جنگ نیوز ڈیسک
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 80ویں یومِ آزادی کے موقع پر لال قلعہ سے قوم سے خطاب کرتے ہوئے 2047 تک بھارت کو ’وِکست بھارت‘ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے آزادی کے مجاہدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور حالیہ سیلاب و لینڈ سلائیڈنگ سے متاثرہ خاندانوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔ مودی نے کہا کہ پختہ عزم، خود اعتمادی اور اجتماعی کوشش سے ملک نئی بلندیوں تک پہنچ سکتا ہے۔
وزیرِ اعظم نے گزشتہ 12 برسوں کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 25 کروڑ افراد غربت سے باہر آئے، جبکہ دفاعی پیداوار، الیکٹرانکس، موبائل مینوفیکچرنگ، ریلوے، ڈیجیٹل لین دین اور بنیادی سہولیات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے خود انحصاری پر زور دیتے ہوئے سیمی کنڈکٹرز، اہم معدنیات، جوہری توانائی، تیل و گیس، شمسی توانائی اور ہائیڈروجن ٹرین سمیت متعدد شعبوں میں بڑے اہداف کا اعلان کیا۔
مودی نے ’سپت دھارا‘ یا سات طاقتوں کا وژن پیش کرتے ہوئے مینوفیکچرنگ، زراعت و فوڈ پروسیسنگ، ٹیکنالوجی و جدت، گتی شکتی، دفاعی طاقت، گرین و بلیو اکانومی اور بھارت کی سافٹ پاور کو قومی ترقی کے بنیادی ستون قرار دیا۔ ’مینوفیکچرنگ پاور‘ کو پہلی دھارا قرار دیتے ہوئے انہوں نے گھریلو ویلیو چینز کو مضبوط بنانے، چھوٹے اجزا سے لے کر حتمی مصنوعات تک عالمی معیار، کم لاگت اور صفر نقائص پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیزائن سے مکمل مینوفیکچرنگ تک بھارت کو عالمی سپلائی چین کا ایک قابلِ اعتماد مرکز بننا ہوگا۔
انہوں نے AI، کوانٹم کمپیوٹنگ، خلائی ٹیکنالوجی، روبوٹکس، 6G، سائبر سیکیورٹی، گرین ہائیڈروجن اور عالمی سیاحت میں بھارت کو قائدانہ مقام دلانے پر زور دیا۔
نوجوانوں کو ترقی کا مرکزی محرک قرار دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے ایک کروڑ نوجوانوں کو آئندہ ایک سال میں مصنوعی ذہانت کی مہارت دینے، اسٹارٹ اَپس اور تحقیق و اختراع کو فروغ دینے، تعلیمی و طبی اداروں کی توسیع اور مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا۔ کھیلوں کے میدان میں 2030 کامن ویلتھ گیمز اور 2036 اولمپکس کی میزبانی کے عزم کے ساتھ 5 سے 15 سال کے بچوں کے لئے ملک گیر اسپورٹس ٹیلنٹ ہنٹ بھی شروع کرنے کا اعلان کیا۔
وزیرِ اعظم نے نکسلزم کے خاتمے، قومی سلامتی، جدید سول ڈیفنس نیٹ ورک، دفاعی برآمدات میں اضافے اور سائبر سیکیورٹی پر بھی زور دیا۔ خواتین کی اقتصادی و سیاسی بااختیاری کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تین کروڑ ’لکھ پتی دیدیوں‘ کا ہدف عبور ہونے کے بعد اسے چھ کروڑ تک بڑھانے اور پارلیمنٹ و اسمبلیوں میں خواتین کے لئے ایک تہائی ریزرویشن کے نفاذ کی اپیل کی۔
انہوں نے سماجی بہبود کے دائرے میں توسیع، آیوشمان بھارت کے تحت بزرگوں کو طبی تحفظ اور تقریباً 100 کروڑ شہریوں تک فلاحی اسکیموں کی رسائی کا ذکر کیا۔ پہلی ڈیجیٹل مردم شماری میں شہریوں سے فعال شرکت کی اپیل کرتے ہوئے مودی نے خطاب کے اختتام پر پنچ پران کا حوالہ دیا اور قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر مقدم رکھتے ہوئے اجتماعی طور پر ’وِکست بھارت‘ کی تعمیر کا عزم دہرایا۔


