
محمد شاکر لبانہ
ملتان شہر میں اس وقت رات کے 11 بج رہے تھے ۔ایک کرولا کار خوبصورت ہوٹل کے باہر رکی ۔اس میں سے ایک نوجوان باہر نکلا ۔نوجوان نے تھری پیس سوٹ زیب تن کر رکھا تھا ۔
ہوٹل کے منیجر نے نوجوان کا استقبال کرتے ہوئے کہا:” آئیے محمود احمد صاحب آپ ہی کا انتظار تھا۔انے میں کوئی دکت تو نہیں ہوئی نہ ؟”
محمود نے مسکراتے ہوئے سر کو نفی میں جنبش دی ۔اس وقت ہوٹل میں منیجر اور چار ویٹر موجود تھے جبکہ وہاں کوئی کسٹمر موجود نہیں تھے ۔کیونکہ یہ اتوار کی شام تھی اور اس وقت یہ ہوٹل جلد ہی بند ہو جاتا تھا ۔لیکن محمود کی آنے کی خبر میں اس ہوٹل کو ابھی تک کھول رکھا تھا ۔
محمود احمد وزیر اعلیٰ پنجاب ” نواز احمد” کے بیٹے تھے ۔محمود ملتان شہر گھومنے اور کچھ دن تک اس ہوٹل میں قیام کرنے کے لیے آیا تھا۔
ہوٹل کے منیجر نے اس لیے محمود کا پرتپاک انداز سے استقبال کیا ۔اس میں منیجر رشید کی کچھ ذاتی مطلب پرستی بھی شامل تھی ۔اسی بہانے سے وہ اپنا "ذاتی کام” نکلوانے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد کی کچھ سفارش چاہتا تھا ۔
” پہلے آپ کھانا کھا لیجئے پھر آپ کو آرام کرنے کے لیے کمرہ دکھاتے ہیں ” منیجر رشید تو محمود کے سامنے خوشامدی میں بچھا جارہا تھا ۔
محمود کھانے کی ٹیبل پر براجمان ہوا۔
ہوٹل میں چار ویٹر موجود تھے اس وقت ۔
مینجر رشید نے ویٹرز کو تمبہی کی :” کھانا سلیقے سے لگانا ہے غلطی کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے یہاں ۔مجھے تم میں سے کسی کی شکایت نہیں آنی چاہیے”
سبھی ویٹر یک زبان ہو کر بولے:” جی سر ہم شکایت کا کوئی موقع نہیں دینگے”
ویٹر کھانا لے کر ٹیبل کی طرف بڑھے اور سب باری باری کھانا ٹیبل پر سلیقے سے رکھنے لگے ان میں سے ایک ویٹر کے کھانے کی ٹرے ہاتھ سے پھسل گئی ۔گرم سالن کے چھینٹے محمود پر پڑے تو محمود جلدی سے گالیاں بکتا ہوا اٹھ کر گرم چھینٹوں کو صاف کرنے لگا۔
سبھی ویٹر کے ہوش اڑ گئے تھے کہ یہ کیا ہوگیا اچانک ۔ اب ان کی خیر نہیں ۔
مینجر دوڑ کر آیا :”محمود آپ ٹھیک ہیں نہ زیادہ جلے تو نہیں ”
"یہ کس کی غلطی تھی سامنے آؤ میرے ،میں نے کہا تھا کہ غلطی کی کوئی گنجائش نہیں ہے یہاں” منیجر رشید غصے سے ویٹرز پر داہڑا ۔
” سر غلطی مجھ سے ہوئی ہے ” ان ویٹر میں سے ایک آگے بڑھ کر بولا ۔
مینجر رشید نے اس ویٹر کو ایک تھپڑ رسید کیا ۔
دوسرا ویٹر بیچ میں آ کر بولا:” سر ! اس کو معاف کر دیں اس کی یہ پہلی غلطی ہے ۔اصل میں یہ آج ہی کام پہ آیا ہے ۔سر اس کی پہلی غلطی سمجھ کے معاف کر دیں” ۔
منیجر رشید نے بامشکل خود کو روکا ۔
محمود بولا:” منیجر اس کو چھوڑو! آپ مجھے میرا کمرہ دیکھا دیں ۔میں چینج کر کے کھانا کمرے میں ہی کھا لونگا”
مینجر نے ان میں سے ایک ویٹر کو محمود کو اس کا کمرہ دیکھانے بھیجا۔
رات کے 12 بج چکے تھے ۔محمود اپنے کمرے میں فریش ہو کر کھانے کا انتظار کرنے لگا ۔اس نے سلیپنگ گاؤن پہن رکھا تھا ۔
ہوٹل کی راہداری میں ایک ویٹر کھانے کی ٹرالی گھسیٹتے ہوئے آ رہا تھا ۔یہ وہیں ویٹر تھا جس کو منیجر نے اس کی غلطی پہ تھپڑ مارا تھا۔ باقی کے ویٹرز اپنی ڈیوٹی ٹائم ختم ہونے پر گھر چلے گئے تھے جبکہ اس ویٹر کو منیجر نے اوور ٹائم کی سزا دی تھی ۔
ہوٹل کی راہداری میں سی سی ٹی کیمرے لگے ہوئے تھے ۔
کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تو محمود نے دروازا کھولا ۔ویٹر کھانے کی ٹرالی گھسیٹتے ہوئے اندر آیا ۔
” یہ ٹائم ہے تمہارے کھانا لے کر آنے کا؟کب سے کھانے کا ویٹ کر رہا ہوں ۔تم لوگ اپنا کام بھی ڈھنگ سے نہیں کر سکتے ہو؟ ” محمود برہم ہوا اور یہ بولتے ہوئے محمود نے کھانے کی ٹرے کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ویٹر نے دروازے کو اندر سے بند کر دیا ۔
محمود چونکا:” یہ کیا بے ہودگی ہے ؟ دروازے کو کیوں بند کر دیا…. محمود یہ بولتے ہوئے جب ویٹر کی طرف دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئے ۔ویٹر کے چہرے پر بلکل کسی مسخرے جیسا میک اپ کیا ہوا تھا ۔سفید چہرا، لال ہونٹ ،آنکھوں پہ سبز رنگ کیا ہوا اور سر کے بالوں میں سبز رنگ کی وگ لگی ہوئی تھی ۔
” کبھی کبھی والدین کی کرتوتوں کی سزا اولاد کو بھگتنی پڑتی ہے ” ویٹر بولا ۔
” تم کون ہو؟ اور کیا چاہتے ہو مجھ سے ؟” محمود ڈر کر بولا ۔
ویٹر نے اپنی شرٹ کو اٹھا کر اس کے نیچے سے اپنا مخصوص ہتھیار نکالا۔یہ برف توڑنے والا "سوا” تھا ۔چمک دار، اس کی نوک لمبی اور تیخی تھی ۔ویٹر نے سوا کو نوک سے پکڑ کر اس کا دستہ زور سے محمود کے سر پر مارا ۔محمود چیختے ہوئے اپنے سر کو پکڑ کر زمین پر گر پڑا اور زمین پہ پڑے ہوئے کراہنے لگا۔اس کا سر پھٹ چکا تھا اس سے خون بہہ کر فرش کو داغ دار کر نے لگا تھا۔
ویٹر نے محمود کو فرش پر سیدھا کیا اور سوا کی نوک کو عین اس کے دل کے قریب گھونپ دیا۔محمود مرگ بسمل کی طرح تڑپنے لگا ۔کچھ دیر بعد محمود نے تڑپتے ہوئے جان دے دی ۔ویٹر نے اس کے خون سے فرش پر انگریزی حروف لکھے اور محمود کی لاش کو حروف کے درمیان میں اس طرح سے ڈالا کہ وہ بھی انگریزی کے حرف” k” کی طرح معلوم ہو رہا تھا ۔ان حروف کو ملا کر جو نام بنتا تھا وہ تھا ” جوکر”۔
ویٹر اپنا کام ختم کر کے وہاں سے ایسے غائب ہوا کہ کسی کو اس کی یہاں موجودگی کا علم ہی نہیں ہوا۔
دوسرے دن صبح منیجر کرسی پہ بیٹھا ویٹر کا انتظار کر رہا تھا جس کو محمود کو ناشتہ کرنے کے لیے بلانے بھیجا تھا کیونکہ دن کے 10 بج گئے تھے اور محمود ابھی تک ناشتہ کرنے کے لیے کمرے سے باہر نہیں نکلا تھا ۔
تھوڑی دیر کے بعد ویٹر نے منیجر رشید کے پاس آ کر بتایا:” سر محمود کے کمرے کا دروازا باہر سے لاک ہے ۔میں نے دروازے پر کئی بار دستک بھی دی تھی پر اندر سے کوئی جواب نہیں ملا ۔سر کمرے کی چابی میرے پاس نہیں تھی اس لیے آپ کو بتانے آیا ہوں”
” محمود کا کمرہ باہر سے لاک ہے ایسا کیسے ممکن ہو سکتا ہے ؟ کیا محمود صاحب اپنے کمرے کو لاک کر کے باہر تو نہیں چلے گئے ؟ لیکن وہ بغیر بتائے ہوٹل سے باہر کیوں جائے گا ؟” منیجر رشید کافی حیران ہوا۔
منیجر رشید ویٹر کے ساتھ محمود کے کمرے کے باہر جاکر چابی سے دروازے کو کھولا اور کمرے کے اندر داخل ہوا تو اندر کا منظر دونوں کے دل کو دہلا دینے کے لیے کافی تھا ۔محمود کی خون سے لت پت لاش پڑی تھی ۔
تھوڑی دیر کے بعد پولیس آگئی اور قتل کے کیس کی تحقیقات کرنے لگی انہوں نے کمرے کا بغور جائزہ لیا اور کسی بھی چیز کے ساتھ چھیڑ کھانی نہیں کی ۔کیونکہ ان چیزوں میں قاتل کے فنگر پرنٹ حاصل کیے جاسکتے تھے ۔
قتل سیاست کے مشہور شخصیت کے بیٹے کا ہوا اس لیے اس کیس کی تفتیش کے لیے خاص پولیس انسپکٹر” خان محمد ” کو بلوایا گیا تھا ۔
منیجر رشید نے نواز احمد کو اس کے بیٹے کی قتل کی اطلاع کردی تھی ۔یہ خبر سن کر اس کے تو لگا جیسے اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی کھینچ لی گئی ہو۔
وہ کچھ ہی گھنٹوں میں ملتان شہر کے ہوٹل پہنچے اور بے حد غمگین ہوتے ہوئے اپنے بیٹے کے کمرے کی طرف دوڑے ،انسپکٹر خان محمد نے راستے میں ہی روک کر بولے :” سر ہمیں پتا ہے آپ کے لیے یہ دکھ برداشت کرنا مشکل ہے لیکن آپ ہماری مجبوری کو سمجھیں آپ بیٹے کی لاش کو چھوئیں گئے تو قاتل کے فنگر پرنٹ مس میچ ہو جائیں گیں ۔مہربانی فرماکر ہماری بات کو سمجھیں لاش کو دور سے دیکھیں”
نواز احمد بات کو سمجھ گئے تھے ۔انہوں نے دروازے میں ہی کھڑے ہو کر بیٹے کی لاش کو دیکھا یہ منظر انہیں دہلا دینے کے لیے کافی تھا ۔بیٹے کی لاش کا یہ منظر وہ زندگی بھر نہیں بھولا سکیں گئے ۔اور اس لاش کے گرد فرش پر بنے اس انگریزی نام ” جوکر” کو بھی نہیں بھولنے والے تھے کبھی ۔
انسپکٹر خان محمد نے تحقیقات ٹیم کے ساتھ مل کر لاش کی تصویریں بنوائی پھر لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دیا ۔فنگر پرنٹ بھی اٹھوائے گئے تھے ۔انسپکٹر خان محمد کے ذہن میں مقتول کے گرد لکھے ہوئے لفظ ” جوکر ” بار بار گردش کر رہا تھا ۔وہ سوچنے لگا کہ قاتل انہیں کوئی اشارہ کر رہا تھا یا پھر انہیں بھٹکانے کی کوشش کر رہا تھا اس نام کے ذریعے ۔
انسپکٹر خان محمد نے منیجر رشید سے رات میں ہونے والے اس واردات کے بارے میں تفتیش کی ۔ہوٹل میں کتنے ویٹر کام کرتے ہیں ان کے بارے میں پوچھا پھر حوالدار رحیم کو بھیجا ان ویٹرز کو تھانے میں تفتیش کے لیے حاضر کرنے کو ۔
یہ مرحلہ سارا دن چلا شام تک پوری میڈیا کو خبر ہو چکی تھی اس واقع کی ۔وہ بھی کیمرے لے کر پہنچ گئے تھے واردات والے ہوٹل میں اور مقتل والی جگہ کی تصویریں بنانے اور ساتھ ساتھ لوگوں سے واقع کے بارے میں بھی پوچھنے لگے ۔
پھر میڈیا رپورٹرز نے انسپکٹر خان محمد سے اس واقع کے بارے میں پوچھا ۔
انہوں نے جواب دیا:” دیکھیں ! ابھی قتل کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہوا ہے کہ محمود کا قتل رات کو متوقع ہوا ہے۔قاتل نے بڑی بیدردی سے مقتول کا قتل کیا وہ بھی کسی تیز دھار آلے سے ۔
لگتا ہے قاتل کی گہری دشمنی تھی مقتول سے جو اس طرح سے دشمنی نکالی ۔واقع کی تفتیش چل رہی ہے ابھی تک۔لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کردیا گیا جلد ہی روپورٹ میں واضح ہو جائے گا قتل کے بارے میں ۔
قاتل جو کوئی بھی ہے ہمارے ہاتھ سے بچ نہیں جا سکے گا ۔لیکن میں خدا کو حاضر و ناظر جان کر یہ وعدہ کرتا ہوں کہ اسی ہفتے کے اندر قاتل میرے شکنجے میں ہوگا”
انسپکٹر خان محمد نے مقتل میں لکھے گئے لفظ” جوکر” کے بارے میڈیا کو کچھ بھی نہیں بتایا ۔اور نہ ہی میڈیا والوں کو کمرے میں لکھے اس حروف کی مکمل تشبیہ حاصل ہوسکی تھی۔ کیونکہ لاش کو ہٹاتے ہی لفظ بھی مٹ چکے تھے ۔
انسپکٹر خان محمد نے شام تک ہوٹل میں لگے سی سی ٹی کیمروں کی ریکارڈنگ حاصل کرلی تھی ۔اسی ریکارڈنگ میں ایک ویڈیو کمرے کی راہداری کی تھی رات کے 12 بجے کے دوران ایک شخص ویٹر کے لباس میں جبکہ چہرے پر مسخرے جیسا میک اپ تھا محمود کے کمرے میں گھسنے اور کچھ دیر بعد باہر نکلنے کا منظر صاف واضح تھا۔
انسپکٹر خان محمد سمجھ گئے تھے کہ قاتل نے جوکر کیوں لکھا تھا یا تو وہ جوکر تھا یا پھر قتل کرنے کے لیے یہ حلیہ اختیار کیا تھا ۔
انسپکٹر خان محمد نے ان ویڈیوز اور تصاویر کو میڈیا والوں کو دینے سے انکار کیا جب تک وہ قاتل تک نہیں پہنچ جاتے ۔کیونکہ وہ قاتل کو اپنے کسی اشارے سے ہوشیار نہیں کرنا چاہتے تھے ۔
لاش کو پوسٹ مارٹم پہ روانہ کرنے کے بعد نواز احمد بھی گھر واپس چلے گئے تھے ۔
شہر کے مشہور باگل خانے کے ایک مخصوص کمرے میں ” سویرا” کو صرف اپنے بچے کے بارے میں یاد تھا ۔اس کے علاؤہ اور اسے کچھ بھی یاد نہیں ۔ایک حادثے نے اسے اس حال میں پہنچا دیا تھا ۔ذہنی مریض بننے کے ساتھ ساتھ اس کے ذہن میں ایک خطر ناک مرض ” برین ٹیومر” پرورش پا رہا تھا ۔سویرا اس مرض سے لاعلم تھی ۔ بس سارا دن پاگل خانے کے اس کمرے میں ایک گڈے کے ساتھ کھیلتی رہتی جس کو وہ اپنا بچا سمجھتی تھی ۔ اس کو کبھی بھی خود سے دور نہیں ہونے دیتی تھی ۔اگر کبھی کوئی اس کے گڈے کو چھیننے کی کوشش کرتا تو سویرا پر ہسٹریا کے دورے پڑھنے لگتے اور وہ سامنے والے کا منہ نوچ لیتی تھی ۔
ایک نوجوان باگل خانے کے وارڈ میں داخل ہوکر ریسیپشن سے کمرہ نمبر 6 میں داخل عورت سے ملنے کی خواہش ظاہر کی ۔ریسیپشن انہیں جانتی تھی کیونکہ وہ شخص ہفتے میں ایک بار لازمی اپنی بیوی سے ملنے آتا تھا ۔ریسیپشن نے اسے اجازت دے دی اور وہ شخص نرس کے ساتھ کمرہ نمبر 6
پہنچ کر رک گیا نرس نے دروازے پہ لگے لاک کو چابی سے کھولا اور بولی:” تمہارے پاس صرف 10 منٹ ہیں بات کرنے کے کیونکہ مریضہ کافی خطرناک ہیں وہ آپ کو بھی چوٹ پہنچا سکتی ہیں” نرس باہر ہی کھڑی ہو گئی اور وہ شخص کمرے میں داخل ہوا
” کیسی ہو سویرا ؟ ” اس نے پوچھا ۔
سویرا نے کچھ پل کے لیے اسے دیکھا پھر دوبارا اپنے گڈے میں منہمک ہوگئی ۔گویا اس کا آنا سویرا کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتا تھا ۔
” سویرا تم مجھے پہچان کیوں نہیں رہی ہو؟ میں تمہارا شوہر ہوں سرمد۔آخر تم اس حادثے کو بھلا کیوں نہیں دیتی تمہارے آگے پوری زندگی پڑی ہے جینے کے لیے ۔پلیز سویرا لوٹ آؤ میرے پاس ۔میرے پاس تمہارے علاؤہ اور کوئی نہیں ہے ۔تم سمجھ کیوں نہیں رہی ہو؟” سرمد کی آنکھوں سے آنسوں جاری ہوگئے تھے ۔سویرا بے حس بنی بیٹھی رہی ۔وہ اس کی باتوں کو ان سنا کر رہی تھی ۔
سرمد کچھ دیر رونے کے بعد خاموش ہوا۔یہ اس کے روز کا معمول تھا وہ جب بھی سویرا سے ملنے آتا یہیں بات کرتا وہ اسے گزرے ہوئے اچھے واقعات یاد دلانے کی کوشش کرتا ۔شاید سویرا کو کچھ یاد آجائےاور وہ پہلے کی طرح نارمل زندگی گزارنے لگے اس کے ساتھ ۔پر سویرا کو ان باتوں کا کچھ اثر نہیں ہوتا کبھی بھی ۔شاید وہ کچھ یاد کرنا بھی نہیں چاہتی تھی کہیں وہ منحوس واقع یاد نہ آجائے جس کی وجہ سے ان دونوں کی زندگی تہ و بالا ہوئی تھی ۔
سرمد ملاقات کے آخر میں ہمیشہ سویرا سے ایک وعدہ کرتا:” سویرا تمہیں اس حال میں پہنچانے والے اور مجھے سے میری دنیا چھیننے والے اس حادثے کے ذمے دار جو بھی ہیں انہیں اس کی قیمت چکانی پڑے گی چاہے انہیں اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے ”
سرمد کمرے سے باہر نکل کر نرس سے بولا:” مجھے ڈاکٹر شیراز سے ملنا ہے”
نرس نے کمرے کے دروازے کو لاک کیا پھر سرمد کو لے کر ڈاکٹر شیراز کے کمرے کی طرف چل پڑی ۔
ڈاکٹر شیراز کے پاس پہنچ کر سرمد نے سویرا کی برین ٹیومر کے بارے میں دریافت کیا ۔
ڈاکٹر شیراز نے جواب دیا:” سرمد ! تم جانتے ہو سویرا کو اس مرض میں مبتلا ہوئے کافی مہینے ہو چکے ہیں اور اس مرض کو اتنے دنوں تک نظر انداز کیے رکھنا مریض کی جان کو خطرے سے دو چار کرنے جیسا ہے ۔سویرا کا برین ٹیومر لاسٹ سٹیج تک پہنچ چکا ہے اس کا آپریشن جلد از جلد ممکن ہونا چاہیے”
” میں جانتا ہوں سر ! سویرا میں میری جان بستی اگر میں زندہ ہوں تو صرف سویرا کےلیے ۔میں اس کو اس تکلیف میں تو کیا اس حالت میں نہیں دیکھ سکتا اس پاگل خانے میں ” سرمد روہانسا ہوا ۔
” دیکھو سرمد! سویرا کو خطرناک مرض لاحق ہے اس لیے اس کا آپریشن شہر کے بڑے ہسپتال میں ہی ممکن ہو سکتا ہے آپریشن کی فیس پہ لاکھوں روپے خرچ ہو سکتے ہیں ۔تمہیں جلد از جلد ان رقم کا بندوبست کرنا ہوگا تمہارے پاس صرف ایک ہفتے کا ٹائم ہے ”
ڈاکٹر شیراز نے سرمد کو سمجھایا ۔
سرمد نے ہاں میں سر کو جنبشِ دی اور بولا:” سر میں غریب ضرور ہوں اور اس دنیا میں اکیلا بھی لیکن میں سویرا کے آپریشن کے لیے رقم جمع کرنے کی ہر ممکن کوشش کررہا ہوں اور جلد ہی اس مقصد میں کامیاب بھی ہو ہی جاؤں گا ” سرمد یہ بول کر وہاں سے چل دیا ۔
دوسرے دن پولیس اسٹیشن میں حوالدار رحیم نے ہوٹل کے ویٹرز کو انسپکٹر خان محمد کے سامنے پیش کیا اور کہا:” سر ! آپ نے کل ہوٹل میں ہونے والے قتل کی تفتیش کے لیے ویٹرز کو بلانے کے لیے بھیجا تھا ان میں سے تین ویٹر مل چکے ہیں جبکہ ایک غائب ہے ۔سر میں نے اسے بہت ڈھونڈا پر مجھے کہیں نہیں ملا۔ان سے اس ویٹر کے پتہ کے بارے میں پوچھا اور جب اس پتہ پر پہنچا تو اس پتہ پر تو کوئی اور ہی رہے رہا تھا کافی عرصہ سے ۔مطلب وہ پتہ جھوٹا نکلا”
انسپکٹر خان محمد نے باری باری ان ویٹر سے تفتیش کی انہوں نے بتایا کہ وہ کافی عرصہ سے اس ہوٹل میں کام کر رہے ہیں اور ہوٹل کے منیجر بھی انہیں کافی اچھے سے جانتے ہیں۔
” سر ہم ایسی غلطی کبھی نہیں کرسکتے ہمارے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور جوان بہنیں ہیں جن کی شادی کا بوجھ ہمارے کندھے پر ہے سر محنت مزدوری کرکے گزارا کرنے والوں میں سے ہیں” ان ویٹر میں سے ایک نے جواب دیا تھا ۔
انسپکٹر خان محمد زمانہ شناس شخص تھا وہ بندوں کو دیکھ کر پہچان جانتا تھا کہ کون مجرم ہے اور کون نہیں ۔ان ویٹرز میں سے کوئی بھی اس قابل نہیں تھا کہ کسی کا قتل بھی کرسکیں ۔ہوٹل میں لگے سی سی ٹی کیمرے کی ریکارڈنگ میں اس ویٹر کا چہرہ ریکارڈ ہوا تھا ویڈیوز میں۔ اس کی جسامت اور چال ڈھال اس قاتل ” جوکر” سے میچ بھی کرتی تھی ۔یہاں ماجود ان ویٹرز میں سے کوئی بھی اس جیسی قد و قامت نہیں رکھتے تھے۔اس لیے انسپکٹر خان محمد نے ان ویٹرز کو واپس بھیج دیا ۔
انسپکٹر خان محمد نے حوالدار سے کہا:” رحیم! تم ایک کام کرو ہوٹل کے کیمرے ریکارڈنگ سے جو ویڈیو موصول ہوئی ہے اس میں سے ویٹر کی تصویر نکلوا کر اسے ڈھونڈو چاہے تمہیں شہروں میں کیوں نہ ڈھونڈنا پڑے ،اسے ڈھونڈو ،مجھے وہ ہر حالت میں چاہیے ۔جتنے بندے ساتھ لے جانا چاہو لے جاؤ”
حوالدار رحیم نے اثبات میں سر ہلایا اور انسپکٹر خان محمد کو سیلوٹ کرکے وہاں سے چل دیا ۔
حوالدار رحیم اور اس کی ٹیم نے شہر میں ویٹر جس کا نام ہوٹل میں” عقیل” بتایا گیا تھا ۔اس کے بارے میں جگہ جگہ پوچھ تاچھ کی لوگوں کو اس کی تصویر بھی دیکھائی پر اس کا کہیں کچھ پتا نہیں چلا۔حوالدار رحیم شہر میں جتنے بھی مسخرے بنے پھرتے تھے چاہے وہ سرکس میں ہوں ،سڑکوں میں ہوں یا کسی کی برتھڈے پارٹی میں ہوں ان سب کو پکڑ کر لے گئے حوالات میں ان کی اچھی خاصی” خدمت” کی لیکن ان میں سے کسی کا بھی شکل یا اس ” جوکر ” جیسا خدوخال والا شخص میچ نہیں کیا۔ مجبوراً حوالدار رحیم نے انہیں رہا کر دیا ۔
ان سب تفتیش میں حوالدار رحیم نے تین دن ضائع کر دیئے تھے لیکن ثبوت کا کوئی بھی سرا اس کے ہاتھ میں نہیں آ سکا تھا۔
حوالدار رحیم اب انسپکٹر خان محمد سے نظریں ملانے کے قابل نہیں رہا کیونکہ وہ اپنے مقصد میں بری طرح سے فیل ہوا تھا ۔
انسپکٹر خان محمد نے حوالدار رحیم کی جھکی جھکی نظروں کا مطلب سمجھ گیا اور بولا:” رحیم! تم نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی لیکن اسے پکڑنے میں ناکام رہے ۔کوئی بات نہیں اس میں تمہارا کوئی قصور نہیں ہے تم اپنی طرف سے پوری کوشش کی ۔لیکن ہمارے سامنے اس بار مجرم بہت تیز اور چالاک سوچ رکھتا ہے ۔کیونکہ وہ ہمارے سامنے ہونے کے باوجود بھی ہماری پہنچ سے بہت دور ہے ۔ہمیں اگر اس تک پہنچنا ہے تو اس کے جیسا سوچنا پڑے گا ۔وہ خود کو اس گیم کا ماسٹر مائنڈ سمجھ رہا ہے لیکن مجرم جتنا بھی شاطر کیوں نہ ہو غلطی ضرور کرتا ہے اور اس نہ غلطی کی ہے چھوٹی موٹی نہیں بلکہ بہت بڑی ۔۔۔۔
منظر ریلوے اسٹیشن کا تھا۔اس وقت دوپہر ڈھل رہی تھی ۔اسٹیشن پر ٹرین ابھی ابھی آ کر رکی تھی ۔ادھے گھنٹے کے وقفے کے بعد ٹرین مسافروں کو اٹھانے کے بعد اگلے اسٹیشن کے لیے روانہ ہو جاتی۔اسٹیش پر لوگوں کی گہما گہمی تھی ۔ہر کوئی اپنے اپنے کاموں میں منہمک تھے ۔
انہیں لوگوں میں ایک شخص ” جوکر” کے گیٹ اپ میں اپنے مشغلہ میں مشغول تھا ۔وہ عجیب عجیب حرکتوں سے بچوں کو ہنسنے پر مجبور کر رہا تھا ۔اب اس کے لیے کوئی ” جوکر” کو پیسے دے یا نہ دے” اسے” اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی ۔
کچھ دیر کے بعد اسٹیشن کے نزدیک ایک چمچاتی ہوئی کار آ کر رکی ۔کار میں سے ایک شخص اتر کر اپنے ” مطلوبہ” بندے کی تلاش کرنے لگا ۔جب وہ نہیں ملا تو اپنی جیب سے موبائل نکال کر اس مطلوبہ شخص کو کال ملانے لگا تھا ۔دوسری طرف سے شاید نمبر بزی بتایا جارہا تھا تبھی وہ شخص” اس ” کا انتظار کرنے لگا ۔کبھی کبھی وہ دوبارا موبائل فون نکال کر اسے کال ملانے لگتا پر بار بار نمبر بزی بتایا جارہا تھا ۔
جب وہ انتظار کرتے ہوئے اسٹیشن کے سائیڈ میں ایک عمارت کے نزدیک ہوا تب اس کو پیچھے سے سر پر ضرور سے کوئی چیز ٹکرائی جس کی وجہ سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ اپنے سر کو پکڑ کر زمین پر بیٹھتا چلا گیا ۔اس کے منہ سے کراہنے کی آوازیں نکلنے لگی تھی ۔لیکن اسٹیشن سے آنے والے اتنے شور میں اس کی آواز دب گئی تھی ۔
اچانک اس کے سر پر ایک وار اور پڑا اور وہ مرگ بسمل کی طرح تڑپتے ہوئے جان دے دی ۔
"جوکر ” اپنے اس کام کو سر انجام دے چکنے کے بعد کار کی طرف بڑھا اور اس میں رکھا ہوا بلیک کلر کا بیگ نکال لیا جو نوٹوں سے بھرا ہوا تھا ۔
"وہ ” سوچنے لگا کہ اس کو اس کام کو سر انجام دیتے وقت کسی نے نہیں دیکھا ہوگا ۔
کسی نے نہ سہی مگر اسٹیشن کے اوپر لگے کیمرے میں اس کی یہ واردات واضح ریکارڈ ہوئی تھی ۔
شام تک لاش کے اردگرد لوگوں کا ہجوم لگ چکا تھا ۔ریلوے پولیس ان لوگوں کو قتل گاہ سے دور ہٹانے کی کوشش کر رہی تھی ۔شہر سے تحقیقات کے لیے پولیس بلوالی گئی تھی ۔
موقع واردات پر جن لوگوں کے پاس موبائل تھا انہوں نے اس واردات کے منظر کو ریکارڈ کر کے سوشل میڈیا پر اپلوڈ بھی کر چکی تھی جس کو دیکھ کر میڈیا والے بھی اس واردات کو کوریج کرنے کے لیے موقع پر پہنچ چکے تھے ۔
پولیس کی ٹیم موقع واردات پر پہنچ کر تحقیق کرنی شروع کر دی تھی ۔اس دوران پولیس انسپکٹر خان محمد بھی آ کر حوالدار رحیم سے واردات کے بارے میں پوچھا۔
حوالدار رحیم نے جواب دیا:” سر ! قتل ایک شخص کا ہوا اس کار پہ سوار ہو کر یہاں پہنچا پھر اسٹیشن پر کچھ دیر رکا ۔پھر اس کو کسی نامعلوم افراد نے قتل کر دیا ۔اس عمارت کے نزدیک جو ریلوے اسٹیشن سے تھوڑی دور ہے ۔قتل ہوتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا سر”
” لاش کو دریافت کس نے کیا تھا ؟ ” پولیس انسپکٹر خان محمد نے پوچھا ۔
” سر! لاش کو ریلوے پولیس والوں نے ہی دریافت کیا تھا” رحیم نے جواب دیا ۔
” مقتول کون تھا ؟ معلوم ہوا کچھ؟ ” پولیس انسپکٹر خان محمد نے پوچھا ۔
” سر! مقتول کی شناخت ہو چکی ہے مقتول وزیرِ اعلیٰ پنجاب نواز احمد کا سیکرٹری تھا” حوالدار رحیم نے جواب دیا ۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد کا سیکرٹری کا نام سن کر پولیس انسپکٹر خان محمد چونکا ۔کیونکہ کچھ دن پہلے ہی وزیر اعلیٰ نواز احمد کے بیٹے کو ہوٹل میں قتل کر دیا گیا تھا اب اس کا سیکرٹری ؟
” اس واقع کی خبر وزیر اعلیٰ نواز احمد کو دی ؟ پولیس انسپکٹر خان محمد نے پوچھا ۔
” سر! نہیں ابھی تک تو نہیں دی گئی خبر لیکن ابھی خبر کرتا ہوں سر ” رحیم نے جواب دیا ۔
” موقع واردات پر کوئی ثبوت ملا؟” پولیس انسپکٹر خان محمد نے پوچھا ۔
” سر ویسے تحقیقات ٹیم تحقیق کر رہی ہے فنگر پرنٹ بھی اٹھوائے جار رہے ہیں ۔لیکن مجھے کار کی پہلی سیٹ پر یہ پلے کارڈ ملا ہے ” حوالدار رحیم نے پلے کارڈ پولیس انسپکٹر خان محمد کو دیا۔
پولیس انسپکٹر خان محمد نے پلے کارڈ دیکھا تو وہ چونکا کیونکہ اس پہ جوکر کا رنگین خاکہ بنا ہوا تھا ۔
خان محمد کے دماغ میں فوراً” جوکر” کا نام گونجا ۔کچھ دن پہلے ہونے والے ہوٹل میں محمود احمد کے قتل پہ بھی جوکر لکھا ہوا تھا کیا یہ اتفاق تھا؟یا اس واردات کے پیچھے بھی اسی قاتل جوکر کا ہاتھ ہے ؟ خان محمد سوچنے لگا ۔
” رحیم! کیا یہاں سی سی ٹی کیمرے لگے ہوئے ہیں ؟” پولیس انسپکٹر خان محمد نے حوالدار رحیم سےپوچھا ۔
” جی ہاں سر! یہاں ریلوے اسٹیشن کے اوپر سی سی ٹی کیمرا لگا ہوا ہے” حوالدار رحیم نے جواب دیا ۔
” مجھے اس کیمرے کی فوٹیج منگوا کر دو اور اس فوٹیج کو میڈیا والوں سے دور ہی رکھنا اور لاش کو جلد ہی پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوا دو” پولیس انسپکٹر خان محمد یہ کہا کر وہاں سے چلا گیا ۔
وزیر اعلیٰ نواز احمد میٹنگ سے واپس لوٹ رہا تھا وہ ابھی کار میں ہی تھا ۔اس کو بے چینی نے گھیر رکھا تھا ۔کافی وقت پہلے اس نے اپنے سکیرٹری کو مطلوبہ بندے کو پیسے دینے کے لیے کار پہ ریلوے اسٹیشن بھیجا تھا لیکِن ابھی تک اس کا سیکرٹری واپس نہیں لوٹا تھا اور اوپر سے وہ کال بھی نہیں اٹھا رہا تھا ۔
اچانک نواز احمد کا فون بج اٹھا ۔نواز احمد نے جلدی سے فون کی سکرین پر دیکھا شاید وہ سمجھ رہا تھا کہ اس کے سیکرٹری کی کال ہوگی لیکن نمبر پولیس لائن کا تھا۔اس نے کال اٹینڈ کی دوسری طرف آواز آئی:” ! نواز احمد صاحب آپ کو بتانے میں برا لگ رہا ہے لیکن مجبوری ہے اس لیے بتانا پڑ رہا ہے کہ آج دوپہر کو ریلوے اسٹیشن پہ آپ کے سیکرٹری کو کسی نامعلوم افراد نے قتل کر دیا ہے”
یہ خبر سن کر نواز احمد کے ہاتھ سے موبائل چھوٹتے چھوٹتے بچا تھا ۔
” کیسے ہوا یہ ؟میں ابھی آ رہا ہوں” نواز احمد کے منہ سے بامشکل آواز نکلی تھی ۔دوسری طرف سے جواب ملا:” سر آپ کو ریلوے اسٹیشن پہ آنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے آپ شہر کے تھانے آجائیے پولیس انسپکٹر خان محمد آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں”
"میں آبھی پہنچ رہا ہوں” نواز احمد نے جواب دیا ۔
رات ہو چکی تھی ۔پولیس انسپکٹر خان محمد تھانے میں بیٹھا تھا ۔ریلوے اسٹیشن پر آج ہونے والی قتل کی واردات کی سی سی ٹی ویڈیو ریلوے پولیس کے دفتر میں ہی دیکھ لی تھی ۔ویڈیو میں ایک رنگین کپڑوں میں ملبوس شخص کو دیکھا جاسکتا تھا جو پہلے مقتول کے پیچھے عمارت والے سائیڈ پر جاتے اور کچھ دیر بعد مقتول کی کار میں سے ایک بلیک کلر کے بیگ کو اٹھاتے ہوئے دیکھا ۔صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ قاتل نے مقتول کو اس ” بیگ” کی وجہ سے قتل کیا تھا ۔لیکن اس بلیک کلر کے بیگ میں کیا تھا؟ یہ اب تک معلوم نہیں ہو سکا تھا ۔
پولیس انسپکٹر خان محمد نے سی سی ٹی ویڈیو کو کئی بار زوم کرکے اس قاتل کے چہرے کو دیکھنے کی کوشش کی پر اس کے چہرے پر مسخرے جیسا میک اپ کیا ہوا تھا اس وجہ سے اس کی اصل شکل واضع نہیں ہورہی تھی ۔
پولیس انسپکٹر خان محمد نے اس مسخرے کو دیکھ کر یاد آیا کہ بلکل ویسا ہی مسخرے جیسا میک اپ اس رات ہوٹل میں ہونے والے محمود کے قاتل ” جوکر” کا تھا جو اس واردات کی سی سی ٹی ویڈیو میں ریکارڈ ہوا تھا ۔تو اس کا مطلب ہے کہ دونوں قتل کی وارداتوں کے پیچھے ایک ہی ” جوکر” کا ہاتھ ہے ۔
ابھی ایک قتل کو سلجھانے میں ہی الجھا ہوا تھا کہ دوسرا قتل رونما ہوگیا۔قاتل ان کے سامنے تھا پھر بھی ان کی نظروں سے اوجھل تھا ۔خان محمد پولیس اسٹیشن بیٹھا یہی سوچ رہا تھا اس کے سامنے ٹیبل پر "جوکر ” والا پلے کارڈ پڑا تھا ۔جو آج ہونے والی قتل کی واردات پہ ملا تھا ۔
مقتول محمود کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ صبح آ چُکی تھی لیکن اس میں کوئی خاص ثبوت نہیں مل سکا تھا بس اتنا معلوم ہوا تھا کہ مقتول کو صرف تیخی چیز کو مقتول کے دل میں گھونپا گیا تھا ۔اور مقتول اسی وقت موت متوقع ہوئی تھی ۔
” سر! وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد صاحب تھانے کے باہر پہنچ چکے ہیں” حوالدار رحیم نے پولیس انسپکٹر خان محمد کو نواز احمد کے آنے کی اطلاع دی ۔
” ان کو اندر آنے دو” خان محمد نے جواب دیا ۔
تھوڑی دیر بعد نواز احمد کے انسپکٹر خان محمد کے سامنے کرسی پر بیٹھا تھا ۔
نواز احمد نے پولیس انسپکٹر خان محمد سے پوچھا:” یہ قتل کب ہوا ؟ کیسے ہوا ؟ میری تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ یہ کیسے ممکن ہوا؟”
خان محمد نے جواب دیا:” نواز احمد صاحب آپ میرے لیے قابل قدر ہیں کچھ دن پہلے ہی ہوٹل میں اپ کے بیٹے کے ساتھ جو افسوس ناک حادثہ ہوا ہم اب بھی اس تفتیش کر رہے ہیں اور بہت جلد اس قاتل کو اپنے شکنجے میں جکڑ لینگے ۔
آج دوپہر کو ریلوے اسٹیشن پہ جو حادثہ آپ کے سیکرٹری کے ساتھ متوقع ہوا ہے اس حادثے کے پیچھے ایک ہی شخص” جوکر” ہے ” یہ کہے کر پولیس انسپکٹر خان محمد نے اپنے سامنے رکھے ہوئے کمپیوٹر پہ سی سی ٹی ویڈیو نواز احمد کو دیکھائی ۔
” ہوٹل کی اور ریلوے اسٹیشن کی سی سی ٹی ویڈیو کے اندر اس جوکر کا حلیہ بلکل ایک جیسا ہی تھا بلکہ حلیہ کیا خدوخال اور چال ڈھال بھی ایک جیسی ہی تھی ۔
” میں اس جوکر والے حلیہ جیسے شخص کو نہیں جانتا اور نہ ہی اسے کبھی ملا ہوں ۔میں تو اس کا نام جوکر آپ کے منہ سے سن رہا ہوں ” نواز احمد نے جواب دیا ۔
” اس کے اصل شکل کی ویڈیو اور تصاویر میرے پاس ہیں اور اس کا اصل نام عقیل ہے ۔مجھے اس کے بارے میں ہوٹل کے منیجر رشید سے معلوم ہوا ہے اور اسی نے ہوٹل کی سی سی ٹی کیمرے کی فوٹیج میں سے اس کی اصل چہرے والی ویڈیو نکال کر مجھے دی تھی” پولیس انسپکٹر خان محمد بتانے کے ساتھ وہ اصل شکل والی ویڈیو نکال کر نواز احمد کو دکھایا ۔
ویڈیو میں ایک نوجوان ویٹر کی لباس میں کام کرتا ہوا دکھایا گیا تھا وہ لگ بھگ 30 کی عمر کا نوجوان لگ رہا تھا ۔
نواز احمد ویڈیو کو دیکھ کر بھی اس عقیل نامی شخص کو پہچاننے سے انکار کر دیا تھا ۔
” یہ شخص آپ کا دشمن ہے ؟ یا پھر آپ کے دشمن کی طرف سے بھیجا ہوا کارندہ ؟ آپ اپنے دشمنوں کے بارے مجھے بتائیں تاکہ میں ان میں تفتیش کر کے آپ کے بیٹے اور آپ کے سیکرٹری کی موت کے زمہ دار کو قانون کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کر سکوں؟” پولیس انسپکٹر خان محمد نے نواز احمد سے پوچھا ۔
"خان محمد صاحب آپ تو جانتے ہی ہیں میں بہت شریف آدمی ہوں میری کسی سے کوئی دشمنی نہیں ہے ہاں سیاست میں تو دشمن پیدا ہو ہی جاتے ہیں شاید میرا کوئی سیاسی دوست مجھ سے نفرت کرتا ہو؟ میں کچھ نہیں جانتا جناب میرے کس دشمن نے یہ کام کیا ہے؟” نواز احمد نے جواب دیا ۔
پولیس انسپکٹر خان محمد نے نواز احمد کو احتیاط برتنے کی تلقین کی اور آخری سوال کیا :” نواز احمد صاحب! آپ کے سیکرٹری کے کار میں ایک بیگ تھا جس کو اس قاتل نے سیکرٹری کے قتل کے بعد کار سے اٹھایا تھا ۔میں پوچھ سکتا ہوں کہ اس بیگ میں کیا تھا ؟ ”
نواز احمد نے جواب دیا:” خان محمد صاحب! میں سیکرٹری کے پاس کسی بھی بلیک کلر کے بیگ کی موجودگی کے بارے میں نہیں جانتا بلکہ اس بات سے بھی واقف نہیں ہوں کہ میرے سیکرٹری کو کیا ضرورت پڑگئی تھی کہ وہ ریلوے اسٹیشن پہ جاتا ”
” بہرحال آپ اپنا خیال رکھیے کیونکہ قاتل کا کوئی بھروسہ نہیں وہ آپ پر بھی حملہ کرسکتا ہے ۔اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کے ساتھ برا ہونے والا ہے تو آپ فوراً ہمیں خبر کردیں ” خان محمد نے کہا۔
کچھ دیر کے بعد نواز احمد واپس لوٹ گئے تھے ۔رات کافی ہوچکی تھی ۔پولیس انسپکٹر خان محمد بھی گھر جانے کی تیاری کرنے لگا۔
حوالدار رحیم نے پولیس انسپکٹر خان محمد سے پوچھا:” سر! آپ نے کہا تھا کہ قاتل نے چھوٹی موٹی نہیں بلکہ بہت بڑی غلطی کی ہے سر وہ غلطی کیا تھی ؟ ”
” وقت آنے پر بتا دونگا ” پولیس انسپکٹر خان محمد یہ بول کر پولیس اسٹیشن سے باہر نکل کر اپنی گاڑی میں بیٹھے اور گھر کی روانہ ہو گئے تھے ۔
پولیس انسپکٹر خان محمد کی عمر اس وقت 35 سال کے لگ بھگ ہوچکی تھی اس نے اب تک شادی نہیں کی تھی ۔
خان محمد اپنی کلاس فیلو انابیہ سے پیار کرتا تھا ۔انابیہ کو بھی خان محمد پسند تھا۔لیکن اس نے اپنے کرئیر اور خان محمد میں سے اپنے کرئیر کو چنا تھا اور اس کی خاطر بیرون ملک چلی گئی تھی ۔خان محمد کو آج بھی اس کا انتظار تھا ۔
خان محمد کی فیملی میں سے صرف اس کے ماں باپ تھے جو کچھ سال پہلے بڑھاپے میں ہی رخصت ہو گئے تھے ۔
خان محمد کے والد بھی محکمہ پولیس میں تھے ۔اس لیے خان محمد نے بھی اسی شعبے کو چنا تھا ۔
خان محمد جب گھر پہنچے تو رات کافی گہری ہو رہی تھی ۔گھر میں اس کو سرمد ملا ۔خان محمد نے سرمد سے اس کا حال پوچھنے کے بعد بولا:” سرمد! تم گاؤں سے کب آئے؟ ”
” آج دوپہر کو ہی لوٹا ہوں” سرمد نے جواب دیا ۔
” تم اپنی بیوی سے ملنے گئے تھے ؟ان کی طبیعت کیسی ہے اب؟” خان محمد نے پوچھا ۔
” سویرا ٹھیک نہیں ہے اس کا برین ٹیومر کا آپریشن جلد از جلد کروانا پڑے گا ڈاکٹر شیراز نے بولا ہے۔اور اس کے آپریشن کے لیے بہت بھاری فیس لگے گئی ۔”
” میں ان دنوں بہت مصروف رہا تمہیں خبر تو ہوگئی ہوگی نہ یہاں دو بڑے قتل ہو چکے ہیں ایک وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد کا بیٹا جبکہ دوسرا اس کا سیکرٹری جس کو آج دوپہر کو ہی ریلوے اسٹیشن پہ قتل کیا گیا۔ قاتل کے بارے میں صرف اتنا معلوم ہے کہ وہ ” جوکر ” کے گیٹ اپ میں تھا” خان محمد نے کہا۔
” تمہارے بیوی کے آپریشن کے لیے میں ابھی پیسوں کا بندوبست کرتا ہوں بتاؤ کتنے پیسے چاہیے ؟”
سرمد نے جواب دیا:” سر! پیسوں کا بندوبست ہوچکا ہے ۔ گاؤں میں میری زمین میرے جاننے والے کے پاس تھی میں وہ زمین کو بیچ کر میں نے پیسے اکٹھے کیے ہیں ”
” پھر تمہاری بیوی کے آپریشن کے لیے جلد ہی کسی بڑی ہسپتال سے رابطہ کرنا پڑے گا ۔میں ابھی شہر کی بڑے ہسپتال کے ڈاکٹر کو فون کر کے آپریشن کے لیے ابھی بات کرتا ہوں ” خان محمد فون نکالتے ہوئے بولا۔
” سر ! آپ پہلے ہی مجھ پر بہت احسان کرچکے ہیں اب مزید نہیں ،آپ کو ویسے بھی مصروفیت بہت زیادہ ہے ،میں یہ کام خود کرلونگا ” سرمد خان محمد کو روکنے کے انداز میں بولا۔
” سرمد! اس میں احسان والی کون سی بات ہے ؟ تم نے مجھے اپنا دوست مانا ہے نا تو دوستی میں احسان کیسا ؟ اور میں مصروف ضرور ہوں لیکن تمہیں اس مشکل گھڑی میں اکیلا نہیں چھوڑ سکتا” خان محمد نے جواب دیا ۔
خان محمد کو سرمد کچھ مہینے پہلے ملا تھا ۔جب سرمد کی حالت خود خوشی کرنے لائق تھی۔وہ خود کشی کرنے کے لیے سڑک کے درمیان چل رہا آدھی رات کو خان محمد اس وقت اپنی گاڑی پہ گھر کی طرف جارہا تھا ۔
خان محمد کو سرمد کی حالت پہ ترس آیا اس نے سرمد کو سمجھایا کہ تم ابھی جوان ہو اس طرح خود کشی کرکے اپنی قیمتی زندگی کو اس طرح ضائع مت کرو تمہارے آگے طویل زندگی پڑی ہے کیا ہوا؟ جو اس وقت مشکل وقت سے گزر رہے ہو ؟ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی ۔خان محمد کے سمجھانے کا سرمد پہ اثر ہوا تھا ۔
سرمد نے اپنی اتنی سی وجہ بتائی کہ اس کے پاس کوئی نوکری نہیں ہے اور اس کی بیوی سویرا پاگل کھانے داخل ہے اور اس کو برین ٹیومر بھی ہے اس کے علاج کے لیے اس کے پاس کوئی پھوٹی کوڑی بھی نہیں ہے۔
خان محمد ،سرمد کو اپنے گھر لایا تھا۔تب سے سرمد خان محمد کے گھر میں رہتا تھا ۔
"میری ڈاکٹر سے بات ہوگئی ہے کل تمہاری بیوی کا آپریشن متوقع ہے” خان نے بتایا سرمد کو۔
شہر کے مشہور ومعروف ہستپال میں پاگل خانے کے ڈاکٹر شیراز اور نرس نے سرمد کی بیوی سویرا کو اس ہسپتال میں منتقل کردیا تھا ۔آج سویرا کا آپریشن تھا برین ٹیومر کا ۔سرمد بھی ہسپتال میں موجود تھا۔
سویرا کو جب وارڈ میں منتقل کرکے اس سے ” گڈے” کو چھینا گیا تو وہ غصے سے چیخنے چلانے لگی اور ڈاکٹر اور نرس کے منہ پر ناخنوں سے حملہ کرنے لگی۔نرس نے بڑی مشکل سے بے ہوشی کا انجیکشن لگایا تھا جس کی وجہ سے سویرا بے ہوش ہو گئی تھی ۔
سرمد کو ڈاکٹر شمیر نے کہا:” سرمد! تمہاری بیوی کافی مشکل سٹیج سے گزر رہی ہے ایک تو اس کا ذہنی توازن ٹھیک نہیں ہے اور اوپر سے اس کو برین ٹیومر ہے وہ بھی لاسٹ سٹیج پر ۔ہم اس کا آپریشن تو کر رہے ہیں لیکن اس کے چانسز کافی کم ہے کہ وہ بلکل ٹھیک ہو جائے یا تو وہ ٹھیک ہوگئی یا پھر ہمیشہ کے لیے کوما میں بھی جا سکتی ہے”
ڈاکٹر کی بات سن کر سرمد کے پیروں تلے زمین ہی نکل گئی ” سویرا ہمیشہ کے لیے کوما میں بھی جا سکتی ہے” یہ الفاظ اس کے دل میں ہتھوڑے کی طرح برسنے لگے تھے ۔سویرا اس کی زندگی کی آخری نوید تھی اگر وہ بھی نہ رہی تو اس کے جینے کا مقصد ہی ختم ہو جائے گا ۔
آپریشن شروع ہو چکا تھا ۔سرمد کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا تھا ۔اس کی سانسیں جیسے سینے میں ہی اٹک گئی ہوں ۔اتنی دیر میں خان محمد بھی اس کے پاس پہنچ گیا تھا ۔خان محمد نے سرمد کا حوصلا بڑھایا اور اس کو دلاسا دینے لگا۔
ڈاکٹر آپریشن تھیٹر سے باہر نکل کر سرمد سے بولا: ” پیشنٹ بڑی کریٹیکل حالت میں ہے خون کی ضرورت ہے”
خان محمد بولا :” آپ میرا خون چیک کیجئے ۔میں خون دینے کے لیے تیار ہوں”
ڈاکٹر نے خان محمد کا خون ٹیسٹ کیا اس کا خون کا بلڈ گروپ سویرا کے خون کے بلڈ گروپ سے ملنے لگا تھا اس لیے
کچھ دیر میں ہی خان محمد کا خون سویرا کو چھڑایا جا رہا تھا ۔
کچھ گھنٹوں کے بعد آپریشن روک کر ڈاکٹر اور سارے نرس آپریشن تھیٹر سے باہر نکلنے لگے ۔
یہ گھنٹے بھی سرمد کو سالوں پہ محیط لگے تھے ۔
ڈاکٹر شمیر نے سرمد کو خبر دی ” سر! آپ کے لیے یہ خبر بہت بری ثابت ہونے والی ہے لیکن آپ کو برداشت کرنی پڑے گی ۔تمہاری بیوی سویرا کوما میں جاچکی ہے ۔ آپریشن بری طرح سے ناکام رہا”
ڈاکٹر کا اتنا بتانا تھاکہ سرمد، ڈاکٹر پر جھپٹ پڑا اس کے گریبان کو پکڑ کر ہزیانی انداز میں بولنے لگا:” میری سویرا کو کچھ نہیں ہو سکتا میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا تم لوگوں کو پیسے کس چیز کے لیے دیئے تھے”
ڈاکٹر کو بڑی مشکل سے سرمد سے بچایا گیا تھا۔خان محمد بھی وہیں موجود تھا اس نے سرمد کو سنبھالا پر سرمد سنبھلنے والا کہاں تھا؟ وہ زور سے زور سے چلا رہا تھا چیخ رہا تھا ” میری سویرا کو کچھ نہیں ہو سکتا”
خان محمد بامشکل سے سرمد کو سنبھال کر گھر کی طرف لے گیا تھا ۔
گھر پہنچ کر سرمد پہ جیسے غشی طاری ہو گئی تھی وہ بے ہوش ہو کر بستر پر گر پڑا تھا ۔
خان محمد نے اسے آرام کرنے دیا تھا ۔وہ اپنی ڈیوٹی چھوڑ کر آیا تھا اس لیے اب وہ اپنی ڈیوٹی پر واپس لوٹ گیا تھا ۔
شام کو خان محمد سرمد کا حال چال پوچھنے کے لئے گھر آیا تھا پر سرمد گھر پہ موجود نہیں تھا ۔وہ سمجھا شاید سرمد پاگل خانے چلا گیا ہوگا اپنی بیوی سویرا کے پاس جیسے وہ ہمیشہ جاتا تھا ۔پھر اسے یاد آیا کہ سویرا تو کوما میں ہے شہر کے بڑے ہسپتال میں داخل ہے۔
پھر سرمد کہاں گیا ہوگا؟۔کہیں سرمد پھر سے خود کشی تو نہیں کرنے چلا گیا ۔
خان محمد یہیی سوچ ہی رہا تھا کہ اس کی نظر کمرے میں پڑے ہوئے صندوقچے پہ چلی گئی جو کھلا ہوا تھا اور اس میں سے کپڑے اور سامان باہر نکلے پڑے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ کوئی عجلت میں اسے کھول کر اس میں سے کوئی چیز ڈھونڈنے کی کوشش کی ہو۔
یہ کمرہ اور صندوق دونوں سرمد کے تھے ۔خان محمد نے اس کو نزدیک سے دیکھا اس میں جو سامان پڑا تھا وہ حیران کن تھا کیونکہ وہ میک اپ کا سامان تھا اور اس صندوق میں رنگین کپڑے اور رنگین وگ پڑی تھی ۔جس چیز پہ خان محمد کا دھیان گیا تھا وہ ایک پلے کارڈ تھا جس پہ رنگین ” جوکر” کا خاکہ بنا تھا۔یہ پلے کارڈ بلکل ویسا ہی تھا جیسا وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد کے سیکرٹری کے قتل کے دوران کار میں ملا تھا ۔
جس ” جوکر” وہ پورے شہر میں ڈھونڈ رہا تھا وہ اس کے گھر میں ہی تھا ۔
مطلب سرمد ” جوکر” ۔۔۔
وہ اتنا ہی سوچ سکا تھا اچانک اسے کچھ یاد آیا وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔
رات کے 12 بج رہے تھے اس وقت ۔شہر کے مشہور ہسپتال میں ڈاکٹر شمیر اپنے آفس میں بیٹھے پیشنٹ کی رپورٹ کو اسٹڈی کر رہے تھے ۔ہسپتال کا دوسرا عملا ڈیوٹی ٹائم کے ختم ہو جانے کے بعد دھیرے دھیرے کرکے
گھر لوٹ گئے تھے ۔ہسپتال میں اس وقت صرف ایک چپڑاسی ،ایک نرس اور ڈاکٹر شمیر بچے تھے ۔ڈاکٹر شمیر بھی بس تھوڑی دیر میں ہسپتال سے گھر جانے کے لیے نکلنے ہی والے تھے ۔
ڈاکٹر شمیر کے آ فس کے دروازے پہ دستک ہوئی ۔
” کون ہے ؟ چلے آؤ” ڈاکٹر شمیر نے پوچھا ۔
آفس میں رنگین کپڑوں میں ایک اجنبی داخل ہوا ۔
ڈاکٹر شمیر نے دیکھا ایک مسخرے کے گیٹ اپ میں شخص آفس میں داخل ہو کر دروازے کو اندر سے لاک کردیا تھا ۔
ڈاکٹر شمیر یہ دیکھ کر حیران ہوا اور کرسی سے اٹھتے ہوئے بولا:” یہ کیا بد تہذیبی ہے ؟ دروازہ کیوں بند کیا؟ کون ہو تم ؟ اندر کیسے گھسے ہو؟”
جوکر کے منہ سے یہ الفاظ نکلے:” تمہیں سویرا کو مجھ سے چھیننا نہیں چاہیے تھا ؟ تمہیں پیسے دیئے تھے کہ تم اس کو ہر حال میں بچا سکو ،پر تم اس میں ناکام رہے ،میری سویرا اب پہلی جیسی نہیں رہی ۔میں تمہیں بھی اسی جیسا کر دونگا”
یہ کہتے ہوئے جوکر نے اپنا مخصوص ” آلہ” نکالا اور ڈاکٹر شمیر کے سر پر زور سے وار کیا مگر وہ سر کو نیچے جھکائی دے کر دروازے کے طرف بڑھا تھا ۔وہ جلدی سے دروازے کو کھول کر باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ سامنے اسے پولیس انسپکٹر خان محمد کھڑا دیکھائی دیا۔ڈاکٹر شمیر جلدی سے انسپکٹر خان محمد کے پیچھے چھپتے ہوئے بولا:” سر! مجھے اس خونی پاگل سے بچا لو یہ مجھے مارنا چاہتا ہے”
پولیس انسپکٹر خان محمد نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی بندوق کو جوکر کی طرف کرتے ہوئے بولا:” سرمد! رک جاؤ ذرا بھی حرکت کرنے کی کوشش مت کرنا”
لیکن سرمد پہ ان باتوں کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ ان دونوں کی طرف لپکا ۔جیسے ہی سرمد دروازے کی طرف بڑھا انسپکٹر خان محمد نے اپنی ٹانگ کی ٹھوکر ماری کے سرمد کمرے کے اندر دور جا گرا اس کے ہاتھ سے اس کا مخصوص ” آلہ” چھوٹ کر دور جا گرا تھا ۔
"سرمد! میں نے تم سے کہا کہ کوئی حرکت نہیں کرنی تمہارا کھیل ختم ہوچکا ہے اب اپنے ہاتھوں کو سر سے بلند کر کے باہر چلے آؤ” انسپکٹر خان محمد نے گرج کر کہا ۔
” میں آج اس ڈاکٹر کو چھوڑوں گا نہیں اس نے مجھ سے میری سویرا کو چھینا ہے ،جیسی حالت میری سویرا کی ہوئی ہے بلکل ویسی حالت اس ڈاکٹر کی کر دونگا” سرمد آپے سے باہر تھا اس پہ خون سوار تھا۔
” سرمد! سویرا کو کچھ بھی نہیں ہوا وہ بس کوما میں ہے تم ڈاکٹر شمیر کی بات کو سمجھے نہیں تھے انہوں نے آپریشن کرکے تمہاری سویرا کو برین ٹیومر جیسے موذی مرض سے نجات دلائی ہے کیا ہوا سویرا کوما میں ہے پر وہ زندہ تو ہے نہ ” انسپکٹر خان محمد نے کہا۔
خان محمد کی باتوں نے سرمد کے دل پہ اثر کیا تھا ۔سرمد نے اپنے ہاتھوں کو سر سے بلند کر لیے ۔اسی وقت ہسپتال میں پولس کی نفری داخل ہوئی ۔حوالدار رحیم نے آگے بڑھ کر سرمد کے ہاتھوں میں ہتھکڑی لگا دی اور پھر اس کو لے کر ہسپتال کے باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھا دیا ۔اور پھر گاڑی کو پولیس اسٹیشن کی طرف بڑھا دیا ۔
انسپکٹر خان محمد اپنی گاڑی میں سوار ہو کر پولیس اسٹیشن کی طرف بڑھا ۔وہ راستے میں سوچتے ہوئے جا رہا تھا کہ اچانک اس کیس نے کیسے رخ بدلہ تھا سرمد کے بارے میں وہ کبھی ایسا سوچ ہی نہیں سکتا تھا کہ اس کا دوسرا روپ اتنا بھیانک ہوگا۔اسے سرمد چہرے سے معصوم اور شریف دیکھتا تھا اس کو یقین ہی نہیں آرہا تھا کہ آج ہسپتال میں اس نے جوکر کے روپ میں سرمد کا ایسا بھیانک روپ دیھکا تھا ۔
آج سرمد کو اس نے اپنے آنکھوں کے سامنے جوکر کے حلیہ میں دیکھا تھا لیکن ملتان شہر کے ہوٹل میں جس ویٹر نے جوکر کے حلیہ میں محمود احمد کا قتل کیا تھا اس ویٹر کی شکل سی سی ٹی ویڈیو میں بلکل مختلف تھی اور اس کا نام بھی عقیل تھا تو کیا سرمد اور عقیل دونوں الگ الگ شخصیت ہیں ؟ وہ جتنا سوچتا اتنا ہی اس معمع میں الجھتا چلا جاتا۔
رات بہت گہری ہوچکی تھی ۔ انسپکٹر خان محمد پولیس اسٹیشن پہنچ کر حوالدار رحیم کو بولا:” مجھے سرمد سے تفتیش کرنی ہے ” حوالدار رحیم انسپکٹر خان محمد کو لے کر جیل میں موجود اس کمرے تک گئے جہاں مجرموں سے اسپشل تفتیش کی جاتی ہے ۔حوالدار رحیم بولا:” سر ! آپ ادھر بیٹھیں میں ابھی مجرم کو لے کر آ رہا ہوں ۔”
تھوڑی دیر بعد سرمد کو اسپشل کمرے میں پہنچ دیا گیا ۔
انسپکٹر خان محمد ،سرمد کو دیکھ کر بولا:”تمہیں اس حال میں دیکھ کر مجھے دکھ ہوا یقین ہی نہیں آ رہا تھا کہ میں تمہیں اسی حالت میں دیکھوں گا۔میں نے تمہیں اپنا دوست سمجھا تھا ۔آخر کیوں ؟ سرمد بتاؤ مجھے ؟ تم سرمد ہو؟ جوکر ہو ؟ یا عقیل ہو ؟ بتاؤ تم ہو کون ؟ مجھے سب کچھ جاننا ہے ؟ سچ سچ بتا دو مجھے حقیقت جاننی ہے ، کیا تم نے ہی وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد کے بیٹے محمود احمد کو قتل کیا تھا ؟ کیا تم نواز احمد کے سیکرٹری کو قتل کیا تھا ؟ ”
سرمد پہلے سر کو جھکا کر خاموش بیٹھا رہا پھر انسپکٹر خان محمد سے گویا ہوا:” سر ! میرا نام سرمد ہی ہے ، میں سات آٹھ سال کی عمر کا تھا ۔جب والد صاحب محنت مزدوری کرکے مجھے پڑھا رہے تھے ۔وہ مسخرے بن کر گلیوں بازاروں میں گھومتے ،کبھی اسکول کے باہر بچوں کو تماشا دیکھاتے اسی محنت مزدوری سے جو کچھ ان کو ملتا وہ میرے اسکول کا خرچ اٹھاتے تھے ۔مجھے ان کا دوسروں کے سامنے تماشا بننا بلکل بھی پسند نہیں تھا۔اسکول میں بچے میرا مذاق اڑاتے تھے ۔
ایک دن میں اسکول سے چھٹی کے بعد اسکول سے باہر نکلا تو میرے والد مسخرے بنے لوگوں کو تماشا دیکھا رہے تھے ۔وہ مین روڈ کے کنارے پر کھڑے تھے ۔یہی ان کی غلطی تھی اس غلطی کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا ایک تیز رفتار کار انہیں کچلتی ہوئی آگے نکل گئی ۔میں یہ دیکھ کر اپنے والد کی طرف دوڑا تھا ۔میرے والد بری طرح سے زخمی ہوئے تھے ان کی دونوں ٹانگیں کچلی گئی تھی ۔لوگوں نے انہیں اٹھا کر فوراً ہسپتال پہنچایا تھا۔میرے والد بچ تو گئے تھے پر وہ دونوں ٹانگوں سے محروم ہو گئے تھے ۔وہ میرے آخری سہارا تھے اس دنیا میں ۔اب مجھے ہی ان کا سہارا بننا تھا ۔ان کی دوا اور علاج کے خرچ کو اٹھانے کے لیے میں اسکول چھوڑ دیا تھا ۔میں نے محنت مزدوری کرنی شروع کر دی ۔پر اتنی کم عمری میں بڑے کام کےلئے کوئی نہیں رکھتا تھا ۔اور چھوٹے موٹے کاموں سے اتنی آمدنی نہیں ہوتی تھی کہ گھر کے خرچ کے ساتھ والد کے علاج کا خرچ بھی اٹھا پاؤں اس لیے میرے پاس صرف ایک ہی راستہ بچا تھا۔مسخرہ بن کر گلیوں بازاروں میں لوگوں کو تماشا دیکھاؤں یہ ہنر مجھے میرے والد سے ملا تھا ۔چنانچہ میں ان کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے ان کے جیسا جوکر بنا کچھ عرصے تک مجھے سرکس میں کام ملا تھا مسخرے کا۔لیکن کچھ مہینوں کے بعد وہاں سے مجھے نکال دیا گیا اور وہ کسی دوسرے بڑے شہر چلے گئے تھے ۔میرے والد صاحب زیادہ عرصہ نہ جی سکے اور اس مزوری میں ہی اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے ۔میں اس دنیا میں اکیلا رہا گیا تھا ۔برحال میں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکا تھا ۔میرے والد نے مرنے سے پہلے مجھے بتایا تھا کہ گاؤں میں ان کی ایک بہن رہتی ہے تو تم گاؤں چلے جانا اپنی پھپو کے پاس میرے مرنے کے بعد ۔یہ ان کی وصیت تھی ۔
چنانچہ میں گاؤں چلا گیا تھا ۔ گاؤں میں پھپو سے ملا اور ان کو اپنا تعارف کرایا ۔وہ پہلے اپنے بھائی کی موت کی خبر سن کر آبدیدہ ہوئی اور پھر مجھے اپنے بھائی کی آخری نشانی سمجھتے ہوئے گلے سے لگایا تھا۔میں ان کے گھر میں رہنے لگا تھا ۔
کبھی کبھی میں ان کے چھوٹے موٹے کام کر دیتا تھا ۔پھپو کی ایک بیٹی تھی جس کا نام تھا سویرا ۔وہ میری ہم عمر بھی تھی۔مجھے وہ پہلی نظر میں ہی پسند آ گئی تھی ۔میں نے سویرا کی نظروں میں بھی اپنی لیے پسندگی کے دیپ جلتے ہوئے دیکھے ۔
کچھ ہی دنوں میں ہم محبت کی اونچائی کو چھونے لگے ۔ایک دن سویرا نے گھبراہٹ کے عالم میں مجھے بتایا:” سرمد ! آج قریبی گھرانے سے میرے لیے رشتہ آیا ہے ۔لڑکے کا نام سانول ہےوہ عمر میں بھی مجھ سے کچھ سال بڑا ہے اس کی خود کی زمینیں ہیں ۔مجھے لگتا ہے ماں میرے رشتے کے لیے مان جائے گی ۔مجھے سانول سے شادی نہیں کرنی وہ اوباش قسم کا مرد ہے وہ سارا دن اوباش جیسی حرکتیں کرتا رہتا ہے ۔سرمد کچھ بھی کرو لیکن مجھے سانول سے شادی نہیں کرنی ۔تم ماں سے اپنے رشتے کی بات کرو نا”
میں اس وقت سویرا کے سامنے ہامی بھرلی کے میں تمہاری ماں سے اپنے رشتے کے لیے بات کروں گا ۔
لیکن میں بات کر نہیں سکا کیونکہ مجھے ان کے میں آئے ہوئے کچھ ہی مہینے ہوئے تھے اور اوپر سے میرے پاس کمائی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں تھا ۔تو میں پھپو سے کس منہ سے اپنے رشتے کی بات کرتا۔چانچہ وہیں ہوا پھپو نے سانول کو سویرا کے رشتے کے لیے رضامندی دے دی تھی ۔
ایک رات سویرا میرے پاس آئی اور بولی:” سرمد! میں تمہیں پسند کرتی ہوں ،اور شادی بھی تیرے ساتھ ہی کروں گی ۔اس سانول کے ساتھ شادی تو میں ہرگز نہیں کرونگی ۔میرے ماں باپ تمہارے ساتھ میری شادی کے لیے نہیں مانے گئے اس لیے میرے پاس ایک ترکیب ہے میں گھر میں رکھے گہنے اور پیسے لے آئیں ہوں ہم دونوں شہر بھاگ چلتے ہیں ”
سویرا کی محبت میرے دل میں بھی گھر کر چکی تھی ۔میں اس کو کسی اور کا ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا ۔اس لیے مجھے سویرا کی ترکیب اچھی لگی تھی اس لیے ہم دونوں رات کے اندھیرے میں چھپاتے شہر نکل آئے تھے ۔یہاں آکر ہم دونوں نے شادی کر لی تھی ۔
سویرا جو اپنے ساتھ گہنے لائی تھی اس کو بیچ کر کچھ مہینوں تک گزر بسر کیا تھا ۔پھر ہمارے یہاں ایک ننھے بچے کی پیدائش ہوئی ۔ہم دونوں نے اپنے بیٹے کا نام اشر رکھا تھا ۔
اشر واقعی ہی بہت پیارا تھا ہم دونوں کی کل متح تھا اب ہم دو سے تین ہوچکے تھے اس لیے ہمارے خرچ میں اضافہ ہوا تھا۔سویرا کو میرا مسخرا بن کر لوگوں کے سامنے تماشا بننا بلکل بھی پسند نہیں تھا اس لیے اس نے مجھے مشورہ دیا کہ مجھے کوئی کام ڈھونڈنا چاہیے ۔اب میں زیادہ پڑھا لکھا تو نہیں تھا کہ مجھے نوکری ملتی ۔اس لیے میں نے محنت مزدوری شروع کر دی ۔اجرت بھی اچھی مل جاتی تھی جس سے اچھا گزر بسر ہو رہا تھا ۔
ایک دن میں گھر واپس لوٹ رہا تھا کہ میں نے دیکھا کہ سانول اپنے کچھ بندوں کے ساتھ میرے گھر میں گھس کر سویرا کو زبردستی گھسیٹتے ہوئے ساتھ لے جانے کی کوشش کر رہا تھا ۔اشر کو بھی وہ تنگ کر رہے تھے جس کی وجہ سے وہ زور زور سے رو رہا تھا ۔
اب مجھے کیا کرنا چاہیے اس مصیبت سے نجات حاصل کرنے کے لیے میں سوچنے لگا ۔میرے ذہن میں ایک ترکیب آئی میں آس پاس کے سبھی لوگوں کو بلا لایا تھا اور ان کو بولا تھا کہ میرے گھر میں کچھ چور گھس آئے ہیں وہ میری بیوی اور بچے کو نقصان پہنچا رہے ہیں ۔
لوگوں نے ڈنڈے سوٹیا اٹھا لائے تھے اور سانول اور اس کے بندوں کو ایسا ذدوکوپ کیا کہ وہ جان بچا کر بھاگنے پر مجبور ہو گئے تھے ۔
اب ہم اس گھر میں رہے نہیں سکتے تھے کیونکہ سانول ہمارے ٹھکانے سے واقف ہو چکا تھا وہ کبھی بھی پلٹ وار کر سکتا تھا ۔اس لیے میں سویرا اور اشر کو ساتھ لے کر دوسرے شہر آگیا تھا ۔
یہاں آئے ہوئے ہمیں کچھ مہینے ہو چکے تھے ۔اشر بھی اب اپنے پیروں پر چلنے لگا تھا ۔
شہر میں ان دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد دورے پر آئے ہوئے تھے ۔وہ گاڑی میں سوار ہو کر پورے شہر کا دورا کررہے تھے ۔جس کو دیکھنے کے لیے لوگ اپنی دکانیں بند کر کے سڑکوں کے کنارے کھڑے ہو کر گاڑی پہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو گزرتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔
میرا گھر بھی مین روڈ کے کنارے پر ہی واقع تھا ۔کبھی کبھی اشر کھیلنے کے لیے گھر سے باہر نکل آتا تھا ۔اس دن مجھے اجرت ملتی تھی اس لیے میں اجرت لیے گھر کے راشن خریدنے کے لیے دکانیں گھومنے لگا تھا پر شہر کی سبھی چھوٹی موٹی دکانیں بند تھی ۔اس لیے مجھے خالی ہی گھر لوٹنا پڑا ۔جب وزیر اعلیٰ کی گاڑی میرے گھر کے نزدیک سے گزری اس وقت اتفاق سے اشر بھی گھر کے باہر نکل کر مین روڈ پر پڑی ہوئی اپنی گیند کو اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا کہ تیز رفتار گاڑی اسے کچلتی ہوئی آگے نکلتی چلی گئی ۔اس گاڑی میں وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد سوار تھے ۔
انہوں نے زرا بھی پروہ نہیں کی اور اس واقعے کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے نکل گئے تھے ۔
میں بھی اس وقت گھر لوٹ رہا تھا کہ بدقسمتی سے یہ منظر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔میں دھک سےرہ گیا تھا ۔ایک پل کو لگا جیسے میرا دل دھڑکنا بھول گیا ہو ۔میں فوراً دوڑا تھا ۔اسی وقت گھر سے سویرا بھی نکل کر دوڑی تھی ۔اس نے جھپٹ کر اشر کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا تھا ۔میں وہاں پہنچ کر دیکھا اشر کو کافی چوٹیں آئیں تھیں وہ بامشکل سے سانس لے پا رہا تھا ۔ہم دونوں اسے اٹھا کر ہسپتال کے لیے دوڑے تھے ۔بدقسمتی سے سبھی چھوٹے موٹے ہسپتال بند تھے ۔ہمیں مجبوراً شہر کے بڑے ہسپتال پہنچے جو بھاری فیس وصول کیا کرتے تھے ۔
نتیجہ یہی نکلا انہوں نے ہماری حالت دیکھتے ہی پہچان گئے تھے یہ فیس ادا نہیں کر سکیں گے ۔ہم نے ڈاکٹروں کی بہت منت سماجت کی کہ ہمارے بیٹے کو بچا لو،اس چھوٹی جان کوبچا لو ہم آپ کی فیس ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گے ۔پر انہیں انسانیت سے زیادہ اپنی فیس کی اہمیت تھی ۔انہوں نے ہماری طرف کوئی توجہ نہیں دی بلکہ ہمیں سستے ہسپتال جانے کا مشورہ دے کر ہسپتال سے باہر نکال دیا ۔اشر بامشکل ہی سانسیں لے پا رہا بھلا ایک ننھی سی جان اتنی تکلیف کو کتنی دیر تک برداشت کر پاتی ۔وہ ہمیں روتا ہوا چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گیا ۔
یہ صدمہ ہم دونوں کے لیے جاں گسل ثابت ہوا ۔سویرا اسی وقت چیخ مارکر بے ہوش ہو گئی تھی ۔
اور جب ہوش آیا تو اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا بس اسے اپنے بچے کے ” گڈے” کو اپنا بچا سمجھ کر اپنے سینے سے لگائی رہتی تھی ۔وہ اپنا ذہنی توازن کھو چکی تھی ۔
اس حادثے کا زمہ دار کس کو ٹھہراتا ۔جو کچھ بھی ہوا اس نے میری دنیا کو اندیر کردیا تھا اس لیے میرے پاس خود کشی کے علاؤہ اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا ۔
پھر آپ سے ملاقات ہوئی آپ نے مجھے میرے دل میں جینے کی امنگ پیدا کی ۔
لیکن میں سویرا کو اس حال میں نہیں دیکھ سکتا تھا کہ وہ پاگل خانے میں ہی رہے۔ میں اس سے ملنے کے لیے جاتا اور ہر دففہ اس سے یہ وعدہ کرتا کہ اس حادثے کا بدلہ میں زور لونگا جس نے میرے بچے کو چھینا تھا اور جس کے وجہ سے سویرا اس حال تک پہنچی تھی۔ میں بدلے کی آگ میں سلگنے لگا تھا ۔
اس لیے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد کے بیٹے محمود احمد کو ہوٹل میں، میں نے ہی قتل کیا تھا ۔تاکہ نواز احمد کو بھی معلوم ہو کہ جب کسی کی اولاد اس کی آنکھوں کے سامنے تڑپتے ہوئے جان دیتی ہے تو اس باپ کو کتنی تکلیف ہوتی ہے اور ساری زندگی اس غم کو سینے میں لیے جینے پر مجبور ہوتا ہے ۔ہوٹل میں سی سی ٹی کیمرے لگے تھے اس لیے پہلے میں ” عقیل” نام کی شخصیت کا بہروپ اپنے چہرے پر چڑھا رکھا تھا اور قتل کرتے وقت ” جوکر” کے حلیہ میں تھا تاکہ کوئی مجھ کو پہچان نہ سکے ۔اس کے بعد جب میں سویرا سے ملنے پاگل خانے گیا تو ڈاکٹر شیراز نے مجھے بتایا کہ سویرا برین ٹیومر کے مرض میں مبتلا ہو چکی ہے ۔میرے لیے یہ خبر بھی تشویشناک تھی۔
جلد از جلد اسکا آپریشن کرنا ہوگا جس کے لیے بہت پیسے خرچ ہونگے ۔مجھے پیسوں کا بندوبست کرنا تھا اس لیے میں نے وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد کے سیکرٹری کو قتل جو ان نوٹوں سے بھرے ہوئے بیگ کو کسی ” مطلوبہ”فرد کو دے کر اس سے اپنا گھناؤنا ” کام” کو سر انجام دیتے شاید کسی سیاسیت دان کا قتل ۔۔۔۔۔
میں نے تم سے جھوٹ بولا تھا کہ میں گاؤں چلا گیا اور وہاں اپنی زمین کو بیچ کر سویرا کے کے آپریشن کے لیے پیسے جمع کیے تھے ۔
وہ پیسے سیکرٹری کو قتل کرنے کے بعد اس کی کار سے اٹھائے تھے ۔
اس کے بعد جو کچھ ہوا وہ تمہارے سامنے ہے۔۔
سرمد اپنی کہانی سنانے کے بعد خاموش ہو گیا تھا ۔انسپکٹر خان محمد بولا:” سرمد! میں نے تمہیں اپنا دوست مانا تھا تم مجھے ایک دففہ حقیقت بتا دیتے تو میں ان مجرموں کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیتا ۔تمہیں قتل کرنے جیسے موذی فعال سے نہیں گزرنا پڑتا۔ایک بار تو مجھ پر اعتبار کر لیتے ۔”
” تمہیں مجھ سے کسی قسم کی رعایت کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔میرے ساتھ ویسا ہی سلوک کرو جیسے دوسرے مجرموں سے کرتے ہو” سرمد بولا تھا ۔
اس کے بعد پولیس انسپکٹر خان محمد جیل سے باہر آ کر سرمد کے کیس کی رپورٹ لکھی ۔
دوسرے دن یہ خبر میڈیا کے ذریعے پورے ملک میں نشر کی جارہی تھی کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نواز احمد کے بیٹے محمود احمد اور سیکرٹری کے قاتل "جوکر” اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔اور بہت جلد اسے عدالت میں پیش کیا جائے گا ۔
عدالت میں سرمد کو پیش کیا گیا تھا اس پہ دو قتل کے کیس درج تھے ۔عدالت میں شہر کے سبھی” بڑے ” افراد موجود تھے ۔وزیراعلیٰ
پنجاب نواز احمد بھی عدالت میں اپنے بیٹے کے قاتل کو دیکھنے آیا تھا ۔
سرمد نے اپنا جرم قبول کر لیا تھا ۔سرمد نے عدالت میں بیٹھے ہوئے سبھی لوگوں کے سامنے یہ ” وجہ ” بتا دی تھی کہ اس نے قتل کیوں کیے تھے ؟
اس کے بعد جج صاحب نے فیصلہ سنایا ۔
انسپکٹر خان محمد نے عدالت کے سامنے یہ اپیل رکھی تھی کہ سرمد کو پھانسی کی بجائے اسے عمر قید کی سزا سنائی جائے ۔
جج صاحب نے انسپکٹر خان محمد کی اپیل پر دستخط کر کے سرمد کو عمر قید کی سزا سنائی گئی ۔
سرمد جیل چلا گیا زندگی بھر کے لیے جبکہ سویرا کوما میں ہی زندگی گزار دے گی ۔یہ ان دونوں کو پیار کی سزا ملی تھی ۔۔
کچھ دنوں بعد انسپکٹر خان محمد پولیس اسٹیشن اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ اسے کال موصول ہوئی اجنبی نمبر تھا انسپکٹر خان محمد نے موبائل پہ دیکھا اور کال اٹینڈ کرنے کے بعد ہیلو بولا۔
دوسری جانب سے کسی نسوانی آواز میں بولا گیا تھا ” ہیلو! خان محمد میں انابیہ بول رہی ہوں ۔پہچانا مجھے تمہارے یونیورسٹی کی فرینڈ ؟ میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میں پاکستان آ رہی ہوں”
یہ آواز خان محمد کیسے نہیں پہچان سکتا تھا جس کا نام دل پہ لکھا تھا ۔۔۔
(ختم شد)


