جنگ نیوز
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے آج فلوریکلچر پارک، پولو ویو میں سرینگر کے پہلے ضائع شدہ اشیا سے تیار کردہ پھولوں کے باغ اور پھولوں کی نمائش کا افتتاح کیا۔
باغ میں ناکارہ اور ضائع شدہ اشیا، جن میں امبیسیڈر کار، کشمیری ٹانگا، کشتی، اسکوٹر، جیپ، ٹریکٹر اور پرانے ٹائر شامل ہیں، کو تخلیقی انداز میں دوبارہ استعمال کرتے ہوئے باغ کی آرائش کا حصہ بنایا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ محکمہ باغبانیِ گل کی یہ پہل اس بات کا مظہر ہے کہ سوچ اور تخیل کے ذریعے ناکارہ اشیا کو بھی نئی زندگی دی جا سکتی ہے۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ کسی چیز کو پھینکنے سے پہلے اس کے دوبارہ استعمال یا بازتخلیق کے امکانات پر غور کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ یہ باغ کم استعمال، دوبارہ استعمال اور بازتخلیق کے اصولوں کے تحت تیار کیا گیا ہے اور اس کی تعمیر میں تقریباً 90 فیصد مواد ناکارہ اشیا کی مرمت اور دوبارہ استعمال سے حاصل کیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ نے پھولوں کی نمائش کا بھی دورہ کیا اور مختلف اضلاع سے آئے پھولوں کے کاشت کاروں اور کاروباری افراد کے اسٹالوں کا معائنہ کیا۔
تقریب میں وزیر اعلیٰ کے مشیر نصیر اسلم وانی، رکن اسمبلی بنی ڈاکٹر رامیشور سنگھ، ایڈیشنل چیف سیکریٹری دھیراج گپتا، پرنسپل سیکریٹری ثقافت برج موہن شرما، کمشنر سیکریٹری باغبانیِ گل، باغات و تفریح گاہیں زبیر احمد اور ڈائریکٹر باغبانیِ گل، باغات و تفریح گاہیں کشمیر ماتھورا معصوم سمیت دیگر افسران موجود تھے۔


