
از: ایس کرشنن
صرف ایک دہائی قبل، اتر پردیش کے ایک دور دراز گاؤں کے کسان کو سرکاری سبسڈی حاصل کرنے یا اپنی فصل کی پیداوار میں اضافہ کرنے کے لئے زرعی مشورے لینے کی خاطر کاغذی کارروائی کے طویل، پیچیدہ اور وقت طلب مراحل سے گزرنا پڑتا تھا۔ سرکاری دفاتر کے چکر لگانا اور گھنٹوں قطاروں میں انتظار کرنا اس کی روزمرہ زندگی کا معمول تھا۔ آج یہی کسان ڈیجیٹل سہولتوں کی بدولت اپنی فصلوں سے متعلق سرکاری خدمات اور رہنمائی بآسانی حاصل کر رہا ہے، جبکہ سبسڈی کی رقم بھی کسی درمیانی فرد یا دلال کے بغیر براہِ راست اس کے بینک کھاتے میں منتقل کر دی جاتی ہے۔
آج ملک کی کسی بھی سڑک یا بازار کا رخ کیجیے تو ایک خاموش مگر انقلابی تبدیلی صاف دکھائی دیتی ہے، جس نے عام شہریوں کی زندگی کو پہلے سے کہیں زیادہ آسان بنا دیا ہے۔ وہ پھل فروش یا آٹو رکشا ڈرائیور، جو کبھی مکمل طور پر نقد رقم کے لین دین پر انحصار کرتا تھا، آج فخر کے ساتھ اپنی ریڑھی یا آٹو رکشا پر آویزاں کیو آر کوڈ کی جانب اشارہ کرتا ہے، جس کے ذریعے چند لمحوں میں ڈیجیٹل ادائیگی مکمل ہو جاتی ہے۔
آج ہندوستان 86.102کروڑ سے زائد ڈیجیٹل طور پر منسلک شہریوں کے ساتھ ایک مضبوط ڈیجیٹل معاشرے کے طور پر ابھر چکا ہے، جبکہ56.99کروڑ براڈ بینڈ صارفین اس ڈیجیٹل ڈھانچے کو مزید مستحکم بناتے ہیں۔ موبائل ڈیٹا کی قیمت محض 8 سے 10 روپے فی جی بی ہونے کے باعث فی صارف ماہانہ ڈیٹا استعمال بڑھ کر01.24 جی بی تک پہنچ چکا ہے۔ اس مضبوط ڈیجیٹل بنیاد نے شہری اور ریاست کے درمیان تعلق کو یکسر نئی شکل دیتے ہوئے اسے اعتماد، شفافیت اور ڈیجیٹل خودمختاری پر استوار کر دیا ہے۔
وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں ڈیجیٹل انڈیا نے یہ ثابت کیا ہے کہ ٹیکنالوجی شہریوں کے لئے مساوی مواقع فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہونی چاہیے، جو نہ صرف ان کی روزمرہ زندگی کو آسان بنائے بلکہ کاروبار کرنے کے عمل کو بھی زیادہ سہل، شفاف اور مؤثر بنائے۔
فاصلوں کو ختم کرنا
اس انقلابی تبدیلی کا پہلا قدم ڈیجیٹل سہولتوں تک عوام کی مساوی رسائی کو یقینی بنانا اور ایک مضبوط، مقامی ڈیجیٹل شناختی نظام کی تشکیل تھا، جو تکنیکی خود انحصاری کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ بھارت نیٹ منصوبے کو وسیع پیمانے پر نافذ کرتے ہوئے تقریباً 2.2 لاکھ گرام پنچایتوں کو تیز رفتار براڈ بینڈ سے جوڑ دیا گیا، جس کے نتیجے میں جغرافیائی دوری اب معاشی مواقع تک رسائی میں رکاوٹ نہیں رہی۔
ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے میں اس غیر معمولی پیش رفت کے ساتھ 144 کروڑ سے زائد آدھار شناختیں جاری کی گئیں، جنہوں نے جن دھن، آدھار اور موبائل (جے اے ایم) سہ رخی نظام کو مضبوط بنیاد فراہم کی۔ اسی خودمختار ڈیجیٹل شناختی نظام کے ذریعے حکومت اب تک 51.5 لاکھ کروڑ روپے کی رقم براہِ راست فائدہ منتقلی (ڈی بی ٹی) کے تحت شہریوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کر چکی ہے۔ اس نظام نے مالی وسائل کے ضیاع اور رِساؤ کو مؤثر طور پر روکنے، درمیانی افراد کے کردار کو ختم کرنے اور لاکھوں خاندانوں کو براہِ راست مالی خودمختاری فراہم کرکے ان کی زندگی کو زیادہ آسان اور بااختیار بنا دیا ہے۔
ڈی پی آئی کا ظہور : روزمرہ زندگی اور کاروباری سرگرمیوں میں انقلابی تبدیلی
جب اس مضبوط بنیاد کی تعمیر مکمل ہوئی تو بھارت کے ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچے (ڈی پی آئی)نے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کی اور روزمرہ مسائل کے مؤثر حل فراہم کیے۔ ڈیجی لاکرجیسے پلیٹ فارم نے شہریوں اور کاروباری اداروں دونوں کے لئے سرکاری و مالیاتی کاموں کو نہایت آسان بنا دیا ہے۔ اس وقت 70 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ صارفین کے 900 کروڑ سے زیادہ دستاویزات اس پلیٹ فارم پر محفوظ ہیں، جس کی بدولت کاغذی دستاویزات کی ضرورت بڑی حد تک ختم ہو گئی ہے اور کے وائی سی اور دستاویزات کی تصدیق چند لمحوں میں مکمل ہو جاتی ہے۔ اس سہولت نے کاروباری اداروں کے لئے بھی وقت اور اخراجات میں نمایاں کمی کی ہے، کیونکہ اب بینک، ٹیلی کام کمپنیاں اور فن ٹیک ادارے کسی نئے صارف کی شناخت چند سیکنڈ میں ہی تصدیق کر لیتے ہیں، جس میں پہلے کئی دن لگ جاتے تھے۔
گورنمنٹ ای۔مارکیٹ پلیس کے ذریعے حکومت اب تک51.19لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرکاری خریداری کر چکی ہے۔ اس پلیٹ فارم نے چھوٹے صنعت کاروں اور پہلی بار کاروبار کرنے والے سپلائرز کے لئے بھی سرکاری ٹھیکے حاصل کرنے کے مواقع پیدا کیے ہیں، کیونکہ اب انہیں درمیانی افراد یا پیچیدہ مراحل سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہتی اور وہ براہِ راست حکومت کے ساتھ کاروبار کر سکتے ہیں۔
سرکاری خدمات تک دور بیٹھے رسائی کو آسان بنانے کے لئے اُمَنگ ایپ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مختلف خدمات براہِ راست شہریوں کے موبائل فون تک پہنچا دی ہیں۔ اس وقت اس ایپ کے 11.6 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ صارفین ہیں، جو 2,572 سرکاری خدمات سے استفادہ کر رہے ہیں، جبکہ اب تک اس کے ذریعے 797.84 کروڑ سے زیادہ لین دین اور خدمات انجام دی جا چکی ہیں۔
اس پورے ڈیجیٹل نظام کا سب سے نمایاں ستون یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس یعنی یو پی آئی ہے۔ سڑک کنارے بیٹھے پھل فروش کے کیو آر کوڈ کے ذریعے ہونے والی فوری ادائیگی کے پیچھے یہی خودمختار ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام کام کرتا ہے، جس کے ذریعے روزانہ 75 کروڑ سے زیادہ لین دین انجام پاتے ہیں۔ آج بھارت دنیا میں ہونے والی فوری ڈیجیٹل ادائیگیوں کا تقریباً نصف حصہ انجام دیتا ہے، جبکہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے بھی یو پی آئی کو دنیا کا سب سے بڑا ریئل ٹائم ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام قرار دیا ہے۔
بھارت کا یہ ڈیجیٹل عوامی بنیادی ڈھانچہ اب دنیا کے لئے بھی ایک قابلِ اعتماد نمونہ بن چکا ہے۔ 24 ممالک نے بھارت کے ڈیجیٹل گورننس پلیٹ فارمز کو اپنانے اور اپنے یہاں نافذ کرنے کے لئے اس کے ساتھ باضابطہ مفاہمت ناموں پر دستخط کیے ہیں۔ اس کے علاوہ یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس ( یو پی آئی ) اب 9 ممالک میں فعال ہے، جن میں متحدہ عرب امارات، سنگاپور اور فرانس بھی شامل ہیں۔
ٹیکنالوجی کو عوامی مفاد کا ذریعہ سمجھنے کا یہی نظریہ صحت کے شعبے تک بھی وسعت اختیار کر چکا ہے، جس کے ذریعے صحت کی سہولیات تک مساوی رسائی کو فروغ ملا ہے اور شہریوں کی زندگی پہلے سے زیادہ آسان اور سہل بن گئی ہے۔ ای سنجیونی پلیٹ فارم کے ذریعے بھارت میں اب تک 48 کروڑ سے زائد مفت ٹیلی میڈیسن مشورے فراہم کیے جا چکے ہیں، جس کے ذریعے دور دراز اور طبی سہولیات سے محروم علاقوں کے مریض بھی ماہر ڈاکٹروں سے گھر بیٹھے مشورہ حاصل کر رہے ہیں۔ اسی طرح دنیا کی سب سے بڑی ویکسی نیشن مہم ایک مقامی طور پر تیار کردہ ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے کامیابی سے ممکن بنائی گئی۔ کووِن کے ذریعے 220 کروڑ سے زائد کووڈ-19 ویکسین کی خوراکیں نہ صرف فراہم کی گئیں بلکہ انہیں مکمل شفافیت کے ساتھ ڈیجیٹل طور پر ٹریک بھی کیا گیا۔ اس نظام نے ایک مضبوط اور قابلِ اعتماد ڈیجیٹل صحت ڈھانچہ قائم کیا، جسے دنیا بھر کے مختلف ممالک کے صحت کے نظاموں نے ایک ماڈل کے طور پر تسلیم کیا اور اس کا مطالعہ کیا۔
مستقبل پر نظر
جب ڈیجیٹل انڈیا اپنے 11 سال مکمل کر رہا ہے تو یہ مشن اب واضح طور پر اگلی سطح کی جدید ٹیکنالوجیز کی طرف پیش قدمی کر رہا ہے، تاکہ انہیں عوامی مفاد کے ذرائع کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بھارت اور گلوبل ساؤتھ کو درپیش چیلنجز کا مؤثر حل فراہم کیا جا سکے۔
سالوں تک کمپیوٹنگ پاور کی بلند لاگت نے چھوٹے شہروں کے باصلاحیت نوجوان اختراع کاروں کو جدید ٹیکنالوجی تک رسائی سے محروم رکھا۔ انڈیا اے آئی مشن کے تحت بھارت اس رکاوٹ کو منظم طریقے سے ختم کر رہا ہے تاکہ اسٹارٹ اپس کے لئے کاروبار کرنا مزید آسان بنایا جا سکے۔ حکومت نے ایک وسیع مشترکہ کمپیوٹ سہولت قائم کی ہے تاکہ اعلیٰ معیار کی کمپیوٹنگ تک رسائی سب کے لئے ممکن ہو سکے۔ اس کے ذریعے مقامی اسٹارٹ اپس اور طلبہ کو عالمی معیار کی کمپیوٹنگ صلاحیت صرف 65 روپے فی گھنٹہ کی کم لاگت پر فراہم کی جا رہی ہے، جس کا مقصد نچلی سطح پر جدت اور اختراع کو فروغ دینا ہے۔ اس کا ہدف بھارت کو دنیا کا اے آئی ایپلی کیشنز کا مرکز بنانا ہے، جہاں ہنر مند افرادی قوت مختلف شعبوں میں خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانے اور پیداواریت میں اضافہ کرنے کے ساتھ ساتھ ملکی و بین الاقوامی سطح پر کاروباری اداروں کو بھی مضبوط بنائے گی۔
اسی کے ساتھ بھارت اپنے ہارڈویئر مستقبل کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔ سیمی کنڈکٹر انڈیا پروگرام کے تحت ملک بھر میں 12 سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور پیکیجنگ منصوبوں کو منظوری دی گئی ہے، جن میں مجموعی طور پر 1.65 لاکھ کروڑ روپے کی سرمایہ کاری شامل ہے۔ اس رفتار کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے مرکزی بجٹ 27–2026 میں انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن 2.0 کا اعلان کیا گیا، جو صرف پیداوار تک محدود نہیں بلکہ سیمی کنڈکٹر آلات اور مواد، مکمل انڈین انٹلیکچول پراپرٹی پر مبنی ڈیزائننگ اور عالمی سپلائی چینز کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ مرکوز کرتا ہے۔ اس اسکیم کے تحت 24 سیمی کنڈکٹر ڈیزائن اسٹارٹ اپس کی منظوری دی جا چکی ہے، جس سے بھارت تیزی سے اپنی پیداواری صلاحیت کو گہری تکنیکی مہارت میں تبدیل کر رہا ہے اور ایک مضبوط گھریلو فیبلس ایکو سسٹم تشکیل دے رہا ہے جو جدید دنیا کی چِپ ڈیزائننگ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
اس اقدام کی اصل کامیابی ایک ایسے قومی سوچ کی تشکیل ہے، جہاں اب لوگ جدت، آسان کاروبار اور بہتر حکمرانی کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ سمجھتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کو شمولیت، آسان رسائی اور قومی طاقت کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل انڈیا خاموشی سے اس وِکست بھارت کی تعمیر کر رہا ہے جس کا تصور ہم 2047 کے لئے رکھتے ہیں۔
( مضمون نگار الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹکنالوجی کی وزارت کے سیکریٹری ہیں )


