وندے ماترم کے ساتھ ہنگامہ خیز پارلیمانی اجلاس اختتام پذیر

جنگ نیوز

نئی دہلی: پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جمعرات کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک، رام مندر چندہ معاملے، طلبہ کے خلاف کارروائی اور دیگر مسائل پر اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے باعث اجلاس خاصا ہنگامہ خیز رہا اور دونوں ایوانوں کی کارروائی بار بار متاثر ہوئی۔
13 اگست کو اختتام پذیر ہونے والے اجلاس کا آغاز 21 جولائی کو ہوا تھا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے نیٹ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی اور ایودھیا میں رام مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگی جیسے معاملات اٹھائے۔ مسلسل احتجاج اور کارروائی ملتوی ہونے کے باعث دونوں ایوانوں کی مجموعی کارکردگی ملک کے اہم قانون ساز اجلاسوں میں کم ترین سطح پر رہی۔
لوک سبھا میں اجلاس کے آخری دن قومی ترانے سے قبل قومی گیت وندے ماترم کی تمام چھ بندیں پیش کی گئیں۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی شروع کی۔ وزیراعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امیت شاہ، راج ناتھ سنگھ، نتن گڈکری، کرن ریجیجو، پرہلاد جوشی، جے پی نڈا، شیوراج سنگھ چوہان سمیت متعدد وزرا ایوان میں موجود تھے۔
راجیہ سبھا میں بھی کارروائی بار بار تعطل کا شکار رہی۔ چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے کہا کہ ایوان میں مسلسل خلل سے قانون سازی اور عوامی مسائل پر بحث متاثر ہوئی۔ انہوں نے ارکان سے ایوان کے وقار اور پارلیمانی روایات کو برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
رپورٹ کے مطابق لوک سبھا میں صرف 19 فیصد اور راجیہ سبھا میں 39 فیصد مقررہ وقت میں مؤثر کارروائی ہوسکی۔ کئی اہم بل بغیر تفصیلی بحث کے منظور کیے گئے، جبکہ بعض معاملات پر بحث شدید ہنگامے کی نذر ہوگئی۔
راجیہ سبھا میں جن اہم قوانین پر غور کیا گیا، ان میں انڈین انسٹی ٹیوٹس آف مینجمنٹ ترمیمی بل، قومی کھیل انتظامیہ سے متعلق بل اور دیگر قانون سازی شامل تھی، جبکہ بعض بل ووٹوں کے ذریعے منظور ہوئے۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں ایوانوں میں سیاسی اختلافات اور احتجاج کے باعث پیدا ہونے والے تعطل پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پارلیمانی امور پر بہتر تعاون کی ضرورت بھی اجاگر ہوئی۔
اجلاس کے دوران 12 بل منظور کیے گئے
پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے کہا کہ حکومت نے تمام اہم معاملات پر بحث کے لئے تعاون کیا، تاہم اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے باعث کئی معاملات پر تفصیلی بحث ممکن نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران 12 بل منظور کیے گئے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

وندے ماترم کے ساتھ ہنگامہ خیز پارلیمانی اجلاس اختتام پذیر

جنگ نیوز

نئی دہلی: پارلیمنٹ کا مانسون اجلاس جمعرات کو غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔ نیٹ امتحان میں مبینہ پرچہ لیک، رام مندر چندہ معاملے، طلبہ کے خلاف کارروائی اور دیگر مسائل پر اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے باعث اجلاس خاصا ہنگامہ خیز رہا اور دونوں ایوانوں کی کارروائی بار بار متاثر ہوئی۔
13 اگست کو اختتام پذیر ہونے والے اجلاس کا آغاز 21 جولائی کو ہوا تھا۔ اجلاس کے دوران اپوزیشن نے نیٹ پرچہ لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ پر پولیس کارروائی اور ایودھیا میں رام مندر کے چندے میں مبینہ بے ضابطگی جیسے معاملات اٹھائے۔ مسلسل احتجاج اور کارروائی ملتوی ہونے کے باعث دونوں ایوانوں کی مجموعی کارکردگی ملک کے اہم قانون ساز اجلاسوں میں کم ترین سطح پر رہی۔
لوک سبھا میں اجلاس کے آخری دن قومی ترانے سے قبل قومی گیت وندے ماترم کی تمام چھ بندیں پیش کی گئیں۔ اس کے بعد اسپیکر نے ایوان کی کارروائی شروع کی۔ وزیراعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امیت شاہ، راج ناتھ سنگھ، نتن گڈکری، کرن ریجیجو، پرہلاد جوشی، جے پی نڈا، شیوراج سنگھ چوہان سمیت متعدد وزرا ایوان میں موجود تھے۔
راجیہ سبھا میں بھی کارروائی بار بار تعطل کا شکار رہی۔ چیئرمین جگدیپ دھنکھڑ نے کہا کہ ایوان میں مسلسل خلل سے قانون سازی اور عوامی مسائل پر بحث متاثر ہوئی۔ انہوں نے ارکان سے ایوان کے وقار اور پارلیمانی روایات کو برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
رپورٹ کے مطابق لوک سبھا میں صرف 19 فیصد اور راجیہ سبھا میں 39 فیصد مقررہ وقت میں مؤثر کارروائی ہوسکی۔ کئی اہم بل بغیر تفصیلی بحث کے منظور کیے گئے، جبکہ بعض معاملات پر بحث شدید ہنگامے کی نذر ہوگئی۔
راجیہ سبھا میں جن اہم قوانین پر غور کیا گیا، ان میں انڈین انسٹی ٹیوٹس آف مینجمنٹ ترمیمی بل، قومی کھیل انتظامیہ سے متعلق بل اور دیگر قانون سازی شامل تھی، جبکہ بعض بل ووٹوں کے ذریعے منظور ہوئے۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں ایوانوں میں سیاسی اختلافات اور احتجاج کے باعث پیدا ہونے والے تعطل پر تشویش کا اظہار کیا گیا، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان پارلیمانی امور پر بہتر تعاون کی ضرورت بھی اجاگر ہوئی۔
اجلاس کے دوران 12 بل منظور کیے گئے
پارلیمانی امور کے وزیر کرن ریجیجو نے کہا کہ حکومت نے تمام اہم معاملات پر بحث کے لئے تعاون کیا، تاہم اپوزیشن کے مسلسل احتجاج کے باعث کئی معاملات پر تفصیلی بحث ممکن نہ ہوسکی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس کے دوران 12 بل منظور کیے گئے۔

 

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں