جنگ کا نیا محاذ اور امن کی ضرورت

یمن کی انصار اللہ (حوثیوں) کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحیرۂ احمر میں ناکہ بندی کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ ایران سے وابستہ تنازع ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ صنعاء ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جس سے عالمی تیل کی ترسیل اور خطے کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے اپنی برآمدات کا رخ بحیرۂ احمر کی جانب موڑ دیا تھا، مگر باب المندب پر حوثیوں کا اثر و رسوخ اس متبادل راستے کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ایسے حالات میں فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ امریکہ، ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کو فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جنگ صرف تباہی کو جنم دیتی ہے جبکہ پائیدار امن صرف سیاسی تدبر اور مکالمے سے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

تازہ ترین خبریں

لشکر طیبہ اورTRF کو مالی و لاجسٹک مدد فراہم کرنے کا الزام؛شوپیاں میں 10 افراد گرفتار

جنگ نیوز شوپیان پولیس نے مبینہ عسکری مالیاتی نیٹ ورک...

لیفٹیننٹ گورنر کی صدارت میں سکیورٹی صورتحال کی جائیزہ میٹنگ

نیوز ڈیسک سرینگر /لیفٹیننٹ گورنر مسٹر منوج سنہا نے آج...

ناظم اطلاعات نے وادی کے تمام اَضلاع میںDICs کی کاکردگی کا جائزہ لیا

نیوز ڈیسک سری نگر/ڈائریکٹر اِنفارمیشن ممتا یادو نے آج صوبہ...

متحدہ عرب امارات اور سنگاپور میں بھارتی سیاحوں کوUPI کی خدمات میسر

جنگ نیوز متحدہ عرب امارات اور سنگاپور جانے والے بھارتی...

اولاد نعمت خداوندی کی تربیت

  حمیرا فاروق آونیرہ شوپیاں سے نوازا جہاں وہ آسائش اور تسکین...

جنگ کا نیا محاذ اور امن کی ضرورت

یمن کی انصار اللہ (حوثیوں) کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحیرۂ احمر میں ناکہ بندی کا اعلان اس بات کی علامت ہے کہ ایران سے وابستہ تنازع ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ صنعاء ہوائی اڈے پر حملے کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے بحیرۂ احمر کی بندرگاہوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا، جس سے عالمی تیل کی ترسیل اور خطے کی معیشت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز میں ایرانی دباؤ کے بعد سعودی عرب نے اپنی برآمدات کا رخ بحیرۂ احمر کی جانب موڑ دیا تھا، مگر باب المندب پر حوثیوں کا اثر و رسوخ اس متبادل راستے کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ دوسری جانب ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی کشیدگی پورے مشرقِ وسطیٰ کو عدم استحکام کی طرف دھکیل رہی ہے۔
ایسے حالات میں فوجی کارروائیوں کے بجائے سفارت کاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔ امریکہ، ایران، سعودی عرب اور دیگر علاقائی طاقتوں کو فوری جنگ بندی اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، کیونکہ جنگ صرف تباہی کو جنم دیتی ہے جبکہ پائیدار امن صرف سیاسی تدبر اور مکالمے سے ہی ممکن ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں