سفر کی نئی راہیں، کشمیر کے لئے نئی امید

امریکہ کے ہندوستان میں سفیر سرجیو گور کا یہ کہنا کہ امریکہ جموں و کشمیر کے لئے اپنی سفری ہدایات پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے، وادی کی سیاحت کے لئے ایک اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت ہو سکتی ہے۔ سفری ہدایات محض سرکاری مشورے نہیں ہوتیں بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کے ذہن میں کسی خطے کے بارے میں تحفظ اور اعتماد کا تصور بھی تشکیل دیتی ہیں۔
اگر امریکہ واقعی اپنی ٹریول ایڈوائزری میں نرمی لاتا ہے تو اس کے اثرات صرف امریکی سیاحوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس سے عالمی سطح پر کشمیر کے بارے میں ایک مثبت پیغام جا سکتا ہے کہ حالات میں بہتری آئی ہے اور یہ خطہ سیاحت کے لئے زیادہ محفوظ اور پُراعتماد منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
سیاحت کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈیوں میں سے ایک ہے۔ ہوٹلوں، ہاؤس بوٹس، ٹرانسپورٹ، دستکاری، رہنمائی خدمات اور ہزاروں چھوٹے کاروباروں کا روزگار براہِ راست سیاحوں کی آمد سے وابستہ ہے۔ ایسے میں بین الاقوامی سفری پابندیوں یا سخت انتباہات میں نرمی غیر ملکی سیاحت کو نئی رفتار دے سکتی ہے۔
تاہمصرف سفری ہدایات میں تبدیلی کافی نہیں ہوگی۔ اس موقع کو ایک مستقل موقع میں تبدیل کرنے کے لئے حکومت اور سیاحتی شعبے کو بنیادی ڈھانچے، بہتر سہولیات، عالمی معیار کی خدمات اور کشمیر کی مثبت تشہیر پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔ امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ ایک خوشگوار اور قابلِ اعتماد سیاحتی تجربہ ہی عالمی سیاح کو دوبارہ کشمیر کی طرف متوجہ کرے گا۔
اگر سفری ایڈوائزری پر نظرِ ثانی ہوتی ہے تو اسے محض سفارتی پیش رفت کے طور پر نہیں بلکہ کشمیر کی سیاحت، معیشت اور عالمی شناخت کے لئے ایک نئی کھڑکی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ممکنہ موقع کو درست منصوبہ بندی اور دیرپا اقدامات کے ذریعے حقیقی معاشی فائدے میں تبدیل کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

تازہ ترین خبریں

اسکمز میڈیکل کالج بمنہ میں ہفتۂ بیداریٔ نگرانی کا اہتمام

اقبال بیگ سری نگر/ جنگ نیوز/شیرِ کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف...

صوفی بزرگ حضرت احمد صاحب بٹواریؒ کا عرس احمد نگر سرینگر میں منایا گیا

جنگ نیوز ڈیسک سرینگر /صوفی میڈیا سروسز/وادیِ کشمیر کے معروف...

امیت شاہ کیNCDC کو آئندہ 25 برس کا منصوبۂ عمل تیار کرنے کی ہدایت

جنگ نیوز نئی دہلی/مرکزی وزیر داخلہ و وزیرِ تعاون امیت...

’ ہنسی کے رنگ، سنگیت کے سنگ‘ :DIPRکے کلچرل یونٹ نے سری نگر میں پروگرام کا انعقادکیا

جنگ  نیوز  سری نگر/محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ (ڈی آئی...

جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ججوں کی تقرری کے لئے 9 وکلا کی سفارش

جنگ نیوز نئی دہلی// سپریم کورٹ کالجیم نے 29 اکتوبر...

سفر کی نئی راہیں، کشمیر کے لئے نئی امید

امریکہ کے ہندوستان میں سفیر سرجیو گور کا یہ کہنا کہ امریکہ جموں و کشمیر کے لئے اپنی سفری ہدایات پر نظرِ ثانی کر سکتا ہے، وادی کی سیاحت کے لئے ایک اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت ہو سکتی ہے۔ سفری ہدایات محض سرکاری مشورے نہیں ہوتیں بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کے ذہن میں کسی خطے کے بارے میں تحفظ اور اعتماد کا تصور بھی تشکیل دیتی ہیں۔
اگر امریکہ واقعی اپنی ٹریول ایڈوائزری میں نرمی لاتا ہے تو اس کے اثرات صرف امریکی سیاحوں تک محدود نہیں رہیں گے۔ اس سے عالمی سطح پر کشمیر کے بارے میں ایک مثبت پیغام جا سکتا ہے کہ حالات میں بہتری آئی ہے اور یہ خطہ سیاحت کے لئے زیادہ محفوظ اور پُراعتماد منزل کے طور پر ابھر رہا ہے۔
سیاحت کشمیر کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈیوں میں سے ایک ہے۔ ہوٹلوں، ہاؤس بوٹس، ٹرانسپورٹ، دستکاری، رہنمائی خدمات اور ہزاروں چھوٹے کاروباروں کا روزگار براہِ راست سیاحوں کی آمد سے وابستہ ہے۔ ایسے میں بین الاقوامی سفری پابندیوں یا سخت انتباہات میں نرمی غیر ملکی سیاحت کو نئی رفتار دے سکتی ہے۔
تاہمصرف سفری ہدایات میں تبدیلی کافی نہیں ہوگی۔ اس موقع کو ایک مستقل موقع میں تبدیل کرنے کے لئے حکومت اور سیاحتی شعبے کو بنیادی ڈھانچے، بہتر سہولیات، عالمی معیار کی خدمات اور کشمیر کی مثبت تشہیر پر مسلسل توجہ دینا ہوگی۔ امن و سلامتی کے ساتھ ساتھ ایک خوشگوار اور قابلِ اعتماد سیاحتی تجربہ ہی عالمی سیاح کو دوبارہ کشمیر کی طرف متوجہ کرے گا۔
اگر سفری ایڈوائزری پر نظرِ ثانی ہوتی ہے تو اسے محض سفارتی پیش رفت کے طور پر نہیں بلکہ کشمیر کی سیاحت، معیشت اور عالمی شناخت کے لئے ایک نئی کھڑکی کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس ممکنہ موقع کو درست منصوبہ بندی اور دیرپا اقدامات کے ذریعے حقیقی معاشی فائدے میں تبدیل کیا جائے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں