ملک میں رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری ایک اہم قانونی پیش رفت ہے، جس کا مقصد پیدائش اور اموات کے اندراج کے نظام کو زیادہ شفاف، معتبر اور جعلسازی سے پاک بنانا ہے۔ اس ترمیم کے تحت اگر پیدائش یا وفات کا اندراج دو سال سے زیادہ تاخیر سے کیا جائے تو اس کی منظوری اب ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے بجائے جوڈیشل مجسٹریٹ دے گا۔ بظاہر یہ قدم جعلی دستاویزات کی روک تھام اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لئے اٹھایا گیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف منظوری دینے والے افسر کو تبدیل کر دینے سے مسئلہ واقعی حل ہو جائے گا یا اس سے عام شہریوں کے لئے نئی مشکلات پیدا ہوں گی؟
2023 کی ترمیم کے بعد پیدائش کا سرٹیفکیٹ محض ایک سرکاری ریکارڈ نہیں رہا بلکہ تعلیم، پاسپورٹ، آدھار، ووٹر لسٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور سرکاری ملازمت سمیت متعدد شعبوں میں بنیادی شناختی دستاویز کی حیثیت اختیار کر گیا۔ جب کسی ایک دستاویز کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے تو اس کے غلط استعمال کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر حکومت نے 2026 کی ترمیم میں عدالتی نگرانی کو شامل کیا ہے تاکہ حساس معاملات میں انتظامیہ پر جانبداری یا من مانی کے الزامات نہ لگ سکیں۔ اصولی طور پر یہ سوچ قابلِ فہم ہے، لیکن قانون سازی مضبوط شواہد اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ دو سال کی حد کیوں مقرر کی گئی؟ حکومت نے اب تک کوئی ایسا مستند اعداد و شمار پیش نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ دو سال سے زیادہ تاخیر سے ہونے والے اندراجات میں جعلسازی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اگر مسئلہ ثبوتوں کی کمزوری یا ناقص جانچ کا تھا تو زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ دستاویزات کی جانچ کے معیار کو سخت بنایا جاتا یا جدید ڈیجیٹل طریقۂ کار اپنایا جاتا۔ افسوس کہ ترمیم میں ثبوتوں کے معیار کو جوں کا توں رکھا گیا اور صرف منظوری کا اختیار بدل دیا گیا۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتنے اہم قانون پر پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث ہی نہ ہو سکی۔ اپوزیشن کے احتجاج کے دوران بل منظور کر لیا گیا، حالانکہ شناختی دستاویزات سے متعلق قوانین لاکھوں شہریوں کے حقوق اور مستقبل سے براہِ راست جڑے ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات میں پارلیمانی بحث جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر تاخیر بدنیتی کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ دور دراز دیہات، پہاڑی علاقوں اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں میں بچوں کی پیدائش کا اندراج اکثر برسوں بعد ہو پاتا ہے۔ بے شمار مزدور، مہاجر اور محروم طبقے اس وقت پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جب بچوں کو اسکول میں داخلہ دلانا ہو، ملازمت درکار ہو یا سرکاری سہولتوں سے فائدہ اٹھانا ہو۔ ایسے افراد جعلساز نہیں بلکہ وہ شہری ہیں جو نظام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
بہتر راستہ یہ ہے کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی، مضبوط مقامی تصدیقی نظام، ڈیجیٹل ریکارڈ، واضح ثبوتی معیار اور مؤثر اپیل کے طریقۂ کار کو فروغ دے۔ پالیسی کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اصلی شہری کے لئے اندراج آسان ہو اور جعلساز کے لئے ناممکن۔
شناخت کی حفاظت لازمی۔۔مگر؟
شناخت کی حفاظت لازمی۔۔مگر؟
ملک میں رجسٹریشن آف برتھس اینڈ ڈیتھس (ترمیمی) بل 2026 کی منظوری ایک اہم قانونی پیش رفت ہے، جس کا مقصد پیدائش اور اموات کے اندراج کے نظام کو زیادہ شفاف، معتبر اور جعلسازی سے پاک بنانا ہے۔ اس ترمیم کے تحت اگر پیدائش یا وفات کا اندراج دو سال سے زیادہ تاخیر سے کیا جائے تو اس کی منظوری اب ایگزیکٹو مجسٹریٹ کے بجائے جوڈیشل مجسٹریٹ دے گا۔ بظاہر یہ قدم جعلی دستاویزات کی روک تھام اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لئے اٹھایا گیا ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف منظوری دینے والے افسر کو تبدیل کر دینے سے مسئلہ واقعی حل ہو جائے گا یا اس سے عام شہریوں کے لئے نئی مشکلات پیدا ہوں گی؟
2023 کی ترمیم کے بعد پیدائش کا سرٹیفکیٹ محض ایک سرکاری ریکارڈ نہیں رہا بلکہ تعلیم، پاسپورٹ، آدھار، ووٹر لسٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور سرکاری ملازمت سمیت متعدد شعبوں میں بنیادی شناختی دستاویز کی حیثیت اختیار کر گیا۔ جب کسی ایک دستاویز کو اتنی اہمیت دی جاتی ہے تو اس کے غلط استعمال کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اسی بنیاد پر حکومت نے 2026 کی ترمیم میں عدالتی نگرانی کو شامل کیا ہے تاکہ حساس معاملات میں انتظامیہ پر جانبداری یا من مانی کے الزامات نہ لگ سکیں۔ اصولی طور پر یہ سوچ قابلِ فہم ہے، لیکن قانون سازی مضبوط شواہد اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
سب سے اہم سوال یہ ہے کہ دو سال کی حد کیوں مقرر کی گئی؟ حکومت نے اب تک کوئی ایسا مستند اعداد و شمار پیش نہیں کیا جس سے ثابت ہو کہ دو سال سے زیادہ تاخیر سے ہونے والے اندراجات میں جعلسازی کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اگر مسئلہ ثبوتوں کی کمزوری یا ناقص جانچ کا تھا تو زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ دستاویزات کی جانچ کے معیار کو سخت بنایا جاتا یا جدید ڈیجیٹل طریقۂ کار اپنایا جاتا۔ افسوس کہ ترمیم میں ثبوتوں کے معیار کو جوں کا توں رکھا گیا اور صرف منظوری کا اختیار بدل دیا گیا۔اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ اتنے اہم قانون پر پارلیمنٹ میں سنجیدہ بحث ہی نہ ہو سکی۔ اپوزیشن کے احتجاج کے دوران بل منظور کر لیا گیا، حالانکہ شناختی دستاویزات سے متعلق قوانین لاکھوں شہریوں کے حقوق اور مستقبل سے براہِ راست جڑے ہوتے ہیں۔ ایسے معاملات میں پارلیمانی بحث جمہوریت کا بنیادی تقاضا ہے۔
حقیقت یہ بھی ہے کہ ہر تاخیر بدنیتی کا نتیجہ نہیں ہوتی۔ دور دراز دیہات، پہاڑی علاقوں اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں میں بچوں کی پیدائش کا اندراج اکثر برسوں بعد ہو پاتا ہے۔ بے شمار مزدور، مہاجر اور محروم طبقے اس وقت پیدائش کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں جب بچوں کو اسکول میں داخلہ دلانا ہو، ملازمت درکار ہو یا سرکاری سہولتوں سے فائدہ اٹھانا ہو۔ ایسے افراد جعلساز نہیں بلکہ وہ شہری ہیں جو نظام تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔
بہتر راستہ یہ ہے کہ حکومت جدید ٹیکنالوجی، مضبوط مقامی تصدیقی نظام، ڈیجیٹل ریکارڈ، واضح ثبوتی معیار اور مؤثر اپیل کے طریقۂ کار کو فروغ دے۔ پالیسی کا مقصد یہ ہونا چاہیے کہ اصلی شہری کے لئے اندراج آسان ہو اور جعلساز کے لئے ناممکن۔


