ای-جاگرتی: ڈیجیٹل بھارت کے لئے صارفین کے انصاف کے نظام کی ازسرنو تشکیل

 

پرہلاد جوشی

انصاف میں تاخیر، بھارتی صارفین کے لئے ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ چاہے معاملہ خراب مصنوعات کا ہو، آن لائن خریدی گئی چیز کی ڈیلیوری نہ ہونا ہویا کسی غیر منصفانہ خدمات معاہدے کا ہو۔ شکایت درج کرانے سے لے کر اس کا حل حاصل کرنے تک کا سفر اکثر بہت سست، پیچیدہ اور پریشان کن رہا ہے۔ اگرچہ بھارت میں صارفین کے تحفظ کا نظام وقت کے ساتھ بہتر ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ چلنے والے انتظامی اور تکنیکی نظام تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے مطابق خود کو نہیں ڈھال سکے۔
آج صارفین ای-کامرس پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظاموں اور آن لائن مارکیٹ پلیسز کے ذریعے بڑے پیمانے پر لین دین کر رہے ہیں۔ لیکن صارفین کےانصاف کا روایتی نظام—جو کاغذی کارروائی، مینوئل چھان بین، بکھرے ہوئے سافٹ ویئر سسٹمز اور ذاتی طور پر ہونے والی سماعتوں پر مبنی تھا—اب اس رفتار اور ضرورت کے لئے ناکافی ہوتا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں صارفین کے حقوق کو مؤثر بنانے کے لئے صرف قانونی اصلاحات کافی نہیں تھیں، بلکہ انصاف کی فراہمی کے پورے نظام میں یکسر تبدیلی ناگزیر تھی۔
یہیں سے ای-جاگرتی ایک اہم تبدیلی کی علامت بنتا ہے۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی پلیٹ فارم نہیں ہے بلکہ صارفین کے تنازعات کے حل کے نظام کو نئے انداز میں تشکیل دینےکی کوشش ہے، جس میں رسائی، شفافیت اور کارکردگی کو حکمرانی کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔
صارفین کے تحفظ ایکٹ 2019 نے ایک ایسے جدید نظام کا تصور پیش کیا تھا جو بدلتی ہوئی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہو۔ لیکن قانون کے اس مقصد کو مؤثر عوامی سہولت میں بدلنے کے لئے ضروری تھا کہ پرانے اور الگ الگ چلنے والے نظام کو ختم کر کے ایک متحدہ ڈیجیٹل نظام بنایا جائے۔ اس سے پہلے کے پلیٹ فارمز میں کام کرنے کے طریقے یکساں نہیں تھے، ٹیکنالوجی پرانی تھی، مختلف نظام ایک دوسرے سے جڑے نہیں تھے اور زیادہ تر کام ہاتھ سے ہوتا تھا۔
بہت سے صارفین،خاص طور پر دیہی علاقوں کے لوگوں، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں کے لئے انصاف حاصل کرنے کی کوشش خود ایک مہنگا اور مشکل عمل بن جاتا تھا، جس کی وجہ سے وہ اکثر اپنی شکایات آگے بڑھانے سے بھی ہچکچاتے تھے۔
ای-جاگرتی صارفین کی شکایت کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنا کر ان بنیادی مسائل کو حل کرتا ہے۔ اس میں شکایت درج کرانے سے لے کر اس کے حل تک کا پورا سفر شامل ہے، جیسے او ٹی پی کے ذریعے رجسٹریشن، آن لائن درخواست جمع کرانا، ڈیجیٹل جانچ پڑتال، الیکٹرانک ادائیگیاں، ورچوئل سماعتیں، مختلف زبانوں میں فیصلے اور کیس کی پیش رفت کابر وقت مشاہدہ ۔ اس طرح یہ نظام شہریوں کو جغرافیائی فاصلے یا پیچیدہ طریقۂ کار کی رکاوٹ کے بغیر انصاف تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
اس تبدیلی کی اہمیت صرف سہولت تک محدود نہیں ہے۔ یہ شہریوں اور سرکاری اداروں کے درمیان تعلق کو بنیادی طور پر بدل دیتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کاغذی کارروائی کو کم کرتا ہے، تمام علاقوں میں یکساں طریقۂ کار کو یقینی بناتا ہے، غیر ضروری تاخیر کو کم کرتا ہے اور شفافیت میں اضافہ کرتا ہے۔ خودکار کیس لسٹ، آن لائن ڈیش بورڈ اور فوری اطلاعات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مقدمہ درج کرنے والے افراد ہر مرحلے سے باخبر رہیں، جس سے نظام پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔
یہ پلیٹ فارم جدید ٹیکنالوجی کو بھی شامل کر رہا ہے تاکہ انصاف کے عمل کو زیادہ جامع بنایا جا سکے۔ اس میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیس کا تجزیہ، آواز کو متن میں تبدیل کرنے کی سہولت، متن کو آواز میں بدلنے کی سہولت، مختلف زبانوں میں استعمال کے قابل انٹرفیس، جدید سرچ فیچرز اور معذور افراد کے لئے خصوصی سہولیات شامل ہیں، جو معاشرے کے مختلف طبقات کی شرکت کو آسان بناتے ہیں۔ اسی طرح صارفین کے تنازعات کے حل کے قومی کمیشن اورصا رفین کے ریاستی کمیشنز میں ہائبرڈ ویڈیو کانفرنسنگ سہولتوں کا ملک بھر میں آغاز کیا گیا ہے، جس سے ورچوئل سماعتیں صارفین کے انصاف کے نظام کا اہم حصہ بن گئی ہیں۔ دور دراز علاقوں یا بیرونِ ملک رہنے والے شہریوں کے لئے اس نے مقدمہ بازی کے مالی اور عملی اخراجات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔
تاہم اس پیمانے پر ٹیکنالوجی کی تبدیلی ہمیشہ اپنے ساتھ کچھ چیلنجز بھی لاتی ہے۔ ڈیجیٹل اصلاحات کے لئے اداروں کو اپنے پرانے طریقۂ کار پر نظرِ ثانی کرنا پڑتی ہے اور صارفین کو بھی نئے اور غیر مانوس نظام کو اپنانے کی ترغیب دینا ہوتی ہے۔ ای-جاگرتی کے آغاز کے دوران کچھ خدشات سامنے آئے، جیسے ڈیٹا کی منتقلی، ادائیگی کے نظام کا انضمام ،سافٹ ویئر کے استعمال میں آسانی اور برسوں سے چلنے والےمینوئل طریقۂ کار سے ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقلی۔قانونی شعبے سے وابستہ کچھ افراد اور دیگر متعلقہ فریقوں نے بھی نئے ڈیجیٹل ماحول کے ساتھ مطابقت پیدا کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا۔
لیکن ان مسائل کو رکاوٹ سمجھنے کے بجائے بہتری کے مواقع کے طور پر لیا گیا۔ صارفین کی عدالتوں، وکلاء، تکنیکی ماہرین اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ وسیع مشاورت کی گئی تاکہ نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ باقاعدہ تربیتی پروگرام، علاقائی ورکشاپس، آن لائن ٹریننگ سیشنز، شکایتیوں کی سماعت کے ہفتہ واری اجلاس اور مسلسل تکنیکی مدد نے متعلقہ فریقوں کو آہستہ آہستہ نئے نظام پر اعتماد حاصل کرنے میں مدد دی۔اس تجربے نے ایک اہم سبق دیا: ڈیجیٹل تبدیلی صرف اس وجہ سے کامیاب نہیں ہوتی کہ ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے، بلکہ اس لئے کامیاب ہوتی ہے کہ ادارے صارفین کی رائے سنتے رہیں اور مسلسل بہتری کے عمل کے لئے تیاررہتے ہیں۔
ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ مختصر عرصے میں ای-جاگرتی نے لاکھوں صارفین کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے، دو لاکھ سے زائد کیسز کی فائلنگ ممکن بنائی ہے، کیسز کے نمٹانے کی اعلی ترین شرح حاصل کی ہے اور 60 سے زیادہ ممالک کے صارفین کو بھارت کے صارفین کے تنازعات کے حل کے نظام تک رسائی فراہم کی ہے۔ یکساں ڈیجیٹل طریقۂ کار نے کارکردگی کو بہتر بنایا ہے اور ان رکاوٹوں کو دور کیا ہے جو پہلے اس نظام میں عام تھیں۔
نیشنل ایوارڈز فار ای-گورننس 2026 میں سلور ایوارڈ ملنا صرف ایک ادارہ جاتی کامیابی نہیں ہے بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ سرکاری نظام کو مؤثر طریقے سے ازسرِ نو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ بامعنی ڈیجیٹل گورننس صرف پرانے طریقۂ کار کو کمپیوٹرائز کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اسے اس طرح دوبارہ ڈیزائن کرنا ہوتا ہے کہ وہ زیادہ سادہ، تیز اور شہریوں پر مرکوز بن جائے۔
بھارت کا وسیع تر ڈیجیٹل انڈیا سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ جب مضبوط ادارہ جاتی عزم موجود ہو تو ٹیکنالوجی عوامی خدمات کی فراہمی میں بڑی تبدیلی لاسکتی ہے۔ ڈیجیٹل شناخت، فوائد کی براہِ راست منتقلی، آن لائن ٹیکس نظام اور صحت کی ڈیجیٹل سہولیات جیسے اقدامات کے ذریعے ملک نے گورننس میں ٹیکنالوجی کا کردار مسلسل بڑھایا ہے۔ اب صارفین کے انصاف کا نظام بھی اسی وسیع ڈیجیٹل اصلاحاتی عمل میں شامل ہو گیا ہے۔
ای-جاگرتی کی کامیابی مستقبل کی حکومت کی اصلاحات کے لئے بھی اہم سبق فراہم کرتی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اداروں کے بجائے شہریوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا جانا چاہیے۔ رسائی کو ایک بنیادی اصول سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ بعد میں شامل کی جانے والی کوئی اضافی چیز۔ مصنوعی ذہانت کو شفافیت اور کارکردگی بڑھانے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے، لیکن اس سے انصاف اور غیر جانبداری متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ٹیکنالوجی کا مقصد انصاف کے عمل کو آسان بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے مزید پیچیدہ بنانا۔
جیسے جیسے بھارت کی ڈیجیٹل معیشت ترقی کر رہی ہے، صارفین کا اعتماد ان اداروں کی ساکھ پر مزید منحصر ہوگا جو ان کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ تنازعات کا مؤثر حل اب صرف ایک انتظامی ہدف نہیں رہا بلکہ ایک معاشی ضرورت بن چکا ہے، جو مارکیٹ میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور کاروبار کو ذمہ دار رویہ اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔
ای-جاگرتی یہ ثابت کرتا ہے کہ سوچ سمجھ کر کی گئی ڈیجیٹل تبدیلی قانون سازی کے مقصد اور شہری کے تجربے کے درمیان فاصلے کو کم کر سکتی ہے۔ صارفین کے انصاف کے عمل کو تیز، شفاف اور زیادہ جامع بنا کر یہ ایک سادہ مگر طاقتور اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ ڈیجیٹل نظام تک سبھی کی رسائی کے عمل میں انصاف تک رسائی بھی اتنی ہی آسان ہونی چاہیے جتنی کہ کسی بھی خدمات تک رسائی۔ یہی شاید اکیسویں صدی میں گراہک دیووبھوا یعنی صارفین کو دیوتا سمجھنا کے تصور کا سب سے بامعنی اظہار ہے۔
(مضمون نگار: نئی اور قابلِ تجدید توانائی نیز صارفین کے امور، خوراک اورسرکاری نظام تقسیم کے مرکزی وزیر ہیں)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

مرکز PoJK کے حالات پر آواز اٹھائے/ فاروق عبداللہ

جنگ نیوز سری نگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ...

ای-جاگرتی: ڈیجیٹل بھارت کے لئے صارفین کے انصاف کے نظام کی ازسرنو تشکیل

 

پرہلاد جوشی

انصاف میں تاخیر، بھارتی صارفین کے لئے ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ چاہے معاملہ خراب مصنوعات کا ہو، آن لائن خریدی گئی چیز کی ڈیلیوری نہ ہونا ہویا کسی غیر منصفانہ خدمات معاہدے کا ہو۔ شکایت درج کرانے سے لے کر اس کا حل حاصل کرنے تک کا سفر اکثر بہت سست، پیچیدہ اور پریشان کن رہا ہے۔ اگرچہ بھارت میں صارفین کے تحفظ کا نظام وقت کے ساتھ بہتر ہوا ہے، لیکن اس کے ساتھ چلنے والے انتظامی اور تکنیکی نظام تیزی سے بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت کے مطابق خود کو نہیں ڈھال سکے۔
آج صارفین ای-کامرس پلیٹ فارمز، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظاموں اور آن لائن مارکیٹ پلیسز کے ذریعے بڑے پیمانے پر لین دین کر رہے ہیں۔ لیکن صارفین کےانصاف کا روایتی نظام—جو کاغذی کارروائی، مینوئل چھان بین، بکھرے ہوئے سافٹ ویئر سسٹمز اور ذاتی طور پر ہونے والی سماعتوں پر مبنی تھا—اب اس رفتار اور ضرورت کے لئے ناکافی ہوتا جا رہا ہے۔ ڈیجیٹل دور میں صارفین کے حقوق کو مؤثر بنانے کے لئے صرف قانونی اصلاحات کافی نہیں تھیں، بلکہ انصاف کی فراہمی کے پورے نظام میں یکسر تبدیلی ناگزیر تھی۔
یہیں سے ای-جاگرتی ایک اہم تبدیلی کی علامت بنتا ہے۔ یہ صرف ایک ٹیکنالوجی پلیٹ فارم نہیں ہے بلکہ صارفین کے تنازعات کے حل کے نظام کو نئے انداز میں تشکیل دینےکی کوشش ہے، جس میں رسائی، شفافیت اور کارکردگی کو حکمرانی کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔
صارفین کے تحفظ ایکٹ 2019 نے ایک ایسے جدید نظام کا تصور پیش کیا تھا جو بدلتی ہوئی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہو۔ لیکن قانون کے اس مقصد کو مؤثر عوامی سہولت میں بدلنے کے لئے ضروری تھا کہ پرانے اور الگ الگ چلنے والے نظام کو ختم کر کے ایک متحدہ ڈیجیٹل نظام بنایا جائے۔ اس سے پہلے کے پلیٹ فارمز میں کام کرنے کے طریقے یکساں نہیں تھے، ٹیکنالوجی پرانی تھی، مختلف نظام ایک دوسرے سے جڑے نہیں تھے اور زیادہ تر کام ہاتھ سے ہوتا تھا۔
بہت سے صارفین،خاص طور پر دیہی علاقوں کے لوگوں، بزرگ شہریوں، معذور افراد اور بیرونِ ملک مقیم بھارتیوں کے لئے انصاف حاصل کرنے کی کوشش خود ایک مہنگا اور مشکل عمل بن جاتا تھا، جس کی وجہ سے وہ اکثر اپنی شکایات آگے بڑھانے سے بھی ہچکچاتے تھے۔
ای-جاگرتی صارفین کی شکایت کے پورے عمل کو ڈیجیٹل بنا کر ان بنیادی مسائل کو حل کرتا ہے۔ اس میں شکایت درج کرانے سے لے کر اس کے حل تک کا پورا سفر شامل ہے، جیسے او ٹی پی کے ذریعے رجسٹریشن، آن لائن درخواست جمع کرانا، ڈیجیٹل جانچ پڑتال، الیکٹرانک ادائیگیاں، ورچوئل سماعتیں، مختلف زبانوں میں فیصلے اور کیس کی پیش رفت کابر وقت مشاہدہ ۔ اس طرح یہ نظام شہریوں کو جغرافیائی فاصلے یا پیچیدہ طریقۂ کار کی رکاوٹ کے بغیر انصاف تک رسائی فراہم کرتا ہے۔
اس تبدیلی کی اہمیت صرف سہولت تک محدود نہیں ہے۔ یہ شہریوں اور سرکاری اداروں کے درمیان تعلق کو بنیادی طور پر بدل دیتی ہے۔ ڈیجیٹل نظام کاغذی کارروائی کو کم کرتا ہے، تمام علاقوں میں یکساں طریقۂ کار کو یقینی بناتا ہے، غیر ضروری تاخیر کو کم کرتا ہے اور شفافیت میں اضافہ کرتا ہے۔ خودکار کیس لسٹ، آن لائن ڈیش بورڈ اور فوری اطلاعات اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ مقدمہ درج کرنے والے افراد ہر مرحلے سے باخبر رہیں، جس سے نظام پر عوام کا اعتماد بڑھتا ہے۔
یہ پلیٹ فارم جدید ٹیکنالوجی کو بھی شامل کر رہا ہے تاکہ انصاف کے عمل کو زیادہ جامع بنایا جا سکے۔ اس میں مصنوعی ذہانت کی مدد سے کیس کا تجزیہ، آواز کو متن میں تبدیل کرنے کی سہولت، متن کو آواز میں بدلنے کی سہولت، مختلف زبانوں میں استعمال کے قابل انٹرفیس، جدید سرچ فیچرز اور معذور افراد کے لئے خصوصی سہولیات شامل ہیں، جو معاشرے کے مختلف طبقات کی شرکت کو آسان بناتے ہیں۔ اسی طرح صارفین کے تنازعات کے حل کے قومی کمیشن اورصا رفین کے ریاستی کمیشنز میں ہائبرڈ ویڈیو کانفرنسنگ سہولتوں کا ملک بھر میں آغاز کیا گیا ہے، جس سے ورچوئل سماعتیں صارفین کے انصاف کے نظام کا اہم حصہ بن گئی ہیں۔ دور دراز علاقوں یا بیرونِ ملک رہنے والے شہریوں کے لئے اس نے مقدمہ بازی کے مالی اور عملی اخراجات کو کافی حد تک کم کر دیا ہے۔
تاہم اس پیمانے پر ٹیکنالوجی کی تبدیلی ہمیشہ اپنے ساتھ کچھ چیلنجز بھی لاتی ہے۔ ڈیجیٹل اصلاحات کے لئے اداروں کو اپنے پرانے طریقۂ کار پر نظرِ ثانی کرنا پڑتی ہے اور صارفین کو بھی نئے اور غیر مانوس نظام کو اپنانے کی ترغیب دینا ہوتی ہے۔ ای-جاگرتی کے آغاز کے دوران کچھ خدشات سامنے آئے، جیسے ڈیٹا کی منتقلی، ادائیگی کے نظام کا انضمام ،سافٹ ویئر کے استعمال میں آسانی اور برسوں سے چلنے والےمینوئل طریقۂ کار سے ڈیجیٹل نظام کی طرف منتقلی۔قانونی شعبے سے وابستہ کچھ افراد اور دیگر متعلقہ فریقوں نے بھی نئے ڈیجیٹل ماحول کے ساتھ مطابقت پیدا کرتے ہوئے تحفظات کا اظہار کیا۔
لیکن ان مسائل کو رکاوٹ سمجھنے کے بجائے بہتری کے مواقع کے طور پر لیا گیا۔ صارفین کی عدالتوں، وکلاء، تکنیکی ماہرین اور ریاستی حکومتوں کے ساتھ وسیع مشاورت کی گئی تاکہ نظام کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ باقاعدہ تربیتی پروگرام، علاقائی ورکشاپس، آن لائن ٹریننگ سیشنز، شکایتیوں کی سماعت کے ہفتہ واری اجلاس اور مسلسل تکنیکی مدد نے متعلقہ فریقوں کو آہستہ آہستہ نئے نظام پر اعتماد حاصل کرنے میں مدد دی۔اس تجربے نے ایک اہم سبق دیا: ڈیجیٹل تبدیلی صرف اس وجہ سے کامیاب نہیں ہوتی کہ ٹیکنالوجی متعارف کرائی گئی ہے، بلکہ اس لئے کامیاب ہوتی ہے کہ ادارے صارفین کی رائے سنتے رہیں اور مسلسل بہتری کے عمل کے لئے تیاررہتے ہیں۔
ابتدائی نتائج حوصلہ افزا ہیں۔ مختصر عرصے میں ای-جاگرتی نے لاکھوں صارفین کو ایک مشترکہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر اکٹھا کیا ہے، دو لاکھ سے زائد کیسز کی فائلنگ ممکن بنائی ہے، کیسز کے نمٹانے کی اعلی ترین شرح حاصل کی ہے اور 60 سے زیادہ ممالک کے صارفین کو بھارت کے صارفین کے تنازعات کے حل کے نظام تک رسائی فراہم کی ہے۔ یکساں ڈیجیٹل طریقۂ کار نے کارکردگی کو بہتر بنایا ہے اور ان رکاوٹوں کو دور کیا ہے جو پہلے اس نظام میں عام تھیں۔
نیشنل ایوارڈز فار ای-گورننس 2026 میں سلور ایوارڈ ملنا صرف ایک ادارہ جاتی کامیابی نہیں ہے بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ سرکاری نظام کو مؤثر طریقے سے ازسرِ نو تشکیل دیا گیا ہے۔ یہ ایوارڈ اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ بامعنی ڈیجیٹل گورننس صرف پرانے طریقۂ کار کو کمپیوٹرائز کرنے کا نام نہیں ہے، بلکہ اسے اس طرح دوبارہ ڈیزائن کرنا ہوتا ہے کہ وہ زیادہ سادہ، تیز اور شہریوں پر مرکوز بن جائے۔
بھارت کا وسیع تر ڈیجیٹل انڈیا سفر یہ ثابت کرتا ہے کہ جب مضبوط ادارہ جاتی عزم موجود ہو تو ٹیکنالوجی عوامی خدمات کی فراہمی میں بڑی تبدیلی لاسکتی ہے۔ ڈیجیٹل شناخت، فوائد کی براہِ راست منتقلی، آن لائن ٹیکس نظام اور صحت کی ڈیجیٹل سہولیات جیسے اقدامات کے ذریعے ملک نے گورننس میں ٹیکنالوجی کا کردار مسلسل بڑھایا ہے۔ اب صارفین کے انصاف کا نظام بھی اسی وسیع ڈیجیٹل اصلاحاتی عمل میں شامل ہو گیا ہے۔
ای-جاگرتی کی کامیابی مستقبل کی حکومت کی اصلاحات کے لئے بھی اہم سبق فراہم کرتی ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اداروں کے بجائے شہریوں کی ضروریات کو سامنے رکھ کر بنایا جانا چاہیے۔ رسائی کو ایک بنیادی اصول سمجھا جانا چاہیے، نہ کہ بعد میں شامل کی جانے والی کوئی اضافی چیز۔ مصنوعی ذہانت کو شفافیت اور کارکردگی بڑھانے کے لئے استعمال کیا جانا چاہیے، لیکن اس سے انصاف اور غیر جانبداری متاثر نہیں ہونی چاہیے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ٹیکنالوجی کا مقصد انصاف کے عمل کو آسان بنانا ہونا چاہیے، نہ کہ اسے مزید پیچیدہ بنانا۔
جیسے جیسے بھارت کی ڈیجیٹل معیشت ترقی کر رہی ہے، صارفین کا اعتماد ان اداروں کی ساکھ پر مزید منحصر ہوگا جو ان کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔ تنازعات کا مؤثر حل اب صرف ایک انتظامی ہدف نہیں رہا بلکہ ایک معاشی ضرورت بن چکا ہے، جو مارکیٹ میں اعتماد پیدا کرتا ہے اور کاروبار کو ذمہ دار رویہ اپنانے کی ترغیب دیتا ہے۔
ای-جاگرتی یہ ثابت کرتا ہے کہ سوچ سمجھ کر کی گئی ڈیجیٹل تبدیلی قانون سازی کے مقصد اور شہری کے تجربے کے درمیان فاصلے کو کم کر سکتی ہے۔ صارفین کے انصاف کے عمل کو تیز، شفاف اور زیادہ جامع بنا کر یہ ایک سادہ مگر طاقتور اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ ڈیجیٹل نظام تک سبھی کی رسائی کے عمل میں انصاف تک رسائی بھی اتنی ہی آسان ہونی چاہیے جتنی کہ کسی بھی خدمات تک رسائی۔ یہی شاید اکیسویں صدی میں گراہک دیووبھوا یعنی صارفین کو دیوتا سمجھنا کے تصور کا سب سے بامعنی اظہار ہے۔
(مضمون نگار: نئی اور قابلِ تجدید توانائی نیز صارفین کے امور، خوراک اورسرکاری نظام تقسیم کے مرکزی وزیر ہیں)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں