ہم سے وعدہ خلافی جاری

 

غلام غوث

آجکل دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ہر کوئی ہم مسلمانوں کی معصومیت کا ، ہمارے درمیان موجود تفرقوں کا ، ہماری کمزوریوں کا ، ہماری طاقت کا ، ہماری معلومات کی کمی کا فائدہ اٹھا رہا ہے اور ہمیں دوست اور دشمن دونوں ہمارے ہمدردوں کی شکل میں ہمیں کمزور کر نے اور آپس میں لڑانے لگے ہیں ۔ یہ اس لئے کہ انہیں معلوم ہے کہ ہم میں قابلیت ہے ، لیڈرشپ کی صلاحیت ہے اور ہم اگر متحد ہو گئے تو ہر میدان میں کامیاب بھی ہو سکتے ہیں ۔ ادھر ہم ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہو رہا ہے کہ ہمارا سچا دوست کون ہے اور مخالف کون ۔ ہم ہیں کہ ہمدردی کے دو بول جو کوئی بھی بولتا ہے اسے اپنا ہمدرد سمجھ کر اس کے کہنے میں آ جاتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں ۔ ایسا 1980سے ہوتا آ رہا ہے ۔ہر کوئی ہمیں وعدوں سے بہلا رہا ہے اور ہم ہیں کہ ان کے وعدوں پر اعتبار کر کے ان کی ہر بات مان لیتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں ۔واٹس اپ پر کسی نے ایک نیا خیال یہ پیش کیا ہے کہ کانگریس پارٹی کے دور حکومت میں جو ہم نے غیر قانونی طور پر زمین پکڑی اور مساجد ، مدرسے بنائے ، تعلیمی ادارے قائم کیے ان سب کو حکومتوں نے نظر انداز کر دیا اور خاموشی اختیار کر لی اور ایسا بتایا کہ وہ ہمیں خوش رکھنا چاہتے ہیں ۔ یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ کانگریس ہی وہ پارٹی ہے جس نے ٹاڈا ، پوٹا اور دیگر تکلیف دا ہ قوانین بنائے اور مسلمانوں کو برسوں جیلوں میں رکھا ۔ اب بی جے پی انہیں قوانین کا غلط استعمال کر رہی ہے کاغذات طلب کر رہی ہے اور مسلمانوں کو اور زیادہ تکالیف دے رہی ہے ۔ ووٹنگ مئشین بھی کانگریس کی دین ہے ۔ اس وقت انہوں نے اسکا غلط استعمال کیا تھا یا نہیں یہ کسی کو معلوم نہیں ہے مگر اب جب اسی کا استعمال الیکشن جیتنے کے لئے دوسری پارٹی استعمال کر رہی ہے تو وہی کانگریس اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے ۔ اب جب فرقہ پرست حاکم آئے تو انہوں نے ہر اس مسجد ، مدرسے اور تعلیمی ادارے کے کاغذات مانگے جو ہمارے پاس نہیں ہیں ۔ اب توڑ پھوڑ شروع ہوا اور قانونی ایکشن بھی شروع ہوا ۔ اب سوچنا یہ ہے کہ کیا یہ کانگریس کی مسلمانوں سے محبت تھی یا کچھ اور ۔ اگر کانگریس اس وقت ہی قانون کے مطابق زمین الاٹ کرتی تو اج یہ دن دیکھنے نہ پڑتے ۔ ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن فرقہ پرست سیاسی اقتدار میں آ جائیں گے ۔ کانگریس میں بھی فرقہ پرست تھے جو ہمیں دکھائی نہیں دیے اور آج وہی لوگ کانگریس کو ہارتے دیکھ کر پارٹی بدل کر وہاں جا چکے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر پارٹی میں فرقہ پرست موجود ہیں ۔اس کی ایک حالیہ مثال ممتا بنرجی کی پارٹی کے سیاستدان ہیں ۔ جب تک وہ ممتا کے ساتھ تھے تب تک انہوں نے سیکولر مکھوٹا لگائے رکھا ۔ مگر جیسے ہی ممتا کو شکست ہوی وہ اپنا حقیقی چہرہ سامنے لے آئے اور فرقہ پرستوں کے ساتھ مل گئے ایک قانوں ضرور بننا چاہیے کہ اگر کوئی سیاستدان ایک پارٹی سے دوسری پارٹی جاتا ہے تو اسے اپنا عہدہ چھوڑ نا ہو گا اور نئے طور سے الیکشن لڑنا ہو گا ۔ یہ بدلاو سیاستدان نہیں لائیں گے کیونکہ یہ پارٹی بدلی دولت کمانے کا ذریعہ ہے۔ آجکل ہر پارٹی بدلنے والے یم یل یے اور یم پی کو کروڑوں روپیے رشوت دی جاتی ہے اور عہدے بھی دیے جاتے ہیں ۔ اسے روکنے کے لئے عوام کو دباو بنانا ہو گا ۔ ایک بات جو آج تک سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ وہ کیا مسلمانوں سے غلطی ہو گئی کہ دن بہ دن کچھ لوگ نفرت کرنے اور ہمیں زک پہنچانے لگے ہیں ۔ ایک سچی بات یہ ہے کہ اگر کوئی اس ملک کا سچا وفادار ہے تو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ ملک کی 30 فیصد آبادی بے چین رہے ۔ ہم مسلمان کانگریس کے دور حکومت میں بھی پریشان تھے اور آج اور زیادہ پریشان ہیں ۔ ایک فرق یہ ہے کہ کانگریس کے دور میں جیلوں میں تو ٹھونسے گئے اور فسادات بھی فرقہ پرستوں نے کر وائے مگر ہماری عبادت گاہیں ، مدرسے اور گھروں کو نہیں توڑے اور بات بات پر لنچنگ نہیں ہوی جو آج ہو رہی ہے ۔ جان و مال کا نقصان ضرور ہوا مگر ذہنی پریشانی نہیں تھی جو آج ہے ۔ایک اور غور کرنے والی بات یہ ہے کہ آج سیکولر پارٹیاں اپنی بی جے پی سے نفرت کے لئے ہم مسلمانوں کو آگے کر رہے ہیں اور خود خاموش ہیں ۔ ہم مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے فرقہ پراستوں کی مخالفت کر نے کا ٹھیکا نہیں لے رکھا ہے ۔ سوچنا یہ بھی ہے کہ کیا ہم عرب عوام کی طرح کہنے ، سننے اور غلط قوانین کی مخالفت کرنے سے محروم رہ کر زندگی گزار سکتے ہیں اور امن سے رہ سکتے ہیں ۔ کیا ہم 35کروڑ عرب عوام کی طرح اندھے اور بہرے بن کر جی سکتے ہیں اور ہر ظلم سہہ سکتے ہیں ؟ اگر وہ پرانی مسجدیں گرا رہے ہیں تو ہم بھی نئی نئی مسجدیں بنا رہے ہیں ۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہمیں اب مسجدوں اور مدرسوں سے زیادہ انجنیرئنگ اور میڈیکل کالجوں کی اور اسپتالوں اور کوچنگ اکاڈمیوںکی ضرورت ہے ؟ سچ بتا نا چار ، چار ،پانچ ، پانچ کڑوڑ کی مسجدیں بناکر سوائے جمعہ کے ، دو چار صف نمازی کا نماز پڑھنا ضروری ہے ؟ کیا بھوکے اورننگے کو عمرہ کرا دینے سے اس کی ضرورت پوری ہو جائے گی ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایسے مالداروں کے اطراف صرف جاہل اور بیوقوف ہی موجود ہیں جو انہیں مشورے دے رہے ہیں ۔ جو عقلمند ہیں وہ آگے بڑھ کر نصیحت کر نا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھ رہے ہیں ۔ یہ تمام مسئائل ایسے ہیں کہ ان پر ہمارے دانشور حضرات کو اپنے اپنے اداروں میں ڈبیٹ کر نا ہے اور کسی نتیجہ پر پہنچ کر عوام میں شعور پیدا کرنا ہے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

ہم سے وعدہ خلافی جاری

 

غلام غوث

آجکل دیکھنے میں آ رہا ہے کہ ہر کوئی ہم مسلمانوں کی معصومیت کا ، ہمارے درمیان موجود تفرقوں کا ، ہماری کمزوریوں کا ، ہماری طاقت کا ، ہماری معلومات کی کمی کا فائدہ اٹھا رہا ہے اور ہمیں دوست اور دشمن دونوں ہمارے ہمدردوں کی شکل میں ہمیں کمزور کر نے اور آپس میں لڑانے لگے ہیں ۔ یہ اس لئے کہ انہیں معلوم ہے کہ ہم میں قابلیت ہے ، لیڈرشپ کی صلاحیت ہے اور ہم اگر متحد ہو گئے تو ہر میدان میں کامیاب بھی ہو سکتے ہیں ۔ ادھر ہم ہیں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں ہو رہا ہے کہ ہمارا سچا دوست کون ہے اور مخالف کون ۔ ہم ہیں کہ ہمدردی کے دو بول جو کوئی بھی بولتا ہے اسے اپنا ہمدرد سمجھ کر اس کے کہنے میں آ جاتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں ۔ ایسا 1980سے ہوتا آ رہا ہے ۔ہر کوئی ہمیں وعدوں سے بہلا رہا ہے اور ہم ہیں کہ ان کے وعدوں پر اعتبار کر کے ان کی ہر بات مان لیتے ہیں اور نقصان اٹھاتے ہیں ۔واٹس اپ پر کسی نے ایک نیا خیال یہ پیش کیا ہے کہ کانگریس پارٹی کے دور حکومت میں جو ہم نے غیر قانونی طور پر زمین پکڑی اور مساجد ، مدرسے بنائے ، تعلیمی ادارے قائم کیے ان سب کو حکومتوں نے نظر انداز کر دیا اور خاموشی اختیار کر لی اور ایسا بتایا کہ وہ ہمیں خوش رکھنا چاہتے ہیں ۔ یاد رکھنے کی بات یہ بھی ہے کہ کانگریس ہی وہ پارٹی ہے جس نے ٹاڈا ، پوٹا اور دیگر تکلیف دا ہ قوانین بنائے اور مسلمانوں کو برسوں جیلوں میں رکھا ۔ اب بی جے پی انہیں قوانین کا غلط استعمال کر رہی ہے کاغذات طلب کر رہی ہے اور مسلمانوں کو اور زیادہ تکالیف دے رہی ہے ۔ ووٹنگ مئشین بھی کانگریس کی دین ہے ۔ اس وقت انہوں نے اسکا غلط استعمال کیا تھا یا نہیں یہ کسی کو معلوم نہیں ہے مگر اب جب اسی کا استعمال الیکشن جیتنے کے لئے دوسری پارٹی استعمال کر رہی ہے تو وہی کانگریس اس کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے ۔ اب جب فرقہ پرست حاکم آئے تو انہوں نے ہر اس مسجد ، مدرسے اور تعلیمی ادارے کے کاغذات مانگے جو ہمارے پاس نہیں ہیں ۔ اب توڑ پھوڑ شروع ہوا اور قانونی ایکشن بھی شروع ہوا ۔ اب سوچنا یہ ہے کہ کیا یہ کانگریس کی مسلمانوں سے محبت تھی یا کچھ اور ۔ اگر کانگریس اس وقت ہی قانون کے مطابق زمین الاٹ کرتی تو اج یہ دن دیکھنے نہ پڑتے ۔ ہماری غلطی یہ ہے کہ ہم نے سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن فرقہ پرست سیاسی اقتدار میں آ جائیں گے ۔ کانگریس میں بھی فرقہ پرست تھے جو ہمیں دکھائی نہیں دیے اور آج وہی لوگ کانگریس کو ہارتے دیکھ کر پارٹی بدل کر وہاں جا چکے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ ہر پارٹی میں فرقہ پرست موجود ہیں ۔اس کی ایک حالیہ مثال ممتا بنرجی کی پارٹی کے سیاستدان ہیں ۔ جب تک وہ ممتا کے ساتھ تھے تب تک انہوں نے سیکولر مکھوٹا لگائے رکھا ۔ مگر جیسے ہی ممتا کو شکست ہوی وہ اپنا حقیقی چہرہ سامنے لے آئے اور فرقہ پرستوں کے ساتھ مل گئے ایک قانوں ضرور بننا چاہیے کہ اگر کوئی سیاستدان ایک پارٹی سے دوسری پارٹی جاتا ہے تو اسے اپنا عہدہ چھوڑ نا ہو گا اور نئے طور سے الیکشن لڑنا ہو گا ۔ یہ بدلاو سیاستدان نہیں لائیں گے کیونکہ یہ پارٹی بدلی دولت کمانے کا ذریعہ ہے۔ آجکل ہر پارٹی بدلنے والے یم یل یے اور یم پی کو کروڑوں روپیے رشوت دی جاتی ہے اور عہدے بھی دیے جاتے ہیں ۔ اسے روکنے کے لئے عوام کو دباو بنانا ہو گا ۔ ایک بات جو آج تک سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ وہ کیا مسلمانوں سے غلطی ہو گئی کہ دن بہ دن کچھ لوگ نفرت کرنے اور ہمیں زک پہنچانے لگے ہیں ۔ ایک سچی بات یہ ہے کہ اگر کوئی اس ملک کا سچا وفادار ہے تو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ ملک کی 30 فیصد آبادی بے چین رہے ۔ ہم مسلمان کانگریس کے دور حکومت میں بھی پریشان تھے اور آج اور زیادہ پریشان ہیں ۔ ایک فرق یہ ہے کہ کانگریس کے دور میں جیلوں میں تو ٹھونسے گئے اور فسادات بھی فرقہ پرستوں نے کر وائے مگر ہماری عبادت گاہیں ، مدرسے اور گھروں کو نہیں توڑے اور بات بات پر لنچنگ نہیں ہوی جو آج ہو رہی ہے ۔ جان و مال کا نقصان ضرور ہوا مگر ذہنی پریشانی نہیں تھی جو آج ہے ۔ایک اور غور کرنے والی بات یہ ہے کہ آج سیکولر پارٹیاں اپنی بی جے پی سے نفرت کے لئے ہم مسلمانوں کو آگے کر رہے ہیں اور خود خاموش ہیں ۔ ہم مسلمانوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم نے فرقہ پراستوں کی مخالفت کر نے کا ٹھیکا نہیں لے رکھا ہے ۔ سوچنا یہ بھی ہے کہ کیا ہم عرب عوام کی طرح کہنے ، سننے اور غلط قوانین کی مخالفت کرنے سے محروم رہ کر زندگی گزار سکتے ہیں اور امن سے رہ سکتے ہیں ۔ کیا ہم 35کروڑ عرب عوام کی طرح اندھے اور بہرے بن کر جی سکتے ہیں اور ہر ظلم سہہ سکتے ہیں ؟ اگر وہ پرانی مسجدیں گرا رہے ہیں تو ہم بھی نئی نئی مسجدیں بنا رہے ہیں ۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہمیں اب مسجدوں اور مدرسوں سے زیادہ انجنیرئنگ اور میڈیکل کالجوں کی اور اسپتالوں اور کوچنگ اکاڈمیوںکی ضرورت ہے ؟ سچ بتا نا چار ، چار ،پانچ ، پانچ کڑوڑ کی مسجدیں بناکر سوائے جمعہ کے ، دو چار صف نمازی کا نماز پڑھنا ضروری ہے ؟ کیا بھوکے اورننگے کو عمرہ کرا دینے سے اس کی ضرورت پوری ہو جائے گی ۔ ایسا لگتا ہے کہ ایسے مالداروں کے اطراف صرف جاہل اور بیوقوف ہی موجود ہیں جو انہیں مشورے دے رہے ہیں ۔ جو عقلمند ہیں وہ آگے بڑھ کر نصیحت کر نا اپنی ذمہ داری نہیں سمجھ رہے ہیں ۔ یہ تمام مسئائل ایسے ہیں کہ ان پر ہمارے دانشور حضرات کو اپنے اپنے اداروں میں ڈبیٹ کر نا ہے اور کسی نتیجہ پر پہنچ کر عوام میں شعور پیدا کرنا ہے ۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں