عدلیہ کا کام فیصلے دینا ہے، حکمرانی کرنا نہیں/ چیف جسٹس

جنگ نیوز

نئی دہلی/چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کہا ہے کہ عدلیہ کسی بھی حکومتی فیصلے کو اچھا یا برا قرار دینے کی بجائے آئینی اصولوں اور اقدار کے تحفظ پر توجہ دیتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’’عدلیہ کا کام کسی بھی حکومتی فیصلے کو اچھا یا برا قرار دینا نہیں، بلکہ ایسے فیصلوں کی آئینی بنیاد کا جائزہ لینا ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتیں حکمرانی کے عمل میں براہِ راست مداخلت کے بجائے آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر اپنے فرائض انجام دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین ملک کی حکمرانی کا ڈھانچہ طے کرتا ہے اور عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری اس ڈھانچے اور آئینی اقدار کا تحفظ کرنا ہے۔ چیف جسٹس کے مطابق آئین کی بالادستی اور اس کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ عدلیہ کی اہم ترین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کو اپنے آئینی کردار کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں اور ملک کے آئینی و جمہوری نظام کے بنیادی اصولوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

عدلیہ کا کام فیصلے دینا ہے، حکمرانی کرنا نہیں/ چیف جسٹس

جنگ نیوز

نئی دہلی/چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے کہا ہے کہ عدلیہ کسی بھی حکومتی فیصلے کو اچھا یا برا قرار دینے کی بجائے آئینی اصولوں اور اقدار کے تحفظ پر توجہ دیتی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ ’’عدلیہ کا کام کسی بھی حکومتی فیصلے کو اچھا یا برا قرار دینا نہیں، بلکہ ایسے فیصلوں کی آئینی بنیاد کا جائزہ لینا ہے۔‘‘ انہوں نے واضح کیا کہ عدالتیں حکمرانی کے عمل میں براہِ راست مداخلت کے بجائے آئین کی مقرر کردہ حدود کے اندر اپنے فرائض انجام دیتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئین ملک کی حکمرانی کا ڈھانچہ طے کرتا ہے اور عدلیہ کی بنیادی ذمہ داری اس ڈھانچے اور آئینی اقدار کا تحفظ کرنا ہے۔ چیف جسٹس کے مطابق آئین کی بالادستی اور اس کے بنیادی ڈھانچے کا تحفظ عدلیہ کی اہم ترین ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ کو اپنے آئینی کردار کے دائرے میں رہتے ہوئے فیصلے کرنے چاہئیں اور ملک کے آئینی و جمہوری نظام کے بنیادی اصولوں کو مضبوط بنانا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں