
محمد شاہد الاعظمی
ہر صبح جب دروازے پر دستک ہوتی ہے اور تازہ اخبار ہمارے ہاتھوں میں آتا ہے تو بظاہر وہ چند صفحات کا مجموعہ محسوس ہوتا ہے، مگر حقیقت میں ان صفحات کے بین السطور میں ایک پوری دنیا آباد ہوتی ہے۔ کہیں کوئی رپورٹر رات کی تاریکی میں کسی حادثے کی تہہ تک پہنچنے کے لئے سرگرداں ہے، کہیں مدیر ایک لفظ کے انتخاب پر غور کر رہا ہے، کہیں پریس کی مشینیں وقت سے مقابلہ کر رہی ہیں اور کہیں درجنوں کارکن اس فکر میں مصروف ہیں کہ صبح کی پہلی کرن کے ساتھ خبر اپنے قاری تک پہنچ جائے۔ اخبار محض کاغذ اور سیاہی کا نام نہیں بلکہ ایک زندہ تہذیب، تازہ شعور اور متحرک ضمیر کی علامت ہے۔
انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ خبر کی جستجو انسان کی فطرت میں شامل رہی ہے۔ ابتدا میں دھوئیں کے اشارے، نقارے، قاصد اور کبوتروں کے ذریعے اطلاعات پہنچائی جاتی تھیں، پھر کاغذ اور چھاپہ خانے کی ایجاد نے صحافت کو نئی جہت عطا کی۔ اخبار نے فاصلے سمیٹے، افکار کو وسعت دی اور دنیا کو ایک دوسرے کے قریب لا کھڑا کیا۔ آج اگر دنیا ایک عالمی گاؤں معلوم ہوتی ہے تو اس کے پس منظر میں صحافت کی صدیوں پر محیط جدوجہد کارفرما ہے۔
برصغیر میں صحافت کی روایت بھی نہایت تابناک رہی ہے۔ یہاں اخبار صرف اطلاعات کا وسیلہ نہیں رہا بلکہ آزادی کی تحریک، سماجی اصلاح، علمی بیداری اور قومی شعور کا مؤثر ترجمان بھی بنا۔ اس دور کے صحافی قلم کو منصب نہیں بلکہ امانت سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک خبر کسی واقعے کی محض اطلاع نہیں بلکہ تاریخ کے سینے پر ثبت ہونے والی ایک شہادت تھی، اس لئے خبر میں خیانت دراصل قوم سے خیانت کے مترادف سمجھی جاتی تھی۔
خبر کی اصل قدر اس کی تازگی میں نہیں بلکہ اس کی صداقت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔ خبر نئی ضرور ہونی چاہیے، مگر اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ وہ درست، متوازن اور محقق ہو۔ افسوس کہ موجودہ دور میں خبر کی رفتار نے اس کے معیار کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پہلے کسی واقعے کی تصدیق اشاعت سے پہلے ہوتی تھی، مگر اب اکثر اشاعت کے بعد اس کی تردید سامنے آتی ہے۔ یہی تبدیلی صحافت کے وقار کے لئے سب سے بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
صحافت کی دنیا کا ایک مسلمہ اصول ہے کہ "پہلے درست خبر دو، پھر جلدی خبر دو” لیکن آج اکثر اس اصول کو الٹ دیا گیا ہے۔ سب سے پہلے خبر دینے کی دوڑ میں تحقیق، احتیاط اور ذمہ داری پس منظر میں چلی جاتی ہے، حالاں کہ کسی بھی اخبار کی اصل دولت اس کے قارئین کا اعتماد ہوتا ہے، اور اعتماد ایک ایسا سرمایہ ہے جو برسوں کی محنت سے حاصل ہوتا ہے مگر ایک غیر ذمہ دارانہ خبر اسے لمحوں میں مجروح کر سکتی ہے۔
یہ اعتماد محض ایک رپورٹر یا ایک مدیر کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ پورے صحافتی ادارے کی اجتماعی دیانت کا ثمرہ ہوتا ہے۔ شعبۂ ادارت اخبار کا فکری مرکز ہوتا ہے، جہاں خبر کو زبان، ترتیب اور وقار عطا کیا جاتا ہے۔ مدیر صرف الفاظ کی اصلاح نہیں کرتا بلکہ اخبار کی ساکھ اور اس کی ادارتی شناخت کا بھی محافظ ہوتا ہے۔ اسی طرح خبر نگار اس پورے نظام کی آنکھ اور کان ہے، وہ معاشرے کے درمیان رہ کر حقائق جمع کرتا اور انہیں پوری دیانت کے ساتھ ادارتی میز تک پہنچاتا ہے۔ ایک کامیاب رپورٹر وہ نہیں جو سب سے پہلے اطلاع لے آئے، بلکہ وہ ہے جو سب سے پہلے حقیقت تک پہنچے۔ سنسنی پیدا کرنا صحافت نہیں، سچائی تک رسائی ہی صحافت کا اصل جوہر ہے۔
اخبار کی تشکیل میں دوسرے شعبے بھی نہایت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کاروباری شعبہ ادارے کی معاشی بنیاد کو مضبوط کرتا ہے، شعبۂ طباعت خبر کو بروقت قاری تک پہنچانے کی ذمہ داری نبھاتا ہے اور شعبۂ اشتہارات مالی استحکام فراہم کرتا ہے۔ لیکن جب اشتہار خبر پر غالب آنے لگے، تجارتی مفاد عوامی مفاد پر حاوی ہو جائے اور مالی دباؤ ادارتی فیصلوں کو متاثر کرنے لگے تو صحافت اپنے بنیادی منصب سے دور ہونے لگتی ہے۔ ایک باوقار اخبار وہی ہے جو معاشی ضروریات کے باوجود اپنی ادارتی آزادی اور غیر جانب داری کو ہر قیمت پر محفوظ رکھے۔
حقیقت یہ ہے کہ اخبار صرف خبروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک زندہ درس گاہ بھی ہے۔ اس کے اداریے، مضامین، کالم اور مختلف علمی و سماجی صفحات روزانہ لاکھوں ذہنوں کی تشکیل میں حصہ لیتے ہیں۔ اسی لئے صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، کیونکہ اس کی ذمہ داری صرف اطلاع دینا نہیں بلکہ شعور کو بیدار کرنا بھی ہے۔
مگر آج سب سے اہم سوال یہی ہے کہ کیا ہماری صحافت اب بھی اسی امانت اور دیانت کی پاس دار ہے جس پر اس کی بنیاد رکھی گئی تھی؟ کیا خبر آج بھی عوام کے حقِ آگہی کی ترجمان ہے یا محض ریٹنگ، اشتہارات اور سوشل میڈیا کی مقبولیت کے تابع ایک تجارتی جنس بنتی جا رہی ہے؟ یہی وہ سوال ہے جس کے جواب میں عصرِ حاضر کی صحافت کے بحران اور خبر کی حرمت کی پوری داستان پوشیدہ ہے۔
اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر "خبر” ہے کیا؟
بظاہر اس کا جواب آسان معلوم ہوتا ہے، لیکن صحافت کے ماہرین آج تک اس کی ایسی جامع تعریف پر متفق نہیں ہو سکے جو ہر پہلو کا احاطہ کرتی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر واقعہ خبر نہیں بنتا۔ خبر وہی ہوتی ہے جس میں تازگی، صداقت، معنویت، عوامی دلچسپی اور معاشرتی اثر پذیری جمع ہو جائیں۔ کسی حادثے، فیصلے، دریافت یا تبدیلی کی اطلاع اس وقت خبر بنتی ہے جب اس کا تعلق عوام کے حقِ آگہی سے ہو اور وہ ان کے فہم و شعور پر اثر انداز ہوتی ہو۔
اسی لئے کہا گیا ہے کہ خبر وہ نہیں جسے لوگ سننا چاہتے ہیں، خبر وہ ہے جسے جاننا ان کے لئے ضروری ہو۔ یہی اصول صحافت کو محض تفریح، تشہیر یا کاروبار سے ممتاز کرتا ہے۔ خبر کا مقصد جذبات بھڑکانا نہیں بلکہ حقیقت کو بے کم و کاست عوام کے سامنے رکھنا ہے۔
اسی بنیاد پر خبر نگاری کا سب سے اہم اصول "معروضیت” قرار دیا گیا ہے۔ ایک ذمہ دار صحافی نہ اپنی پسند و ناپسند کو خبر بناتا ہے، نہ قیاس آرائی کو حقیقت کا درجہ دیتا ہے اور نہ ہی ذاتی یا گروہی وابستگی کو اپنے قلم پر حاوی ہونے دیتا ہے۔ اس کی پہلی اور آخری وفاداری صرف سچ کے ساتھ ہوتی ہے۔ صحافت کی اصل عظمت بھی یہی ہے کہ وہ اقتدار کے ایوانوں سے سوال کرنے کا حوصلہ رکھتی ہے اور عام آدمی کی آواز کو بھی اسی اہمیت کے ساتھ جگہ دیتی ہے۔
صحافتی اخلاقیات بھی اسی ذمہ داری کا دوسرا نام ہیں۔ کسی فرد یا ادارے کی عزت کو غیر مصدقہ اطلاعات کی بنیاد پر مجروح کرنا، سنسنی خیزی کے لئے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا یا اختلاف کو دشمنی کا رنگ دینا صحافت نہیں بلکہ اس کی روح سے انحراف ہے۔ ایک غلط خبر برسوں کی ساکھ کو چند لمحوں میں نقصان پہنچا سکتی ہے، جب کہ بعد کی وضاحت یا تردید اکثر اس نقصان کا پورا ازالہ نہیں کر پاتی۔ اسی لئے ذمہ دار صحافت میں رفتار پر نہیں بلکہ تحقیق اور احتیاط پر زور دیا جاتا ہے۔
عصرِ حاضر میں صحافت کو جن آزمائشوں کا سامنا ہے، ان میں سوشل میڈیا سب سے نمایاں ہے۔ اس نے خبر رسانی کو غیر معمولی رفتار عطا کی ہے، لیکن اسی رفتار نے تصدیق، تحقیق اور احتیاط کی روایت کو بھی کمزور کیا ہے۔ آج ہر موبائل فون ایک چھوٹا سا نیوز روم بن چکا ہے، مگر اطلاع پہنچانا اور صحافت کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ صحافت صرف خبر نشر کرنے کا نام نہیں بلکہ اس خبر کی صحت، اس کے نتائج اور اس کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنے کا نام ہے۔
مصنوعی ذہانت نے بھی صحافت کے میدان میں نئے امکانات پیدا کیے ہیں۔ خبریں مرتب کرنا، ترجمہ کرنا، تصویریں اور ویڈیوز تیار کرنا پہلے سے کہیں زیادہ آسان ہو گیا ہے، لیکن کوئی بھی مشین انسانی ضمیر، اخلاقی بصیرت اور زمینی تحقیق کی جگہ نہیں لے سکتی۔ ٹیکنالوجی صحافی کی معاون بن سکتی ہے، اس کا نعم البدل نہیں۔ مستقبل کی صحافت کا انحصار مشینوں سے زیادہ انسانی دیانت پر ہوگا۔
تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے آزاد، ذمہ دار اور باوقار صحافت کو زندہ رکھا، وہاں جمہوریت مضبوط ہوئی، انصاف کو تقویت ملی اور عوامی شعور نے ارتقا پایا۔ اس کے برعکس جہاں خبر کو مفاد کا تابع بنا دیا گیا اور قلم کی آزادی محدود ہوئی، وہاں فکری جمود، اخلاقی انحطاط اور سماجی بے اعتمادی نے جنم لیا۔ اس لئے صحافت کی آزادی صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کی فکری صحت کا ضامن ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صحافت اپنی اصل اقدار کی طرف لوٹے، خبر کو مقابلۂ رفتار نہیں بلکہ معیارِ صداقت کا میدان بنائے، تحقیق کو روایت، دیانت کو شعار، اختلاف کو تہذیب اور عوامی مفاد کو ہر قسم کے سیاسی، گروہی اور تجارتی مفادات پر مقدم رکھے۔ یہی وہ راستہ ہے جو صحافت کو دوبارہ اس کے حقیقی وقار سے ہم کنار کر سکتا ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ "خبر محض چند سطروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے۔” اس کی حرمت اسی وقت محفوظ رہ سکتی ہے جب قلم اپنی آزادی کے ساتھ اپنی جواب دہی کو بھی ہمیشہ یاد رکھے۔ صحافت کی اصل طاقت اس کے شور میں نہیں، اس کے اعتبار میں ہے، اور خبر کی عظمت اس کی کثرت میں نہیں، اس کی صداقت میں۔ جب تک خبر کو امانت سمجھ کر لکھا جاتا رہے گا، صحافت معاشرے کا روشن چراغ بنی رہے گی، اور جس دن خبر بازار کی جنس بن گئی، اس دن اخبار کے صفحات تو باقی رہ جائیں گے مگر ان کی روشنی مدھم پڑ جائے گی۔


