غزل از قلم محمد ایوبؔ

 

 غزل از قلم محمد ایوبؔ

ترال بالا پلوامہ

کسی سے اگر محبت ہو جائے
تو جینا بھی اک قیامت ہو جائے
نظر اُس کی جب ایک پل ٹھہرے
دلِ بے تاب کو راحت ہو جائے
وہ ملے تو بہار آ جائے
وہ بچھڑے تو شامِ فرقت ہو جائے
کبھی ذکر اُس کا لب پہ آئے
تو ہر لفظ میں لطافت ہو جائے
سنو! تم جو مسکرا دو ذرا سا
متاعِ دو عالم کی دولت ہو جائے
وہ آئے جو خوابوں کی بستی میں
شبِ ہجر بھی ایک چاہت ہو جائے
اگر تجھ سے ہو سامنا ایوبؔ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

 غزل از قلم محمد ایوبؔ

 

 غزل از قلم محمد ایوبؔ

ترال بالا پلوامہ

کسی سے اگر محبت ہو جائے
تو جینا بھی اک قیامت ہو جائے
نظر اُس کی جب ایک پل ٹھہرے
دلِ بے تاب کو راحت ہو جائے
وہ ملے تو بہار آ جائے
وہ بچھڑے تو شامِ فرقت ہو جائے
کبھی ذکر اُس کا لب پہ آئے
تو ہر لفظ میں لطافت ہو جائے
سنو! تم جو مسکرا دو ذرا سا
متاعِ دو عالم کی دولت ہو جائے
وہ آئے جو خوابوں کی بستی میں
شبِ ہجر بھی ایک چاہت ہو جائے
اگر تجھ سے ہو سامنا ایوبؔ

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں