اعلان

 

    مزمل منظور    

"مبارک ہو بلال میاں! آپ کا اخبار ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ لگاتار تین برس تک اتنا بڑا ایوارڈ حاصل کرنا معمولی بات نہیں۔”
ایوارڈ کمیٹی کے چیئرمین، عزیز صاحب نے محبت سے بلال کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ بلال اس خطے کے معروف ترین اخبار "اعلان” کا مدیر اور پبلشر تھا۔ اس کی مسلسل کامیابی پر پوری صحافتی برادری نے اسے مبارک باد پیش کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلال نے اپنی کامیابی کا راز بھی سب پر آشکار کر دیا اور یہ اعلان کیا کہ اس اخبار کی بنیاد اس کے والد نے چالیس برس قبل رکھی تھی، اور یہ کہ اخلاص، محنت اور استقامت ہی انسان کو دوام بخشتی ہے۔
مگر کامیابی ہمیشہ داد کے ساتھ حسد بھی جنم دیتی ہے۔ کئی عمر رسیدہ اور تجربہ کار صحافی، جو اپنی صحافت کو حرفِ آخر سمجھتے تھے، بلال کی اس غیر معمولی کامیابی سے اندر ہی اندر سلگ اٹھے۔ ان کے لیے یہ بات ناقابلِ فہم تھی کہ ایک نوجوان صحافی ان کی موجودگی میں مسلسل تین سال تک اس اعزاز کا مستحق کیسے قرار پا سکتا ہے۔
اسی دوران ایک باوقار صحافی، جن کے چہرے سے دانشوری جھلک رہی تھی، ہاتھ میں جوس کا گلاس لیے بلال کے قریب آئے۔ مبارک باد دینے کے بعد گویا ہوئے:”بلال! اب جبکہ تمہارا اخبار اپنی شناخت قائم کر چکا ہے، کیوں نہ اس کی اشاعت اور انتظام کسی سینئر صحافی کے سپرد کر دو؟ اس سے اخبار مزید وسعت اختیار کرے گا اور تمہیں بھی لکھنے اور دیگر امور کے لیے زیادہ وقت مل جائے گا۔”

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد چیئرمین عزیز صاحب نے بھی اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا:”جناب نے نہایت معقول مشورہ دیا ہے۔”
کامیابی کے سرور میں ڈوبا ہوا بلال فوراً آمادہ ہو گیا، اور یوں اخبار "اعلان” کی اشاعتی ذمہ داری ایک سینئر صحافی کے سپرد کر دی گئی۔
چند ہی دنوں بعد بلال نے خود کو اس اطمینان میں مبتلا کر لیا کہ اب اخبار محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اس نے دفتر آنا کم کر دیا۔ صبح اخبار پر ایک سرسری نظر ڈال لینا ہی اس کے لیے کافی تھا۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ اب نہ زیادہ فکر باقی رہی ہے اور نہ ہی مسلسل نگرانی کی ضرورت۔ رفتہ رفتہ وہ اخبار سے دور اور اپنی ذاتی زندگی میں زیادہ مصروف ہوتا گیا۔ اشاعت سے تقسیم تک تمام اختیارات اب کسی اور کے ہاتھوں میں تھے، اور دیکھتے ہی دیکھتے دو برس گزر گئے۔
ایک روز فیس بک پر اس کی نظر ایک تحریر پر پڑی، جس میں لکھا تھا:”یہ اخبار اب اخبار نہیں رہا، بلکہ ایک شخص کی ذاتی ڈائری بن چکا ہے، جہاں ہر روز خواہشات، تعصبات اور پروپیگنڈے کو خبر کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔”
یہ جملے بلال کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئے۔ اس نے اسی رات اپنے ایڈیٹر کو فون کیا، مگر جواب نہ ملا۔ اگلی صبح وہ سیدھا دفتر پہنچا اور اخبار کا تازہ شمارہ منگوایا۔ چند صفحات پلٹتے ہی اس کی آنکھوں سے خوش فہمی کا پردہ اٹھ گیا۔ فیس بک پر لکھی گئی بات محض الزام نہیں، بلکہ تلخ حقیقت تھی۔ مزید شماروں کا جائزہ لینے پر واضح ہو گیا کہ "اعلان” اپنی غیر جانبداری، وقار اور معیار، تینوں کھو چکا تھا۔ غیر ضروری، اشتعال انگیز اور پروپیگنڈا پر مبنی مواد نے صحافت کی جگہ لے لی تھی۔
بلال لرزتے ہاتھوں سے اخبارات سمیٹ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کے والد کا خواب اس کی آنکھوں کے سامنے ریزہ ریزہ ہو رہا ہو۔ ایڈیٹر کے بارے میں معلوم کیا گیا تو خبر ملی کہ وہ ایک غیر ملکی صحافی دوست کے ساتھ بیرونِ شہر گیا ہوا ہے۔

بلال نے فوراً تمام ملازمین کا اجلاس طلب کیا۔ پوچھ گچھ کے دوران اسے معلوم ہوا کہ صرف اخبار کی ساکھ ہی نہیں، بلکہ اس کے مالی وسائل اور اثاثے بھی بری طرح نقصان اٹھا چکے تھے۔ اور اگلے ہی روز "اعلان” پر پابندی عائد کر دی گئی، یوں ایک معتبر اخبار خاموشی کے اندھیروں میں دفن ہو گیا۔
بلال: میں اور آپ ہیں؛ جو خواب دیکھتے ہیں، محنت کرتے ہیں، اپنی شناخت قائم کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی اعتماد کی چادر اتنی فراخ کر دیتے ہیں کہ اس میں اپنا سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں۔
ایوارڈ: اکثر ستائش سے زیادہ غفلت کا احساس عطا کرتے ہیں۔ وہ انسان کو اس خوش فہمی میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ منزل آ چکی ہے، حالانکہ سفر ابھی باقی ہوتا ہے۔
چیئرمین ایوارڈ کمیٹی، عزیز صاحب: ہر وہ بااثر شخصیت ہے جس کی بات ہم تحقیق کے بغیر مان لیتے ہیں، جسے اپنا آئیڈیل بنا لیتے ہیں، اور جس کے مشورے کو عقل سے زیادہ اہمیت دے بیٹھتے ہیں۔
سینئر صحافی: وہ ہر شخص ہے جو دوستی کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے قریب آتا ہے، ہمارے راز جانتا ہے، ہماری کمزوریوں کو محفوظ کرتا ہے، ہمارا اعتماد حاصل کرتا ہے، اور پھر اسی اعتماد کو ہمارے خلاف استعمال کر کے ہماری بنیادیں ہلا دیتا ہے۔
لہٰذا، ہر "اعلان” سوچ سمجھ کر کیجیے، کیونکہ بعض اوقات ایک لمحے کا اعلان، برسوں کی محنت کو خاموشی میں دفن کر دیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

تازہ ترین خبریں

احتجاج، جمہوریت اور ریاستی ردعمل

حیات اندرابی پلوامہ، کشمیر دنیا کی جدید جمہوریتوں میں عوامی احتجاج...

امریکہ-اسرائیل تعلقات اور مشرقی وسطیٰ کا نیا منظرنامہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین...

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشنگوئی

  اگلے 2 سے 4 گھنٹوں کے دوران جنوبی کشمیر...

زلزلے کے شدید جھٹکے، شدت 7.1 ریکارڈ، سونامی کی وارننگ جاری

ٹوکیو: جاپان کے جنوبی جزیرے کیوشو میں منگل کے روز...

اعلان

 

    مزمل منظور    

"مبارک ہو بلال میاں! آپ کا اخبار ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ لگاتار تین برس تک اتنا بڑا ایوارڈ حاصل کرنا معمولی بات نہیں۔”
ایوارڈ کمیٹی کے چیئرمین، عزیز صاحب نے محبت سے بلال کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے کہا۔ بلال اس خطے کے معروف ترین اخبار "اعلان” کا مدیر اور پبلشر تھا۔ اس کی مسلسل کامیابی پر پوری صحافتی برادری نے اسے مبارک باد پیش کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلال نے اپنی کامیابی کا راز بھی سب پر آشکار کر دیا اور یہ اعلان کیا کہ اس اخبار کی بنیاد اس کے والد نے چالیس برس قبل رکھی تھی، اور یہ کہ اخلاص، محنت اور استقامت ہی انسان کو دوام بخشتی ہے۔
مگر کامیابی ہمیشہ داد کے ساتھ حسد بھی جنم دیتی ہے۔ کئی عمر رسیدہ اور تجربہ کار صحافی، جو اپنی صحافت کو حرفِ آخر سمجھتے تھے، بلال کی اس غیر معمولی کامیابی سے اندر ہی اندر سلگ اٹھے۔ ان کے لیے یہ بات ناقابلِ فہم تھی کہ ایک نوجوان صحافی ان کی موجودگی میں مسلسل تین سال تک اس اعزاز کا مستحق کیسے قرار پا سکتا ہے۔
اسی دوران ایک باوقار صحافی، جن کے چہرے سے دانشوری جھلک رہی تھی، ہاتھ میں جوس کا گلاس لیے بلال کے قریب آئے۔ مبارک باد دینے کے بعد گویا ہوئے:”بلال! اب جبکہ تمہارا اخبار اپنی شناخت قائم کر چکا ہے، کیوں نہ اس کی اشاعت اور انتظام کسی سینئر صحافی کے سپرد کر دو؟ اس سے اخبار مزید وسعت اختیار کرے گا اور تمہیں بھی لکھنے اور دیگر امور کے لیے زیادہ وقت مل جائے گا۔”

چند لمحوں کی خاموشی کے بعد چیئرمین عزیز صاحب نے بھی اس تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا:”جناب نے نہایت معقول مشورہ دیا ہے۔”
کامیابی کے سرور میں ڈوبا ہوا بلال فوراً آمادہ ہو گیا، اور یوں اخبار "اعلان” کی اشاعتی ذمہ داری ایک سینئر صحافی کے سپرد کر دی گئی۔
چند ہی دنوں بعد بلال نے خود کو اس اطمینان میں مبتلا کر لیا کہ اب اخبار محفوظ ہاتھوں میں ہے۔ اس نے دفتر آنا کم کر دیا۔ صبح اخبار پر ایک سرسری نظر ڈال لینا ہی اس کے لیے کافی تھا۔ اسے محسوس ہونے لگا کہ اب نہ زیادہ فکر باقی رہی ہے اور نہ ہی مسلسل نگرانی کی ضرورت۔ رفتہ رفتہ وہ اخبار سے دور اور اپنی ذاتی زندگی میں زیادہ مصروف ہوتا گیا۔ اشاعت سے تقسیم تک تمام اختیارات اب کسی اور کے ہاتھوں میں تھے، اور دیکھتے ہی دیکھتے دو برس گزر گئے۔
ایک روز فیس بک پر اس کی نظر ایک تحریر پر پڑی، جس میں لکھا تھا:”یہ اخبار اب اخبار نہیں رہا، بلکہ ایک شخص کی ذاتی ڈائری بن چکا ہے، جہاں ہر روز خواہشات، تعصبات اور پروپیگنڈے کو خبر کا لبادہ اوڑھا کر پیش کیا جاتا ہے۔”
یہ جملے بلال کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئے۔ اس نے اسی رات اپنے ایڈیٹر کو فون کیا، مگر جواب نہ ملا۔ اگلی صبح وہ سیدھا دفتر پہنچا اور اخبار کا تازہ شمارہ منگوایا۔ چند صفحات پلٹتے ہی اس کی آنکھوں سے خوش فہمی کا پردہ اٹھ گیا۔ فیس بک پر لکھی گئی بات محض الزام نہیں، بلکہ تلخ حقیقت تھی۔ مزید شماروں کا جائزہ لینے پر واضح ہو گیا کہ "اعلان” اپنی غیر جانبداری، وقار اور معیار، تینوں کھو چکا تھا۔ غیر ضروری، اشتعال انگیز اور پروپیگنڈا پر مبنی مواد نے صحافت کی جگہ لے لی تھی۔
بلال لرزتے ہاتھوں سے اخبارات سمیٹ کر کرسی پر بیٹھ گیا۔ اسے محسوس ہوا جیسے اس کے والد کا خواب اس کی آنکھوں کے سامنے ریزہ ریزہ ہو رہا ہو۔ ایڈیٹر کے بارے میں معلوم کیا گیا تو خبر ملی کہ وہ ایک غیر ملکی صحافی دوست کے ساتھ بیرونِ شہر گیا ہوا ہے۔

بلال نے فوراً تمام ملازمین کا اجلاس طلب کیا۔ پوچھ گچھ کے دوران اسے معلوم ہوا کہ صرف اخبار کی ساکھ ہی نہیں، بلکہ اس کے مالی وسائل اور اثاثے بھی بری طرح نقصان اٹھا چکے تھے۔ اور اگلے ہی روز "اعلان” پر پابندی عائد کر دی گئی، یوں ایک معتبر اخبار خاموشی کے اندھیروں میں دفن ہو گیا۔
بلال: میں اور آپ ہیں؛ جو خواب دیکھتے ہیں، محنت کرتے ہیں، اپنی شناخت قائم کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی اعتماد کی چادر اتنی فراخ کر دیتے ہیں کہ اس میں اپنا سب کچھ کھو بیٹھتے ہیں۔
ایوارڈ: اکثر ستائش سے زیادہ غفلت کا احساس عطا کرتے ہیں۔ وہ انسان کو اس خوش فہمی میں مبتلا کر دیتے ہیں کہ منزل آ چکی ہے، حالانکہ سفر ابھی باقی ہوتا ہے۔
چیئرمین ایوارڈ کمیٹی، عزیز صاحب: ہر وہ بااثر شخصیت ہے جس کی بات ہم تحقیق کے بغیر مان لیتے ہیں، جسے اپنا آئیڈیل بنا لیتے ہیں، اور جس کے مشورے کو عقل سے زیادہ اہمیت دے بیٹھتے ہیں۔
سینئر صحافی: وہ ہر شخص ہے جو دوستی کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے قریب آتا ہے، ہمارے راز جانتا ہے، ہماری کمزوریوں کو محفوظ کرتا ہے، ہمارا اعتماد حاصل کرتا ہے، اور پھر اسی اعتماد کو ہمارے خلاف استعمال کر کے ہماری بنیادیں ہلا دیتا ہے۔
لہٰذا، ہر "اعلان” سوچ سمجھ کر کیجیے، کیونکہ بعض اوقات ایک لمحے کا اعلان، برسوں کی محنت کو خاموشی میں دفن کر دیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون