
فاضل شفیع بٹ
اکنگام، انت ناگ
"یار شیدے! میرا سارا کاروبار چوپٹ ہو گیا ہے۔ سوچا تھا اس بار سیب کے کاروبار میں اچھا خاصا منافع ہوگا لیکن کارگاہِ الٰہی کے فیصلوں سے بھلا ایک انسان کیسے آشنا ہو سکتا ہے؟ تھوڑی بہت بارش کیا ہوئی، ہائی وے بند ہوا اور میری امید گویا ہائی وے پر آئے ریلے کے ساتھ بہہ گئی۔”
"کرمے! ایک دروازہ بند کیا ہوا، تم زندگی سے ہی خفا ہو بیٹھے؟ تمہاری مسکراہٹ ایک دم سے ماند پڑ گئی۔ زندگی نشیب و فراز کی ایک نہ سلجھنے والی گتھی ہے۔ تمہارے یار شیدے کے جسم میں ابھی جان باقی ہے۔ اس بار تمہیں ایک ایسے کاروبار سے آگاہ کروں گا جس میں منافع ہی منافع ہے۔ یہ بتا، تیرے پاس کتنے روپے موجود ہیں، کرمے؟”
"میرے پاس ساٹھ ستر ہزار روپے موجود ہوں گے۔”
"بہت ہیں۔ کرمے، میری بات غور سے سن لے۔ ابھی چند ماہ بعد امرناتھ یاترا شروع ہونے والی ہے۔ ہندوستان کے کونے کونے سے لوگ اس یاترا میں شامل ہوتے ہیں اور اس یاترا کی کامیابی میں گھوڑوں کا ایک اہم اور نمایاں کردار ہوتا ہے۔ کرمے! تو دو گھوڑے خرید لے اور اگر اس بار بھی تم نے ترقی نہ کی تو میرا نام بدل دینا۔ اور ہاں، ایک بات کا دھیان رکھنا، گھوڑوں کا بیمہ ضرور کرا لینا!”
کرم الدین کے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
چند دن بعد کرم الدین نے ساٹھ ہزار روپے کے عوض دو اچھے بھلے گھوڑے خرید لیے۔ گھوڑے خریدنے کے بعد کرم الدین نے سیدھے ایک بیمہ کمپنی کا رخ کیا۔ کمپنی کے آفس میں ایک ٹوٹی پھوٹی کرسی پر کمپنی کا ملازم براجمان تھا۔ کرم الدین نے سلام عرض کیا اور کہا:
"جناب! مجھے گھوڑوں کی بیمہ پالیسی کرانی مطلوب تھی۔”
ملازم نے سلام کا جواب دیا اور گویا ہوا:
"جی آپ تشریف رکھیے۔ دیکھیے، ہماری کمپنی گھوڑوں کا بیمہ کرتی ہے۔ اس پالیسی کے تحت آپ کو ہر گھوڑے کے عوض دس ہزار کی رقم جمع کرنی ہوگی اور اس کے بدلے گھوڑوں کی بیماری سے لے کر ان کی موت تک کی تمام ذمہ داری کمپنی کی ہوگی۔”
کرم الدین نے بیس ہزار کی رقم ملازم کے ہاتھوں میں تھما دی اور پالیسی کے کاغذات لے کر گھر کی طرف روانہ ہوا۔
جولائی کے مہینے میں ہی کرم الدین نے گھوڑوں کے ہمراہ پہلگام کا رخ کیا۔ اب کرم الدین پہلگام سے پنجترنی تک گھوڑوں پر سامان لادنے کا کام کرتا۔ وہ نہایت کم وقت میں گھوڑوں پر زیادہ سے زیادہ بوجھ ڈالنے کا ہنر سیکھ گیا۔ گھوڑے بوجھ تلے دب جاتے اور دھیرے دھیرے پسو ٹاپ، شیش ناگ، اور پوش پتھری کی اونچی اونچی ڈھلانوں پر اپنے آخری پڑاؤ پنجترنی کی جانب چپ چاپ اپنے ٹاپوں کو حرکت دیتے۔ کرم الدین ان کو پیچھے سے ہانکتا رہتا۔ گھوڑے سستانے لگتے تو وہ بڑی بے رحمی کے ساتھ ان کو مارتا پیٹتا۔ کرم الدین اتنا نالائق انسان تھا کہ گھوڑوں کے لیے چارہ وغیرہ خریدتا نہ تھا بلکہ پوش پتھری لنگر کے پاس مفت چارہ پانی سے گھوڑوں کو شکم سیر کراتا۔ پوش پتھری تک پہنچتے پہنچتے گھوڑوں کی حالت غیر ہو جاتی اور گھوڑوں کو چارہ پانی کے لیے لمبے وقت تک انتظار کرنا پڑتا۔
پنجترنی کی وادی گھوڑوں کے لیے جنت سے کم نہ تھی۔ یہی ایک آخری پڑاؤ تھا جہاں گھوڑے ساری رات دھند میں لپٹی وادی میں سستاتے رہتے اور ایک دوسرے سے اپنا غم بیان کرتے۔ وہ اپنی قسمت پر پشیمان تھے۔ وہ آپس میں شاید سرگوشی کر رہے تھے:
"خدا نے اس جہاں میں ہمیں گھوڑے بنا کر کیوں بھیجا؟ کیا واقعی ایک انسان اتنا ظالم اور بے رحم ہو سکتا ہے؟ ہماری پیٹھ پر اتنا سارا بوجھ ڈال کر ہمیں اونچی اونچی ڈھلانوں پر چڑھنا پڑتا ہے۔ ہماری آنکھوں میں بھی آنسو آتے ہیں جو شاید کرم الدین دیکھنے سے قاصر ہے۔ ہم بھی تھک جاتے ہیں، ہم بھی تھوڑی دیر کے لیے آرام کرنا چاہتے ہیں لیکن کرم الدین زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے چکر میں ہمارے ساتھ اتنا ظلم کر رہا ہے۔ ہمارا جسم بھی اونچی اونچی ڈھلانوں پر چڑھنے سے چور چور ہو جاتا ہے۔ ہم بھی بیمار ہوتے ہیں، لیکن ہم ٹھہرے بے زبان۔ کاش ہمارے منہ میں بھی زبان ہوتی، ہم انسانوں کے سامنے اپنے درد و کرب کی داستانیں سناتے۔ ہم یاتریوں کو ان کے سامان سمیت اپنی پیٹھ پر لاد کر ان کی یاترا کراتے ہیں اور اس سفر کے پیچھے ہماری تکلیف چھپی ہوئی ہے۔ کیا یاتری کرم الدین کو سمجھا نہیں سکتے؟ ہمارے ساتھ ازل سے چلتا ہوا یہ ظالمانہ رویہ کسی کی آنکھوں کو دکھتا کیوں نہیں؟ کیا یہاں سب اندھے ہیں؟ بے رحم ہیں۔۔۔؟
پنجترنی کی یہ وادی، یہ ہمارا آخری پڑاؤ، جہاں ہم رات بھر آرام کرتے ہیں، اپنی مرضی سے اس بیابان میں سستاتے ہیں اور صبح دودھیا روشنی پھیلتے ہی کرم الدین ہماری پیٹھ پر ڈھیر سارا سامان باندھ دیتا ہے اور پھر وہی تھکان، پھر وہی ظلم، پھر وہی ڈھلان، پھر وہی پہلگام۔۔۔”
کرم الدین اپنے دوست شیدے کو دعائیں دے رہا تھا۔ واقعی اس نئے کاروبار میں کرم الدین کو بہت منافع ہوا تھا۔ وہ ابھی تک ایک لاکھ سے زائد کما چکا تھا اور یاترا کے ابھی دس دن باقی تھے۔ کرم الدین کی نظر میں دونوں گھوڑے مکار اور کام چور تھے۔ وہ ان سے نہایت سختی سے پیش آتا اور دونوں گھوڑے چپ چاپ کرم الدین کے ہر حکم کی پیروی کرتے۔ بالآخر یاترا مکمل ہوئی۔
کرم الدین پنجترنی سے خالی گھوڑے لے کر پہلگام کی جانب روانہ ہوا۔ وہ اپنی کمائی کا حساب لگا رہا تھا۔ حساب لگاتے لگاتے وہ پسو ٹاپ کی چڑھائی پر آن پہنچا۔ وہ اتنے پیسے کما چکا تھا کہ گھر کا خرچہ چلانے کے ساتھ ساتھ وہ مزید دو گھوڑے خرید سکتا تھا۔ کرم الدین کے ذہن کو اچانک سے ایک جھٹکا سا لگا، اس کو گھوڑوں کی بیمہ پالیسی کا خیال آیا۔ اس کے من میں لڈو پھوٹنے لگے۔ شاید اب یہ گھوڑے اس کے کسی کام کے نہ تھے۔ اس کے ہونٹوں پر ایک شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
کرم الدین نے نہایت چالاکی سے دونوں گھوڑوں کو پسو ٹاپ کی اونچائی سے نیچے گہری کھائی میں دھکیل دیا۔گھوڑے چند لمحے ہوا میں تیرتے رہے، پھر دل خراش آوازیں پہاڑوں سے ٹکرائی اور خاموشی وادی پر اتر آئی۔ کرم الدین نے پل بھر کے لیے کھائی میں جھانکا، پھر جیب سے بیمہ پالیسی نکالی، اسے سیدھا کیا اور تیز قدموں سے پہلگام کی طرف چل پڑا۔


