ہماری پلیٹ میں زہر تو نہیں؟

شرف الدین سید

ہم روزانہ پھل اور سبزیاں اس یقین کے ساتھ کھاتے ہیں کہ یہ ہماری صحت کے لئے ضروری اور مفید ہیں۔ لیکن اگر انہی پھلوں اور سبزیوں کی کاشت میں ضرورت سے زیادہ کیڑے مار ادویات استعمال کی جارہی ہوں تو؟ یہ سوال اب محض عوامی تشویش نہیں رہا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔مرکزی حکومت کے ’مانیٹرنگ آف پیسٹی سائیڈ ریزیڈیو ایٹ نیشنل لیول‘ پروگرام کے تحت 2023 سے 2026 کے دوران ملک بھر میں پھلوں اور سبزیوں میں کیڑے مار ادویات کے باقیات کی جانچ کی گئی۔ اس مقصد کے لئے 23 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے نمونے حاصل کیے گئے۔اس جانچ میں کرناٹک سب سے آگے رہا، جہاں 9176 پھلوں اور سبزیوں کے نمونوں کی جانچ کی گئی۔ تلنگانہ میں 8198 اور پنجاب میں 6580 نمونوں کی جانچ ہوئی۔زیادہ تعداد میں نمونوں کی جانچ یقیناً غذائی تحفظ کے نقطۂ نظر سے ایک مثبت قدم ہے، لیکن نتائج کا ایک پہلو تشویش ناک بھی ہے۔کرناٹک میں جانچ کیے گئے 9176 نمونوں میں سے 334 نمونوں میں کیڑے مار ادویات کے باقیات مقررہ زیادہ سے زیادہ حد سے زیادہ پائے گئے۔ تلنگانہ میں ایسے 486 نمونے سامنے آئے۔ یوں تلنگانہ کے بعد کرناٹک ملک کی وہ ریاست ہے جہاں مقررہ حد سے زیادہ کیڑے مار ادویات والے نمونوں کی تعداد سب سے زیادہ پائی گئی۔یہ معاملہ صرف کسانوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کا نہیں۔ بعض فصلوں کو کیڑوں سے بچانے کے لئے کیڑے مار ادویات کا استعمال ضروری ہوسکتا ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ یا غلط مقدار میں استعمال کیے جانے والے کیمیکلز مٹی سے فصل، فصل سے منڈی اور منڈی سے ہمارے باورچی خانے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یوں یہ مسئلہ صرف زراعت تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوامی صحت کا سوال بن جاتا ہے۔

حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے۔ نمونے جمع کرنے والی جگہوں کے جی پی ایس کوآرڈی نیٹس محفوظ کرکے ’ٹریس ایبلٹی‘ کا نظام نافذ کیا جارہا ہے۔اس نظام کے ذریعے اگر کسی پھل یا سبزی میں کیڑے مار ادویات کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی جاتی ہے تو یہ معلوم کرنا ممکن ہوگا کہ وہ پیداوار کس کھیت یا کس علاقے میں تیار ہوئی تھی۔ اس معلومات کو متعلقہ ریاست کے محکمۂ زراعت تک پہنچایا جائے گا تاکہ ضروری کارروائی کی جاسکے۔اس نظام کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ اب معاملہ صرف بازار میں غیر محفوظ سبزی یا پھل کی شناخت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ضرورت پڑنے پر اس کے اصل منبع تک پہنچنا بھی ممکن ہوگا۔

کیڑے مار ادویات کے بے جا استعمال کو کم کرنے کے لئے حکومت نے ’نیشنل پیسٹ سرویلنس سسٹم‘ کے نام سے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی ایپ اور ویب پورٹل بھی متعارف کرایا ہے۔یہ ٹیکنالوجی فصلوں پر کیڑوں کے حملے کی بروقت شناخت کرکے کسانوں کو پہلے مرحلے میں حیاتیاتی طریقوں سے ان پر قابو پانے کا مشورہ دیتی ہے۔ جہاں کیمیائی دوا کا استعمال ناگزیر ہو، وہاں صرف منظور شدہ کیڑے مار دوا کو مناسب مقدار میں استعمال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ’آتما‘ (ATMA) اور مشن فار انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف ہارٹیکلچر جیسی اسکیموں کے ذریعے بھی کسانوں کو رہنمائی فراہم کی جارہی ہے۔یعنی جدید ٹیکنالوجی کا مقصد صرف یہ معلوم کرنا نہیں کہ خلاف ورزی کہاں ہوئی، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ کسان کو ایسی صورتحال سے بچنے کے لئے بروقت اور سائنسی رہنمائی فراہم کی جائے۔
ملک بھر میں پھلوں اور سبزیوں کے نمونے مختلف خوردہ دکانوں، ہول سیل منڈیوں، اے پی ایم سی مراکز اور کسانوں کے کھیتوں سے حاصل کیے گئے اور 40 سے زیادہ مجاز تجربہ گاہوں میں ان کی جانچ کی گئی۔اس جانچ میں مجموعی طور پر 2223 نمونے، یعنی 3.1 فیصد، میں کیڑے مار ادویات کی مقدار مقررہ محفوظ حد سے زیادہ پائی گئی۔خاص طور پر کرناٹک اور تلنگانہ میں مقررہ اصولوں سے زیادہ کیڑے مار ادویات کے استعمال کے معاملات نے توجہ حاصل کی ہے۔فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، 2006 کے مطابق مقررہ حد سے زیادہ کیڑے مار ادویات کے باقیات رکھنے والے غذائی اجناس اور سبزیوں کو ’غیر محفوظ‘ تصور کیا جاتا ہے۔3.1 فیصد کا عدد بظاہر بہت بڑا محسوس نہیں ہوتا، لیکن اعداد و شمار کے پیچھے چھپی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہر غیر محفوظ نمونہ بالآخر کسی انسان کی غذا کا حصہ بن سکتا ہے۔یہاں حکومت کی ذمہ داری صرف جانچ تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ کسانوں کو سائنسی تربیت، بازاروں میں مؤثر نگرانی، تجربہ گاہوں کی تعداد اور صلاحیت میں اضافہ، اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائییہ سب اس نظام کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی زیادہ خوراک پیدا کررہے ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ جو خوراک ہم پیدا کررہے ہیں، کیا وہ واقعی ہمارے لئے محفوظ بھی ہے؟

ہم جس پھل کو صحت کی علامت سمجھ کر خریدتے ہیں، جس سبزی کو دسترخوان کی زینت بناتے ہیں، اگر وہی مقررہ حد سے زیادہ کیمیائی باقیات اپنے اندر لئے ہوئے ہو تو پھر غذائیت کا دعویٰ کہاں رہ جاتا ہے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

17 سالہ لڑکا ٹرک کی زد میں آ کر جاں بحق

سرینگر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں چڈورہ کے...

ہسپتال میں نوجوان کی موت پر احتجاج، آپریشن تھیٹر سیل

​اسلام آباد (اننت ناگ)، 30 اگست کولگام سے تعلق رکھنے...

امریکی حملے کے بعد IRGC کا اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ

  ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (IRGC) کا کہنا...

ایف ڈی اے جموں و کشمیر نے نباتاتی چربی کی ملاوٹ پر گھی کے 10 بیچز پر پابندی عائد کر دی

  سرینگر، 30 اگست: فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)...

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

تازہ ترین خبریں

17 سالہ لڑکا ٹرک کی زد میں آ کر جاں بحق

سرینگر: وسطی کشمیر کے ضلع بڈگام میں چڈورہ کے...

ہسپتال میں نوجوان کی موت پر احتجاج، آپریشن تھیٹر سیل

​اسلام آباد (اننت ناگ)، 30 اگست کولگام سے تعلق رکھنے...

امریکی حملے کے بعد IRGC کا اردن میں امریکی اڈوں پر جوابی حملہ

  ایران کے اسلامک ریولیوشنری گارڈ کور (IRGC) کا کہنا...

ایف ڈی اے جموں و کشمیر نے نباتاتی چربی کی ملاوٹ پر گھی کے 10 بیچز پر پابندی عائد کر دی

  سرینگر، 30 اگست: فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے)...

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

ہماری پلیٹ میں زہر تو نہیں؟

شرف الدین سید

ہم روزانہ پھل اور سبزیاں اس یقین کے ساتھ کھاتے ہیں کہ یہ ہماری صحت کے لئے ضروری اور مفید ہیں۔ لیکن اگر انہی پھلوں اور سبزیوں کی کاشت میں ضرورت سے زیادہ کیڑے مار ادویات استعمال کی جارہی ہوں تو؟ یہ سوال اب محض عوامی تشویش نہیں رہا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار نے بھی اس معاملے کو سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔مرکزی حکومت کے ’مانیٹرنگ آف پیسٹی سائیڈ ریزیڈیو ایٹ نیشنل لیول‘ پروگرام کے تحت 2023 سے 2026 کے دوران ملک بھر میں پھلوں اور سبزیوں میں کیڑے مار ادویات کے باقیات کی جانچ کی گئی۔ اس مقصد کے لئے 23 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے نمونے حاصل کیے گئے۔اس جانچ میں کرناٹک سب سے آگے رہا، جہاں 9176 پھلوں اور سبزیوں کے نمونوں کی جانچ کی گئی۔ تلنگانہ میں 8198 اور پنجاب میں 6580 نمونوں کی جانچ ہوئی۔زیادہ تعداد میں نمونوں کی جانچ یقیناً غذائی تحفظ کے نقطۂ نظر سے ایک مثبت قدم ہے، لیکن نتائج کا ایک پہلو تشویش ناک بھی ہے۔کرناٹک میں جانچ کیے گئے 9176 نمونوں میں سے 334 نمونوں میں کیڑے مار ادویات کے باقیات مقررہ زیادہ سے زیادہ حد سے زیادہ پائے گئے۔ تلنگانہ میں ایسے 486 نمونے سامنے آئے۔ یوں تلنگانہ کے بعد کرناٹک ملک کی وہ ریاست ہے جہاں مقررہ حد سے زیادہ کیڑے مار ادویات والے نمونوں کی تعداد سب سے زیادہ پائی گئی۔یہ معاملہ صرف کسانوں کو موردِ الزام ٹھہرانے کا نہیں۔ بعض فصلوں کو کیڑوں سے بچانے کے لئے کیڑے مار ادویات کا استعمال ضروری ہوسکتا ہے، لیکن ضرورت سے زیادہ یا غلط مقدار میں استعمال کیے جانے والے کیمیکلز مٹی سے فصل، فصل سے منڈی اور منڈی سے ہمارے باورچی خانے تک پہنچ سکتے ہیں۔ یوں یہ مسئلہ صرف زراعت تک محدود نہیں رہتا بلکہ عوامی صحت کا سوال بن جاتا ہے۔

حکومت نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا ہے۔ نمونے جمع کرنے والی جگہوں کے جی پی ایس کوآرڈی نیٹس محفوظ کرکے ’ٹریس ایبلٹی‘ کا نظام نافذ کیا جارہا ہے۔اس نظام کے ذریعے اگر کسی پھل یا سبزی میں کیڑے مار ادویات کی مقدار مقررہ حد سے زیادہ پائی جاتی ہے تو یہ معلوم کرنا ممکن ہوگا کہ وہ پیداوار کس کھیت یا کس علاقے میں تیار ہوئی تھی۔ اس معلومات کو متعلقہ ریاست کے محکمۂ زراعت تک پہنچایا جائے گا تاکہ ضروری کارروائی کی جاسکے۔اس نظام کی اہمیت اس لئے بھی ہے کہ اب معاملہ صرف بازار میں غیر محفوظ سبزی یا پھل کی شناخت تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ضرورت پڑنے پر اس کے اصل منبع تک پہنچنا بھی ممکن ہوگا۔

کیڑے مار ادویات کے بے جا استعمال کو کم کرنے کے لئے حکومت نے ’نیشنل پیسٹ سرویلنس سسٹم‘ کے نام سے مصنوعی ذہانت اور مشین لرننگ پر مبنی ایپ اور ویب پورٹل بھی متعارف کرایا ہے۔یہ ٹیکنالوجی فصلوں پر کیڑوں کے حملے کی بروقت شناخت کرکے کسانوں کو پہلے مرحلے میں حیاتیاتی طریقوں سے ان پر قابو پانے کا مشورہ دیتی ہے۔ جہاں کیمیائی دوا کا استعمال ناگزیر ہو، وہاں صرف منظور شدہ کیڑے مار دوا کو مناسب مقدار میں استعمال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ ’آتما‘ (ATMA) اور مشن فار انٹیگریٹڈ ڈیولپمنٹ آف ہارٹیکلچر جیسی اسکیموں کے ذریعے بھی کسانوں کو رہنمائی فراہم کی جارہی ہے۔یعنی جدید ٹیکنالوجی کا مقصد صرف یہ معلوم کرنا نہیں کہ خلاف ورزی کہاں ہوئی، بلکہ یہ بھی ہونا چاہیے کہ کسان کو ایسی صورتحال سے بچنے کے لئے بروقت اور سائنسی رہنمائی فراہم کی جائے۔
ملک بھر میں پھلوں اور سبزیوں کے نمونے مختلف خوردہ دکانوں، ہول سیل منڈیوں، اے پی ایم سی مراکز اور کسانوں کے کھیتوں سے حاصل کیے گئے اور 40 سے زیادہ مجاز تجربہ گاہوں میں ان کی جانچ کی گئی۔اس جانچ میں مجموعی طور پر 2223 نمونے، یعنی 3.1 فیصد، میں کیڑے مار ادویات کی مقدار مقررہ محفوظ حد سے زیادہ پائی گئی۔خاص طور پر کرناٹک اور تلنگانہ میں مقررہ اصولوں سے زیادہ کیڑے مار ادویات کے استعمال کے معاملات نے توجہ حاصل کی ہے۔فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، 2006 کے مطابق مقررہ حد سے زیادہ کیڑے مار ادویات کے باقیات رکھنے والے غذائی اجناس اور سبزیوں کو ’غیر محفوظ‘ تصور کیا جاتا ہے۔3.1 فیصد کا عدد بظاہر بہت بڑا محسوس نہیں ہوتا، لیکن اعداد و شمار کے پیچھے چھپی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ہر غیر محفوظ نمونہ بالآخر کسی انسان کی غذا کا حصہ بن سکتا ہے۔یہاں حکومت کی ذمہ داری صرف جانچ تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ کسانوں کو سائنسی تربیت، بازاروں میں مؤثر نگرانی، تجربہ گاہوں کی تعداد اور صلاحیت میں اضافہ، اور خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائییہ سب اس نظام کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔آخرکار سوال یہ نہیں کہ ہم کتنی زیادہ خوراک پیدا کررہے ہیں۔اصل سوال یہ ہے کہ جو خوراک ہم پیدا کررہے ہیں، کیا وہ واقعی ہمارے لئے محفوظ بھی ہے؟

ہم جس پھل کو صحت کی علامت سمجھ کر خریدتے ہیں، جس سبزی کو دسترخوان کی زینت بناتے ہیں، اگر وہی مقررہ حد سے زیادہ کیمیائی باقیات اپنے اندر لئے ہوئے ہو تو پھر غذائیت کا دعویٰ کہاں رہ جاتا ہے؟

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں