ایک طرف عمان اور ایران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں کہ خلیج میں حالات معمول پر آ جائیں گے۔ آبنائے ہرمز تنازع کو لے کر بات چیت کے درمیان متحدہ عرب امارات کا شہر دبئی ایک بار پھر نشانے پر آ گیا۔ یہاں بدھ کی صبح سویرے اس وقت افراتفری مچ گئی، جب جبل علی (Jebel Ali) انڈسٹریل ایریا میں مسلسل کئی زوردار دھماکے ہوئے۔ سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی ویڈیوز میں آسمان کی طرف دھوئیں کے بڑے بڑے بادل اٹھتے ہوئے دکھائی دیے، جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق اماراتی حکام نے دعویٰ کیا کہ تقریباً 20 منٹ کے اندر کم از کم 7 دھماکے ہوئے۔ تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ان دھماکوں کی وجہ کیا تھی، نہ ہی اس کا ابھی تک سرکاری طور پر انکشاف کیا گیا ہے۔ دھماکے جبل علی بندرگاہ اور اس کے اطراف کے صنعتی علاقے میں ہوئے، جو یو اے ای کی ایک اہم بندرگاہ اور ایندھن کی تقسیم کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے لاجسٹکس ہب بھی کہا جاتا ہے۔ خوش قسمتی سے اب تک کسی کے زخمی ہونے یا بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
کچھ مقامی میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ یمن کے حوثی باغیوں نے ممکنہ طور پر جبل علی صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا ہو۔ تاہم اب تک نہ تو متحدہ عرب امارات کی حکومت اور نہ ہی حوثی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث پورا خلیجی خطہ ہائی الرٹ پر ہے۔ یہی نہیں، عمان اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کے حوالے سے مذاکرات جاری ہیں اور وہ اپنے آخری مرحلے میں ہیں


