امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو تقریباً ایک سال گزر چکا ہے، مگر غزہ میں تباہی اور انسانی المیہ ختم نہیں ہوا۔ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں تقریباً 1,300 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیلی افواج غزہ کے تقریباً 65 فیصد حصے پر قابض ہیں۔ لاکھوں فلسطینی خیموں میں ملبے کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اسکول اور اسپتال بند ہیں اور امدادی سامان کی فراہمی بھی شدید پابندیوں کا شکار ہے۔
اسرائیل غزہ کی تعمیرِ نو کو حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط کر رہا ہے۔ حماس کی جانب سے بھاری ہتھیار مرحلہ وار ختم کرنے کی آمادگی اور اسرائیلی انخلا کے امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے باوجود وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے مسترد کردیا۔ ان کا اصرار ہے کہ حماس کو تمام ہتھیار چھوڑنے ہوں گے۔ اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف سلامتی نہیں بلکہ غزہ پر مستقل کنٹرول کا بھی بنتا جارہا ہے۔
نیتن یاہو کی داخلی سیاست بھی اس بحران سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی حکومت کا سخت گیر دایاں بازو کسی بھی بڑی رعایت کی مخالفت کرسکتا ہے، جبکہ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر جنگ جاری رکھنا سیاسی طور پر بھی ان کے لئے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے ساتھ جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے خطے کو مزید غیر مستحکم کردیا ہے۔ توانائی اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی معیشت پر بھی دباؤ ڈالا ہے۔ ایسے حالات میں واشنگٹن کے لئے مشرق وسطیٰ میں ایک قابلِ قبول سفارتی راستہ تلاش کرنا ناگزیر بنتا جارہا ہے۔
غزہ کے لئے مجوزہ 15 نکاتی منصوبہ اپنی خامیوں کے باوجود جنگ سے تباہ حال فلسطینیوں کے لئے ایک ممکنہ راستہ فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم تعمیرِ نو کو محض معاشی منصوبہ نہیں بنایا جاسکتا۔ فلسطینیوں کو گھر، اسپتال اور اسکولوں کے ساتھ اپنی سیاسی آواز اور مستقبل کا حق بھی درکار ہے۔ حماس کا غیر مسلح ہونا اگر حل کا حصہ ہے تو اسرائیلی انخلا، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور غزہ کی تعمیرِ نو بھی اسی معاہدے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ یک طرفہ شرائط امن نہیں، مزید تنازع کو جنم دیں گی۔اب اصل ذمہ داری امریکہ پر ہے۔ واشنگٹن کے پاس اسرائیل پر اثرانداز ہونے کے لئے سیاسی اور فوجی leverage موجود ہے۔ اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ محض اسرائیل کی پالیسیوں کا محافظ بنے گا یا اپنے اثر و رسوخ کو ایک حقیقی اور پائیدار امن کے لئے استعمال کرے گا۔
غزہ کو ایک اور عارضی جنگ بندی نہیں، ایسا امن درکار ہے جو قبضے، تباہی اور محرومی کے اسباب کو ختم کرے۔ جنگ بندی اگر امن کی طرف راستہ نہیں کھولتی تو وہ صرف اگلی جنگ سے پہلے کا وقفہ بن کر رہ جاتی ہے۔
غزہ: جنگ بندی، مگر امن کہاں؟
غزہ: جنگ بندی، مگر امن کہاں؟
امریکی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کو تقریباً ایک سال گزر چکا ہے، مگر غزہ میں تباہی اور انسانی المیہ ختم نہیں ہوا۔ جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی حملوں میں تقریباً 1,300 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں، جبکہ اسرائیلی افواج غزہ کے تقریباً 65 فیصد حصے پر قابض ہیں۔ لاکھوں فلسطینی خیموں میں ملبے کے درمیان زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اسکول اور اسپتال بند ہیں اور امدادی سامان کی فراہمی بھی شدید پابندیوں کا شکار ہے۔
اسرائیل غزہ کی تعمیرِ نو کو حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے مشروط کر رہا ہے۔ حماس کی جانب سے بھاری ہتھیار مرحلہ وار ختم کرنے کی آمادگی اور اسرائیلی انخلا کے امریکی حمایت یافتہ منصوبے کے باوجود وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اسے مسترد کردیا۔ ان کا اصرار ہے کہ حماس کو تمام ہتھیار چھوڑنے ہوں گے۔ اس موقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ صرف سلامتی نہیں بلکہ غزہ پر مستقل کنٹرول کا بھی بنتا جارہا ہے۔
نیتن یاہو کی داخلی سیاست بھی اس بحران سے جڑی ہوئی ہے۔ ان کی حکومت کا سخت گیر دایاں بازو کسی بھی بڑی رعایت کی مخالفت کرسکتا ہے، جبکہ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات کے پیش نظر جنگ جاری رکھنا سیاسی طور پر بھی ان کے لئے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب ایران کے ساتھ جنگ اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے خطے کو مزید غیر مستحکم کردیا ہے۔ توانائی اور کھاد کی بڑھتی قیمتوں نے امریکی معیشت پر بھی دباؤ ڈالا ہے۔ ایسے حالات میں واشنگٹن کے لئے مشرق وسطیٰ میں ایک قابلِ قبول سفارتی راستہ تلاش کرنا ناگزیر بنتا جارہا ہے۔
غزہ کے لئے مجوزہ 15 نکاتی منصوبہ اپنی خامیوں کے باوجود جنگ سے تباہ حال فلسطینیوں کے لئے ایک ممکنہ راستہ فراہم کرسکتا ہے۔ تاہم تعمیرِ نو کو محض معاشی منصوبہ نہیں بنایا جاسکتا۔ فلسطینیوں کو گھر، اسپتال اور اسکولوں کے ساتھ اپنی سیاسی آواز اور مستقبل کا حق بھی درکار ہے۔ حماس کا غیر مسلح ہونا اگر حل کا حصہ ہے تو اسرائیلی انخلا، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور غزہ کی تعمیرِ نو بھی اسی معاہدے کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ یک طرفہ شرائط امن نہیں، مزید تنازع کو جنم دیں گی۔اب اصل ذمہ داری امریکہ پر ہے۔ واشنگٹن کے پاس اسرائیل پر اثرانداز ہونے کے لئے سیاسی اور فوجی leverage موجود ہے۔ اسے یہ طے کرنا ہوگا کہ وہ محض اسرائیل کی پالیسیوں کا محافظ بنے گا یا اپنے اثر و رسوخ کو ایک حقیقی اور پائیدار امن کے لئے استعمال کرے گا۔
غزہ کو ایک اور عارضی جنگ بندی نہیں، ایسا امن درکار ہے جو قبضے، تباہی اور محرومی کے اسباب کو ختم کرے۔ جنگ بندی اگر امن کی طرف راستہ نہیں کھولتی تو وہ صرف اگلی جنگ سے پہلے کا وقفہ بن کر رہ جاتی ہے۔


