جنگ فیچر: 100 روزہ "نشہ مُکت جموں و کشمیر”مہم مکمل

جنگ فیچر ڈیسک

سری نگر: جموں و کشمیر میں منشیات کی لعنت اور اس سے وابستہ نارکو دہشت گردی کے خلاف حکومت نے اپنی کارروائی کو ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ اب نہ صرف منشیات فروشوں بلکہ ان کے مالی سرپرستوں، سہولت کاروں اور پورے نیٹ ورک کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔
"نشہ مُکت جموں و کشمیر مہم” کے کامیاب 100 روزہ سفر کی تکمیل پر محکمۂ سماجی بہبود کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی 100 دن میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، تاہم اصل جدوجہد ابھی باقی ہے اور حکومت اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 100 دن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 2,581 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا، 1,431 کلوگرام سے زائد منشیات جن میں 23.29 کلوگرام ہیروئن بھی شامل ہے، ضبط کیں، جبکہ 188 کروڑ 89 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیدادیں ضبط کرکے نارکو دہشت گردی کی مالی شہ رگ پر کاری ضرب لگائی گئی۔
"یہ سنگِ میل یقیناً حوصلہ افزا ہے، مگر ہماری منزل ابھی دور ہے۔ ہم اُن منشیات فروش گروہوں اور نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو ہمارے نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ آنے والا راستہ یقیناً دشوار ہوگا، مگر ہمارا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔”
پدیاترا نے وادی سے پیر پنجال تک بیداری کی نئی لہر پیدا کر دی

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس مہم کے دوران انہوں نے جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع کا دورہ کیا اور پدیاترا کے ذریعے براہِ راست عوام سے رابطہ قائم کیا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں انہیں ایسے بے شمار والدین سے ملاقات کا موقع ملا جن کے چہروں پر اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے شدید خوف، اضطراب اور بے بسی نمایاں تھی، مگر اسی کے ساتھ انہوں نے امید، اعتماد اور عزم کی ایسی روشن مثالیں بھی دیکھیں جنہوں نے اس مہم کو ایک غیر معمولی عوامی تحریک میں تبدیل کردیا۔
ان کے مطابق، جموں و کشمیر کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ کسی سماجی مہم کو عوام، نوجوانوں، خواتین، مذہبی رہنماؤں، اساتذہ، سول سوسائٹی اور رضاکاروں کی اس قدر بھرپور تائید حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ "پدیاترا نے ہر ضلع میں یہ واضح پیغام دیا کہ ہم اپنی نوجوان نسل اور اپنے مستقبل کو منشیات فروشوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔”
صرف گرفتاریاں نہیں، منشیات کی پوری معیشت کو نشانہ بنایا گیا
لیفٹیننٹ گورنر نے واضح کیا کہ حکومت کی کارروائیاں صرف منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے مالی وسائل، نقل و حرکت اور کاروباری ڈھانچے کو بھی تباہ کرنے کی منظم حکمت عملی اختیار کی گئی۔
اس سلسلے میں سینکڑوں ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے گئے، گاڑیوں کی رجسٹریشن ختم کی گئی، متعدد پاسپورٹ معطل کرنے کی سفارش کی گئی اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والی فارمیسیوں کے خلاف بھی سخت کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ حکومت منشیات کے کاروبار کو ہر سطح پر ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے اور قانون کی گرفت سے کوئی شخص بالاتر نہیں۔
نشے کے عادی نوجوان مجرم نہیں، بحالی کے مستحق ہیں
لیفٹیننٹ گورنر نے زور دے کر کہا کہ منشیات کی لت میں مبتلا نوجوانوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کے بجائے انہیں علاج، اعتماد اور نئی زندگی کا موقع فراہم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت جلد ہی "ری ہیبلی ٹیشن اینڈ سوشیو اکنامک ری انٹیگریشن اسکیم فار ڈرگ ابیوز وکٹمز، 2026” کا آغاز کرے گی، جس کا ابتدائی نفاذ جموں اور کشمیر ڈویژن کے حساس اضلاع میں کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ 3 سالہ مرحلہ وار نظام پر مبنی ہوگا، جس کے تحت:
• پہلے مرحلے میں طبی علاج، نفسیاتی مشاورت اور بحالی؛
• دوسرے مرحلے میں تعلیم، ہنر مندی اور باعزت روزگار؛
• جبکہ تیسرے مرحلے میں سماجی انضمام، مسلسل رہنمائی اور دوبارہ نشے کی طرف رجحان کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
"جو دوسروں کی زندگیاں تباہ کرے گا، قانون اس کا مستقبل بھی محفوظ نہیں رہنے دے گا”
منشیات فروش گروہوں کو سخت ترین انتباہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جو عناصر نوجوان نسل کی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں، انہیں ایسی عبرتناک سزا دی جائے گی جسے آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔
انہوں نے کہا:
"اسمگلروں نے نارکو دہشت گردی کی جو سلطنت قائم کی ہے، اس کی بنیادیں مکمل طور پر اکھاڑ دی جائیں گی۔ جن لوگوں نے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کیا ہے، انہیں ایسی سخت سزا دی جائے گی جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنے گی۔ اگر آپ دوسروں کی زندگیاں برباد کریں گے تو قانون آپ کے مستقبل کو بھی نہیں بخشے گا۔”
خاموشی اب جرم کے مترادف ہے
لیفٹیننٹ گورنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے محلوں، دیہات اور شہروں میں منشیات سے متعلق کسی بھی سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں اور نشے کے عادی افراد کو نفرت یا تنہائی کے بجائے علاج اور بحالی کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے بچوں میں نشے کی ابتدائی علامات بھی ظاہر ہوں تو اسے نظر انداز نہ کریں، کیونکہ بروقت علاج ہی مستقبل کو بچا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دہشت گردی ہو یا نارکو دہشت گردی، خاموشی نے ہمیشہ معاشرے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
اساتذہ، علماء، ائمہ، سماجی تنظیمیں اور نوجوان اس تحریک کے اصل محافظ
لیفٹیننٹ گورنر نے اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، سماجی تنظیموں، خواتین، نوجوانوں، رضاکاروں، پولیس، سول انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر یہی جذبہ برقرار رہا تو جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کا خواب حقیقت میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنے خواب، اپنی صلاحیتیں اور اپنی زندگی کسی منشیات فروش کے ہاتھوں یرغمال نہ بننے دیں بلکہ اپنی تہذیب، ثقافت، شناخت اور قومی ذمہ داری پر فخر کرتے ہوئے تعمیرِ مستقبل میں اپنا کردار ادا کریں۔
تقریب میں اعزازات، دستاویزی فلم اور کافی ٹیبل بک کی رونمائی
تقریب کے دوران نشہ مُکت جموں و کشمیر مہم کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل محکمۂ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ (DIPR) کی مرتب کردہ کافی ٹیبل بک کی رسمِ اجرا بھی عمل میں آئی، جبکہ مہم میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افسران، اداروں اور رضاکاروں کو اعزازات سے نوازا گیا۔
اس موقع پر محکمۂ اطلاعات کی خصوصی دستاویزی فلم، جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز (JKAACL) کا بامقصد اسٹیج ڈرامہ، جموں و کشمیر پولیس اور انڈین ریڈ کراس سوسائٹی کی معلوماتی پیشکشوں نے تقریب کو مزید مؤثر بنا دیا۔
منشیات کے خلاف جنگ اب ایک عوامی تحریک بن چکی ہے
ریکارڈ گرفتاریاں، بھاری مقدار میں منشیات کی ضبطی، 188 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کی قرقی، بحالی کے نئے منصوبے اور عوامی شمولیت نے یہ واضح کردیا ہے کہ جموں و کشمیر میں منشیات اور نارکو دہشت گردی کے خلاف جنگ اب محض سرکاری کارروائی نہیں رہی بلکہ ایک ہمہ گیر عوامی تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ اگر یہی عزم، عوامی تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر نہ صرف منشیات سے پاک بلکہ دہشت گردی سے آزاد، پُرامن، ترقی یافتہ اور بااعتماد معاشرے کی صورت میں نئی مثال قائم کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

تازہ ترین خبریں

دردِ غربت اور احساسِ انسانیت

  مسعود محبوب خان دنیا میں بعض منظر ایسے ہوتے ہیں...

ہنڈواڑہ میں ’’My Youth My Pride‘‘ ووشو اور کبڈی چیمپئن شپ کا آغاز

  جنگ نیوز ڈیسک کپواڑہ، 28 جولائی: جموں و کشمیر سپورٹس...

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

جنگ فیچر: 100 روزہ "نشہ مُکت جموں و کشمیر”مہم مکمل

جنگ فیچر ڈیسک

سری نگر: جموں و کشمیر میں منشیات کی لعنت اور اس سے وابستہ نارکو دہشت گردی کے خلاف حکومت نے اپنی کارروائی کو ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ اب نہ صرف منشیات فروشوں بلکہ ان کے مالی سرپرستوں، سہولت کاروں اور پورے نیٹ ورک کا مکمل صفایا کیا جائے گا۔
"نشہ مُکت جموں و کشمیر مہم” کے کامیاب 100 روزہ سفر کی تکمیل پر محکمۂ سماجی بہبود کے زیر اہتمام منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کہا کہ اگرچہ ابتدائی 100 دن میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں، تاہم اصل جدوجہد ابھی باقی ہے اور حکومت اس ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ پُرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ 100 دن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 2,581 منشیات فروشوں کو گرفتار کیا، 1,431 کلوگرام سے زائد منشیات جن میں 23.29 کلوگرام ہیروئن بھی شامل ہے، ضبط کیں، جبکہ 188 کروڑ 89 لاکھ روپے سے زائد مالیت کی جائیدادیں ضبط کرکے نارکو دہشت گردی کی مالی شہ رگ پر کاری ضرب لگائی گئی۔
"یہ سنگِ میل یقیناً حوصلہ افزا ہے، مگر ہماری منزل ابھی دور ہے۔ ہم اُن منشیات فروش گروہوں اور نارکو دہشت گردی کے نیٹ ورکس کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کے لیے پرعزم ہیں جو ہمارے نوجوانوں کے مستقبل سے کھیل رہے ہیں۔ آنے والا راستہ یقیناً دشوار ہوگا، مگر ہمارا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔”
پدیاترا نے وادی سے پیر پنجال تک بیداری کی نئی لہر پیدا کر دی

لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اس مہم کے دوران انہوں نے جموں و کشمیر کے تمام 20 اضلاع کا دورہ کیا اور پدیاترا کے ذریعے براہِ راست عوام سے رابطہ قائم کیا۔
انہوں نے کہا کہ مختلف علاقوں میں انہیں ایسے بے شمار والدین سے ملاقات کا موقع ملا جن کے چہروں پر اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے شدید خوف، اضطراب اور بے بسی نمایاں تھی، مگر اسی کے ساتھ انہوں نے امید، اعتماد اور عزم کی ایسی روشن مثالیں بھی دیکھیں جنہوں نے اس مہم کو ایک غیر معمولی عوامی تحریک میں تبدیل کردیا۔
ان کے مطابق، جموں و کشمیر کی تاریخ میں شاید پہلی مرتبہ کسی سماجی مہم کو عوام، نوجوانوں، خواتین، مذہبی رہنماؤں، اساتذہ، سول سوسائٹی اور رضاکاروں کی اس قدر بھرپور تائید حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ "پدیاترا نے ہر ضلع میں یہ واضح پیغام دیا کہ ہم اپنی نوجوان نسل اور اپنے مستقبل کو منشیات فروشوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑیں گے۔”
صرف گرفتاریاں نہیں، منشیات کی پوری معیشت کو نشانہ بنایا گیا
لیفٹیننٹ گورنر نے واضح کیا کہ حکومت کی کارروائیاں صرف منشیات فروشوں کو گرفتار کرنے تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کے مالی وسائل، نقل و حرکت اور کاروباری ڈھانچے کو بھی تباہ کرنے کی منظم حکمت عملی اختیار کی گئی۔
اس سلسلے میں سینکڑوں ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کیے گئے، گاڑیوں کی رجسٹریشن ختم کی گئی، متعدد پاسپورٹ معطل کرنے کی سفارش کی گئی اور ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والی فارمیسیوں کے خلاف بھی سخت کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدامات اس حقیقت کا ثبوت ہیں کہ حکومت منشیات کے کاروبار کو ہر سطح پر ختم کرنے کے لیے سنجیدہ ہے اور قانون کی گرفت سے کوئی شخص بالاتر نہیں۔
نشے کے عادی نوجوان مجرم نہیں، بحالی کے مستحق ہیں
لیفٹیننٹ گورنر نے زور دے کر کہا کہ منشیات کی لت میں مبتلا نوجوانوں کو معاشرے سے الگ تھلگ کرنے کے بجائے انہیں علاج، اعتماد اور نئی زندگی کا موقع فراہم کرنا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ حکومت جلد ہی "ری ہیبلی ٹیشن اینڈ سوشیو اکنامک ری انٹیگریشن اسکیم فار ڈرگ ابیوز وکٹمز، 2026” کا آغاز کرے گی، جس کا ابتدائی نفاذ جموں اور کشمیر ڈویژن کے حساس اضلاع میں کیا جائے گا۔
یہ منصوبہ 3 سالہ مرحلہ وار نظام پر مبنی ہوگا، جس کے تحت:
• پہلے مرحلے میں طبی علاج، نفسیاتی مشاورت اور بحالی؛
• دوسرے مرحلے میں تعلیم، ہنر مندی اور باعزت روزگار؛
• جبکہ تیسرے مرحلے میں سماجی انضمام، مسلسل رہنمائی اور دوبارہ نشے کی طرف رجحان کی روک تھام پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔
"جو دوسروں کی زندگیاں تباہ کرے گا، قانون اس کا مستقبل بھی محفوظ نہیں رہنے دے گا”
منشیات فروش گروہوں کو سخت ترین انتباہ دیتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جو عناصر نوجوان نسل کی زندگیاں تباہ کر رہے ہیں، انہیں ایسی عبرتناک سزا دی جائے گی جسے آنے والی نسلیں بھی یاد رکھیں گی۔
انہوں نے کہا:
"اسمگلروں نے نارکو دہشت گردی کی جو سلطنت قائم کی ہے، اس کی بنیادیں مکمل طور پر اکھاڑ دی جائیں گی۔ جن لوگوں نے ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو تباہ کیا ہے، انہیں ایسی سخت سزا دی جائے گی جو آنے والی نسلوں کے لیے مثال بنے گی۔ اگر آپ دوسروں کی زندگیاں برباد کریں گے تو قانون آپ کے مستقبل کو بھی نہیں بخشے گا۔”
خاموشی اب جرم کے مترادف ہے
لیفٹیننٹ گورنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اپنے محلوں، دیہات اور شہروں میں منشیات سے متعلق کسی بھی سرگرمی کی فوری اطلاع متعلقہ اداروں کو دیں اور نشے کے عادی افراد کو نفرت یا تنہائی کے بجائے علاج اور بحالی کی طرف لے جانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
انہوں نے والدین کو مشورہ دیا کہ اگر ان کے بچوں میں نشے کی ابتدائی علامات بھی ظاہر ہوں تو اسے نظر انداز نہ کریں، کیونکہ بروقت علاج ہی مستقبل کو بچا سکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دہشت گردی ہو یا نارکو دہشت گردی، خاموشی نے ہمیشہ معاشرے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔
اساتذہ، علماء، ائمہ، سماجی تنظیمیں اور نوجوان اس تحریک کے اصل محافظ
لیفٹیننٹ گورنر نے اساتذہ، مذہبی رہنماؤں، سماجی تنظیموں، خواتین، نوجوانوں، رضاکاروں، پولیس، سول انتظامیہ اور سیکورٹی اداروں کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگر یہی جذبہ برقرار رہا تو جموں و کشمیر کو منشیات سے پاک بنانے کا خواب حقیقت میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ اپنے خواب، اپنی صلاحیتیں اور اپنی زندگی کسی منشیات فروش کے ہاتھوں یرغمال نہ بننے دیں بلکہ اپنی تہذیب، ثقافت، شناخت اور قومی ذمہ داری پر فخر کرتے ہوئے تعمیرِ مستقبل میں اپنا کردار ادا کریں۔
تقریب میں اعزازات، دستاویزی فلم اور کافی ٹیبل بک کی رونمائی
تقریب کے دوران نشہ مُکت جموں و کشمیر مہم کے مختلف پہلوؤں پر مشتمل محکمۂ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ (DIPR) کی مرتب کردہ کافی ٹیبل بک کی رسمِ اجرا بھی عمل میں آئی، جبکہ مہم میں نمایاں خدمات انجام دینے والے افسران، اداروں اور رضاکاروں کو اعزازات سے نوازا گیا۔
اس موقع پر محکمۂ اطلاعات کی خصوصی دستاویزی فلم، جموں و کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز (JKAACL) کا بامقصد اسٹیج ڈرامہ، جموں و کشمیر پولیس اور انڈین ریڈ کراس سوسائٹی کی معلوماتی پیشکشوں نے تقریب کو مزید مؤثر بنا دیا۔
منشیات کے خلاف جنگ اب ایک عوامی تحریک بن چکی ہے
ریکارڈ گرفتاریاں، بھاری مقدار میں منشیات کی ضبطی، 188 کروڑ روپے سے زائد مالیت کے اثاثوں کی قرقی، بحالی کے نئے منصوبے اور عوامی شمولیت نے یہ واضح کردیا ہے کہ جموں و کشمیر میں منشیات اور نارکو دہشت گردی کے خلاف جنگ اب محض سرکاری کارروائی نہیں رہی بلکہ ایک ہمہ گیر عوامی تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہے۔
حکومت کا ماننا ہے کہ اگر یہی عزم، عوامی تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی برقرار رہی تو وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر نہ صرف منشیات سے پاک بلکہ دہشت گردی سے آزاد، پُرامن، ترقی یافتہ اور بااعتماد معاشرے کی صورت میں نئی مثال قائم کرے گا۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں