ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز

سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کُلگام میں دو غیر مقامی مزدوروں کے قتل پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب بھی جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑتا ہے، ایسے حملے کیوں پیش آتے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ واقعہ کی حقیقت ابھی سامنے نہیں آئی ہے، اس لئے کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل ایماندارانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نہیں جانتے کہ ان مزدوروں کو کس نے اور کیوں قتل کیا۔ سچائی سامنے لانے کے لئے شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔‘‘
فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس واقعہ کے وقت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ ذمہ داروں کی نشاندہی کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تحقیقات اس انداز میں کی جائیں جس سے عوام کا اعتماد بحال ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

تازہ ترین خبریں

مسکراہٹوں اور مایوسیوں کے بیچ جموں کشمیر کابینہ کی قوت میں اضافہ

لیفٹیننٹ گورنر نے چار نئے وزرا کو عہدے اور...

سفارت کاری ہی واحد راستہ

مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی حملوں...

اردن کا شام پر حملہ

عمان، اردن: اردنی فضائیہ نے ایک بیان میں اعلان...

پولیس نے سرینگر کے خانِ یار میں 45 لاکھ روپے کی چوری کا کیس حل کر لیا

سرینگر، 27 اکتوبر پولیس نے منگل کے روز دعویٰ کیا...

کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو مشک بجی چاول کے تحفظ پر اعزاز

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری کسان ظفر احمد بٹ کو نئی دہلی...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز

سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کُلگام میں دو غیر مقامی مزدوروں کے قتل پر گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ جب بھی جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ زور پکڑتا ہے، ایسے حملے کیوں پیش آتے ہیں۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ واقعہ کی حقیقت ابھی سامنے نہیں آئی ہے، اس لئے کسی نتیجے پر پہنچنے سے قبل ایماندارانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’ہم نہیں جانتے کہ ان مزدوروں کو کس نے اور کیوں قتل کیا۔ سچائی سامنے لانے کے لئے شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔‘‘
فاروق عبداللہ نے کہا کہ اس واقعہ کے وقت نے کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں، اس لئے ضروری ہے کہ ذمہ داروں کی نشاندہی کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ تحقیقات اس انداز میں کی جائیں جس سے عوام کا اعتماد بحال ہو۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں