
محمد ایوب
ترال بالا
میں تھکا ہارا کہاں جاؤں
میں درد کا مارا کہاں جاؤں
نہ کوئی منزل، نہ ٹھکانا
بے سمت آوارہ کہاں جاؤں
ٹوٹا ہے سفینہ موجوں میں
ملتا نہیں کنارا، کہاں جاؤں
تھا جس کی آس پہ سفر جاری
چھوٹا سہارا، کہاں جاؤں
ہر در پہ ملا مجھ کو انکار ہی انکار
لے کر دلِ شکستہ، دوبارا، کہاں جاؤں
کوئی تو بتائے مجھے، ایوبؔ!
شہرِ آشوب میں، خدارا، کہاں جاؤں


