سرینگر، 06اگست 2026/ جموں و کشمیر اور لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے برف پوش علاقوں میں مردم شماری 2027 کے آبادی کی مردم شماری (مرحلہ دوم) کے لئے منعقدہ تین روزہ ماسٹر ٹرینرز تربیتی پروگرام آج اختتام پذیر ہو گیا، جس کے ساتھ ہی ستمبر 2026 میں شروع ہونے والی آبادی کی مردم شماری سے قبل فیلڈ سطح کی تیاریوں کا اگلا مرحلہ شروع ہو گیا ہے۔
یہ تربیتی پروگرام ڈائریکٹوریٹ آف سینسس آپریشنز، جموں و کشمیر و لداخ کی جانب سے 4 سے 6 اگست تک جناب امت شرما، آئی اے ایس، ڈائریکٹر آف سینسس آپریشنز، جموں و کشمیر و لداخ کی رہنمائی میں منعقد کیا گیا۔
اس پروگرام میں جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کے سولہ اضلاع، یعنی اننت ناگ، بانڈی پورہ، بارہمولہ، ڈوڈہ، گاندربل، کٹھوعہ، کشتواڑ، کولگام، کپواڑہ، پونچھ، پلوامہ، راجوری، رام بن، ریاسی، شوپیاں اور ادھم پور کے علاوہ مرکز کے زیر انتظام لداخ کے دو اضلاع لیہہ اور کرگل سے ماسٹر ٹرینرز نے شرکت کی۔ یہ ماسٹر ٹرینرز اب ضلعی سطح پر فیلڈ ٹرینرز کو تربیت فراہم کریں گے، جو بعد ازاں نامزد برف پوش علاقوں میں آبادی کی مردم شماری کے لئے شمار کنندگان (Enumerators) اور سپروائزروں کو تربیت دیں گے۔
شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے جناب امت شرما نے کہا کہ ماسٹر ٹرینرز مردم شماری کے تربیتی نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور آئندہ آبادی کی مردم شماری کے عمل میں یکسانیت، درستگی اور معیار کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام اضلاع میں تربیت کے یکساں معیارات برقرار رکھے جائیں تاکہ بھارت کی پہلی مکمل طور پر ڈیجیٹل مردم شماری کے لئے ہر شمار کنندہ اور سپروائزر مکمل طور پر تیار ہو۔
تربیت جناب ارون کمار، جوائنٹ چیف پرنسپل سینسس آفیسر اور نیشنل ٹرینر، اور جناب جتیندر کمار، اسسٹنٹ چیف پرنسپل سینسس آفیسر اور ماسٹر ٹرینر نے فراہم کی۔ تربیتی سیشنوں میں لیکچرز، عملی مظاہرے، مشقیں، کوئز، رول پلے اور باہمی تبادلہ خیال شامل تھے۔
پروگرام کے دوران آپریشنل ٹائم لائنز، مردم شماری کے بنیادی تصورات اور تعریفیں، آبادی سے متعلق معلومات، مذہب اور ذات، خاندانی ساخت، معذوری، زبان، تعلیم اور خواندگی، معاشی سرگرمیاں، ہجرت، شرحِ افزائش، بے گھر آبادی کی گنتی، ریویڑنل راؤنڈ، پاپولیشن اینومریشن موبائل ایپلیکیشن کا استعمال، سیلف اینومریشن (خود اندراج)، انٹرویو لینے کی تکنیک اور ڈیجیٹل طریقے سے اعداد و شمار جمع کرنے کی عملی تربیت فراہم کی گئی۔


