جنگ نیوز
نئی دہلی/کشمیری پنڈت ادیب اور شاعر سروانند کول پریمّی اور ان کے بیٹے کے 1990 میں اننت ناگ میں دہشت گردوں کے ہاتھوں قتل کے 36 سال بعد ریاستی تحقیقاتی ایجنسی SIA نے معاملے کی تحقیقات میں تیزی لاتے ہوئے متعدد مقامات پر چھاپے مارے ہیں۔
یہ مقدمہ ابتدا میں اننت ناگ ضلع پولیس نے درج کیا تھا، تاہم حال ہی میں اسے دہشت گردی کی سازشوں کی تحقیقات کرنے والی خصوصی ایجنسی SIA کے حوالے کیا گیا ہے۔
29 اور 30 اپریل 1990 کی درمیانی شب مسلح دہشت گرد پریمّی کے گھر میں داخل ہوئے اور انہیں اپنے کمانڈر کے پاس لے جانے کا مطالبہ کیا۔ ان کے کم عمر بیٹے ویریندر نے بھی ساتھ جانے پر اصرار کیا، جس کے بعد دونوں کو اغوا کرلیا گیا۔ یکم مئی کو دونوں کی لاشیں گھر سے تقریباً 20 کلومیٹر دور جنگلاتی علاقے میں ایک درخت سے لٹکی ہوئی ملیں۔
پریمّی کشمیری ادب میں نمایاں مقام رکھتے تھے اور بھگوت گیتا کا کشمیری زبان میں ترجمہ کرنے کے علاوہ وادی میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے مضبوط داعی بھی تھے۔ مقامی و تاریخی روایات کے مطابق ان کے گھر میں قرآن مجید کا نسخہ بھی موجود تھا۔
پولیس ذرائع کے مطابق SIA کی تحقیقات میں ایسے متعدد اہم اور پہلے سامنے نہ آنے والے شواہد ملے ہیں جو مبینہ طور پر حملہ آوروں کی شناخت اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔ ایجنسی تاریخی ریکارڈ اور دستاویزات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہے۔
حکام نے اس پیش رفت کو کئی دہائیوں پرانے دہشت گردی کے اس مقدمے کی تحقیقات میں اہم موڑ قرار دیا ہے۔ جموں و کشمیر انتظامیہ نے 2022 میں پریمّی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا تھا۔
یہ پیش رفت کشمیری پنڈت خاتون سرلا بھٹ کے 1990 کے قتل سے متعلق مقدمے میں SIA کی جانب سے چارج شیٹ داخل کیے جانے کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے۔ SIA نے اس معاملے میں علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کو مرکزی ملزم قرار دیتے ہوئے 737 صفحات پر مشتمل چارج شیٹ سری نگر کی عدالت میں پیش کی ہے۔


