سے بھی یہی نیت رکھیں۔ کیونکہ ہمارے رہبر ﷺ
نے انسانیت کو محبت کا پیغام دیا۔ انہوں نے حسد و نفرت کی آگ کو بجھا کر انسان کو انسانیت کا راستہ دکھایا۔ وہ غیر مسلموں سے بھی حسن سلوک کا تعلق نبھاتے تھے۔
الغرض دیکھا جائے دنیا محبت کے تعلق سے قائم ہے۔ محبت امر ہے جو اس بندھن میں بندھ جائے اُس کا نصیب لازوال خوشیوں اور کامیابیوں سے مالا مال ہو جاتا ہے۔
لہذا ہر تعلق میں محبت کو عام کرنا چاہیے اور دنیا میں اگر سکون سے جینے کی مہلت مل جائے تو محبت کا کفل اس طرح باندھ دو کہ نفرت کی چابی اس میں داخل نہ ہوسکے۔ کیونکہ دنیا کا ہر برا کام نفرت اور حسد سے شروع ہوتا ہے۔
محبت کا حقدار اولًا ہمارا خالق ہیں اگر اس محبت میں کمی ہو جائے تو دنیا کی رونقیں بے نور ہوجاتی ہیں۔ اور جس کا دل رب کی محبت سے عاری ہو گا وہ خلق کا اصل ہمدرد نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ انسان جب نظام الہی اور شریعت اسلام سے بیزاری اختیار کرے تو اس سے خیر خواہی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
آدم اور ماں حوا کی وجہ سے انسان نے آپس میں محبت کرنا سیکھا جن کی وجہ سے نسل انسانیت زمین میں آباد ہیں۔ محبت کے تعلق کا ہونا دل میں لازمی ہے بغیر اس کے انسان درندہ صفت ہے۔ محبت کرنے والا دل کا نرم اور رحم دل ہوتا ہے جو کہ رب کی صفت بھی ہے۔ رب کی مخلوق محبت کی حقدار ہیں کیونکہ خالق نے انسان کی تخلیق بڑے ناز و نعم سے فرمائی ۔ رب کو جب اپنے بندوں سے اتنی محبت ہے تو ہم پر لازم ہے کہ اس میں شرکت کریں تاکہ تعلقات انسانیت کو تقویت حاصل ہو اور انسان انسانیت کے اصول کے عین مطابق زندگی کا بسیرا کرلیں جہاں ہر غم سے انسان بےبہرہ اور آزاد ہو کر زندگی گزار سکیں اور دوسروں کو بھی سکون سے جینے دیں یہ ہمارا دین ہے جہاں محبت کو عام اور نفرت کو مٹانے کی تلقین کی گئی ہو تاکہ تعلقات میں انسانیت کا بھرم قائم رہیں۔


