پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ مغربی ایشیا کے بدلتے ہوئے سلامتی کے منظرنامے کی اہم علامت ہے۔ تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے ساتھ یہ اصول بھی تسلیم کیا ہے کہ ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔
یہ معاہدہ محض تین ممالک کا دفاعی تعاون نہیں بلکہ خطے میں امریکی سلامتی کے روایتی کردار کے ممکنہ سکڑاؤ کے پس منظر میں نئی صف بندی کی کوشش بھی ہے۔ پاکستان کی جوہری و عسکری صلاحیت، سعودی عرب کے مالی وسائل اور عالمی اثر و رسوخ، جبکہ ترکیہ کی بڑھتی ہوئی دفاعی و ڈرون صنعت، اس اتحاد کو خاصا اہم بناتی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے میں مسلسل جنگی کارروائیوں نے بھی اس ضرورت کو مزید نمایاں کیا ہے۔
ترکیہ اس معاہدے کے ذریعے مغربی ایشیا میں اپنے تزویراتی کردار کو وسعت دے سکتا ہے، جبکہ پاکستان بھی جنوبی ایشیا سے آگے ایک ممکنہ سلامتی فراہم کنندہ اور ثالث کے طور پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اصل سوال معاہدے کی تشکیل نہیں بلکہ اس کی عملی تاثیر ہے۔
اجتماعی دفاع کا وعدہ اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب وہ قابلِ اعتبار بازدار قوت میں تبدیل ہو۔ ایسے وقت میں جب خطے میں جنگیں جاری ہیں اور ایران و اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، محض سیاسی عہد کسی فوری خطرے کو روکنے کے لئے کافی نہیں۔ مکہ معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سیاسی عزم کو حقیقی فوجی تعاون، مشترکہ حکمتِ عملی اور قابلِ اعتماد دفاعی باز deterrence میں کس حد تک تبدیل کر پاتے ہیں۔
یہ معاہدہ اگر صرف ردِعمل کی علاقائی صف بندی بن کر رہ گیا تو اس کی اہمیت محدود ہوگی؛ لیکن اگر اسے جنگ کے بجائے امن، دفاعی خودکفالت اور علاقائی استحکام کے لئے استعمال کیا گیا تو یہ مغربی ایشیا کے مستقبل میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
مکہ معاہدہ بدلتے خطے کی نئی صف بندی
مکہ معاہدہ بدلتے خطے کی نئی صف بندی
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان 7 اگست کو مکہ مکرمہ میں طے پانے والا مشترکہ دفاعی معاہدہ مغربی ایشیا کے بدلتے ہوئے سلامتی کے منظرنامے کی اہم علامت ہے۔ تینوں ممالک نے اجتماعی سلامتی اور دفاعی تعاون مضبوط بنانے کے ساتھ یہ اصول بھی تسلیم کیا ہے کہ ایک ملک پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔
یہ معاہدہ محض تین ممالک کا دفاعی تعاون نہیں بلکہ خطے میں امریکی سلامتی کے روایتی کردار کے ممکنہ سکڑاؤ کے پس منظر میں نئی صف بندی کی کوشش بھی ہے۔ پاکستان کی جوہری و عسکری صلاحیت، سعودی عرب کے مالی وسائل اور عالمی اثر و رسوخ، جبکہ ترکیہ کی بڑھتی ہوئی دفاعی و ڈرون صنعت، اس اتحاد کو خاصا اہم بناتی ہے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے میں مسلسل جنگی کارروائیوں نے بھی اس ضرورت کو مزید نمایاں کیا ہے۔
ترکیہ اس معاہدے کے ذریعے مغربی ایشیا میں اپنے تزویراتی کردار کو وسعت دے سکتا ہے، جبکہ پاکستان بھی جنوبی ایشیا سے آگے ایک ممکنہ سلامتی فراہم کنندہ اور ثالث کے طور پر اپنی جگہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ تاہم اصل سوال معاہدے کی تشکیل نہیں بلکہ اس کی عملی تاثیر ہے۔
اجتماعی دفاع کا وعدہ اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب وہ قابلِ اعتبار بازدار قوت میں تبدیل ہو۔ ایسے وقت میں جب خطے میں جنگیں جاری ہیں اور ایران و اسرائیل کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، محض سیاسی عہد کسی فوری خطرے کو روکنے کے لئے کافی نہیں۔ مکہ معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ سیاسی عزم کو حقیقی فوجی تعاون، مشترکہ حکمتِ عملی اور قابلِ اعتماد دفاعی باز deterrence میں کس حد تک تبدیل کر پاتے ہیں۔
یہ معاہدہ اگر صرف ردِعمل کی علاقائی صف بندی بن کر رہ گیا تو اس کی اہمیت محدود ہوگی؛ لیکن اگر اسے جنگ کے بجائے امن، دفاعی خودکفالت اور علاقائی استحکام کے لئے استعمال کیا گیا تو یہ مغربی ایشیا کے مستقبل میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔


