
عنایت ﷲ ننھے
فوٹوگرافی ایک نایاب اور منفرد فن ہے، جو آرٹ کے ساتھ ساتھ ایک پیشہ ورانہ شعبہ بھی ہے۔ آج کے دور میں اچھے فوٹوگرافر ملٹی نیشنل کمپنیوں میں شامل ہو کر لاکھوں روپے کما رہے ہیں۔ ہر کسی کے ہاتھ میں موبائل کیمرہ ہے، جس سے لوگ ہر لمحے کو یادگار بنا رہے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لئے تصویروں اور ویڈیوز کے ذریعے تاریخ محفوظ کر رہے ہیں۔
لیکن اس دور میں، جب صرف چند لوگوں کے پاس فوٹو کیمرے تھے اور ان کی لی گئی تصاویر سے تاریخ کے اوراق مرتب کیے جاتے ہیں، ہر تصویر لاکھوں الفاظ سے بڑھ کر محسوس ہوتی ہے۔ جو لوگ الفاظ میں بیان نہیں کر سکتے، وہ اپنے کیمرے کے لینس سے بہت کچھ بیان کرتے ہیں۔ درست کہا جاتا ہے کہ تصویریں بولتی ہیں۔ وہ ہمیں ماضی سے جوڑتی اور حال پر غور کرنے پر مجبور کرتی ہیں۔
آج ہم فوٹوگرافی پر بات کر رہے ہیں کیونکہ تقریباً دو صدیاں پہلے، اسی عرصے میں، اس فن نے دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم کی۔ اگرچہ ڈیگورے ٹائپ تکنیک کے ذریعے فوٹوگرافی کا آغاز 1839 میں ہو چکا تھا، لیکن 19 اگست 1839 کو فرانس نے اس ایجاد کو باقاعدہ طور پر دنیا کے لئے عام کرنے کا اعلان کیا۔
فوٹوگرافی کے اصولوں کی بنیاد رکھنے والوں میں مسلمان سائنس دان ابو علی الحسن ابن الہیثم کا نام نمایاں ہے۔ انہوں نے آپٹکس کے میدان میں اہم کام کیا اور روشنی، لینس اور کیمرے کے ابتدائی اصولوں کو سمجھنے میں مدد دی۔ ان کے نظریات نے کیمرہ اوبسکورا اور بعد میں جدید فوٹوگرافی کی ترقی کی راہ ہموار کی۔ ان کے بعد آنے والے سائنس دانوں نے انہی اصولوں کو آگے بڑھاتے ہوئے فوٹوگرافی کے میدان میں انقلاب برپا کیا۔
باضابطہ طور پر ورلڈ فوٹوگرافی ڈے منانے کا آغاز 2010 میں ہوا۔ اس کا مقصد فوٹوگرافی کو فروغ دینا، نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا اور دنیا بھر کے فوٹوگرافروں کے فن کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس دن آن لائن اور آف لائن فوٹوگرافی کے مقابلے بھی منعقد کیے جاتے ہیں، جن میں منفرد تصاویر کے انتخاب کے بعد فوٹوگرافروں کو اعزازات سے نوازا جاتا ہے۔
اب جب ہم فوٹوگرافی کی بات کر رہے ہیں تو تاریخ کے ساتھ اس فن کی چند بنیادی تکنیکوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ میں ریاست بہار کے ضلع سیوان سے تعلق رکھتا ہوں اور اپنا تقریباً 36 سالہ فوٹوگرافی کا تجربہ شیئر کر رہا ہوں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ فوٹو لینا کوئی آسان کام نہیں۔ اگر آپ اپنے موبائل کیمرے سے ایک ہی منظر کی سیکڑوں تصاویر کھینچ لیتے ہیں تو ضروری نہیں کہ اسے اچھی فوٹوگرافی کہا جائے۔ فوٹوگرافی محض بار بار تصویر لینے کا نام نہیں، بلکہ کمپوزیشن، فریمنگ، روشنی اور ٹائمنگ کا فن ہے۔
فوٹو کھینچتے وقت روشنی اور سایہ ہر جگہ ایک جیسے نہیں ہوتے۔ کبھی مخالف روشنی یا براہِ راست لائٹ موضوع، یعنی سبجیکٹ، پر پڑتی ہے، جس سے تصویر خراب ہو سکتی ہے۔ ایک تجربہ کار فوٹوگرافر ایسی صورت میں اپنی جگہ تبدیل کرتا ہے، مناسب زاویہ اختیار کرتا ہے یا ضرورت کے مطابق باؤنس فلیش استعمال کرتا ہے۔
کامیاب تصویر کے لئے سبجیکٹ اور اس کے اردگرد موجود اشیاء کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ تصویر میں صرف موضوع کو فوکس میں رکھنا کافی نہیں، بلکہ پورے فریم کا توازن بھی اہم ہوتا ہے۔ آج کے ڈیجیٹل دور میں موبائل اور جدید کیمرے آٹو فوکس کی سہولت دیتے ہیں، جبکہ پرانے ایس ایل آر کیمروں کو دستی طور پر فوکس کرنا پڑتا تھا۔ معمولی سی غلطی بھی تصویر کو دھندلا یا غیر واضح بنا دیتی تھی، اور اس فن میں مہارت حاصل کرنے میں برسوں لگ جاتے تھے۔
آج کل اکثر لوگ موبائل یا ڈیجیٹل کیمرے سے فوٹو کھینچتے وقت زوم کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، جس سے بعض صورتوں میں تصویر کی کوالٹی، یعنی ریزولوشن، متاثر ہوتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ جہاں ممکن ہو، خود آگے پیچھے ہو کر موضوع کو مناسب انداز میں فریم کیا جائے۔ زوم کا استعمال صرف اس وقت کیا جائے جب منظر اہم ہو اور اس کے قریب جانا ممکن نہ ہو۔
تصویر لیتے وقت کیمرے کو مستحکم رکھنا بھی ضروری ہے۔ اگر آپ آؤٹ ڈور فوٹوگرافی کر رہے ہیں تو لینس ہڈ کا استعمال کریں تاکہ غیر ضروری براہِ راست سورج کی روشنی لینس پر نہ پڑے۔
بعض اوقات موضوع اور پس منظر کا رنگ ایک جیسا ہوتا ہے، جس سے تصویر کا تاثر کمزور پڑ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں کلوز اپ لینا، زاویہ تبدیل کرنا یا مناسب روشنی کا استعمال بہتر نتیجہ دے سکتا ہے۔ ضرورت پڑنے پر TTL یا HSS فلیش اور مختلف فلٹرز بھی استعمال کیے جا سکتے ہیں۔
فوٹوگرافی کی تاریخ بھی نہایت دلچسپ ہے۔ سیاہ و سفید، یعنی بلیک اینڈ وائٹ، تصاویر سے شروع ہونے والا یہ سفر مختلف رنگین فلموں سے گزرتے ہوئے آج مکمل طور پر ڈیجیٹل دور میں داخل ہو چکا ہے۔ پہلے فوٹوگرافی کے لئے فلم رول استعمال کیا جاتا تھا۔ تصویر لینے کے بعد فلم کو لیبارٹری میں پروسیس کر کے نیگیٹو بنایا جاتا، پھر اسی نیگیٹو سے تصاویر تیار کی جاتی تھیں۔
اس زمانے میں ڈارک روم کا عمل خاصا پیچیدہ تھا۔ فلم کو تاریک کمرے میں مخصوص کیمیکل اور مدھم سرخ روشنی کے ساتھ تیار کیا جاتا تھا۔ اگر ایک مرحلے میں غلطی ہو جاتی تو پوری فلم یا تصویر خراب ہونے کا خطرہ رہتا تھا۔ آؤٹ ڈور فوٹوگرافی میں غلط ایکسپوژر یا اپرچر کی نامناسب سیٹنگ بھی تصویر کو متاثر کر سکتی تھی۔
ڈیجیٹل کیمرے کی آمد کے بعد فلم رول کی جگہ میموری کارڈ نے لے لی اور فوٹوگرافی نسبتاً آسان ہو گئی۔ اب تصویر فوری دیکھی، حذف اور دوبارہ لی جا سکتی ہے، لیکن اس آسانی کے باوجود ایک اچھی تصویر کے بنیادی اصول آج بھی وہی ہیں: درست روشنی، مناسب فریم، اچھا زاویہ اور صحیح وقت۔
فوٹوگرافی میں مختلف شعبوں میں کیریئر بنایا جا سکتا ہے۔ پیشہ ور یا کمرشل فوٹوگرافر اسٹوڈیو اور مختلف پروگراموں کی کوریج کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پریس فوٹوگرافی، فیشن فوٹوگرافی، لینڈ اسکیپ، وائلڈ لائف، ہیریٹیج، ڈاکیومنٹری اور مائیکرو فوٹوگرافی جیسے کئی شعبے موجود ہیں۔
آج کے ڈیجیٹل دور میں فوٹوشاپ کے ذریعے تصاویر پر کام زور و شور سے کیا جاتا ہے۔ فوٹوشاپ تصویر کو بہتر بنانے کا ایک اہم ذریعہ ہے، لیکن اصل تصویر کھینچنے کا فن اپنی جگہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اچھی ایڈیٹنگ ایک عام تصویر کو بہتر بنا سکتی ہے، مگر ایک مضبوط تصویر کی بنیاد ہمیشہ فوٹوگرافر کی نظر اور مہارت ہوتی ہے۔
آج آرٹیفیشل انٹیلیجنس، یعنی مصنوعی ذہانت، کا دور ہے۔ اے آئی کے ذریعے ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی جا رہی ہیں جو حقیقت سے مشابہ ہوتی ہیں۔ تاہم اے آئی سے تخلیق کردہ مواد اور حقیقی فوٹوگرافی کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ حقیقی فوٹوگرافی کسی منظر، واقعے یا لمحے کو کیمرے کے ذریعے محفوظ کرنے کا فن ہے، جبکہ اے آئی سے تیار کردہ تصویر ایک الگ تخلیقی عمل ہے۔
فوٹوگرافی سے تجارتی فائدہ اٹھانے، کہیں سے بھی کام کرنے اور اپنے فن کے ذریعے عالمی شناخت حاصل کرنے کے لئے متعدد آن لائن پلیٹ فارم موجود ہیں۔ شوقیہ اور پیشہ ور فوٹوگرافر اپنی تصاویر اور ویڈیوز مختلف اسٹاک پلیٹ فارمز پر پیش کر کے آمدنی بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
شٹر اسٹاک، آئی اسٹاک، ایڈوب اسٹاک، گیٹی امیجز، الامی، ڈریمز ٹائم، 500 پی ایکس، 123 آر ایف، ڈپوزٹ فوٹوز اور دیگر عالمی پلیٹ فارم فوٹوگرافروں کو اپنے کام کو دنیا بھر تک پہنچانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ یہ پلیٹ فارم تاجروں، کارپوریٹ اداروں اور اشتہاری ایجنسیوں سمیت مختلف صارفین کو تصاویر اور ویڈیو کلپس مہیا کرتے ہیں۔
مختصراً، فوٹوگرافی صرف کیمرے کا بٹن دبانے کا نام نہیں، بلکہ دیکھنے، سمجھنے اور ایک لمحے کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کرنے کا فن ہے۔ ٹیکنالوجی نے اس فن کو آسان ضرور بنایا ہے، لیکن ایک بہترین تصویر کے لئے آج بھی تجربہ، مشاہدہ، صبر اور تخلیقی نظر کی ضرورت ہے۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو ایک عام تصویر لینے والے اور ایک حقیقی فوٹوگرافر کے درمیان فرق پیدا کرتی ہے۔


