
خان سہرش
سرینگر ، کشمیر
کشمیر میں بارش کبھی رحمت کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ پہاڑوں پر بادلوں کا اترنا، وادی میں ٹھنڈی ہواؤں کا چلنا اور بارش کے بعد ہر طرف پھیل جانے والی سبز چادر اس خطے کی خوبصورتی کا حصہ رہی ہے۔ لیکن اب یہی بادل کئی لوگوں کے لئے سکون کے بجائے خوف لے کر آتے ہیں۔ بارش شروع ہوتے ہی پہاڑی علاقوں میں رہنے والے خاندانوں کی نظریں آسمان پر جم جاتی ہیں کہ کہیں چند لمحوں کی شدید بارش اچانک سیلابی ریلے یا ملبے کے طوفان میں تبدیل نہ ہو جائے۔
گزشتہ کچھ عرصے سے جموں و کشمیر کے مختلف علاقوں میں کلاؤڈ برسٹ، فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات بار بار سامنے آ رہے ہیں۔ کہیں گھر متاثر ہوئے، کہیں سڑکیں اور پل بہہ گئے، کہیں زرعی زمین ملبے تلے دب گئی اور کہیں لوگوں کو اپنی جان بچانے کے لئے محفوظ مقامات کی طرف منتقل ہونا پڑا۔ ایسے واقعات کے بعد ایک سوال ہر بار ہمارے سامنے آتا ہے: آخر کشمیر میں کلاؤڈ برسٹ اور شدید بارش کے واقعات اتنے زیادہ کیوں محسوس ہو رہے ہیں؟
اس سوال کا جواب صرف ’’موسم خراب ہے‘‘ کہہ کر نہیں دیا جا سکتا۔
سب سے پہلے کلاؤڈ برسٹ کو سمجھنا ضروری ہے۔ عام بارش اور کلاؤڈ برسٹ ایک چیز نہیں ہیں۔ کلاؤڈ برسٹ ایک محدود علاقے میں انتہائی کم وقت کے دوران ہونے والی غیر معمولی شدید بارش کو کہا جاتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق جب ایک گھنٹے میں تقریباً 100 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش کسی محدود علاقے میں ہو تو اسے کلاؤڈ برسٹ کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں اس کے اثرات زیادہ خطرناک ہو سکتے ہیں کیونکہ پانی تیزی سے ڈھلوانوں سے نیچے آتا ہے اور اپنے ساتھ مٹی، پتھر اور درخت بھی بہا لے جاتا ہے۔
یہاں ایک بات واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ ہر فلیش فلڈ کلاؤڈ برسٹ نہیں ہوتا۔ کئی مرتبہ شدید بارش کے نتیجے میں ندی نالوں میں پانی اچانک بڑھتا ہے اور سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ اس لئے ہر قدرتی آفت کو کلاؤڈ برسٹ کہنا درست نہیں، لیکن دونوں صورتوں میں ایک بات مشترک ہے: پہاڑی علاقوں میں شدید بارش بہت کم وقت میں بڑے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ کشمیر ہی کیوں؟
کشمیر کا جغرافیہ اس معاملے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ وادی اور اس کے گرد و نواح کا بڑا حصہ پہاڑی اور حساس جغرافیائی خطے میں واقع ہے۔ یہاں پہاڑ، تنگ وادیاں، ندی نالے اور ڈھلوانیں موجود ہیں۔ جب نمی سے بھرے بادل پہاڑی علاقوں تک پہنچتے ہیں تو جغرافیائی حالات بعض اوقات بارش کو ایک محدود علاقے میں انتہائی شدید بنا دیتے ہیں۔
لیکن صرف جغرافیہ کو ذمہ دار قرار دینا بھی کافی نہیں۔
دنیا بھر میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسم کے انداز میں تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ فضا کی نمی رکھنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے اور بعض حالات میں شدید بارش کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے۔ یہاں برف، گلیشیئر، بارش، درجہ حرارت اور پہاڑی ماحول میں آنے والی تبدیلیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
کشمیر میں بدلتے ہوئے موسم کا اثر صرف کلاؤڈ برسٹ تک محدود نہیں۔ کبھی غیر معمولی گرمی، کبھی اچانک شدید بارش، کبھی ژالہ باری اور کبھی سیلابی ریلے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ موسم کا پرانا انداز تبدیل ہو رہا ہے۔
لیکن اس کہانی کا ایک کردار انسان بھی ہے۔
ہم نے قدرتی راستوں پر تعمیرات کیں۔ ندی نالوں کے قریب مکانات اور دکانیں بنیں۔ پہاڑی علاقوں میں سڑکیں بنانے کے لئے ڈھلوانوں کو کاٹا گیا۔ کئی مقامات پر جنگلات اور قدرتی سبزہ کم ہوا۔ زمین کے بڑے حصے کنکریٹ میں تبدیل ہوئے۔ جب شدید بارش ہوتی ہے تو پانی کو وہ قدرتی راستے نہیں ملتے جو کبھی اس کے لئے موجود تھے۔
پانی کو راستہ نہ ملے تو وہ اپنا راستہ خود بناتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایک معمولی سا نالہ شدید بارش کے دوران خطرناک ریلے میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ پہاڑ سے آنے والا پانی جب مٹی اور پتھروں کو اپنے ساتھ لے آتا ہے تو فلیش فلڈ اور لینڈ سلائیڈنگ کی شدت مزید بڑھ جاتی ہے۔
یہاں ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا ہم ترقی کے نام پر ہر جگہ تعمیرات کر سکتے ہیں؟
کیا ندی نالوں کے قدرتی راستوں کی کوئی اہمیت نہیں؟ کیا حساس پہاڑی ڈھلوانوں پر تعمیرات سے پہلے زمین کی مضبوطی اور ماحولیاتی خطرات کا جائزہ نہیں لیا جانا چاہیے؟ کیا سڑکوں اور بڑے تعمیراتی منصوبوں میں قدرتی پانی کے بہاؤ کو نظر انداز کرنا درست ہے؟
ترقی ضروری ہے، لیکن ایسی ترقی جو قدرتی نظام کو کمزور کر دے، مستقبل میں خود ہمارے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔
کشمیر میں سیاحت بھی اس مسئلے سے الگ نہیں۔ سیاحتی سرگرمیوں نے ہزاروں لوگوں کے لئے روزگار پیدا کیا ہے، لیکن بڑھتی ہوئی تعمیرات اور سیاحتی دباؤ کے ساتھ ماحول کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ اگر ہم پہاڑوں، جنگلات، ندیوں اور جھیلوں کو صرف خوبصورتی کے لئے استعمال کریں گے اور ان کی قدرتی حدود کو نظر انداز کریں گے تو آنے والے وقت میں نقصان کا بوجھ بھی ہمیں ہی اٹھانا پڑے گا۔
کلاؤڈ برسٹ کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اسے بالکل درست جگہ اور وقت پر پیش گوئی کرنا آسان نہیں۔ اسی لئے صرف موسم کی پیش گوئی کافی نہیں۔ ہمیں early warning system کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ حساس علاقوں میں جدید موسمی نگرانی، بارش کی پیمائش، ریڈار نظام، مقامی سطح پر فوری اطلاع اور خطرناک علاقوں کی مسلسل مانیٹرنگ ضروری ہے۔
انتظامیہ کی ذمہ داری صرف آفت کے بعد امداد پہنچانا نہیں ہونی چاہیے۔ آفت سے پہلے تیاری بھی اتنی ہی ضروری ہے۔
حساس علاقوں کی نشاندہی کی جائے، غیر محفوظ تعمیرات پر نظر رکھی جائے، ندی نالوں کے قدرتی راستوں کو تجاوزات سے محفوظ رکھا جائے، پہاڑی سڑکوں اور پلوں کی مضبوطی کا باقاعدہ جائزہ لیا جائے اور ایسے مقامات پر رہنے والے لوگوں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تربیت دی جائے۔
اس کے ساتھ عام شہریوں کو بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
شدید بارش کے دوران ندی، نالے یا دریا کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ پہاڑی ڈھلوانوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خطرے والے علاقوں میں غیر ضروری سفر نہیں کرنا چاہیے۔ اگر انتظامیہ کی جانب سے کسی علاقے کے لئے وارننگ جاری کی جائے تو اسے معمولی سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ گاڑی چلاتے ہوئے اچانک پانی بھرنے والی سڑکوں کو عبور کرنے کی کوشش بھی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
خاص طور پر دیہی اور پہاڑی علاقوں میں لوگوں کو یہ سکھانے کی ضرورت ہے کہ اگر رات کے وقت اچانک پانی کا بہاؤ بڑھ جائے یا پہاڑ سے پتھر اور مٹی گرنے کی آوازیں آنے لگیں تو فوراً محفوظ اور بلند مقام کی طرف منتقل ہونا چاہیے، بجائے اس کے کہ خطرہ ختم ہونے کا انتظار کیا جائے۔
لیکن کیا صرف احتیاط سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟
شاید نہیں۔
ہمیں طویل مدتی سطح پر اپنے ماحولیاتی فیصلوں پر بھی نظر ڈالنی ہوگی۔ جنگلات کا تحفظ، قدرتی آبی راستوں کی حفاظت، غیر منصوبہ بند تعمیرات کی روک تھام اور پہاڑی علاقوں میں سائنسی بنیادوں پر ترقی اب وقت کی ضرورت ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کو روکنے کے لئے عالمی سطح پر بڑے فیصلے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن مقامی سطح پر بھی بہت کچھ کیا جا سکتا ہے۔ ایک درخت بچانا، ایک نالے کو تجاوزات سے محفوظ رکھنا، ایک حساس ڈھلوان پر غیر ضروری تعمیر روکنا اور ایک خطرناک علاقے میں بروقت وارننگ جاری کرنا چھوٹے اقدامات نظر آ سکتے ہیں، مگر یہی اقدامات بڑے نقصان کو کم کر سکتے ہیں۔
سب سے بڑا سوال پھر بھی یہی ہے کہ کیا ہم ہر آفت کے بعد صرف نقصانات کا حساب لگاتے رہیں گے، یا اس سے پہلے بھی کچھ سیکھیں گے؟
ہر بار جب کوئی کلاؤڈ برسٹ ہوتا ہے تو ہم چند دن تک اس پر گفتگو کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر ویڈیوز چلتی ہیں، نقصانات کی تصاویر سامنے آتی ہیں، متاثرین کے لئے امداد کا اعلان ہوتا ہے اور پھر کچھ عرصے بعد زندگی معمول پر آ جاتی ہے۔ لیکن اگلی بار جب آسمان پھر اسی طرح گرجتا ہے تو وہی سوال دوبارہ ہمارے سامنے کھڑا ہو جاتا ہے۔
کیا اگلی بار ہم تیار ہوں گے؟
کشمیر کی خوبصورتی اس کے قدرتی نظام سے جڑی ہوئی ہے۔ پہاڑ، جنگلات، دریا، ندی نالے اور جھیلیں ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایک ہی نظام کا حصہ ہیں۔ اگر ہم نے اس نظام کے ساتھ مسلسل چھیڑ چھاڑ کی تو شدید موسم کے اثرات مزید خطرناک ہو سکتے ہیں۔
ہم بادلوں کو برسنے سے نہیں روک سکتے۔ بارش قدرت کا حصہ ہے اور پہاڑوں میں رہنے والوں کو ہمیشہ موسم کے خطرات کا سامنا رہے گا۔ لیکن ہم یہ ضرور طے کر سکتے ہیں کہ ان خطرات کو کتنی بڑی تباہی بننے دیں گے۔
شاید اب وقت آگیا ہے کہ ہر کلاؤڈ برسٹ کو صرف ’’قدرت کا قہر‘‘ کہہ کر خاموش نہ ہو جائیں۔
آسمان کا بدلتا مزاج ہمیں ایک پیغام دے رہا ہے، اور اس پیغام کو سمجھنے کے لئے ہمیں صرف بادلوں کی طرف نہیں بلکہ اپنے زمین پر کیے گئے فیصلوں کی طرف بھی دیکھنا ہوگا۔
کیونکہ قدرتی آفات ہمیشہ انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں، لیکن ان سے ہونے والا نقصان کم کرنا ضرور ہمارے اختیار میں ہے۔


