انصاف کی رفتار بھی بڑھنی چاہیے

لداخ میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا بینچ قائم کرنے کا مرکزی کابینہ کا فیصلہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے مطابق اس اقدام سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لئے انصاف تک رسائی آسان ہوگی۔لداخ جیسے دشوار گزار علاقے میں عدالت تک پہنچنا صرف قانونی نہیں بلکہ فاصلے، موسم اور مالی اخراجات کا مسئلہ بھی ہے۔ اپنے علاقے کے قریب ہائی کورٹ بینچ کا قیام شہریوں کا وقت اور وسائل بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم اس مثبت پیش رفت کے ساتھ جموں و کشمیر میں چار لاکھ سے زائد زیر التوا مقدمات کا مسئلہ بھی فوری توجہ چاہتا ہے۔ عدالتی نظام کی کامیابی صرف نئی عدالتوں کے قیام سے نہیں بلکہ بروقت انصاف کی فراہمی سے بھی ناپی جانی چاہیے۔انصاف میں تاخیر اکثر انصاف سے انکار کے مترادف ہوتی ہے۔ ایک مقدمہ صرف متعلقہ فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کا پورا خاندان مالی، ذہنی اور سماجی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ برسوں تک جاری رہنے والے جائیداد، مالی یا فوجداری مقدمات شہریوں کے لئے ایک مستقل پریشانی بن جاتے ہیں۔حکومت اور عدلیہ کو مقدمات کے تیز اور مؤثر تصفیے کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ججوں اور عدالتی عملے کی خالی آسامیوں کو پُر کرنا، جدید ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال اور مقدمات کے مؤثر انتظام کی ضرورت ہے۔
اسی کے ساتھ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جانا چاہیے، خصوصاً طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات اور بزرگ شہریوں، خواتین اور دیگر کمزور طبقات سے متعلق معاملات کے لئے۔ ثالثی اور تنازعات کے متبادل حل کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ ہر معاملہ برسوں تک عدالتوں میں نہ رہے۔ لداخ میں ہائی کورٹ بینچ کا قیام ایک اہم آغاز ہے، مگر اصل ضرورت ایک وسیع عدالتی اصلاحاتی نظام کی ہے۔ عدالتوں کو عوام کے قریب لانا ضروری ہے، لیکن انصاف کو تیز اور مؤثر بنانا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام کے لئے انصاف تک رسائی کا مطلب صرف عدالت کے دروازے تک پہنچنا نہیں بلکہ وقت پر انصاف ملنا ہونا چاہیے۔ کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں، بلکہ بروقت ہونا بھی ضروری ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

انصاف کی رفتار بھی بڑھنی چاہیے

لداخ میں جموں و کشمیر ہائی کورٹ کا بینچ قائم کرنے کا مرکزی کابینہ کا فیصلہ ایک خوش آئند قدم ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے مطابق اس اقدام سے دور دراز علاقوں میں رہنے والے شہریوں کے لئے انصاف تک رسائی آسان ہوگی۔لداخ جیسے دشوار گزار علاقے میں عدالت تک پہنچنا صرف قانونی نہیں بلکہ فاصلے، موسم اور مالی اخراجات کا مسئلہ بھی ہے۔ اپنے علاقے کے قریب ہائی کورٹ بینچ کا قیام شہریوں کا وقت اور وسائل بچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم اس مثبت پیش رفت کے ساتھ جموں و کشمیر میں چار لاکھ سے زائد زیر التوا مقدمات کا مسئلہ بھی فوری توجہ چاہتا ہے۔ عدالتی نظام کی کامیابی صرف نئی عدالتوں کے قیام سے نہیں بلکہ بروقت انصاف کی فراہمی سے بھی ناپی جانی چاہیے۔انصاف میں تاخیر اکثر انصاف سے انکار کے مترادف ہوتی ہے۔ ایک مقدمہ صرف متعلقہ فرد کو متاثر نہیں کرتا بلکہ اس کا پورا خاندان مالی، ذہنی اور سماجی دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ برسوں تک جاری رہنے والے جائیداد، مالی یا فوجداری مقدمات شہریوں کے لئے ایک مستقل پریشانی بن جاتے ہیں۔حکومت اور عدلیہ کو مقدمات کے تیز اور مؤثر تصفیے کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ججوں اور عدالتی عملے کی خالی آسامیوں کو پُر کرنا، جدید ٹیکنالوجی کا بہتر استعمال اور مقدمات کے مؤثر انتظام کی ضرورت ہے۔
اسی کے ساتھ فاسٹ ٹریک عدالتوں کے دائرہ کار کو وسیع کیا جانا چاہیے، خصوصاً طویل عرصے سے زیر التوا مقدمات اور بزرگ شہریوں، خواتین اور دیگر کمزور طبقات سے متعلق معاملات کے لئے۔ ثالثی اور تنازعات کے متبادل حل کو بھی فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ ہر معاملہ برسوں تک عدالتوں میں نہ رہے۔ لداخ میں ہائی کورٹ بینچ کا قیام ایک اہم آغاز ہے، مگر اصل ضرورت ایک وسیع عدالتی اصلاحاتی نظام کی ہے۔ عدالتوں کو عوام کے قریب لانا ضروری ہے، لیکن انصاف کو تیز اور مؤثر بنانا اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔جموں و کشمیر اور لداخ کے عوام کے لئے انصاف تک رسائی کا مطلب صرف عدالت کے دروازے تک پہنچنا نہیں بلکہ وقت پر انصاف ملنا ہونا چاہیے۔ کیونکہ انصاف صرف ہونا ہی نہیں، بلکہ بروقت ہونا بھی ضروری ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں