سعید قادری صاحبگنج
دنیا کی چوٹ کھائے ستائے ہوئے ہیں ہم
آقا تجھے دکھانے کو آئے ہوئے ہیں ہم
دل میں چراغ عشق جلائے ہوئے ہیں ہم
اس کے مکاں کو ایسے سجائے ہوئے ہیں ہم
کب سے کھڑے ہیں آپ کے قدموں میں شاہ دیں
للّٰہ رخ ادھر ہو ستائے ہوئے ہیں ہم
کچھ تو صلہ غلامی کا ہم کو بھی دیجئے
تحفہ درود پاک کا لائے ہوئے ہیں ہم
ناصح ہمارے زخم کا مرہم ہیں مصطفےٰ
اپنا مرَض ان ہی کو دکھائے ہوئے ہیں ہم
جو منکرین عظمت سرکار ہیں جناب
ہر لمحہ ان سے دوری بنائے ہوئے ہیں ہم
کہنے کو ہم تو عاشق سرکار ہیں مگر
کیا ، اپنا وعدہ ان سے نبھائے ہوئے ہیں ہم
اہل سخن بھی سن کے پریشان سے لگے
محفل میں رنگ اپنا جمائے ہوئے ہیں ہم
یہ تو کرم ہے سید ابرار کا سعید
جا کر مدینہ نعت سنائے ہوئے ہیں ہم


