
ماجد مجید
کشمیر یونیورسٹی
تبع تابعین کے دور کی ایک شخصیت، جن کا نام حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ ہے، کے متعلق یہ جانکاری ملتی ہے کہ انہوں نے تنہائی میں اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ہم کلام ہونے کا معمول بنایا تھا۔ وہ سال میں چھ ماہ سرحدوں پر جہاد میں شریک ہوتے۔ اس زمانے میں دارالاسلام کی سرحدیں بڑھ رہی تھیں اور اس کے لئے جہاد جاری تھا۔
جبکہ سال کے باقی چھ ماہ وہ گھر پر گزارتے اور اس عرصے میں لوگوں سے ملنے جلنے سے حتی الامکان گریز کرتے، البتہ نماز باجماعت کے لئے مسجد میں آتے، باقی وقت گھر پر ہی رہتے۔ کسی نے ان سے کہا، "عبداللہ! آپ تنہائی پسند ہوگئے ہو، کیا تنہائی سے آپ کی طبیعت کبھی اکتاتی نہیں؟” عبداللہ بن مبارک رح نے جواب دیا اور فرمایا، "کیا تم اس شخص کو تنہا سمجھتے ہو، جو اللہ سے ہم کلام ہوتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوتا ہے!” لوگ حیران ہوئے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ جب اس کی وضاحت طلب کی گئی تو فرمایا کہ دیکھو، "جب میں اکیلا ہوتا ہوں تو قرآن پڑھتا ہوں یا حدیث پڑھتا ہوں، جب قرآن پڑھتا ہوں تو گویا اللہ سے ہم کلام ہوتا ہوں اور جب حدیث پڑھتا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوتا ہوں، تم مجھے تنہا مت سمجھو۔” اسی طرح معجم کبیر طبرانی کی روایت کا نقشہ ان الفاظ میں کھینچا گیا ہے کہ "حضور صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے سے برآمد ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے گوشے میں دیکھا کہ کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین قرآن کا مذاکرہ کر رہے تھے، قرآن کو سمجھ اور سمجھا رہے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے اور بڑا پیارا سوال کیا (الستم تشھدون ان لا الہ الا اللہ و انی رسول اللہ و ان ھذا القرآن جاء من عند اللہ) کیا تم اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں اور یہ قرآن اللہ کے پاس سے آیا ہے؟”
صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین کا جواب اس کے سوا اور کیا ہوسکتا تھا۔ (بلی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) یعنی "کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم، ہم اس کے گواہ ہیں۔” اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، (فاستبشرو فان ھذا القرآن طرفہ بایدیکم و طرفہ بید اللہ) "پس تم خوشیاں مناؤ، اس لئے کہ یہ قرآن وہ شے ہے جس کا ایک سرا تمہارے ہاتھ میں ہے اور دوسرا سرا اللہ کے ہاتھ میں ہے۔” صاحب قرآن مطلب حافظ قرآن یا قاری نہیں، بلکہ وہ حافظ اور وہ قاری جو قرآن کے علم و حکمت سے بھی واقف ہوں، اس کو پڑھتے بھی ہوں اور اس پر عمل پیرا بھی ہوں۔ جنت میں اسی قرآن کے ذریعے درجات میں ترقی ہوتی چلی جائے گی اور ان کا مقام وہاں معین ہوگا جہاں ان کا سرمایۂ قرآن ختم ہوگا اور یہی قرآن اللہ سے بندے کی ہم کلامی بھی ہے اور احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب بھی ہے۔


