اُردو زبان

 

ساحلؔ عرفان شفیع
بڈگام، کشمیر

میرے جذبوں کی ترجماں جسے تھام کر منزل آسان
جو دلفریب و عالی شاں ہے بس یہی اُردو زبان
جسکے ہر اک لفظ میں مٹھاس، جسکا لہجہ بے حد خاص
لائی ہے جو امن و اماں ہے بس یہی اُردو زبان
ہندی و فارسی و عربی الفاظ سے رفعت ملی
لشکر بنی جس کی پہچاں ہے بس یہی اُردو زبان
اسلوب کی ہے بات کیا بے ساختہ نکلے ہے واہ !
کرنے میں جو شیریں بیاں ہے بس یہی اُردو زبان
بات نثر ہو یا نظم کی لاج رکھتی ہے ہر بزم کی
تقریرسے تحریریں جواں ہے بس یہی اُردو زبان
میرؔوغالبؔو اقبالؔکی ہے امانت اہلِ کمال کی
وسیع تر جس کی داستاں ہے بس یہی اُردو زبان
جینا ہے ساحلؔ سنگ اسکے یہ یاد رکھنا ہے تجھے
رہوں بن کے اسکا پاسباں ہے بس یہی اُردو زبان

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

اُردو زبان

 

ساحلؔ عرفان شفیع
بڈگام، کشمیر

میرے جذبوں کی ترجماں جسے تھام کر منزل آسان
جو دلفریب و عالی شاں ہے بس یہی اُردو زبان
جسکے ہر اک لفظ میں مٹھاس، جسکا لہجہ بے حد خاص
لائی ہے جو امن و اماں ہے بس یہی اُردو زبان
ہندی و فارسی و عربی الفاظ سے رفعت ملی
لشکر بنی جس کی پہچاں ہے بس یہی اُردو زبان
اسلوب کی ہے بات کیا بے ساختہ نکلے ہے واہ !
کرنے میں جو شیریں بیاں ہے بس یہی اُردو زبان
بات نثر ہو یا نظم کی لاج رکھتی ہے ہر بزم کی
تقریرسے تحریریں جواں ہے بس یہی اُردو زبان
میرؔوغالبؔو اقبالؔکی ہے امانت اہلِ کمال کی
وسیع تر جس کی داستاں ہے بس یہی اُردو زبان
جینا ہے ساحلؔ سنگ اسکے یہ یاد رکھنا ہے تجھے
رہوں بن کے اسکا پاسباں ہے بس یہی اُردو زبان

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون