اصل امتحان تعمیر نو کا ہے

بھارت آج اپنی آزادی کے 79 برس مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے۔ یہ آٹھ دہائیوں پر محیط ایک ایسا تاریخی سفر ہے جس میں ایک نوآزاد ملک نے جمہوری اداروں کی تشکیل، آئینی نظام کے استحکام، معاشی ترقی، سائنسی پیش رفت اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے کئی مراحل طے کیے۔ 1947 کا بھارت اور آج کا بھارت ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں، لیکن اس طویل سفر نے ہمیں یہ سوال پوچھنے کا موقع بھی دیا ہے کہ اگلی دہائیوں کا بھارت کیسا ہونا چاہیے؟
آزادی کے بعد ہندوستان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صرف غربت اور پسماندگی سے نکلنا نہیں تھا؛ ایک ایسے ملک کو متحد رکھنا بھی تھا جو زبان، مذہب، ثقافت، نسل اور جغرافیہ کے اعتبار سے غیر معمولی تنوع رکھتا ہے۔ آئین نے اس تنوع کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنانے کے لئے سیکولرزم، مساوات، آزادی اور انصاف کو بنیادی اصولوں میں جگہ دی۔ یہی وہ تصور تھا جس نے ہندوستانی جمہوریت کو ایک منفرد شناخت عطا کی۔آج 79 برس بعد ہمیں اسی بنیاد کو نئے عزم کے ساتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں کئی ممالک خود کو سیکولرزم اور انسانی مساوات کا علمبردار قرار دیتے ہیں۔ بھارت کے لئے اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ محض دعوے نہ کرے بلکہ اپنے عملی کردار سے ثابت کرے کہ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے حامل کروڑوں شہری ایک ہی آئینی چھتری تلے برابر وقار اور حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔
سیکولرزم کا مطلب کسی مذہب کی مخالفت نہیں، بلکہ تمام شہریوں کے لئے مساوی احترام اور ریاست کی غیر جانب داری ہے۔ یہی اصول ہندوستان کی تہذیبی روح اور آئینی عہد دونوں سے ہم آہنگ ہے۔ اگر ہم دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں اپنی جگہ مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مذہبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور سماجی اعتماد کو قومی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھنا ہوگا۔
لیکن آزادی کے 79 برس بعد ہمارے سامنے کچھ ایسے مسائل بھی ہیں جنہیں جشن کی روشنی میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔سب سے بڑا سوال انصاف کی رفتار کا ہے۔ عدالتوں میں لاکھوں بلکہ کروڑوں مقدمات زیر التوا رہنا محض عدالتی مسئلہ نہیں؛ یہ عام شہری کے اعتماد، معیشت اور انسانی زندگی سے جڑا ہوا سوال ہے۔ جس شخص کو برسوں انصاف کا انتظار کرنا پڑے، اس کے لئے انصاف کی تاخیر خود ایک تکلیف بن جاتی ہے۔ ہمیں ایسی عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے جو مقدمات کے تیز تر فیصلے، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، عدالتی بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور عام آدمی تک سستے و قابلِ رسائی انصاف کو یقینی بنائیں۔
دوسرا بڑا چیلنج بدعنوانی ہے۔ بدعنوانی صرف سرکاری خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ یہ میرٹ، اداروں اور عوام کے اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے۔ ایک ترقی یافتہ بھارت کے لئے شفاف حکمرانی، جواب دہ ادارے اور ایسا نظام ناگزیر ہے جہاں قانون طاقتور اور کمزور کے لئے یکساں ہو۔تیسرا چیلنج ہماری زمین اور آنے والی نسلوں کا ہے۔ عالمی حدت اور ماحولیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ شدید گرمی، بدلتے موسمی رجحانات، پانی کے بحران، فضائی آلودگی اور قدرتی آفات ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ ترقی کا ماڈل ماحول سے ٹکراؤ کے بجائے اس کے ساتھ توازن قائم کرے۔ بھارت کی تیز رفتار ترقی اسی وقت پائیدار ہوگی جب صاف توانائی، پانی کے تحفظ، جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور صاف ہوا کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جائے۔آج ہمیں آزادی کی تاریخ پر فخر بھی کرنا ہے اور اس کی ذمہ داری کو سمجھنا بھی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے سیاسی آزادی حاصل کی؛ اب ہماری نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف، شفافیت، مساوات، سائنسی سوچ، سماجی ہم آہنگی اور ماحولیاتی تحفظ کو مزید مضبوط کرے۔آج جب ترنگا لہرا رہا ہے تو آئیے اس کے تین رنگوں کو محض پرچم کی شناخت نہیں بلکہ قومی عہد بنائیں: قربانی کی یاد، امن کا عزم اور ترقی کی امید۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

تازہ ترین خبریں

صاحب خان ساگر کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ مٹھی بھر روشنی سے گزرتے ہوئے

  ڈاکٹر ضیاء الرحمٰن جعفری صاحب خان ساگر کا تعلق بہار...

خوشبو کا بدن: ایک تنقیدی مطالعہ

  تبصرہ نگار:سمیع احمد ثمر کتاب: خوشبو کا بدن شاعر: شکیل ابن...

ننہ پوش — مختصر جائزہ

    عبدالرشید خان چھانہ پورہ ’’ننہ پوش‘‘ وادی کے نامور انشائیہ نگار،...

مسلمان ذات اور برادری میں کیوں بٹے ہوئے ہیں؟

  ریاض فردوسی غزوہ بنی مصطلق کے موقع پر ایک مہاجر...

غزل : جاوید قسیم

جاوید قسیم خاک ہوتے ہیں ہم روانی سے آگ بجھتی نہیں...

اصل امتحان تعمیر نو کا ہے

بھارت آج اپنی آزادی کے 79 برس مکمل ہونے کا جشن منا رہا ہے۔ یہ آٹھ دہائیوں پر محیط ایک ایسا تاریخی سفر ہے جس میں ایک نوآزاد ملک نے جمہوری اداروں کی تشکیل، آئینی نظام کے استحکام، معاشی ترقی، سائنسی پیش رفت اور عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے کے کئی مراحل طے کیے۔ 1947 کا بھارت اور آج کا بھارت ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں، لیکن اس طویل سفر نے ہمیں یہ سوال پوچھنے کا موقع بھی دیا ہے کہ اگلی دہائیوں کا بھارت کیسا ہونا چاہیے؟
آزادی کے بعد ہندوستان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج صرف غربت اور پسماندگی سے نکلنا نہیں تھا؛ ایک ایسے ملک کو متحد رکھنا بھی تھا جو زبان، مذہب، ثقافت، نسل اور جغرافیہ کے اعتبار سے غیر معمولی تنوع رکھتا ہے۔ آئین نے اس تنوع کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت بنانے کے لئے سیکولرزم، مساوات، آزادی اور انصاف کو بنیادی اصولوں میں جگہ دی۔ یہی وہ تصور تھا جس نے ہندوستانی جمہوریت کو ایک منفرد شناخت عطا کی۔آج 79 برس بعد ہمیں اسی بنیاد کو نئے عزم کے ساتھ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا میں کئی ممالک خود کو سیکولرزم اور انسانی مساوات کا علمبردار قرار دیتے ہیں۔ بھارت کے لئے اصل کامیابی یہ ہوگی کہ وہ محض دعوے نہ کرے بلکہ اپنے عملی کردار سے ثابت کرے کہ مختلف مذاہب، زبانوں اور ثقافتوں کے حامل کروڑوں شہری ایک ہی آئینی چھتری تلے برابر وقار اور حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکتے ہیں۔
سیکولرزم کا مطلب کسی مذہب کی مخالفت نہیں، بلکہ تمام شہریوں کے لئے مساوی احترام اور ریاست کی غیر جانب داری ہے۔ یہی اصول ہندوستان کی تہذیبی روح اور آئینی عہد دونوں سے ہم آہنگ ہے۔ اگر ہم دنیا کی بڑی جمہوریتوں میں اپنی جگہ مزید مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں مذہبی ہم آہنگی، باہمی احترام اور سماجی اعتماد کو قومی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھنا ہوگا۔
لیکن آزادی کے 79 برس بعد ہمارے سامنے کچھ ایسے مسائل بھی ہیں جنہیں جشن کی روشنی میں نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔سب سے بڑا سوال انصاف کی رفتار کا ہے۔ عدالتوں میں لاکھوں بلکہ کروڑوں مقدمات زیر التوا رہنا محض عدالتی مسئلہ نہیں؛ یہ عام شہری کے اعتماد، معیشت اور انسانی زندگی سے جڑا ہوا سوال ہے۔ جس شخص کو برسوں انصاف کا انتظار کرنا پڑے، اس کے لئے انصاف کی تاخیر خود ایک تکلیف بن جاتی ہے۔ ہمیں ایسی عدالتی اصلاحات کی ضرورت ہے جو مقدمات کے تیز تر فیصلے، جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال، عدالتی بنیادی ڈھانچے میں بہتری اور عام آدمی تک سستے و قابلِ رسائی انصاف کو یقینی بنائیں۔
دوسرا بڑا چیلنج بدعنوانی ہے۔ بدعنوانی صرف سرکاری خزانے کو نقصان نہیں پہنچاتی بلکہ یہ میرٹ، اداروں اور عوام کے اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہے۔ ایک ترقی یافتہ بھارت کے لئے شفاف حکمرانی، جواب دہ ادارے اور ایسا نظام ناگزیر ہے جہاں قانون طاقتور اور کمزور کے لئے یکساں ہو۔تیسرا چیلنج ہماری زمین اور آنے والی نسلوں کا ہے۔ عالمی حدت اور ماحولیاتی تبدیلی اب مستقبل کا خطرہ نہیں بلکہ موجودہ حقیقت ہے۔ شدید گرمی، بدلتے موسمی رجحانات، پانی کے بحران، فضائی آلودگی اور قدرتی آفات ہمیں خبردار کر رہے ہیں کہ ترقی کا ماڈل ماحول سے ٹکراؤ کے بجائے اس کے ساتھ توازن قائم کرے۔ بھارت کی تیز رفتار ترقی اسی وقت پائیدار ہوگی جب صاف توانائی، پانی کے تحفظ، جنگلات، حیاتیاتی تنوع اور صاف ہوا کو قومی ترجیحات میں شامل کیا جائے۔آج ہمیں آزادی کی تاریخ پر فخر بھی کرنا ہے اور اس کی ذمہ داری کو سمجھنا بھی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے سیاسی آزادی حاصل کی؛ اب ہماری نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ انصاف، شفافیت، مساوات، سائنسی سوچ، سماجی ہم آہنگی اور ماحولیاتی تحفظ کو مزید مضبوط کرے۔آج جب ترنگا لہرا رہا ہے تو آئیے اس کے تین رنگوں کو محض پرچم کی شناخت نہیں بلکہ قومی عہد بنائیں: قربانی کی یاد، امن کا عزم اور ترقی کی امید۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں