جمعہ کا بیان، ناموسِ رسالت ﷺ اور آئمہ مساجد

افتخار احمد قادری

اسلام کی پوری عمارت جن بنیادوں پر قائم ہے، ان میں سب سے مضبوط بنیاد اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب نبی کریم ﷺ سے کامل محبت ہے۔ ایمان کی جان، عبادتوں کی روح، اعمال کی قبولیت اور آخرت کی کامیابی اسی محبت سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے بار بار مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی تعظیم، توقیر، اطاعت اور نصرت کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "جو لوگ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے، ان کی تعظیم کی، ان کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا، وہی لوگ کامیاب ہیں۔” (الاعراف: 157)
ناموسِ رسالت ﷺ صرف ایک مذہبی نعرہ نہیں بلکہ مسلمان کے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ جس دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت زندہ ہو، وہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں نے اپنی جان، مال، عزت اور آرام سب کچھ قربان کر دیا، لیکن اپنے آقا ﷺ کی عزت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
آج جب دنیا کے مختلف حصوں میں بار بار حضور اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں ہوتی ہیں تو مسلمان عوام تو اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، مگر افسوس کہ بعض ائمۂ مساجد اور خطباء اس حساس مسئلے پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں، جیسے یہ ان کی ذمہ داری ہی نہ ہو۔ جمعہ، جو امت کی اجتماعی تربیت کا سب سے بڑا ہفتہ وار اجتماع ہے، اس میں معاشرتی موضوعات پر گفتگو تو ہوتی ہے، مگر ناموسِ رسالت ﷺ جیسے بنیادی ایمانی مسئلے پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ اگر منبرِ رسول ﷺ سے رسول اللہ ﷺ کی عزت و حرمت کا پیغام نہیں دیا جائے گا تو پھر کہاں دیا جائے گا؟ اگر مسجد کا امام بھی اس مسئلے پر لب کشائی سے گریز کرے گا تو امت کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی حرارت کون پیدا کرے گا؟
قرآنِ مجید واضح اعلان فرماتا ہے: "اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ان سے اس طرح بلند آواز سے بات کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔” (الحجرات: 2)
یہ آیت صرف صحابۂ کرامؓ کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے ہر مسلمان کو یہ سبق دیتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم ایمان کا لازمی حصہ ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا عشقِ رسول پوری امت کے لیے نمونہ ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ "مجھے اپنی جان سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی سلامتی عزیز ہے۔” ہجرت کے سفر میں غارِ ثور کے اندر سانپ کے ڈسنے کی تکلیف برداشت کر لی، مگر رسول اللہ ﷺ کی نیند میں خلل نہ آنے دیا۔ حضرت عمر فاروقؓ کی پوری زندگی ادبِ مصطفیٰ ﷺ کی عملی تصویر تھی۔
امام احمد رضا خان قادریؒ نے اپنی پوری علمی زندگی ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔ جب برصغیر میں مختلف گمراہ فرقوں نے گستاخانہ نظریات پھیلائے تو آپ نے خاموش رہنے کے بجائے قلم اٹھایا، فتاویٰ تحریر کیے، مناظرے کیے اور عشقِ رسول ﷺ کا پرچم بلند رکھا۔ صدر الشریعہؒ نے بھی لکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے اور آپ ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی بے ادبی بھی ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
محدثِ اعظم پاکستانؒ فرمایا کرتے تھے کہ عاشقِ رسول کی پہچان یہ ہے کہ جہاں ناموسِ رسالت کا مسئلہ آئے وہاں مصلحتوں پر غیرتِ ایمانی کو ترجیح دی جائے۔ مفتیِ اعظم ہندؒ نے بھی اپنے فتاویٰ میں حضور اکرم ﷺ کی شان میں ادنیٰ گستاخی کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو صحیح عقیدے پر قائم رہنے کی تلقین فرمائی۔ (فتاویٰ مصطفویہ)
آج بعض ائمۂ مساجد یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ "اس سے ماحول خراب ہوگا”، "سیاسی مسئلہ بن جائے گا” یا "انتظامیہ ناراض ہو جائے گی۔” حالانکہ یہاں اشتعال، فساد، قانون شکنی یا نفرت انگیزی کی دعوت مقصود نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں مسلمانوں کے دلوں میں ادبِ رسول ﷺ پیدا کرنا، گستاخی کی مذمت کرنا اور قانونی و پُرامن طریقے سے ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کی تلقین کرنا ہر عالم اور خطیب کی اہم ذمہ داری ہے۔
آج جمعہ کے بیشتر خطبات میں تجارت، گھریلو مسائل، صحت، صفائی اور دیگر سماجی موضوعات پر گفتگو ہوتی ہے، جو اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر مہینوں بلکہ برسوں تک عشقِ رسول ﷺ، سیرتِ نبوی ﷺ اور ادبِ مصطفیٰ ﷺ پر گفتگو نہ ہو تو نئی نسل کے دلوں میں وہ حرارت کیسے پیدا ہوگی جس نے صحابۂ کرامؓ کو جان نثار بنایا تھا؟
محترم ائمۂ مساجد! آپ منبرِ رسول ﷺ کے وارث ہیں۔ آپ کے ایک جملے سے سینکڑوں لوگوں کے دل بدل سکتے ہیں۔ اگر آپ صرف نماز پڑھا کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھتے ہیں تو اپنے منصب پر دوبارہ غور کیجیے۔ مسجد صرف نماز ادا کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ایمان، عقیدہ، کردار، غیرتِ ایمانی اور اجتماعی شعور کی تربیت گاہ بھی ہے۔
کیا ہماری ذمہ داری صرف اذان دینا، نماز پڑھانا اور خاموش ہو جانا ہے؟ کیا نئی نسل سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد دیکھتی رہے اور مسجد اس کی فکری رہنمائی نہ کرے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا ہوگا۔
آج امت کو ایسے خطباء کی ضرورت ہے جو محبتِ رسول ﷺ کو زندہ کریں، نوجوانوں کو سیرتِ نبوی ﷺ سے جوڑیں، گستاخی کی مذمت کریں اور ساتھ ہی انہیں صبر، حکمت، قانون کی پاسداری اور امن کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنے کی تعلیم دیں۔ یہی اہلِ سنت کے اکابر کا طریقہ رہا ہے کہ انہوں نے عشقِ رسول ﷺ کو علم، دلیل، اخلاق اور استقامت کے ساتھ پیش کیا۔
سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت نے اپنی تعلیمات میں محبتِ رسول ﷺ کو مرکز بنایا۔ ان کی خانقاہوں میں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ، ادبِ مصطفیٰ ﷺ اور اتباعِ سنت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ آج صرف جذباتی نعروں سے کام نہیں چلے گا۔ ناموسِ رسالت ﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالیں، نماز کی پابندی کریں، سچ بولیں، دیانت اختیار کریں، عدل قائم کریں اور اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کو عام کریں۔ جو شخص محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرے مگر سنتوں کو نظر انداز کرے، اس کی محبت ادھوری ہے۔
آج امت کو بیداری کی ضرورت ہے اور اس بیداری کا سب سے مؤثر ذریعہ جمعہ کا منبر ہے۔ اگر ہر امام وقتاً فوقتاً عشقِ رسول ﷺ اور ناموسِ رسالت ﷺ پر ایک مدلل، متوازن اور مؤثر خطاب کرے تو یقیناً نئی نسل کے دلوں میں ایمان کی روشنی مزید مضبوط ہوگی۔
آخر میں ائمۂ مساجد سے گزارش ہے کہ اپنے منصب کی عظمت کو پہچانیے۔ آپ صرف نمازیوں کے امام نہیں بلکہ ایک فکری رہنما بھی ہیں۔ آپ کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ ایک امانت ہے، اور اس امانت میں رسول اللہ ﷺ کی محبت کو زندہ رکھنا، آپ ﷺ کے ادب کا درس دینا اور امت کو اس کی ایمانی ذمہ داری یاد دلانا بھی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچا عاشقِ رسول ﷺ بنائے، ہمارے دلوں میں ادبِ مصطفیٰ ﷺ کو ہمیشہ زندہ رکھے، ہمارے علماء، خطباء اور ائمۂ مساجد کو حق بات کہنے کی حکمت، جرأت اور اخلاص عطا فرمائے، اور ہمیں ہر اس قول و عمل سے محفوظ رکھے جو رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کا سبب بنے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

تازہ ترین خبریں

محکمہ موسمیات کی تازہ پیشینگوئی

سرینگر، 30 جولائی محکمہ موسمیات (ایم ای ٹی) سینٹر سرینگر...

سرینگر میں حوض (ٹب) سے نامعلوم لاش برآمد

  سری نگر، 29 جولائی: وسطی کشمیر کے ضلع سری...

موسمیاتی تبدیلی :کشمیر میں قبل از وقت بادام کی فصل تیار

جنگ نیوز پلولامہ/ کشمیر میں اس سال بادام کی فصل...

مجوزعہ IFFJK کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی حاصل

  نیوز ڈیسک سری نگر/ جموں و کشمیر کے پہلے...

جمعہ کا بیان، ناموسِ رسالت ﷺ اور آئمہ مساجد

افتخار احمد قادری

اسلام کی پوری عمارت جن بنیادوں پر قائم ہے، ان میں سب سے مضبوط بنیاد اللہ تعالیٰ اور اس کے محبوب نبی کریم ﷺ سے کامل محبت ہے۔ ایمان کی جان، عبادتوں کی روح، اعمال کی قبولیت اور آخرت کی کامیابی اسی محبت سے وابستہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ کریم نے بار بار مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی تعظیم، توقیر، اطاعت اور نصرت کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: "جو لوگ رسول اللہ ﷺ پر ایمان لائے، ان کی تعظیم کی، ان کی مدد کی اور اس نور کی پیروی کی جو ان کے ساتھ نازل کیا گیا، وہی لوگ کامیاب ہیں۔” (الاعراف: 157)
ناموسِ رسالت ﷺ صرف ایک مذہبی نعرہ نہیں بلکہ مسلمان کے ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ جس دل میں رسول اللہ ﷺ کی محبت زندہ ہو، وہ آپ ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخِ اسلام کے ہر دور میں مسلمانوں نے اپنی جان، مال، عزت اور آرام سب کچھ قربان کر دیا، لیکن اپنے آقا ﷺ کی عزت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔
آج جب دنیا کے مختلف حصوں میں بار بار حضور اکرم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں ہوتی ہیں تو مسلمان عوام تو اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں، مگر افسوس کہ بعض ائمۂ مساجد اور خطباء اس حساس مسئلے پر خاموشی اختیار کیے رکھتے ہیں، جیسے یہ ان کی ذمہ داری ہی نہ ہو۔ جمعہ، جو امت کی اجتماعی تربیت کا سب سے بڑا ہفتہ وار اجتماع ہے، اس میں معاشرتی موضوعات پر گفتگو تو ہوتی ہے، مگر ناموسِ رسالت ﷺ جیسے بنیادی ایمانی مسئلے پر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے۔ اگر منبرِ رسول ﷺ سے رسول اللہ ﷺ کی عزت و حرمت کا پیغام نہیں دیا جائے گا تو پھر کہاں دیا جائے گا؟ اگر مسجد کا امام بھی اس مسئلے پر لب کشائی سے گریز کرے گا تو امت کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کی حرارت کون پیدا کرے گا؟
قرآنِ مجید واضح اعلان فرماتا ہے: "اے ایمان والو! اپنی آوازیں نبی کی آواز سے بلند نہ کرو اور نہ ان سے اس طرح بلند آواز سے بات کرو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔” (الحجرات: 2)
یہ آیت صرف صحابۂ کرامؓ کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک آنے والے ہر مسلمان کو یہ سبق دیتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم ایمان کا لازمی حصہ ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ کا عشقِ رسول پوری امت کے لیے نمونہ ہے۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ "مجھے اپنی جان سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی سلامتی عزیز ہے۔” ہجرت کے سفر میں غارِ ثور کے اندر سانپ کے ڈسنے کی تکلیف برداشت کر لی، مگر رسول اللہ ﷺ کی نیند میں خلل نہ آنے دیا۔ حضرت عمر فاروقؓ کی پوری زندگی ادبِ مصطفیٰ ﷺ کی عملی تصویر تھی۔
امام احمد رضا خان قادریؒ نے اپنی پوری علمی زندگی ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کے لیے وقف کر دی۔ جب برصغیر میں مختلف گمراہ فرقوں نے گستاخانہ نظریات پھیلائے تو آپ نے خاموش رہنے کے بجائے قلم اٹھایا، فتاویٰ تحریر کیے، مناظرے کیے اور عشقِ رسول ﷺ کا پرچم بلند رکھا۔ صدر الشریعہؒ نے بھی لکھا کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر ہر مسلمان پر فرضِ عین ہے اور آپ ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی بے ادبی بھی ایمان کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔
محدثِ اعظم پاکستانؒ فرمایا کرتے تھے کہ عاشقِ رسول کی پہچان یہ ہے کہ جہاں ناموسِ رسالت کا مسئلہ آئے وہاں مصلحتوں پر غیرتِ ایمانی کو ترجیح دی جائے۔ مفتیِ اعظم ہندؒ نے بھی اپنے فتاویٰ میں حضور اکرم ﷺ کی شان میں ادنیٰ گستاخی کو ناقابلِ برداشت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو صحیح عقیدے پر قائم رہنے کی تلقین فرمائی۔ (فتاویٰ مصطفویہ)
آج بعض ائمۂ مساجد یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں کہ "اس سے ماحول خراب ہوگا”، "سیاسی مسئلہ بن جائے گا” یا "انتظامیہ ناراض ہو جائے گی۔” حالانکہ یہاں اشتعال، فساد، قانون شکنی یا نفرت انگیزی کی دعوت مقصود نہیں، بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں مسلمانوں کے دلوں میں ادبِ رسول ﷺ پیدا کرنا، گستاخی کی مذمت کرنا اور قانونی و پُرامن طریقے سے ناموسِ رسالت ﷺ کے تحفظ کی تلقین کرنا ہر عالم اور خطیب کی اہم ذمہ داری ہے۔
آج جمعہ کے بیشتر خطبات میں تجارت، گھریلو مسائل، صحت، صفائی اور دیگر سماجی موضوعات پر گفتگو ہوتی ہے، جو اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن اگر مہینوں بلکہ برسوں تک عشقِ رسول ﷺ، سیرتِ نبوی ﷺ اور ادبِ مصطفیٰ ﷺ پر گفتگو نہ ہو تو نئی نسل کے دلوں میں وہ حرارت کیسے پیدا ہوگی جس نے صحابۂ کرامؓ کو جان نثار بنایا تھا؟
محترم ائمۂ مساجد! آپ منبرِ رسول ﷺ کے وارث ہیں۔ آپ کے ایک جملے سے سینکڑوں لوگوں کے دل بدل سکتے ہیں۔ اگر آپ صرف نماز پڑھا کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھتے ہیں تو اپنے منصب پر دوبارہ غور کیجیے۔ مسجد صرف نماز ادا کرنے کی جگہ نہیں بلکہ ایمان، عقیدہ، کردار، غیرتِ ایمانی اور اجتماعی شعور کی تربیت گاہ بھی ہے۔
کیا ہماری ذمہ داری صرف اذان دینا، نماز پڑھانا اور خاموش ہو جانا ہے؟ کیا نئی نسل سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد دیکھتی رہے اور مسجد اس کی فکری رہنمائی نہ کرے؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں اپنے طرزِ عمل کا محاسبہ کرنا ہوگا۔
آج امت کو ایسے خطباء کی ضرورت ہے جو محبتِ رسول ﷺ کو زندہ کریں، نوجوانوں کو سیرتِ نبوی ﷺ سے جوڑیں، گستاخی کی مذمت کریں اور ساتھ ہی انہیں صبر، حکمت، قانون کی پاسداری اور امن کے ساتھ اپنا مؤقف پیش کرنے کی تعلیم دیں۔ یہی اہلِ سنت کے اکابر کا طریقہ رہا ہے کہ انہوں نے عشقِ رسول ﷺ کو علم، دلیل، اخلاق اور استقامت کے ساتھ پیش کیا۔
سلطان الہند حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ اور دیگر اکابرِ اہلِ سنت نے اپنی تعلیمات میں محبتِ رسول ﷺ کو مرکز بنایا۔ ان کی خانقاہوں میں ذکرِ مصطفیٰ ﷺ، ادبِ مصطفیٰ ﷺ اور اتباعِ سنت کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ آج صرف جذباتی نعروں سے کام نہیں چلے گا۔ ناموسِ رسالت ﷺ کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالیں، نماز کی پابندی کریں، سچ بولیں، دیانت اختیار کریں، عدل قائم کریں اور اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کو عام کریں۔ جو شخص محبتِ رسول ﷺ کا دعویٰ کرے مگر سنتوں کو نظر انداز کرے، اس کی محبت ادھوری ہے۔
آج امت کو بیداری کی ضرورت ہے اور اس بیداری کا سب سے مؤثر ذریعہ جمعہ کا منبر ہے۔ اگر ہر امام وقتاً فوقتاً عشقِ رسول ﷺ اور ناموسِ رسالت ﷺ پر ایک مدلل، متوازن اور مؤثر خطاب کرے تو یقیناً نئی نسل کے دلوں میں ایمان کی روشنی مزید مضبوط ہوگی۔
آخر میں ائمۂ مساجد سے گزارش ہے کہ اپنے منصب کی عظمت کو پہچانیے۔ آپ صرف نمازیوں کے امام نہیں بلکہ ایک فکری رہنما بھی ہیں۔ آپ کی زبان سے نکلنے والا ہر لفظ ایک امانت ہے، اور اس امانت میں رسول اللہ ﷺ کی محبت کو زندہ رکھنا، آپ ﷺ کے ادب کا درس دینا اور امت کو اس کی ایمانی ذمہ داری یاد دلانا بھی شامل ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں سچا عاشقِ رسول ﷺ بنائے، ہمارے دلوں میں ادبِ مصطفیٰ ﷺ کو ہمیشہ زندہ رکھے، ہمارے علماء، خطباء اور ائمۂ مساجد کو حق بات کہنے کی حکمت، جرأت اور اخلاص عطا فرمائے، اور ہمیں ہر اس قول و عمل سے محفوظ رکھے جو رسول اللہ ﷺ کی ناراضی کا سبب بنے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں