جموں و کشمیر کی ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں 3 لاکھ 65 ہزار 645 مقدمات کا زیر التوا ہونا محض ایک عدد نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی، انتظامی کارکردگی اور عام شہری کی زندگی سے جڑا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ مرکزی وزارتِ قانون و انصاف نے لوک سبھا کو بتایا ہے کہ ان مقدمات میں 63 ہزار 876 مقدمات پانچ سال سے زائد عرصے سے زیرِ التوا ہیں، جبکہ 20 ہزار 767 مقدمات کو دس سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ عدالتی نظام پر مقدمات کا بوجھ کس حد تک بڑھ چکا ہے۔
کسی مقدمے کا برسوں تک زیرِ التوا رہنا صرف فریقین کے لئے قانونی پریشانی کا باعث نہیں بنتا بلکہ بعض اوقات اس کے اثرات ان افراد تک بھی پہنچ جاتے ہیں جن کا اس مقدمے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بالخصوص کسی ملزم یا مقدمے میں ملوث شخص کے رشتہ دار بھی بعض انتظامی معاملات میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی بے گناہ شہری کو پاسپورٹ بنوانا ہو، سرکاری ملازمت حاصل کرنی ہو یا کسی قسم کی کلیئرنس درکار ہو تو محض اس بنیاد پر رکاوٹ پیدا ہونا کہ اس کے کسی رشتہ دار کے خلاف مقدمہ زیرِ التوا ہے، انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی محسوس ہوتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی شخص کو محض رشتہ داری کی بنیاد پر کسی دوسرے فرد کے مقدمے کی سزا یا اس کے مضمرات کا سامنا کرنا چاہیے؟ قانون کا بنیادی اصول فرد کی اپنی ذمہ داری اور قانونی حیثیت ہے۔ کسی شخص کے خلاف مقدمہ زیرِ التوا ہونا اس کے رشتہ داروں کو خود بخود مشتبہ یا قصوروار نہیں بنا دیتا۔ لہٰذا انتظامی اداروں کو بھی ہر فرد کی قانونی حیثیت کو الگ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تاہم مقدمات کے جلد فیصلے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ انصاف کے تقاضوں یا ملزم کے قانونی حقوق کو نظرانداز کیا جائے۔ ہر شخص کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے اور ہر متاثرہ فریق کو انصاف ملنا چاہیے۔ اصل ضرورت منصفانہ اور تیز رفتار انصاف کے درمیان توازن قائم کرنے کی ہے۔
اسی کے ساتھ انتظامی سطح پر بھی واضح رہنما اصول وضع کیے جانے چاہئیں تاکہ کسی مقدمے میں ملوث شخص کے رشتہ داروں کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاسپورٹ، ملازمت، سرکاری اجازت ناموں اور دیگر شہری سہولیات کے معاملات میں فیصلہ متعلقہ فرد کی اپنی قانونی حیثیت اور کردار کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ محض خاندانی تعلق کی بنیاد پر۔
جموں و کشمیر نے انتظامی اور ادارہ جاتی سطح پر متعدد اصلاحات کا مشاہدہ کیا ہے، لیکن ان اصلاحات کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب عام شہری کو بروقت، قابلِ رسائی اور مؤثر انصاف بھی حاصل ہو۔ دس یا پندرہ سال تک کسی مقدمے کا زیرِ التوا رہنا نہ صرف عدالتی نظام کے لئے ایک چیلنج ہے بلکہ متاثرہ خاندانوں کے لئے ذہنی، معاشی اور سماجی بوجھ بھی بن جاتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ زیرِ التوا مقدمات کے لئے ایک جامع، شفاف اور وقت مقررہ حکمتِ عملی مرتب کرے، قدیم ترین مقدمات کی الگ فہرست تیار کی جائے، ان کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی ہو اور جہاں ضروری ہو وہاں اضافی عدالتی وسائل فراہم کیے جائیں۔
لاکھوں مقدمات فیصلوں کے منتظر
لاکھوں مقدمات فیصلوں کے منتظر
جموں و کشمیر کی ضلعی اور ماتحت عدالتوں میں 3 لاکھ 65 ہزار 645 مقدمات کا زیر التوا ہونا محض ایک عدد نہیں بلکہ انصاف کی فراہمی، انتظامی کارکردگی اور عام شہری کی زندگی سے جڑا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ مرکزی وزارتِ قانون و انصاف نے لوک سبھا کو بتایا ہے کہ ان مقدمات میں 63 ہزار 876 مقدمات پانچ سال سے زائد عرصے سے زیرِ التوا ہیں، جبکہ 20 ہزار 767 مقدمات کو دس سال سے بھی زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس امر کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ عدالتی نظام پر مقدمات کا بوجھ کس حد تک بڑھ چکا ہے۔
کسی مقدمے کا برسوں تک زیرِ التوا رہنا صرف فریقین کے لئے قانونی پریشانی کا باعث نہیں بنتا بلکہ بعض اوقات اس کے اثرات ان افراد تک بھی پہنچ جاتے ہیں جن کا اس مقدمے سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بالخصوص کسی ملزم یا مقدمے میں ملوث شخص کے رشتہ دار بھی بعض انتظامی معاملات میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کسی بے گناہ شہری کو پاسپورٹ بنوانا ہو، سرکاری ملازمت حاصل کرنی ہو یا کسی قسم کی کلیئرنس درکار ہو تو محض اس بنیاد پر رکاوٹ پیدا ہونا کہ اس کے کسی رشتہ دار کے خلاف مقدمہ زیرِ التوا ہے، انصاف کے بنیادی اصولوں کے منافی محسوس ہوتا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی شخص کو محض رشتہ داری کی بنیاد پر کسی دوسرے فرد کے مقدمے کی سزا یا اس کے مضمرات کا سامنا کرنا چاہیے؟ قانون کا بنیادی اصول فرد کی اپنی ذمہ داری اور قانونی حیثیت ہے۔ کسی شخص کے خلاف مقدمہ زیرِ التوا ہونا اس کے رشتہ داروں کو خود بخود مشتبہ یا قصوروار نہیں بنا دیتا۔ لہٰذا انتظامی اداروں کو بھی ہر فرد کی قانونی حیثیت کو الگ سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
تاہم مقدمات کے جلد فیصلے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ انصاف کے تقاضوں یا ملزم کے قانونی حقوق کو نظرانداز کیا جائے۔ ہر شخص کو منصفانہ سماعت کا حق حاصل ہے اور ہر متاثرہ فریق کو انصاف ملنا چاہیے۔ اصل ضرورت منصفانہ اور تیز رفتار انصاف کے درمیان توازن قائم کرنے کی ہے۔
اسی کے ساتھ انتظامی سطح پر بھی واضح رہنما اصول وضع کیے جانے چاہئیں تاکہ کسی مقدمے میں ملوث شخص کے رشتہ داروں کو بلاوجہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ پاسپورٹ، ملازمت، سرکاری اجازت ناموں اور دیگر شہری سہولیات کے معاملات میں فیصلہ متعلقہ فرد کی اپنی قانونی حیثیت اور کردار کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ محض خاندانی تعلق کی بنیاد پر۔
جموں و کشمیر نے انتظامی اور ادارہ جاتی سطح پر متعدد اصلاحات کا مشاہدہ کیا ہے، لیکن ان اصلاحات کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب عام شہری کو بروقت، قابلِ رسائی اور مؤثر انصاف بھی حاصل ہو۔ دس یا پندرہ سال تک کسی مقدمے کا زیرِ التوا رہنا نہ صرف عدالتی نظام کے لئے ایک چیلنج ہے بلکہ متاثرہ خاندانوں کے لئے ذہنی، معاشی اور سماجی بوجھ بھی بن جاتا ہے۔
حکومت کو چاہیے کہ زیرِ التوا مقدمات کے لئے ایک جامع، شفاف اور وقت مقررہ حکمتِ عملی مرتب کرے، قدیم ترین مقدمات کی الگ فہرست تیار کی جائے، ان کی پیش رفت کی مسلسل نگرانی ہو اور جہاں ضروری ہو وہاں اضافی عدالتی وسائل فراہم کیے جائیں۔


