
قاضی توفیق عمر
قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی کتاب اور پوری انسانیت کے لئے مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ یہ محض تلاوت، ثواب یا برکت حاصل کرنے کی کتاب نہیں بلکہ انسان کی انفرادی، خاندانی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ جب مسلمانوں نے قرآن کو اپنی زندگی کا دستور بنایا تو دنیا کی امامت اور قیادت انہی کے حصے میں آئی، لیکن جب اس سے عملی تعلق کمزور ہوا تو امت زوال، انتشار اور غلامی کا شکار ہوگئی۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"بے شک یہ قرآن اس راستے کی رہنمائی کرتا ہے جو سب سے زیادہ سیدھا اور مضبوط ہے۔”
یہ اعلان اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسان کی حقیقی کامیابی کسی مادی طاقت، دولت یا اقتدار میں نہیں بلکہ قرآن کی ہدایت پر عمل کرنے میں ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن لوگوں نے قرآن کو اپنا رہنما بنایا، اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت، وقار اور سربلندی عطا فرمائی۔
آج اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہماری اکثریت قرآن سے صرف رسمی تعلق رکھتی ہے۔ گھروں میں قرآن موجود ہے، اس کی تلاوت بھی ہوتی ہے، مگر اس کے احکام، اخلاق اور تعلیمات ہماری عملی زندگی میں نمایاں نظر نہیں آتیں۔ یہی وجہ ہے کہ جھوٹ، خیانت، سود، رشوت، ظلم، ناانصافی، فرقہ واریت اور اخلاقی پستی ہمارے معاشرے میں عام ہوتی جا رہی ہے۔ اگر قرآن کی تعلیمات کو ہماری زندگی میں عملی مقام حاصل ہو جائے تو یہی معاشرہ امن، عدل اور اخوت کا نمونہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو۔”
آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ قرآن کی بنیاد پر اتحاد، اخلاص اور باہمی اعتماد ہے۔ افسوس کہ ہم نے اپنے اختلافات کو بڑھایا اور قرآن کی اس عظیم تعلیم کو پسِ پشت ڈال دیا جس نے کبھی بکھرے ہوئے قبائل کو ایک امت بنا دیا تھا۔
رسول اللہ ﷺ نے امت کو یہ عظیم رہنمائی عطا فرمائی:
"میں تمہارے درمیان دو ایسی چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، جب تک تم انہیں مضبوطی سے تھامے رکھو گے، ہرگز گمراہ نہیں ہوگے: اللہ کی کتاب اور میری سنت۔”
یہ حدیث اس بات کا واضح اعلان ہے کہ دنیا و آخرت کی کامیابی قرآن و سنت سے وابستگی میں ہے۔ جس قوم نے ان دونوں کو چھوڑ دیا، وہ فکری انتشار، اخلاقی کمزوری اور باہمی اختلافات میں مبتلا ہو گئی۔
ایک اور حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو قرآن سیکھے اور دوسروں کو سکھائے۔”
یہ صرف حفاظ اور علماء کے لئے نہیں بلکہ پوری امت کے لئے پیغام ہے کہ ہر مسلمان قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کرے، اس کے مفاہیم کو سمجھے، اپنی اولاد کو اس کی تعلیم دے اور اس کی روشنی میں اپنی زندگی کو سنوارے۔
آج ہماری نئی نسل بے شمار فکری اور اخلاقی چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ اگر اسے قرآن کی تعلیمات سے وابستہ نہ کیا گیا تو وہ مادہ پرستی، بے راہ روی اور اخلاقی بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔ والدین، اساتذہ، علماء اور دینی اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کے دلوں میں قرآن کی محبت، اس کے فہم اور اس پر عمل کا جذبہ پیدا کریں۔
قرآن صرف عبادات کی کتاب نہیں بلکہ عدل، مساوات، دیانت، رحم، حسنِ اخلاق، حقوق العباد، معاشی انصاف اور اجتماعی فلاح کا بھی جامع دستور ہے۔ اگر مسلمان ان تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ کر دیں تو ان کے بہت سے مسائل خود بخود حل ہو سکتے ہیں۔
آج وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہی ہے کہ ہم قرآن کو محض تلاوت تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے اپنی زندگی کا عملی دستور بنائیں۔ جب ہمارے فیصلے، ہمارے معاملات، ہماری معیشت، ہماری سیاست اور ہمارا اخلاق قرآن کے مطابق ہوگا تو اللہ تعالیٰ کی نصرت بھی ہمارے شاملِ حال ہوگی اور کھوئی ہوئی عزت و عظمت دوبارہ حاصل ہو سکے گی۔


