
محمد امین اللہ
زمانہ قدیم کے حیرت انگیز ایجادات کو دیکھ کر جہاں انسان حیرت زدہ ہوتا ہے وہیں دور جدید کی ترقی اور ہوائی ٹکنالوجی نے یہ کہنے پر مجبور کردیا ہے کہ ۔
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں ۔
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی ۔
علامہ اقبال ۔
نمرود کی طلسم ہوش ربا ہو، نینوا کا جھولتا باغ، فراعنہ مصر کے اہرام ہوں یا عاد و ثمود کی بستیاں، جام جمشید ہو یا ہنوط شدہ لاشوں پر لگائے گئے کیمیائی مواد، دیوار چین کی تعمیر ، یا تاج محل کی خوبصورتی، الف لیلہ کی ہزار داستان میں بیان کردہ طلسمات یہ سب آج کے ترقی یافتہ دور کے لوگوں کے لئے اس لئے باعث حیرت ہے کہ زمانہ قدیم کے لوگ قالینوں پر کیسے اڑتے تھے، پانی پر کیسے چلتے تھے میں خود اس بات کا شاہد ہوں کہ دریا ہگلی میں روزانہ سیکڑوں لوگ اس پنڈت جی کو صبح صبح دیکھنے کے لئے جمع ہو جاتے تھے جو آلتی پالتی مار کر دریا کی لہروں پر بیٹھ جاتے اپنے ران پر اپنا پیتل کا بدھنا رکھ کر مسواک کرتے ہوئے دور تک چلے جاتے تھے ۔ یہ خود کو متوازن کرنے کی کون سی ٹیکنک تھی پنڈت جی نے کسی کو نہیں بتایا ۔ آج کے ٹیلی اسکرین پر جب ہم دنیا کا منظر لمحہ لمحہ دیکھ رہے ہوتے ہیں تو خیال آتا ہے کہ جمشید کے پاس کیسا شیشے کا مرتبان تھا جس میں وہ پوری دنیا دیکھتا تھا ۔ الیکسر سٹی کے مکانات نہ جانے کس تعمیراتی ٹیکنک سے بنے تھے کہ ایئر کنڈیشنگ سسٹم کے بغیر سردی اور گرمی کا احساس نہیں ہوتا تھا ۔ مغل بادشاہوں کے دیوان خاص بھی اسی طرح کے حیرت انگیز تعمیرات کے نمونے ہیں ۔ آج بھی ٹھٹھہ سندھ کی شاہ جہانی مسجد مائک کے بغیر ہر طرف آواز صاف سنائی دیتی ہے ۔
اب میں دور جدید کی جدید ترین ہوائی ٹکنالوجی جس کا آغاز internet سے شروع ہو کر Ai مصنوعی ذہانت کے ایجاد تک سرعت کے ساتھ اگے بڑھ رہا ہے جس کے بطن سے سوشل میڈیا کے تمام ایپس اربوں انسانوں کو اسیر بنا رکھا ہے جس میں 6 سال کا بچہ اور 60 سال کا بوڑھا اک جیسی دیوانگی میں مبتلا ہے کی بات کروں گا جس کے بے شمار فوائد اور ملکی سلامتی اور جنگی ہتھیاروں کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور یہ بھی اب حقیقت ہے کہ اس ٹکنالوجی میں جو ملک جتنی مہارت رکھتا ہے اس کا ملک اتنا ہی محفوظ ہے اور وہ دشمن کے لئے اتنا ہی خطرناک ہے۔ آج internet کے بغیر یہ دنیا اندھی، گونگی، بہری بلکہ یو کہیں کے با لکل معذور ہے ۔ جیسے ہی internet کے رابطے منقطع ہوتے ہیں پورے ملک کا کاروبار اور نظامِ زندگی ٹھپ ہو جاتے ہیں۔ مگر آج کا موضوع تحریر فائدے اور نقصانات سے ہے۔
انٹرنیٹ کے ظہور سے آج دنیا عالمی گاؤں میں تبدیل ہو چکی ہے یا یوں کہہ لیں کہ یہ مٹھی میں بند ہو گئی ہے یا یہ Palm village بن چکی ہے ۔
متعامل ویب سائٹ اور اپلیکیشنز نے صارفین کو معلومات، ویڈیوز سوچنے اور خیالات تخلیق کرنے کے قابل بنا دیا ہے ۔ لیکن سب سے بڑھ کر سوشل میڈیا نے مواصلات اور معاشرے کے تصور میں انقلاب برپا کر دیا ہے ۔لہذا جس رفتار سے سوشل میڈیا کے صارفین بڑھ رہے وہ متاثر کن ہے ۔ مگر جہاں دوسرے ایجادات کی طرح سوشل میڈیا کے کئ فوائد ہیں وہاں اس کے ۔ نقصانات بھی ہیں ۔
سوشل میڈیا صارفین کے لئے معاشرے کے وسیع راستے کو کھول کر اس کے تصور کو بدل کر رکھ دیا ہے ۔ ورچوئل ( مجازی)
واسطے کے ذریعے معاشرہ وہ نہیں رہا جس میں ہم رہتے ہیں، یہ پھیل چکا ہے اور پوری دنیا شامل ہے ۔ آج اک فرد عالمی معاشرے کا حصہ بن گیا ہے ۔ اس کے علاؤہ اس نے طلبا اور پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والے افراد کے لئے نئے مواقع کھول دیئے ہیں ۔ جہاں وہ دنیا کے کسی حصے میں اپنے ہم مرتبہ افراد سے رابطہ کر سکتے ہیں اور باہمی دل چسپی کے معاملات پر تبادلہ کر سکتے ہیں ۔ طلباء بھی
با آسانی اپنے اساتذہ سے رابطہ کر سکتے ہیں اور ان سے علم و دانش حاصل کر سکتے ہیں ۔
اب نامور یونیورسٹیاں بھی آن لائیں کورسز کروا رہی ہیں ۔
سوشل میڈیا آن لائن کاروبار کے لئے بھی تیزی سے وسیع پلیٹ فارم میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ بڑی بڑی کمپنیاں اپنے مصنوعات کو پوسٹ کرکے بڑے پیمانے پر کاروبار کر رہی ہیں ۔ اسٹاک ایکسچینج کا سارا بزنس سوشل میڈیا یا internet سے جڑا ہوا ہے ۔
زندگی کے تمام شعبوں کے ماہرین سوشل میڈیا کے توسط سے اپنی مہارت کو رو شناس کرکے بڑے پیمانے پر مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں ۔
سوشل میڈیا آسان ترین رابطے کا پلیٹ فارم ہے جس کے ذریعے دنیا کے کسی کونے میں رہنے والے اپنے عزیزوں سے ویڈیو کال کرنا سیکنڈوں کا کام ہے ۔ آج خاندان کا ہر فرد جہاں کہیں بھی ہو تقریبات میں شریک ہو سکتا ہے ۔ بلکہ علماء نے سوشل میڈیا کے ذریعے سے دور دراز رہنے والے لڑکے لڑکی کا نکاح بھی کرنے کی اجازت دے چکے ہیں ۔
سوشل میڈیا نے مرد و زن، بچوں، جوانوں اور بوڑھوں پر جو اثرات مرتب کیے ہیں اس نے پورے سماج کا ثقافتی، تہذیبی، اخلاقی، حتیٰ کہ معاشرتی خد و خال کو یکسر تبدیل کر دیا ہے ۔
اس سے کاروباری فراڈ سے لے کر بینکوں میں محفوظ لوگوں کے سرمائے کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے ۔ جعلی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کیئے گئے آڈیوز اور ویڈیوز پل بھر میں فسادات برپا کر دیتے ہیں ۔ فحاشی اور عریانی کا ایک ایسا سیلاب ہے کہ تمام انسانی قدریں پامال ہو چکی ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ کام کرنے والے ہزاروں likes اور subscribers کے ذریعے ہزاروں ڈالر کما رہے ہیں ۔ گویا پہلے وقتوں میں جو برائ پس پردہ ہوا کرتی تھی سوشل میڈیا نے اسے عام کردیا ہے ۔ ہر طرح کے جرائم کرنے اور اس میں کامیاب ہونے کی ٹیکنک سوشل میڈیا پر دکھائی جاتی ہے جس سے نوجوانوں کی اکثریت اس طرف مائل ہو کر اپنی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں ۔ سوشل میڈیا ہر Honey Trap کے ذریعے اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے ۔
سب سے زیادہ اسکول، کالج اور یونیورسیٹیوں کے طلباء کا تعلیمی مستقبل برباد ہو رہا ہے ۔ یہ سوال وجواب کے لئے مطالعہ کرنے سے قاصر ہیں، فورآ کسی سوال کا جواب گوگل یا کسی دوسرے سائٹ پر جا کر معلوم کر لیتے ہیں اور نقل کر کے اپنی جان چھڑا لیتے ہیں لیکن جب امتحانی مراکز میں یہ سہولت نہیں ملتی تو ان کا تعلیمی سال برباد ہو جاتا ہے۔
دیر تک موبائل کے استعمال سے ذہنی اور جسمانی بیماریاں عام ہو گئی ہیں ۔ نفسیاتی مریضوں میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے ۔
سوشل میڈیا نے رشتوں میں اتنی دوریاں پیدا کر دی ہیں کہ لوگ اپنے قریبی رشتے داروں اور دوست و احباب کی عیادت اور تعزیت بھی فون پر کرنے پر اکتفا کرتے ہیں ۔ جس طرح نشے کا عادی انسان کو اگر وقت پر نشہ نہ ملے تو وہ بے چین ہو جاتا ہے اسی طرح سوشل میڈیا پر دن رات مصروف رہنے والے اگر انٹرنیٹ بند ہو جاتا ہے تو وہ ماہئ بے آب کی طرح تڑپنے لگتے ہیں ۔
انٹرنیٹ کے ذریعے سائبر کرائم کی وارداتیں عام ہو چکی ہیں ۔ تمام حکومتوں نے سائبر فورس بنا رکھا ہے جو دشمن کے حملوں سے نہ صرف حفاظت کرتے ہیں بلکہ دوسرے ممالک کے اہم رازوں کو ہیک کرنے کا کام بھی کرتے ہیں ۔ بہت سے آزاد جرائم پیشہ ہیکرز بڑے پیمانے پر مالیاتی جرائم کرتے ہیں بلکہ ملکی راز کو ہیک کرکے دوسرے ملکوں کو فروخت کرتے ہیں ۔ سوشل میڈیا پر ہر طرح کے جرائم کی پرورش ہو رہی ہے جس سے نوجوانوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے ۔ سوشل میڈیا پر مذہبی، لسانی، علاقائی اور فرقہ ورانہ منافرت پھیلانے کا کام بھی ہو رہا ہے اور مخالفین کی کردار کشی کرنا اور Trolling کرنا تو عام بات ہے ۔
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت ۔
احساسِ مروت کو مٹا دیتے ہیں آلات ۔
سوشل میڈیا کے گلیمر نے نوجوانوں کی اکثریت میں احساس محرومی پیدا کر دیا ہے وہ اک چمکتی دمکتی دنیا کو دیکھ کر ایسا ہی بننا چاہتے ہیں مگر اس کے لئے محنت کرنے اور اپنے اندر صلاحیت پیدا نہیں کرتے لہذا مایوس ہو کر غلط راستوں پر چل پڑتے ہیں یا پھر کسی جرائم پیشہ گروہ کے آلہ کار بن جاتے ہیں ۔
دور حاضر میں جس طرح بجلی گیس اور دیگر ضروریات زندگی لازم و ملزوم ہے اسی طرح سوشل میڈیا جو انٹرنیٹ سے منسوب ہے ہماری روزمرہ کی زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے ۔ آج کے دور میں سوشل میڈیا کو ترک کرنا حقیقت پسندانہ بات نہیں ہو سکتی ۔ اک دانشمند صارف سوشل میڈیا کے مثبت پہلوؤں سے بہت فوائد حاصل کر سکتا ہے ۔ لیکن جو لوگ اس کے منفی اثرات کو قبول کرتے ہوئے اس کا استعمال کرتے ہیں ان کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے ۔ مناسب طریقے سے استعمال کیا جائے تو اک اچھا وسیلہ روزگار اور دعوت و اصلاح کا کام لیا جا سکتا ہے ۔ ورنہ غیر مناسب استعمال بڑے نقصان کا سبب بن سکتا ہے ۔ سوشل میڈیا دو دھاری تلوار کی طرح ہے اس لئے اس کی استعمال میں مہارت لازمی ہے۔
ہوائی محبوبہ نے مجنوں بنایا ہے اس کو
رات بھر یہ اسکرین پر عشق کیا کرتا تھا


