غزل

 

محمد ایوب
ترال بالا

میں تھکا ہارا کہاں جاؤں
میں درد کا مارا کہاں جاؤں
نہ کوئی منزل، نہ ٹھکانا
بے سمت آوارہ کہاں جاؤں
ٹوٹا ہے سفینہ موجوں میں
ملتا نہیں کنارا، کہاں جاؤں
تھا جس کی آس پہ سفر جاری
چھوٹا سہارا، کہاں جاؤں
ہر در پہ ملا مجھ کو انکار ہی انکار
لے کر دلِ شکستہ، دوبارا، کہاں جاؤں
کوئی تو بتائے مجھے، ایوبؔ!
شہرِ آشوب میں، خدارا، کہاں جاؤں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  جاوید قسیم بزم میں جب وہ مل جاتے ہیں سب کے چہرے...

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  جاوید قسیم بزم میں جب وہ مل جاتے ہیں سب کے چہرے...

غزل

 

محمد ایوب
ترال بالا

میں تھکا ہارا کہاں جاؤں
میں درد کا مارا کہاں جاؤں
نہ کوئی منزل، نہ ٹھکانا
بے سمت آوارہ کہاں جاؤں
ٹوٹا ہے سفینہ موجوں میں
ملتا نہیں کنارا، کہاں جاؤں
تھا جس کی آس پہ سفر جاری
چھوٹا سہارا، کہاں جاؤں
ہر در پہ ملا مجھ کو انکار ہی انکار
لے کر دلِ شکستہ، دوبارا، کہاں جاؤں
کوئی تو بتائے مجھے، ایوبؔ!
شہرِ آشوب میں، خدارا، کہاں جاؤں

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون