جنگ نیوز
واشنگٹن/امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لئے ہونے والے کسی بھی امن مذاکرات میں وہ ایران سے جنگی ہرجانے کا مطالبہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مطالبے میں موجودہ جنگ کے نقصانات کے علاوہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران امریکی اہداف پر مبینہ ایرانی حملوں کا معاوضہ بھی شامل ہوگا۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے متعلق مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ان کے نئے مطالبات کے باعث فوری معاہدے کے امکانات مزید مشکل ہوگئے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے معاوضے کے مطالبے میں امریکی اہداف پر گزشتہ 20 برس سے زائد عرصے کے دوران ہونے والے حملوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ 50 برس میں ایرانی حکام کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے مظاہرین کے خاندانوں کے لئے ادائیگیاں بھی شامل ہوں گی۔
بعد ازاں ایک اور بیان میں انہوں نے کہا کہ لبنان، شام، یمن اور غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں اور نقصانات کی ذمہ داری بھی اسلامی جمہوریہ ایران پر عائد ہونی چاہیے۔
دریں اثنا، ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لئے پہلے امریکی ناکہ بندی ختم کرنے اور ایرانی تیل کی صنعت پر عائد پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت پر بھی دباؤ بڑھا ہے۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں USS Cole پر 2000ء میں ہونے والے بم حملے کا بھی حوالہ دیا، جس میں ان کے مطابق ایران کے ملوث ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔
امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران سے متعلق ان کے تمام معاوضے کے مطالبات مستقبل میں ہونے والے تمام مذاکرات میں باضابطہ طور پر شامل کئے جائیں گے۔


