
گجیندر سنگھ شیخاوت
مرکزی وزیر
ثقافت و سیاحت
تاریخ عموماً عظیم رہنماؤں کو اُن کی سیاسی جدوجہد کی بنیاد پر یاد رکھتی ہے، لیکن مدبرِ قوم کی سب سے پائیدار خدمات صرف سیاست تک محدود نہیں ہوتیں۔ ان کی حقیقی میراث اُن اداروں، افکار اور اقدار میں مضمر ہوتی ہے جو وہ آنے والی نسلوں کے لئے چھوڑ جاتے ہیں۔ بھارت کیسری ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی 125ویں یومِ پیدائش کے موقع پر یہ مناسب ہوگا کہ ان کی عوامی زندگی کے اُس پہلو پر بھی نظر ڈالی جائے جسے کہیں زیادہ توجہ ملنی چاہیے، یعنی قوم کی تعمیر کی بنیاد کے طور پر ادارہ سازی سے ان کی عمر بھر کی وابستگی۔
آزاد بھارت صرف ایک سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں وجود میں نہیں آیا تھا، بلکہ اسے ایسے جامعات درکار تھے جو اہل اور باشعور شہری تیار کر سکیں، ایسے تحقیقی ادارے جو سائنسی علم کو آگے بڑھا سکیں، ایسی صنعتیں جو معاشی خود انحصاری کو فروغ دیں، ایسی ثقافتی تنظیمیں جو تہذیبی ورثے کی حفاظت کریں اور ایسے عوامی ادارے جو جمہوری اقدار کی پاسداری کر سکیں۔ ڈاکٹر مکھرجی نے ابتدا ہی میں یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ کسی بھی قوم کا مستقبل صرف دوراندیش قیادت پر نہیں بلکہ ایسے مضبوط اداروں پر منحصر ہوتا ہے جو افراد اور حکومتوں سے آگے بڑھ کر بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔
ان کا شاندار تعلیمی سفر اسی یقین کا مظہر تھا۔ جب انہیں کلکتہ یونیورسٹی کا سب سے کم عمر وائس چانسلر مقرر کیا گیا تو اس وقت اعلیٰ تعلیم بھارت کی فکری بیداری میں مرکزی حیثیت اختیار کر رہی تھی۔ ان کے نزدیک جامعات محض ڈگریاں دینے والے ادارے نہیں تھیں، بلکہ وہ ایسے مراکز تھے جہاں باشعور، ذمہ دار اور قومی خدمت کے جذبے سے سرشار شہری تیار کیے جاتے ہیں۔ ان کی نظر میں تعلیم، قوم سازی کے وسیع تر مشن سے الگ نہیں تھی بلکہ اسی کا بنیادی ستون تھی۔
سائنس اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے ان کی وابستگی صرف جامعہ تک محدود نہیں رہی۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس، بنگلورو کی کورٹ اور کونسل کے رکن کی حیثیت سے انہوں نے بھارت کے ممتاز ترین سائنسی تحقیقی اداروں میں سے ایک کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1947 میں انہوں نے شعبۂ پاور انجینئرنگ کا سنگِ بنیاد رکھا، کیونکہ وہ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ انجینئرنگ کی تعلیم اور تکنیکی مہارت ایک آزاد بھارت کی معاشی ترقی کے لئے ناگزیر ہوں گی۔ اس دور میں، جب اختراع ابھی حکومتی پالیسی کا مرکزی موضوع نہیں بنی تھی، ڈاکٹر مکھرجی یہ ادراک کر چکے تھے کہ سائنسی برتری اور صنعتی ترقی ہی ملک کی طویل المدت قوت اور خود کفالت کی ضامن ہوں گی۔
آزادی کے بعد ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کے اس ویژن کو عملی صورت اس وقت ملی جب وہ آزاد بھارت کے پہلے وزیرِ صنعت و رسد بنے۔ اُس ابتدائی دور میں نوآزاد ملک کو تقریباً صفر سے اپنی صنعتی بنیاد استوار کرنے جیسے بڑے چیلنج کا سامنا تھا۔ چِترنجن لوکوموٹیو ورکس اور سندری فرٹیلائزر فیکٹری جیسے ادارے صرف پیداواری مراکز کے طور پر قائم نہیں کیے گئے، بلکہ وہ اس عزم کی علامت تھے کہ بھارت تکنیکی مہارت حاصل کرے گا اور معاشی خود انحصاری کی راہ پر گامزن ہوگا۔ ڈاکٹر مکھرجی کے نزدیک صنعت کاری محض ایک مقصد نہیں تھی، بلکہ قومی استعداد، خود اعتمادی اور اجتماعی قوت میں سرمایہ کاری کا ذریعہ تھی۔
تاہم ادارہ سازی صرف عمارتیں کھڑی کرنے یا انتظامی کارکردگی بہتر بنانے کا نام نہیں، بلکہ اس کے لئے ہمدردی، جذبۂ خدمت اور اخلاقی ذمہ داری کا گہرا احساس بھی ضروری ہوتا ہے۔ یہ اوصاف 1943 کے بنگال کے قحط کے دوران نمایاں طور پر سامنے آئے، جب ڈاکٹر مکھرجی نے بیسویں صدی کے بدترین انسانی المیوں میں سے ایک سے متاثرہ افراد کی امداد کے لئے بڑے پیمانے پر امدادی سرگرمیوں کی قیادت کی۔ تقسیمِ ہند کے بعد بھی انہوں نے بے گھر ہونے والے افراد کی آبادکاری کے لئے بھرپور خدمات انجام دیں، کیونکہ ان کے نزدیک قومی تعمیرِ نو کا مطلب صرف اداروں کی بحالی نہیں بلکہ انسانی دکھوں کا مداوا بھی تھا۔
ان کی عوامی زندگی بھارت کے تہذیبی ورثے سے گہری وابستگی کی بھی آئینہ دار تھی۔ مہا بودھی سوسائٹی آف انڈیا کے صدر کی حیثیت سے انہوں نے بھارت اور بدھ مت سے وابستہ ممالک کے درمیان ثقافتی اور روحانی روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے بھگوان بدھ کے اہم مریدوں، ارہنت سَری پترا اور ارہنت مودگلیایَن کی مقدس باقیات کے بھارت آمد پر ان کے استقبال میں شرکت کی، کیونکہ وہ تہذیبی سفارت کاری کی دیرپا اہمیت سے بخوبی واقف تھے۔ آج بھی بھارت کی جانب سے ان مقدس تبرکات کو منگولیا جیسے ممالک کے ساتھ شیئر کرنے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ثقافتی ورثہ بین الاقوامی خیرسگالی کو فروغ دینے اور تاریخی رشتوں کو مزید مضبوط بنانے کا مؤثر ذریعہ ہے۔
ادب اور علم و تحقیق کے فروغ کے لئے ان کی دلچسپی بھی اسی قدر قابلِ ذکر تھی۔ ان کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے ممتاز شاعر قاضی نذرالاسلام کی ذاتی مشکلات کے دوران ہر ممکن معاونت فراہم کی۔ ایسے واقعات ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ عوامی قیادت کا معیار صرف بڑے پالیسی فیصلوں سے نہیں، بلکہ ان خاموش اور بے لوث انسانی خدمات سے بھی متعین ہوتا ہے جو اکثر عوامی نگاہوں سے اوجھل رہتی ہیں۔
ڈاکٹر مکھرجی نے ادارہ سازی کے اسی نقطۂ نظر کو آئین ساز اسمبلی میں بھی پیشِ نظر رکھا۔ انہوں نے آئین کی تدوین کو ’’ایک عظیم ذمہ داری‘‘ اور ’’ایک سنجیدہ اور مقدس امانت‘‘ قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ آئینی حکمرانی کے ساتھ اخلاقی ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ ان کے یہ الفاظ آج بھی پوری معنویت کے ساتھ ہمارے سامنے ہیں۔ آئین کی اصل قوت صرف اس کی تحریری دفعات میں نہیں، بلکہ پارلیمنٹ کے وقار، عوامی اداروں کی خودمختاری، قانون کی بالادستی اور شہریوں کے ذمہ دارانہ طرزِ عمل میں مضمر ہے۔ آئینی جمہوریت اسی وقت پھلتی پھولتی ہے جب ریاستی ادارے عوام کا اعتماد حاصل کریں اور دیانت داری و شفافیت کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیں۔
جوں جوں بھارت ایک ترقی یافتہ ملک بننے کے ہدف کی جانب پیش قدمی کر رہا ہے، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کا ویژن ہمیں ایک اہم حقیقت کی یاد دلاتا ہے کہ صرف معاشی ترقی ہی قومی پیش رفت کا معیار نہیں ہو سکتی۔ پائیدار ترقی کے لئے تعلیم، سائنسی تحقیق، تکنیکی اختراع، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور ایسے مضبوط اداروں میں مسلسل سرمایہ کاری ناگزیر ہے جو عوام کے اعتماد کو مضبوط بنائیں۔
سڑکیں، ہوائی اڈے اور کارخانے یقیناً قومی ترقی کے لئے ضروری ہیں، لیکن اسی طرح ایسی جامعات بھی ناگزیر ہیں جو تحقیق و جستجو کی حوصلہ افزائی کریں، ایسی تجربہ گاہیں جو علم کی نئی سرحدیں دریافت کریں، ایسے عجائب گھر جو تہذیبی ورثے کی حفاظت کریں اور ایسے عوامی ادارے جو آئینی اقدار کے محافظ ہوں۔
اداروں کی ایک غیر معمولی خصوصیت یہ ہے کہ وہ حکومتوں، سیاسی تحریکوں اور حتیٰ کہ نسلوں سے بھی زیادہ دیرپا ثابت ہوتے ہیں۔ وہ اجتماعی علم و تجربے کو محفوظ رکھتے ہیں، بدلتے ہوئے حالات میں تسلسل برقرار رکھتے ہیں اور معاشروں کو طویل المدت قومی مقاصد کے حصول کے قابل بناتے ہیں۔ رہنما تاریخ کا رخ موڑ سکتے ہیں، مگر تہذیبوں کو دوام مضبوط ادارے ہی بخشتے ہیں۔
شاید یہی ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی عوامی زندگی کا سب سے پائیدار سبق ہے۔ ان کی میراث صرف ان مَناصب تک محدود نہیں جن پر وہ فائز رہے یا ان مباحث تک جن میں انہوں نے حصہ لیا، بلکہ ان کے اس غیر متزلزل یقین میں مضمر ہے کہ مضبوط ادارے ہی کسی قوم کے خوابوں، امنگوں اور قومی نصب العین کے حقیقی امین ہوتے ہیں۔
بھارت جب اپنی ترقی کے سفر کو مزید آگے بڑھا رہا ہے تو ایسے اداروں کو مضبوط بنان، جو علم، سائنسی مزاج، ثقافتی خود اعتمادی اور آئینی اقدار کو فروغ دیتے ہیں، ڈاکٹر شیاما پرساد مکھرجی کی یاد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا سب سے بامعنی ا
ور مؤثر طریقہ ہوگا۔


