
شرف الدین سید
دہلی کی سڑکوں پر طلبہ کے جسموں پر پڑتی پولیس کی لاٹھیاں صرف چند نوجوانوں کو نہیں مار رہیں، بلکہ یہ منظر پورے ملک کے دل کو زخمی کر رہا ہے۔
یہ اچھی علامت نہیں ہے۔
احتجاج کرنا جمہوری حق ہے، لیکن احتجاج کے نام پر قانون توڑنے یا ملک کے اہم اداروں کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت بھی نہیں دی جاسکتی۔ پارلیمنٹ کی حفاظت حکومت اور پولیس کی ذمہ داری ہے۔ اگر کوئی گروپ پارلیمنٹ کی طرف مارچ کرتا ہے تو اسے روکنا بھی ضروری ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہر مسئلے کا آخری حل لاٹھی ہی ہے؟
اگر کسی مسئلے پر طلبہ کئی دنوں سے احتجاج کررہے ہوں، بھوک ہڑتال جاری ہو اور پھر پارلیمنٹ مارچ کا اعلان بھی کردیا گیا ہو تو حکومت کو پہلے ہی سمجھ جانا چاہیے تھا کہ حالات کسی بھی وقت خراب ہوسکتے ہیں۔ ایسے وقت میں بات چیت کا راستہ اختیار کرنا زیادہ سمجھ داری تھی۔
تقریباً 40 دن سے جاری احتجاج اور 20 دن کی بھوک ہڑتال کے بعد پارلیمنٹ مارچ کوئی اچانک ہونے والا واقعہ نہیں تھا۔ حکومت کے پاس کافی وقت تھا۔ اگر پہلے ہی طلبہ کے نمائندوں سے بات کی جاتی، ان کے مسائل سنے جاتے اور ان کے غصے کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی تو شاید یہ نوبت ہی نہ آتی۔
آج کی نوجوان نسل پہلے کی نسلوں سے مختلف ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس نے مار اور سخت ڈانٹ کے بجائے آزادی اور سہولت کے ماحول میں زندگی گزاری ہے۔ موبائل اور سوشل میڈیا اس کی زندگی کا حصہ ہیں۔ پولیس کی لاٹھی اس کے لئے ایک اجنبی تجربہ ہے۔
اس لئے جب پولیس کی لاٹھی کسی نوجوان پر پڑتی ہے تو چوٹ صرف اس کے جسم کو نہیں لگتی۔ اس کے دل میں بھی ایک سوال پیدا ہوتا ہے
کیا میری بات سننے والا کوئی نہیں؟
اور آج سوشل میڈیا کا زمانہ ہے۔ پولیس کی ایک لاٹھی، ایک چیخ اور ایک تصویر چند لمحوں میں پورے ملک تک پہنچ جاتی ہے۔ پھر وہ تصویر ہزاروں نوجوانوں کے غصے کا حصہ بن جاتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حکومت کو بہت سمجھ داری سے کام لینا ہوگا۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ نوجوان ہمارے اپنے بچے ہیں۔
ملک کا سیاسی نظام، انتظامیہ، تعلیمی ادارے، کسان، مزدور اور پورا معاشرہ آخر کس کے لئے محنت کررہا ہے؟ اسی نوجوان نسل کے لئے، جو کل ملک کی ذمہ داری سنبھالنے والی ہے۔
اس لئے نوجوانوں کو صرف قابو کرنے کی نہیں، سمجھنے کی ضرورت ہے۔
طلبہ جوان ہوتے ہیں۔ ان کے اندر جوش ہوتا ہے، جذبات ہوتے ہیں اور کبھی کبھی وہ جذبات میں غلط قدم بھی اٹھا سکتے ہیں۔ لیکن ایک ذمہ دار حکومت کا کام صرف سزا دینا نہیں، راستہ دکھانا بھی ہے۔
حکومتوں کی اصل طاقت پولیس کی لاٹھی نہیں، عوام کا اعتماد ہوتا ہے۔
کسی ایک وزیر کا استعفیٰ حکومت کے لئے کوئی بہت بڑا نقصان نہیں۔ وزیر بدل سکتے ہیں، حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن اگر نوجوانوں کا اعتماد ٹوٹ جائے تو اسے واپس حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔
آج حکومت کے سامنے ایک موقع ہے۔ وہ اس احتجاج کو صرف ایک سیاسی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کرسکتی ہے، یا اسے ایک سنجیدہ وارننگ سمجھ کر نوجوانوں سے بات کرسکتی ہے۔
یہ غصہ صرف کسی ایک امتحان، کسی ایک فیصلے یا کسی ایک شخص کے استعفے کا مسئلہ نہیں بھی ہوسکتا۔ اس کے پیچھے نوجوانوں کی وہ بے چینی ہوسکتی ہے جو طویل عرصے سے دلوں میں جمع ہورہی ہے۔
دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جب نوجوانوں کی آواز کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے تو چھوٹا سا احتجاج بھی بڑے بحران میں بدل سکتا ہے۔ ہمیں اپنے ملک میں ایسا کچھ نہیں ہونے دینا چاہیے۔
بھارت ایک جمہوری ملک ہے۔ یہاں اختلاف کی آواز کو دبانے کے بجائے سننے کی روایت مضبوط ہونی چاہیے۔
آج بھی وقت ہاتھ سے نہیں نکلا۔
حکومت کو چاہیے کہ وہ طلبہ سے بات کرے،
انہیں لاٹھی نہیں، یقین چاہیے۔
انہیں خوف نہیں، مستقبل چاہیے۔
انہیں خاموشی نہیں، اپنی بات کہنے کا حق چاہیے۔
اور حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ:
لاٹھی کسی نوجوان کو چند لمحوں کے لئے خاموش کرسکتی ہے،
لیکن مکالمہ ہی اس کے دل کا غصہ ختم کرسکتا ہے۔
لہٰذا دہلی کو مزید لہو لہان ہونے سے بچائیے۔۔۔
نوجوانوں سے لڑئیے نہیں، ان سے بات کیجیے۔


