
جاوید قسیم
بزم میں جب وہ مل جاتے ہیں
سب کے چہرے کھل جاتے ہیں
ظلم جو ہوتا ہے ہم پر تو
ہونٹھ تمھارے سل جاتے ہیں
دیکھ کے اُن کے ظلم و سِتم کو
پتھر دل بھی ہل جاتے ہیں
میں جی بھر کے سو پاتا ہوں
نیند کے جب قاتل جاتے ہیں
شہ راہوں سے ان کی سواری
گلیوں سے بسمل جاتے ہیں
جن کو گھر میں ہی رہنا تھا
وہ محفل محفل جاتے ہیں
خوابوں میں کھو جانے والے
دن میں اکثر مل جاتے ہیں
تیری گلی میں آنے والے
واپس بامشکل جاتے ہیں


