غزل از قلم جاوید قسیم

 

 غزل از قلم جاوید قسیم

قبل منزل کے کبھی ہار نہیں مانتا میں
کوئی بھی راہ ہو دشوار نہیں مانتا میں
اس طرح پیار کا اظہار نہیں مانتا میں
دشت میں گھومنے کو پیار نہیں مانتا میں
جس کو نا چاروں پے ہوتے یہ مظالم نہ دکھیں
ایسے اخبار کو اخبار نہیں مانتا میں
زندگی ہوتی نہیں ہے کسی مقصد کے بغیر
سانس کو جینے کا معیار نہیں مانتا میں
منہ چھپا کر جو نکل جاتا ہو رن سے باہر
ایسے سالار کو سالار نہیں مانتا میں
بھوک سے ہو کے جو مجبور چرا لے روٹی
اُس کو چوری کا گنہ گار نہیں مانتا میں
بیچ دیں ٹوپیاں اجداد کی جس کی خاطر
ایسی دستار کو دستار نہیں مانتا میں
بولیاں جس میں مصاحب کے لئے لگتی ہوں
ایسے دربار کو دربار نہیں مانتا میں
جس سے ملنا ہو میں بے باک ملا کرتا ہوں
التزامات کی دیوار نہیں مانتا میں
لاکھ منزل نہ سہی راہ تو آتی ہے نظر
کؤی کاوش کبھی بیکار نہیں مانتا میں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

تازہ ترین خبریں

چوری کیس میں تین افراد گرفتار، مسروقہ سونا برآمد

سرینگر: پولیس نے بارہمولہ میں ایک مکان سے ہونے والی...

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل از قلم جاوید قسیم

 

 غزل از قلم جاوید قسیم

قبل منزل کے کبھی ہار نہیں مانتا میں
کوئی بھی راہ ہو دشوار نہیں مانتا میں
اس طرح پیار کا اظہار نہیں مانتا میں
دشت میں گھومنے کو پیار نہیں مانتا میں
جس کو نا چاروں پے ہوتے یہ مظالم نہ دکھیں
ایسے اخبار کو اخبار نہیں مانتا میں
زندگی ہوتی نہیں ہے کسی مقصد کے بغیر
سانس کو جینے کا معیار نہیں مانتا میں
منہ چھپا کر جو نکل جاتا ہو رن سے باہر
ایسے سالار کو سالار نہیں مانتا میں
بھوک سے ہو کے جو مجبور چرا لے روٹی
اُس کو چوری کا گنہ گار نہیں مانتا میں
بیچ دیں ٹوپیاں اجداد کی جس کی خاطر
ایسی دستار کو دستار نہیں مانتا میں
بولیاں جس میں مصاحب کے لئے لگتی ہوں
ایسے دربار کو دربار نہیں مانتا میں
جس سے ملنا ہو میں بے باک ملا کرتا ہوں
التزامات کی دیوار نہیں مانتا میں
لاکھ منزل نہ سہی راہ تو آتی ہے نظر
کؤی کاوش کبھی بیکار نہیں مانتا میں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں