اقلیتی تعلیمی اداروں میں اقرباء پروری: تعلیم کے مقدس مقصد سے انحراف

 

 

محمد مسلم کبیر

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور تہذیبی ارتقاء کا بنیادی ستون ہے۔ ہندوستان کے آئین نے مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنی تہذیب، زبان اور تشخص کے تحفظ کے لیے اپنے تعلیمی ادارے قائم کریں اور ان کا انتظام و انصرام خود سنبھالیں۔ اس آئینی حق کا مقصد یہ تھا کہ اقلیتیں معیاری تعلیم کے ذریعے اپنی نئی نسل کو بااختیار بنائیں، تعلیمی پسماندگی دور کریں اور قومی دھارے میں باوقار مقام حاصل کریں۔

بدقسمتی سے آج ملک کے متعدد اقلیتی تعلیمی ادارے اپنے اصل مقاصد سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جہاں ان اداروں کو علم و کردار کا مرکز ہونا چاہیے تھا، وہاں بعض جگہوں پر اقرباء پروری، شخصی مفادات، انتظامی بے ضابطگیاں اور معیارِ تعلیم کی گرتی ہوئی صورتِ حال نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اقلیتی تعلیمی اداروں کے قیام کا مقصد کسی مخصوص خاندان، گروہ یا چند افراد کے معاشی مفادات کا تحفظ ہرگز نہیں تھا بلکہ پوری اقلیتی برادری کے تعلیمی، سماجی اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ ان اداروں کو حکومت کی جانب سے مختلف شکلوں میں مالی امداد، گرانٹس، اساتذہ کی تنخواہیں، طلبہ کے وظائف، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ تعلیم کا معیار بلند ہو۔ افسوس کہ بعض اداروں میں یہ وسائل اپنے حقیقی مقصد کے بجائے محدود مفادات کی نذر ہو رہے ہیں۔
اقرباء پروری: صلاحیت پر رشتے داری کی ترجیح——
کئی اقلیتی تعلیمی اداروں میں تقرریوں کا معیار میرٹ نہیں بلکہ رشتہ داری بن چکا ہے۔ انتظامیہ کے قریبی رشتےدار، اولاد،عزیز، دوست یا وفادار افراد خواہ تدریسی صلاحیت سے محروم ہوں، اہم عہدوں پر فائز کر دیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً اہل، تجربہ کار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدوار نظر انداز ہو جاتے ہیں جبکہ طلبہ معیاری تدریس سے محروم رہتے ہیں۔
تعلیم میں سب سے زیادہ نقصان اس وقت ہوتا ہے جب استاد خود مطلوبہ علمی قابلیت، تدریسی مہارت اور جدید تعلیمی رجحانات سے ناواقف ہو۔ ایسے ماحول میں ادارہ عمارت تو رہ جاتا ہے مگر تعلیمی روح ختم ہو جاتی ہے۔

کم اجرت پر عارضی اساتذہ۔
بعض اداروں میں اخراجات کم کرنے کے لیے مستقل اور تربیت یافتہ اساتذہ کے بجائے نہایت کم تنخواہوں پر عارضی یا کنٹریکٹ اساتذہ مقرر کیے جاتے ہیں۔ یہ اساتذہ معاشی عدم استحکام کا شکار رہتے ہیں، جس سے ان کی تدریسی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔کم تنخواہ، ملازمت کا عدم تحفظ اور ہر وقت برطرفی کا خوف ایک معلم کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے۔ جب استاد خود ذہنی دباؤ میں ہو تو وہ طلبہ کی شخصیت سازی اور علمی تربیت کس طرح مؤثر انداز میں کر سکتا ہے؟
اساتذہ کی مالی اور ذہنی ہراسانی——-
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اداروں میں اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر، غیر ضروری کٹوتیوں، اضافی کام کے بوجھ، انتظامیہ کے دباؤ اور ذہنی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اختلافِ رائے رکھنے والے اساتذہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ خوشامد کرنے والوں کو مراعات دی جاتی ہیں۔ایسا ماحول نہ صرف تدریسی معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ علمی آزادی، تحقیق اور مثبت سوچ کو بھی ختم کر دیتا ہے۔
تعلیمی ماحول اور نظم و ضبط—–
کسی بھی تعلیمی ادارے کی شناخت صرف نتائج سے نہیں بلکہ اس کے ماحول، نظم و ضبط، اخلاقی اقدار اور تعلیمی ثقافت سے ہوتی ہے۔ افسوس کہ بعض اقلیتی اداروں میں نہ مؤثر نگرانی ہوتی ہے، نہ وقت کی پابندی، نہ تدریسی منصوبہ بندی اور نہ ہی طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر توجہ دی جاتی ہے۔اساتذہ کی غیر حاضری، کلاسوں کا بے قاعدہ انعقاد اور انتظامی بے توجہی طلبہ کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔

صفائی اور بنیادی سہولیات —-
تعلیم کے لیے صحت مند ماحول ناگزیر ہے، مگر کئی اداروں میں صفائی، پینے کے صاف پانی، بیت الخلاء، لائبریری، لیبارٹری، کھیل کے میدان اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں معیاری تعلیم کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے۔
عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کی ضرورت——
آج کا دور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سمارٹ کلاس روم، آن لائن تعلیم، تحقیق، اختراع اور ہنرمندی کا دور ہے۔ لیکن متعدد اقلیتی ادارے ابھی تک روایتی اندازِ تعلیم سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ کمپیوٹر لیب، ڈیجیٹل لائبریری، سائنسی تجربہ گاہیں، زبانوں کی تربیت اور پیشہ ورانہ کورسز کی کمی طلبہ کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے دور کر رہی ہے۔
تعلیمی وسائل کا بحران—–
اگرچہ کئی اداروں کو حکومتی امداد حاصل ہوتی ہے، لیکن مالی وسائل کی شفاف منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث اس کے ثمرات طلبہ تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتے۔ جدید آلات، معیاری کتب، تربیتی پروگرام، تحقیق اور اختراعی سرگرمیوں پر خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی۔
احتساب کا فقدان——

بعض اقلیتی تعلیمی اداروں میں داخلی احتساب کا مؤثر نظام موجود نہیں ہوتا۔ انتظامی فیصلوں میں شفافیت کی کمی، مالی معاملات کی غیر واضح صورت حال اور والدین و سماج کی محدود شمولیت مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اداروں کے نظم و نسق میں جواب دہی کا مضبوط نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اصلاح کی راہیں۔-
ان مسائل کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ سنجیدگی سے اصلاحات نافذ کی جائیں۔تمام تقرریاں صرف میرٹ، قابلیت اور شفاف انتخابی عمل کے ذریعے ہوں۔اقرباء پروری اور ذاتی مفادات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔اساتذہ کو مناسب تنخواہ، ملازمت کا تحفظ اور باوقار ماحول فراہم کیا جائے۔جدید تعلیمی ٹیکنالوجی، تحقیق اور ہنرمندی پر سرمایہ کاری کی جائے۔صفائی، بنیادی سہولیات اور نظم و ضبط کو اولین ترجیح دی جائے۔مالی معاملات میں مکمل شفافیت اور باقاعدہ آڈٹ کو یقینی بنایا جائے۔والدین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی نمائندوں کی نگرانی کو فروغ دیا جائے۔اساتذہ کی مسلسل تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگرام منعقد کیے جائیں۔
اقلیتی تعلیمی ادارے پوری برادری کی امیدوں کا سرمایہ ہیں۔ اگر یہ ادارے اقرباء پروری، اقربا نوازی، غیر شفاف انتظام اور کمزور تعلیمی معیار کا شکار ہو جائیں تو سب سے بڑا نقصان خود اقلیتی معاشرے کو ہوتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ان اداروں کو شخصیات نہیں بلکہ اصولوں کے مطابق چلایا جائے، رشتوں کے بجائے صلاحیت کو ترجیح دی جائے، اور تعلیم کو حقیقی معنوں میں عبادت، خدمت اور قوم کی تعمیر کا ذریعہ بنایا جائے۔
تعلیم ایک امانت ہے۔ اس امانت میں خیانت نہ صرف آنے والی نسلوں کے مستقبل سے ناانصافی ہے بلکہ آئین کی اس روح سے بھی انحراف ہے جس نے اقلیتی تعلیمی اداروں کو خصوصی تحفظ اسی لیے دیا تھا کہ وہ علم، کردار، مساوات اور قومی ترقی کے مراکز بن سکیں، نہ کہ خاندانی مفادات کے قلعے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

تازہ ترین خبریں

ڈوڈہ اور کشتواڑ کے اکثر علاقوں میں زبردست بارش کے بعد اسکول بند

ڈوڈہ، ۲۹ جولائی مسلسل جاری موصلادھار بارش اور خراب موسمی...

کھریو میں سالانہ ماتا جوالا جی میلہ عقیدت و احترام کے ساتھ منعقد

جنگ نیوز پلوامہ/: جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے کھریو...

جنتَر منتَر بیان پر محبوبہ مفتی کا اظہارِ افسوس، ’’زبان پھسل گئی، معذرت خواہ ہوں‘‘

نیوز ڈیسک سرینگر/پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

بارہمولہ میں خاتون سے مبینہ اجتماعی زیادتی کےالزام میں دو افراد گرفتار

جنگ نیوز بارہمولہ/ شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں پولیس...

اقلیتی تعلیمی اداروں میں اقرباء پروری: تعلیم کے مقدس مقصد سے انحراف

 

 

محمد مسلم کبیر

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی، شعور اور تہذیبی ارتقاء کا بنیادی ستون ہے۔ ہندوستان کے آئین نے مذہبی اور لسانی اقلیتوں کو یہ حق دیا ہے کہ وہ اپنی تہذیب، زبان اور تشخص کے تحفظ کے لیے اپنے تعلیمی ادارے قائم کریں اور ان کا انتظام و انصرام خود سنبھالیں۔ اس آئینی حق کا مقصد یہ تھا کہ اقلیتیں معیاری تعلیم کے ذریعے اپنی نئی نسل کو بااختیار بنائیں، تعلیمی پسماندگی دور کریں اور قومی دھارے میں باوقار مقام حاصل کریں۔

بدقسمتی سے آج ملک کے متعدد اقلیتی تعلیمی ادارے اپنے اصل مقاصد سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ جہاں ان اداروں کو علم و کردار کا مرکز ہونا چاہیے تھا، وہاں بعض جگہوں پر اقرباء پروری، شخصی مفادات، انتظامی بے ضابطگیاں اور معیارِ تعلیم کی گرتی ہوئی صورتِ حال نے سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اقلیتی تعلیمی اداروں کے قیام کا مقصد کسی مخصوص خاندان، گروہ یا چند افراد کے معاشی مفادات کا تحفظ ہرگز نہیں تھا بلکہ پوری اقلیتی برادری کے تعلیمی، سماجی اور معاشی استحکام کو یقینی بنانا تھا۔ ان اداروں کو حکومت کی جانب سے مختلف شکلوں میں مالی امداد، گرانٹس، اساتذہ کی تنخواہیں، طلبہ کے وظائف، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں تاکہ تعلیم کا معیار بلند ہو۔ افسوس کہ بعض اداروں میں یہ وسائل اپنے حقیقی مقصد کے بجائے محدود مفادات کی نذر ہو رہے ہیں۔
اقرباء پروری: صلاحیت پر رشتے داری کی ترجیح——
کئی اقلیتی تعلیمی اداروں میں تقرریوں کا معیار میرٹ نہیں بلکہ رشتہ داری بن چکا ہے۔ انتظامیہ کے قریبی رشتےدار، اولاد،عزیز، دوست یا وفادار افراد خواہ تدریسی صلاحیت سے محروم ہوں، اہم عہدوں پر فائز کر دیے جاتے ہیں۔ نتیجتاً اہل، تجربہ کار اور اعلیٰ تعلیم یافتہ امیدوار نظر انداز ہو جاتے ہیں جبکہ طلبہ معیاری تدریس سے محروم رہتے ہیں۔
تعلیم میں سب سے زیادہ نقصان اس وقت ہوتا ہے جب استاد خود مطلوبہ علمی قابلیت، تدریسی مہارت اور جدید تعلیمی رجحانات سے ناواقف ہو۔ ایسے ماحول میں ادارہ عمارت تو رہ جاتا ہے مگر تعلیمی روح ختم ہو جاتی ہے۔

کم اجرت پر عارضی اساتذہ۔
بعض اداروں میں اخراجات کم کرنے کے لیے مستقل اور تربیت یافتہ اساتذہ کے بجائے نہایت کم تنخواہوں پر عارضی یا کنٹریکٹ اساتذہ مقرر کیے جاتے ہیں۔ یہ اساتذہ معاشی عدم استحکام کا شکار رہتے ہیں، جس سے ان کی تدریسی کارکردگی بھی متاثر ہوتی ہے۔کم تنخواہ، ملازمت کا عدم تحفظ اور ہر وقت برطرفی کا خوف ایک معلم کی عزتِ نفس کو مجروح کرتا ہے۔ جب استاد خود ذہنی دباؤ میں ہو تو وہ طلبہ کی شخصیت سازی اور علمی تربیت کس طرح مؤثر انداز میں کر سکتا ہے؟
اساتذہ کی مالی اور ذہنی ہراسانی——-
یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض اداروں میں اساتذہ کو تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر، غیر ضروری کٹوتیوں، اضافی کام کے بوجھ، انتظامیہ کے دباؤ اور ذہنی ہراسانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اختلافِ رائے رکھنے والے اساتذہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے جبکہ خوشامد کرنے والوں کو مراعات دی جاتی ہیں۔ایسا ماحول نہ صرف تدریسی معیار کو متاثر کرتا ہے بلکہ علمی آزادی، تحقیق اور مثبت سوچ کو بھی ختم کر دیتا ہے۔
تعلیمی ماحول اور نظم و ضبط—–
کسی بھی تعلیمی ادارے کی شناخت صرف نتائج سے نہیں بلکہ اس کے ماحول، نظم و ضبط، اخلاقی اقدار اور تعلیمی ثقافت سے ہوتی ہے۔ افسوس کہ بعض اقلیتی اداروں میں نہ مؤثر نگرانی ہوتی ہے، نہ وقت کی پابندی، نہ تدریسی منصوبہ بندی اور نہ ہی طلبہ کی ہمہ جہت شخصیت سازی پر توجہ دی جاتی ہے۔اساتذہ کی غیر حاضری، کلاسوں کا بے قاعدہ انعقاد اور انتظامی بے توجہی طلبہ کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔

صفائی اور بنیادی سہولیات —-
تعلیم کے لیے صحت مند ماحول ناگزیر ہے، مگر کئی اداروں میں صفائی، پینے کے صاف پانی، بیت الخلاء، لائبریری، لیبارٹری، کھیل کے میدان اور دیگر بنیادی سہولیات کا فقدان پایا جاتا ہے۔ ایسے حالات میں معیاری تعلیم کا تصور ادھورا رہ جاتا ہے۔
عصری تقاضوں سے ہم آہنگی کی ضرورت——
آج کا دور مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، سمارٹ کلاس روم، آن لائن تعلیم، تحقیق، اختراع اور ہنرمندی کا دور ہے۔ لیکن متعدد اقلیتی ادارے ابھی تک روایتی اندازِ تعلیم سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ کمپیوٹر لیب، ڈیجیٹل لائبریری، سائنسی تجربہ گاہیں، زبانوں کی تربیت اور پیشہ ورانہ کورسز کی کمی طلبہ کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے دور کر رہی ہے۔
تعلیمی وسائل کا بحران—–
اگرچہ کئی اداروں کو حکومتی امداد حاصل ہوتی ہے، لیکن مالی وسائل کی شفاف منصوبہ بندی نہ ہونے کے باعث اس کے ثمرات طلبہ تک پوری طرح نہیں پہنچ پاتے۔ جدید آلات، معیاری کتب، تربیتی پروگرام، تحقیق اور اختراعی سرگرمیوں پر خاطر خواہ سرمایہ کاری نہیں کی جاتی۔
احتساب کا فقدان——

بعض اقلیتی تعلیمی اداروں میں داخلی احتساب کا مؤثر نظام موجود نہیں ہوتا۔ انتظامی فیصلوں میں شفافیت کی کمی، مالی معاملات کی غیر واضح صورت حال اور والدین و سماج کی محدود شمولیت مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ اداروں کے نظم و نسق میں جواب دہی کا مضبوط نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔
اصلاح کی راہیں۔-
ان مسائل کا حل ممکن ہے، بشرطیکہ سنجیدگی سے اصلاحات نافذ کی جائیں۔تمام تقرریاں صرف میرٹ، قابلیت اور شفاف انتخابی عمل کے ذریعے ہوں۔اقرباء پروری اور ذاتی مفادات کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔اساتذہ کو مناسب تنخواہ، ملازمت کا تحفظ اور باوقار ماحول فراہم کیا جائے۔جدید تعلیمی ٹیکنالوجی، تحقیق اور ہنرمندی پر سرمایہ کاری کی جائے۔صفائی، بنیادی سہولیات اور نظم و ضبط کو اولین ترجیح دی جائے۔مالی معاملات میں مکمل شفافیت اور باقاعدہ آڈٹ کو یقینی بنایا جائے۔والدین، ماہرینِ تعلیم اور سماجی نمائندوں کی نگرانی کو فروغ دیا جائے۔اساتذہ کی مسلسل تربیت اور پیشہ ورانہ ترقی کے پروگرام منعقد کیے جائیں۔
اقلیتی تعلیمی ادارے پوری برادری کی امیدوں کا سرمایہ ہیں۔ اگر یہ ادارے اقرباء پروری، اقربا نوازی، غیر شفاف انتظام اور کمزور تعلیمی معیار کا شکار ہو جائیں تو سب سے بڑا نقصان خود اقلیتی معاشرے کو ہوتا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ان اداروں کو شخصیات نہیں بلکہ اصولوں کے مطابق چلایا جائے، رشتوں کے بجائے صلاحیت کو ترجیح دی جائے، اور تعلیم کو حقیقی معنوں میں عبادت، خدمت اور قوم کی تعمیر کا ذریعہ بنایا جائے۔
تعلیم ایک امانت ہے۔ اس امانت میں خیانت نہ صرف آنے والی نسلوں کے مستقبل سے ناانصافی ہے بلکہ آئین کی اس روح سے بھی انحراف ہے جس نے اقلیتی تعلیمی اداروں کو خصوصی تحفظ اسی لیے دیا تھا کہ وہ علم، کردار، مساوات اور قومی ترقی کے مراکز بن سکیں، نہ کہ خاندانی مفادات کے قلعے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں