جنگ نیوز
کیف: یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا روسی سرزمین پر 30 ہزار سے 50 ہزار تک فوجی تعینات کرنے کا فیصلہ کرچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا روس کے ذریعے جدید جنگی تجربہ حاصل کررہا ہے، جو ایشیا کے دیگر ممالک کے لئے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔
زیلنسکی کے مطابق یوکرین میں شمالی کوریا کے میزائل بھی مل چکے ہیں۔ انہوں نے جنوبی کوریا پر زور دیا کہ وہ یوکرین کے ساتھ فضائی دفاع اور ڈرون ٹیکنالوجی سمیت دفاعی تعاون مزید مضبوط کرے۔
دوسری جانب زیلنسکی نے اتحادی ممالک سے روسی میزائل حملوں کے مقابلے کے لئے فضائی دفاعی نظام کی فراہمی تیز کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکا، جرمنی اور پولینڈ سمیت کئی ممالک نے مدد کی ہے، تاہم مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔
زیلنسکی نے روس پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام لگایا کہ روسی بیلسٹک میزائلوں میں دنیا کے مختلف ممالک، حتیٰ کہ بعض قریبی شراکت داروں سے حاصل کیے گئے ہزاروں پرزے استعمال ہورہے ہیں، جو شہریوں، بچوں اور فوجیوں کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یوکرین کے فضائی دفاع کو بیوروکریسی نے متاثر کیا ہے اور اگر پیٹریاٹ میزائل روکنے والے نظام کی تیاری کے لئے اجازت پہلے مل جاتی تو اب تک یہ نظام بڑے پیمانے پر تیار کیے جاسکتے تھے۔ زیلنسکی نے زور دیا کہ روسی میزائلوں کے خطرے سے نمٹنے کے لئے امریکا کے ساتھ یورپی ممالک کو بھی فضائی دفاعی نظام فراہم کرنا چاہیے۔


