سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا مبینہ بیان "کشمیر میں پیلٹ کا استعمال بنتا ہے” وادی بھر میں زیر بحث

جنگ نیوز

سرینگر/جموں و کشمیر کی سیاست پیر کے روز اس وقت شدید گرما گئی جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے نئی دہلی کے جنتر منتر میں دیے گئے متنازع بیان پر بیک وقت سخت حملہ کرتے ہوئے ان سے عوامِ کشمیر سے غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ دونوں جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ محبوبہ مفتی نے کشمیریوں کی عزت، وقار اور احساسات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی جنتر منتر کشمیر یا جموں کے لیے نہیں گئی تھیں بلکہ وہ خود ہی بہتر بتا سکتی ہیں کہ ان کے وہاں جانے کا مقصد کیا تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کس بنیاد پر کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور دیگر کارروائیوں کو صرف اس لیے درست قرار دیا جا سکتا ہے کہ یہاں عسکریت پسندی موجود ہے۔
انہوں نے کہا، "کیا عسکریت پسندی کا مطلب یہ ہے کہ نوجوانوں کو انصاف نہ ملے؟ ان کے پاسپورٹ روک دیے جائیں؟ آخر اس کی کیا توجیہ ہے؟”
وزیر اعلیٰ نے محبوبہ مفتی پر الزام عائد کیا کہ وہ "کشمیر میں ایک بات اور دہلی میں دوسری بات” کرنے کی عادی ہیں اور ایسے بیانات مخصوص حلقوں کو خوش کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جب محبوبہ مفتی کو احساس ہو گیا تھا کہ ان کے بیان کو عوام نے ناپسند کیا ہے تو انہیں فوراً معذرت کرنی چاہیے تھی، لیکن انہوں نے معافی مانگنے کے بجائے معاملے کو مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیو قرار دے کر "عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے” کا کام کیا۔
انہوں نے کہا، "پورے ملک کا میڈیا وہاں موجود تھا، نیوز چینلوں کے مائیک واضح نظر آ رہے ہیں، ایک نہیں بلکہ متعد د ویڈیوز موجود ہیں۔ ایسے میں اسے اے آئی ویڈیو قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ محبوبہ مفتی نے نہ 2015 میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد پر کبھی معذرت کی، نہ 2016 کے حالات پر اظہارِ افسوس کیا اور نہ ہی اپنے متنازع ‘دودھ ٹافی’ بیان پر کبھی رجوع کیا، بلکہ بارہا اس کا دفاع کرتی رہیں۔
پیپلز کانفرنس بھی میدان میں، معافی نہ مانگی تو سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی
دوسری جانب جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے سرینگر میں محبوبہ مفتی کے خلاف پُرامن احتجاج کرتے ہوئے ان سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا۔
پارٹی کے ریاستی سیکریٹری تنظیم شیخ محمد عمران نے کہا کہ پیپلز کانفرنس کشمیری عوام کی عزت، شناخت اور وقار کی توہین پر ہرگز خاموش نہیں رہے گی۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، "محبوبہ جی! کشمیری عوام سے معافی مانگیے۔ اگر آپ نے معافی نہیں مانگی تو آج ہم پارٹی دفتر کے اندر احتجاج کر رہے ہیں، کل سڑکوں پر ہوں گے۔”
شیخ محمد عمران نے پی ڈی پی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ محبوبہ مفتی خود کو کشمیریوں کی ہمدرد ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، حالانکہ ان کے دورِ حکومت میں وادی نے خونریزی، پیلٹ گن کے استعمال اور ہزاروں نوجوانوں کی تکالیف دیکھی ہیں۔
انہوں نے کہا، "آج دہلی میں محبوبہ مفتی کشمیریوں کو ملی ٹینٹ قرار دے رہی ہیں۔ جن نوجوانوں نے گولیاں اور پیلٹ جھیلے، انہیں آج ملی ٹینٹ کہنا ان کی قربانیوں کی توہین ہے۔”
محبوبہ مفتی کے بیان پر نیشنل کانفرنس اور پیپلز کانفرنس کی جانب سے یکے بعد دیگرے کیے گئے سخت حملوں نے جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نیا طوفان برپا کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ مختلف سیاسی حلقے مسلسل محبوبہ مفتی سے عوامی سطح پر معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا مبینہ بیان "کشمیر میں پیلٹ کا استعمال بنتا ہے” وادی بھر میں زیر بحث

جنگ نیوز

سرینگر/جموں و کشمیر کی سیاست پیر کے روز اس وقت شدید گرما گئی جب وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے نئی دہلی کے جنتر منتر میں دیے گئے متنازع بیان پر بیک وقت سخت حملہ کرتے ہوئے ان سے عوامِ کشمیر سے غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ دونوں جماعتوں نے الزام عائد کیا کہ محبوبہ مفتی نے کشمیریوں کی عزت، وقار اور احساسات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔
صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ مفتی جنتر منتر کشمیر یا جموں کے لیے نہیں گئی تھیں بلکہ وہ خود ہی بہتر بتا سکتی ہیں کہ ان کے وہاں جانے کا مقصد کیا تھا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کس بنیاد پر کشمیریوں کے خلاف طاقت کے استعمال، گرفتاریوں اور دیگر کارروائیوں کو صرف اس لیے درست قرار دیا جا سکتا ہے کہ یہاں عسکریت پسندی موجود ہے۔
انہوں نے کہا، "کیا عسکریت پسندی کا مطلب یہ ہے کہ نوجوانوں کو انصاف نہ ملے؟ ان کے پاسپورٹ روک دیے جائیں؟ آخر اس کی کیا توجیہ ہے؟”
وزیر اعلیٰ نے محبوبہ مفتی پر الزام عائد کیا کہ وہ "کشمیر میں ایک بات اور دہلی میں دوسری بات” کرنے کی عادی ہیں اور ایسے بیانات مخصوص حلقوں کو خوش کرنے کے لیے دیے جاتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جب محبوبہ مفتی کو احساس ہو گیا تھا کہ ان کے بیان کو عوام نے ناپسند کیا ہے تو انہیں فوراً معذرت کرنی چاہیے تھی، لیکن انہوں نے معافی مانگنے کے بجائے معاملے کو مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ ویڈیو قرار دے کر "عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے” کا کام کیا۔
انہوں نے کہا، "پورے ملک کا میڈیا وہاں موجود تھا، نیوز چینلوں کے مائیک واضح نظر آ رہے ہیں، ایک نہیں بلکہ متعد د ویڈیوز موجود ہیں۔ ایسے میں اسے اے آئی ویڈیو قرار دینا انتہائی افسوسناک ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ محبوبہ مفتی نے نہ 2015 میں بی جے پی کے ساتھ اتحاد پر کبھی معذرت کی، نہ 2016 کے حالات پر اظہارِ افسوس کیا اور نہ ہی اپنے متنازع ‘دودھ ٹافی’ بیان پر کبھی رجوع کیا، بلکہ بارہا اس کا دفاع کرتی رہیں۔
پیپلز کانفرنس بھی میدان میں، معافی نہ مانگی تو سڑکوں پر احتجاج کی دھمکی
دوسری جانب جموں و کشمیر پیپلز کانفرنس نے سرینگر میں محبوبہ مفتی کے خلاف پُرامن احتجاج کرتے ہوئے ان سے غیر مشروط معافی کا مطالبہ کیا۔
پارٹی کے ریاستی سیکریٹری تنظیم شیخ محمد عمران نے کہا کہ پیپلز کانفرنس کشمیری عوام کی عزت، شناخت اور وقار کی توہین پر ہرگز خاموش نہیں رہے گی۔
انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا، "محبوبہ جی! کشمیری عوام سے معافی مانگیے۔ اگر آپ نے معافی نہیں مانگی تو آج ہم پارٹی دفتر کے اندر احتجاج کر رہے ہیں، کل سڑکوں پر ہوں گے۔”
شیخ محمد عمران نے پی ڈی پی قیادت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ محبوبہ مفتی خود کو کشمیریوں کی ہمدرد ظاہر کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، حالانکہ ان کے دورِ حکومت میں وادی نے خونریزی، پیلٹ گن کے استعمال اور ہزاروں نوجوانوں کی تکالیف دیکھی ہیں۔
انہوں نے کہا، "آج دہلی میں محبوبہ مفتی کشمیریوں کو ملی ٹینٹ قرار دے رہی ہیں۔ جن نوجوانوں نے گولیاں اور پیلٹ جھیلے، انہیں آج ملی ٹینٹ کہنا ان کی قربانیوں کی توہین ہے۔”
محبوبہ مفتی کے بیان پر نیشنل کانفرنس اور پیپلز کانفرنس کی جانب سے یکے بعد دیگرے کیے گئے سخت حملوں نے جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک نیا طوفان برپا کر دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ تنازع آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتا ہے، کیونکہ مختلف سیاسی حلقے مسلسل محبوبہ مفتی سے عوامی سطح پر معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں