بھارت-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ: وعدے سے حقیقت تک

 

راجیش اگروال
سیکریٹری، محکمۂ تجارت
حکومتِ ہند

بھارت اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) بھارت کے خارجی تجارتی تعلقات میں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ کم از کم دو دہائیوں کے دوران بھارت کا اقتصادی انضمام بنیادی طور پر مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہم آہنگ رہا، جبکہ برطانیہ 1970 کی دہائی سے یورپی اقتصادی انضمام کا حصہ رہا ہے۔ اس پس منظر میں سی ای ٹی اے دونوں معیشتوں کے لئے غیر معمولی اہمیت کی حامل ایک بڑی تبدیلی اور اپنے خارجی اقتصادی شراکت داروں کو متنوع بنانے کی جانب ایک مضبوط اور فیصلہ کن پیش رفت کی علامت ہے۔ اس معاہدے پر جولائی 2025 میں دستخط کیے گئے اور تمام داخلی قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد یہ 15 جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو گیا، جس سے مذاکرات سے لے کر عملی نفاذ تک اس کے کامیاب سفر کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ موقع نہ صرف جشن منانے کا متقاضی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم اور نئی بلندیوں تک پہنچانے کا ایک سنہری موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

سی ای ٹی اے بھارت کی مضبوط صنعتی بنیاد، خدمات کے شعبے کی استعداد اور ہماری ہنرمند افرادی قوت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب پر بھرپور اعتماد کا مظہر ہے۔ اس معاہدے کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں محنت طلب صنعتوں کے لئے منڈی تک رسائی، خدمات کے شعبے میں افرادی نقل و حرکت کی سہولت اور اقتصادی تعاون کے نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ سی ای ٹی اے اپنی نوعیت کا ایک نہایت جامع معاہدہ ہے، جو بھارت کی نئی نسل کے تجارتی معاہدوں کے لئے ایک مثالی نمونہ بھی فراہم کرتا ہے۔
اس معاہدے کی اہمیت اس کے وسیع دائرۂ کار اور متوازن نوعیت میں بھی مضمر ہے۔ بھارت اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم پہلے ہی تقریباً 56 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور دونوں ممالک نے 2030 تک اسے دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ معاہدہ اس ہدف کے حصول کے لئے زیادہ یقین، استحکام اور پیش بینی پر مبنی ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ بھارت-برطانیہ روڈ میپ 2030 کے وسیع تر تزویراتی ویژن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ اس ویژن کو عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے ثمرات اور اثرات وقت کے ساتھ مزید نمایاں ہوتے جائیں گے۔

اس معاہدے کی ایک بنیادی خصوصیت بھارتی برآمدات کے لئے یقینی بنائی گئی منڈی تک رسائی ہے۔ اس کے تحت بھارتی مصنوعات کو برطانیہ میں تقریباً 99 فیصد ٹیرف خطوط پر محصول سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا، جو تقریباً 100 فیصد تجارتی مالیت کا احاطہ کرتا ہے۔ اس سے ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑے اور جوتوں کی صنعت، سمندری مصنوعات، کھیلوں کا سامان، جواہرات و زیورات، کھلونے اور عمل شدہ غذائی اشیا جیسے محنت طلب شعبوں کی مسابقتی صلاحیت کو تقویت ملے گی، جن کی مجموعی مالیت کا تخمینہ تقریباً 150 ارب امریکی ڈالر ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جن میں بھارت کے پاس وسیع پیداواری صلاحیت، مہارت اور برآمدی استعداد موجود ہے اور جہاں منڈی تک رسائی براہِ راست روزگار کے نئے مواقع اور زیادہ آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ برطانیہ کی ملبوسات اور گھریلو ٹیکسٹائل کی منڈی میں، جہاں اس وقت بھارت کا حصہ 6.8 فیصد ہے، توقع کی جاتی ہے کہ سی ای ٹی اے بھارت کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کو نمایاں فروغ دے گا اور چین، بنگلہ دیش اور دیگر ایشیائی برآمد کنندگان کے مقابلے میں بھارت کے موجودہ فرق کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ معاہدہ برطانیہ کی7.8ارب امریکی ڈالر مالیت کی چمڑے اور جوتوں کی منڈی میں بھی بھارت کے لئے برآمدات کے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ معاہدہ محض محصولات میں رعایت تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد چھوٹے، خرد اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز)، چھوٹے کاروباروں، دستکاروں اور خواتین کی قیادت میں قائم کاروباری اداروں کے لئے مزید روزگار اور منڈی کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔

یہ معاہدہ زراعت، ماہی پروری، بالخصوص منجمد جھینگوں اور جھینگا مچھلی کی برآمدات اور غذائی اشیا کی عمل کاری کی صنعت کے لئے بھی نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس معاہدے کو اس انداز میں نہایت احتیاط سے مرتب کیا گیا ہے کہ بھارت کے حساس شعبوں، مثلاً دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات، سیب، اناج اور خوردنی تیلوں کے مفادات محفوظ رہیں۔ چنانچہ ان حساس مصنوعات میں سے بعض کو معاہدے کے دائرۂ کار سے خارج رکھا گیا ہے، جبکہ بعض کو ٹیرف ریٹ کوٹہ یا مرحلہ وار آزادانہ تجارت کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
عالمی معیشت تیزی سے خدمات پر مبنی معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں بھارت اور برطانیہ دونوں کو نمایاں تقابلی برتری حاصل ہے۔ سی ای ٹی اے میں خدمات کے تمام بڑے شعبوں اور بھارت کی برآمدی دلچسپی کے 137 ذیلی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور آئی ٹی پر مبنی خدمات، مالیاتی اور پیشہ ورانہ خدمات، کاروباری مشاورت، تعلیم، مواصلات، فنِ تعمیر اور انجینئرنگ شامل ہیں۔ اس معاہدے میں نئی مالیاتی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے وعدے بھی شامل ہیں، نیز مالیاتی ٹیکنالوجی (فِن ٹیک)، ضابطہ جاتی ٹیکنالوجی (ریگ ٹیک) اور مالیاتی شعبے میں تنوع کے فروغ کے لئے باہمی تعاون کی شقیں بھی اس کا حصہ ہیں۔
بھارت اور برطانیہ کے درمیان یہ نئی اقتصادی راہداری بنیادی طور پر پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت سے متعلق ہے۔ سی ای ٹی اے معاہدہ معاہداتی بنیادوں پر خدمات فراہم کرنے والوں، کاروباری مقاصد کے لئے آنے والے افراد، ایک ہی ادارے کے اندر تبادلے کی بنیاد پر تعینات ملازمین اور آزاد پیشہ ور افراد کے لئے زیادہ سہل اور ہموار راستے فراہم کرتا ہے۔ سی ای ٹی اے پیشہ ورانہ اہلیتوں کے باہمی اعتراف کے لئے بھی ایک فریم ورک مہیا کرتا ہے، جس میں باہمی دلچسپی کی حامل پیشہ ورانہ خدمات کی نشاندہی اور اس سلسلے میں معاہدوں کی تکمیل کے لئے واضح مدت مقرر کی گئی ہے۔ سی ای ٹی اے بھارت کی ثقافتی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی تسلیم کرتا ہے اور ہر سال 1800بھارتی باورچیوں، یوگا اساتذہ اور کلاسیکی موسیقاروں کے لئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نقل و حرکت محض بعض پیشہ ور افراد کی آمدورفت تک محدود نہیں، بلکہ ان صلاحیتوں کے فروغ سے بھی متعلق ہے جن میں بھارت برطانیہ کو ایک منفرد پیشکش فراہم کر سکتا ہے۔

بھارتی پیشہ ور افراد کے لئے ایک اور اہم کامیابی دوہری شراکت کنونشن ہے، جو سی ای ٹی اے کے ساتھ ہی نافذ العمل ہوا۔ اس کے تحت بھارتی کارکنان اور ان کے آجر برطانیہ میں پانچ سال تک سماجی تحفظ کی مد میں شراکت ادا کرنے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ سماجی تحفظ کی یہ شراکت، جس کی مالیت سالانہ تقریباً 600 ملین امریکی ڈالر ہے، ان بھارتی پیشہ ور افراد کے لئے ایک ناقابلِ واپسی خرچ ثابت ہوتی تھی جو مختصر یا عارضی مدت کے لئے برطانیہ میں خدمات انجام دیتے تھے، لیکن پنشن یا دیگر سماجی تحفظ کی سہولتوں کے مستحق بننے کے لئے مطلوبہ مدت تک وہاں قیام نہیں کرتے تھے۔ تقریباً 75000بھارتی پیشہ ور افراد اور ان کے آجروں کے لئے یہ ایک نمایاں ریلیف ہے۔
ہر جدید آزاد تجارتی معاہدہ اشیا اور خدمات کی منڈی تک رسائی کے روایتی دائرۂ کار سے آگے بڑھ کر تعاون کے نئے شعبوں کو بھی اپنے اندر شامل کرتا ہے۔ سی ای ٹی اے میں سرکاری خریداری، دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر)، اور تجارت و پائیدار ترقی سے متعلق موضوعات، مثلاً ماحولیات، محنت، صنفی مساوات اور بدعنوانی کے انسداد جیسے شعبوں میں متوازن اور تدریجی ضابطوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ جدید تجارتی معاہدوں کی نئی جہتیں ہیں۔ سرکاری خریداری کے شعبے میں سی ای ٹی اے نے خرد اور چھوٹے کاروباری اداروں کی سرکاری خریداری پالیسی کے تحت خرد اور چھوٹے کاروباری اداروں کے حکم نامے کے مطابق ایم ایس ایم ایز کو ترجیح دینے کے سلسلے میں بھارت کے پالیسی اختیار کو محفوظ رکھا ہے۔ مزید برآں، گرچہ برطانوی سپلائرز درجہ دوم مقامی سپلائرز کی حیثیت سے حصہ لینے کے اہل ہوں گے، تاہم بھارتی رصد کنندگان کو درجہ اول مقامی سپلائرز کی حیثیت سے بدستور ترجیح حاصل رہے گی۔ اسی طرح بھارت نے دانشورانہ املاک کے حقوق سے متعلق ایک جامع باب پر مذاکرات کیے ہیں، جبکہ لازمی اجازت نامے جاری کرنے یا حالات کے تقاضوں کے مطابق دیگر قانونی لچکدار اختیارات استعمال کرنے کا اپنا حق بھی مکمل طور پر محفوظ رکھا ہے۔

اس معاہدے کی وسیع تر اہمیت وکست بھارت 2047 کے بھارت کے ویژن سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ اب دونوں شراکت داروں کے سامنے اصل ذمہ داری یہ ہے کہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کو مختلف شعبوں میں مؤثر انداز سے عملی جامہ پہنایا جائے۔ سی ای ٹی اے کے نافذ العمل ہونے کے ساتھ ہی بھارت اور برطانیہ کو آئندہ کئی دہائیوں کے لئے ایک مضبوط، اختراع پر مبنی اور عوامی مفاد پر مرکوز شراکت داری استوار کرنے کا ایک نادر موقع میسر آیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

بھارت-برطانیہ جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ: وعدے سے حقیقت تک

 

راجیش اگروال
سیکریٹری، محکمۂ تجارت
حکومتِ ہند

بھارت اور برطانیہ کے درمیان جامع اقتصادی و تجارتی معاہدہ (سی ای ٹی اے) بھارت کے خارجی تجارتی تعلقات میں ایک نہایت اہم اور فیصلہ کن سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ گزشتہ کم از کم دو دہائیوں کے دوران بھارت کا اقتصادی انضمام بنیادی طور پر مشرقی ایشیائی ممالک کے ساتھ ہم آہنگ رہا، جبکہ برطانیہ 1970 کی دہائی سے یورپی اقتصادی انضمام کا حصہ رہا ہے۔ اس پس منظر میں سی ای ٹی اے دونوں معیشتوں کے لئے غیر معمولی اہمیت کی حامل ایک بڑی تبدیلی اور اپنے خارجی اقتصادی شراکت داروں کو متنوع بنانے کی جانب ایک مضبوط اور فیصلہ کن پیش رفت کی علامت ہے۔ اس معاہدے پر جولائی 2025 میں دستخط کیے گئے اور تمام داخلی قانونی کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد یہ 15 جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو گیا، جس سے مذاکرات سے لے کر عملی نفاذ تک اس کے کامیاب سفر کی عکاسی ہوتی ہے۔ یہ موقع نہ صرف جشن منانے کا متقاضی ہے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان طویل تاریخی، تہذیبی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مستحکم اور نئی بلندیوں تک پہنچانے کا ایک سنہری موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

سی ای ٹی اے بھارت کی مضبوط صنعتی بنیاد، خدمات کے شعبے کی استعداد اور ہماری ہنرمند افرادی قوت کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی طلب پر بھرپور اعتماد کا مظہر ہے۔ اس معاہدے کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس میں محنت طلب صنعتوں کے لئے منڈی تک رسائی، خدمات کے شعبے میں افرادی نقل و حرکت کی سہولت اور اقتصادی تعاون کے نئے اور ابھرتے ہوئے شعبوں کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ سی ای ٹی اے اپنی نوعیت کا ایک نہایت جامع معاہدہ ہے، جو بھارت کی نئی نسل کے تجارتی معاہدوں کے لئے ایک مثالی نمونہ بھی فراہم کرتا ہے۔
اس معاہدے کی اہمیت اس کے وسیع دائرۂ کار اور متوازن نوعیت میں بھی مضمر ہے۔ بھارت اور برطانیہ کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم پہلے ہی تقریباً 56 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکا ہے اور دونوں ممالک نے 2030 تک اسے دوگنا کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ معاہدہ اس ہدف کے حصول کے لئے زیادہ یقین، استحکام اور پیش بینی پر مبنی ایک مضبوط فریم ورک فراہم کرتا ہے، جبکہ یہ بھارت-برطانیہ روڈ میپ 2030 کے وسیع تر تزویراتی ویژن کی بھی عکاسی کرتا ہے۔ یہ معاہدہ اس ویژن کو عملی جامہ پہنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے، جس کے ثمرات اور اثرات وقت کے ساتھ مزید نمایاں ہوتے جائیں گے۔

اس معاہدے کی ایک بنیادی خصوصیت بھارتی برآمدات کے لئے یقینی بنائی گئی منڈی تک رسائی ہے۔ اس کے تحت بھارتی مصنوعات کو برطانیہ میں تقریباً 99 فیصد ٹیرف خطوط پر محصول سے مکمل استثنیٰ حاصل ہوگا، جو تقریباً 100 فیصد تجارتی مالیت کا احاطہ کرتا ہے۔ اس سے ٹیکسٹائل اور ملبوسات، چمڑے اور جوتوں کی صنعت، سمندری مصنوعات، کھیلوں کا سامان، جواہرات و زیورات، کھلونے اور عمل شدہ غذائی اشیا جیسے محنت طلب شعبوں کی مسابقتی صلاحیت کو تقویت ملے گی، جن کی مجموعی مالیت کا تخمینہ تقریباً 150 ارب امریکی ڈالر ہے۔ یہ وہ شعبے ہیں جن میں بھارت کے پاس وسیع پیداواری صلاحیت، مہارت اور برآمدی استعداد موجود ہے اور جہاں منڈی تک رسائی براہِ راست روزگار کے نئے مواقع اور زیادہ آمدنی میں اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ برطانیہ کی ملبوسات اور گھریلو ٹیکسٹائل کی منڈی میں، جہاں اس وقت بھارت کا حصہ 6.8 فیصد ہے، توقع کی جاتی ہے کہ سی ای ٹی اے بھارت کی ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی صنعت کو نمایاں فروغ دے گا اور چین، بنگلہ دیش اور دیگر ایشیائی برآمد کنندگان کے مقابلے میں بھارت کے موجودہ فرق کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ یہ معاہدہ برطانیہ کی7.8ارب امریکی ڈالر مالیت کی چمڑے اور جوتوں کی منڈی میں بھی بھارت کے لئے برآمدات کے اہم مواقع فراہم کرتا ہے۔ یہ معاہدہ محض محصولات میں رعایت تک محدود نہیں، بلکہ اس کا مقصد چھوٹے، خرد اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں (ایم ایس ایم ایز)، چھوٹے کاروباروں، دستکاروں اور خواتین کی قیادت میں قائم کاروباری اداروں کے لئے مزید روزگار اور منڈی کے نئے مواقع پیدا کرنا بھی ہے۔

یہ معاہدہ زراعت، ماہی پروری، بالخصوص منجمد جھینگوں اور جھینگا مچھلی کی برآمدات اور غذائی اشیا کی عمل کاری کی صنعت کے لئے بھی نئے امکانات پیدا کرتا ہے۔ اسی کے ساتھ اس معاہدے کو اس انداز میں نہایت احتیاط سے مرتب کیا گیا ہے کہ بھارت کے حساس شعبوں، مثلاً دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات، سیب، اناج اور خوردنی تیلوں کے مفادات محفوظ رہیں۔ چنانچہ ان حساس مصنوعات میں سے بعض کو معاہدے کے دائرۂ کار سے خارج رکھا گیا ہے، جبکہ بعض کو ٹیرف ریٹ کوٹہ یا مرحلہ وار آزادانہ تجارت کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔
عالمی معیشت تیزی سے خدمات پر مبنی معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے، جہاں بھارت اور برطانیہ دونوں کو نمایاں تقابلی برتری حاصل ہے۔ سی ای ٹی اے میں خدمات کے تمام بڑے شعبوں اور بھارت کی برآمدی دلچسپی کے 137 ذیلی شعبوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور آئی ٹی پر مبنی خدمات، مالیاتی اور پیشہ ورانہ خدمات، کاروباری مشاورت، تعلیم، مواصلات، فنِ تعمیر اور انجینئرنگ شامل ہیں۔ اس معاہدے میں نئی مالیاتی خدمات کی فراہمی کے حوالے سے وعدے بھی شامل ہیں، نیز مالیاتی ٹیکنالوجی (فِن ٹیک)، ضابطہ جاتی ٹیکنالوجی (ریگ ٹیک) اور مالیاتی شعبے میں تنوع کے فروغ کے لئے باہمی تعاون کی شقیں بھی اس کا حصہ ہیں۔
بھارت اور برطانیہ کے درمیان یہ نئی اقتصادی راہداری بنیادی طور پر پیشہ ور افراد کی نقل و حرکت سے متعلق ہے۔ سی ای ٹی اے معاہدہ معاہداتی بنیادوں پر خدمات فراہم کرنے والوں، کاروباری مقاصد کے لئے آنے والے افراد، ایک ہی ادارے کے اندر تبادلے کی بنیاد پر تعینات ملازمین اور آزاد پیشہ ور افراد کے لئے زیادہ سہل اور ہموار راستے فراہم کرتا ہے۔ سی ای ٹی اے پیشہ ورانہ اہلیتوں کے باہمی اعتراف کے لئے بھی ایک فریم ورک مہیا کرتا ہے، جس میں باہمی دلچسپی کی حامل پیشہ ورانہ خدمات کی نشاندہی اور اس سلسلے میں معاہدوں کی تکمیل کے لئے واضح مدت مقرر کی گئی ہے۔ سی ای ٹی اے بھارت کی ثقافتی اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھی تسلیم کرتا ہے اور ہر سال 1800بھارتی باورچیوں، یوگا اساتذہ اور کلاسیکی موسیقاروں کے لئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نقل و حرکت محض بعض پیشہ ور افراد کی آمدورفت تک محدود نہیں، بلکہ ان صلاحیتوں کے فروغ سے بھی متعلق ہے جن میں بھارت برطانیہ کو ایک منفرد پیشکش فراہم کر سکتا ہے۔

بھارتی پیشہ ور افراد کے لئے ایک اور اہم کامیابی دوہری شراکت کنونشن ہے، جو سی ای ٹی اے کے ساتھ ہی نافذ العمل ہوا۔ اس کے تحت بھارتی کارکنان اور ان کے آجر برطانیہ میں پانچ سال تک سماجی تحفظ کی مد میں شراکت ادا کرنے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ سماجی تحفظ کی یہ شراکت، جس کی مالیت سالانہ تقریباً 600 ملین امریکی ڈالر ہے، ان بھارتی پیشہ ور افراد کے لئے ایک ناقابلِ واپسی خرچ ثابت ہوتی تھی جو مختصر یا عارضی مدت کے لئے برطانیہ میں خدمات انجام دیتے تھے، لیکن پنشن یا دیگر سماجی تحفظ کی سہولتوں کے مستحق بننے کے لئے مطلوبہ مدت تک وہاں قیام نہیں کرتے تھے۔ تقریباً 75000بھارتی پیشہ ور افراد اور ان کے آجروں کے لئے یہ ایک نمایاں ریلیف ہے۔
ہر جدید آزاد تجارتی معاہدہ اشیا اور خدمات کی منڈی تک رسائی کے روایتی دائرۂ کار سے آگے بڑھ کر تعاون کے نئے شعبوں کو بھی اپنے اندر شامل کرتا ہے۔ سی ای ٹی اے میں سرکاری خریداری، دانشورانہ املاک کے حقوق (آئی پی آر)، اور تجارت و پائیدار ترقی سے متعلق موضوعات، مثلاً ماحولیات، محنت، صنفی مساوات اور بدعنوانی کے انسداد جیسے شعبوں میں متوازن اور تدریجی ضابطوں کو شامل کیا گیا ہے۔ یہ جدید تجارتی معاہدوں کی نئی جہتیں ہیں۔ سرکاری خریداری کے شعبے میں سی ای ٹی اے نے خرد اور چھوٹے کاروباری اداروں کی سرکاری خریداری پالیسی کے تحت خرد اور چھوٹے کاروباری اداروں کے حکم نامے کے مطابق ایم ایس ایم ایز کو ترجیح دینے کے سلسلے میں بھارت کے پالیسی اختیار کو محفوظ رکھا ہے۔ مزید برآں، گرچہ برطانوی سپلائرز درجہ دوم مقامی سپلائرز کی حیثیت سے حصہ لینے کے اہل ہوں گے، تاہم بھارتی رصد کنندگان کو درجہ اول مقامی سپلائرز کی حیثیت سے بدستور ترجیح حاصل رہے گی۔ اسی طرح بھارت نے دانشورانہ املاک کے حقوق سے متعلق ایک جامع باب پر مذاکرات کیے ہیں، جبکہ لازمی اجازت نامے جاری کرنے یا حالات کے تقاضوں کے مطابق دیگر قانونی لچکدار اختیارات استعمال کرنے کا اپنا حق بھی مکمل طور پر محفوظ رکھا ہے۔

اس معاہدے کی وسیع تر اہمیت وکست بھارت 2047 کے بھارت کے ویژن سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ اب دونوں شراکت داروں کے سامنے اصل ذمہ داری یہ ہے کہ معاہدے میں کیے گئے وعدوں کو مختلف شعبوں میں مؤثر انداز سے عملی جامہ پہنایا جائے۔ سی ای ٹی اے کے نافذ العمل ہونے کے ساتھ ہی بھارت اور برطانیہ کو آئندہ کئی دہائیوں کے لئے ایک مضبوط، اختراع پر مبنی اور عوامی مفاد پر مرکوز شراکت داری استوار کرنے کا ایک نادر موقع میسر آیا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں